کیا مغربی جمہوری نظام کفر ہے یا نہیں؟ عتیق گیلانی

875
0

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو خلافت کا حقدار قرار دیاہے، ابلیس اپنے تکبر کے باعث راندۂ درگاہ ہواتھا، فرشتوں نے اللہ سے اختلاف کرکے اعتراض اٹھایا کہ ’’یہ خلیفہ زمین میں فساد پھیلائے گا، خون بہائے گا اور قتل و غارتگری کریگا‘‘ لیکن اللہ کے فرمان پر سب نے سجدہ بھی کرلیا مگر ابلیس نے سرتابی کی۔ حضرت آدمؑ نے جنت میں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور پھر ان کو زمین میں اتارا گیا تو بڑے بیٹے قابیل نے چھوٹے بھائی کو قتل کردیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں بنی اسرائیل میں نبوت وخلافت کا سلسلہ جاری رہا، پھر اللہ نے آخری نبیﷺ کی بعثت فرمائی۔ انصار ومہاجر اور قریش واہلبیت میں خلافت کے مسئلہ پر اختلاف واعتراض بالکل صحیح تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنی شخصیت میں بڑے جامع تھے۔ بشریت، رسالت اور اولی الامر کے حوالہ سے آپﷺ کا اسوہ حسنہ انسانیت کی رہنمائی کیلئے بہترین نمونہ تھا۔ شادی، طلاق، اولاد، رشتہ داری اور معاشرے میں انسانی ضروریات کے تمام معاملات سے آپﷺ کی بشریت اعلیٰ صفات سے مالامال اور بہترین نمونہ تھی۔ رسالت کا تقاضہ تھا کہ آپﷺ کی وحی کے ذریعے رہنمائی ہو، مذہبی ماحول نے جو گہرے اثرات معاشرے پر ڈالے تھے اس کا نتیجہ تھا کہ جب ایک خاتون نے اپنے شوہر کی طرف سے شدید ترین طلاق ظہار کے مسئلہ پر مجادلہ کیا تو اللہ نے وحی کے ذریعے رہنمائی فرمائی جس کی تفصیل سورۂ مجادلہ کی آیات اور تفسیرو احادیث کی کتابوں میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو مشاورت کا حکم بھی دیا تھا اور غزوہ بدر میں اکثریت کی مشاورت کے باوجود فدیہ کا فیصلہ ہوا،تو اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی۔ غزوہ احد کا فیصلہ اپنی منشاء کے خلاف شہر سے نکل کر باہر لڑنے کا فیصلہ کیا اور حدیث قرطاس کی وصیت سے مزاحمت پر دستبردار ہوئے۔ اس تعلیم و تربیت کا عملی نتیجہ یہ تھا کہ صحابہؓ اختلاف کے باوجود بھی نظامِ خلافت پرمتحد ومتفق رہے۔نبیﷺ نے انفرادی طور پر فرمایا: ’’امام قریش میں ہونگے‘‘ اور ’’بارہ خلفاء قریش سے ہونگے جن پر امت اکٹھی ہوجائے گی‘‘۔ یہ احادیث مستقبل کی پیش گوئی اور اخبار تھے۔ خلافت عثمانیہ عرصۂ دراز تک قائم رہی لیکن وہ قریشی نہیں تھے۔ ذیل کے نقشہ میں احادیث کا آرٹ دیا گیاہے۔ اور مغربی جمہوریت پر لوگ متفق ہوں تو یہ کفر نہیں بلکہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ’’ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے‘‘۔ اس حدیث سے مغربی جمہوریت ہی مراد ہوسکتی ہے۔ انتقال اقتدار کا سب سے پرامن اور عوام کے اختیار کا بہترین راستہ جمہوری نظام ہے، یہ الگ بات ہے کہ جمہوریت کی روح مفقود ہے، حضرت امام حسنؓ نے اکثریت کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کی تو حدیث میں بھی آپؓ کی تائید ہے کہ ’’میرے اس فرزند کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کا اتحاد ہوگا‘‘۔ رسول اللہ ﷺ سے اولی الامر کی حیثیت سے صحابہ کرامؓ نے اختلاف کیا، خلفاء راشدینؓ نے اپنی رائے سے اختلاف کیلئے روڑے نہیں اٹکائے مگراب جمہوری پارٹیوں کے قائدین و رہنما ڈکٹیٹر شپ اور موروثیت کی پیداوار کی وجہ سے خچروں اور تیسری جنس کی طرح لگتے ہیں۔
روزنامہ جنگ میں یہ شہ سرخی لگی کہ ’’حامد سعید کاظمی نے اقرار جرم کرلیا‘‘ مگر شام کو حلف دیکر حامد کاظمی انکار کررہاتھا۔ حامد میر نے کہاتھا کہ شہباز شریف ڈان کی خبر پر پریشان تھا، پھر راحیل شریف پر توسیع کا الزام لگادیا ، کل یہ نہ کہے کہ راحیل شریف کو شہباز نے جھاڑدیا ، جیسے عرفان صدیقی نے حامد میر کے پروگرام میں صدر تارڑ کی جرنیلوں کے سامنے بہادری کا ذکر کیا ۔ صحافت مقدس پیشہ ہے، فواد چوہدری پرویزمشرف ، پیپلزپارٹی کے بعد تحریک انصاف میں آیا، کیایہ جائز صحافت ہے؟۔اگر صحافت کا پیشہ ٹھیک ہوجائے تو انقلاب آسکتاہے۔باقی دھرنے کے دوران حامد میر لیگیوں کا مذاق اڑا رہا تھا کہ میرے پاس پناہ لے رہے تھے۔ ڈان کی خبر پر بھی پیروں کو پکڑنے کی باتیں میڈیا پر ہورہی تھیں۔ حکمرانوں کے پاس حکومت کرنیکی اخلاقی قدریں نہیں، اسلئے کہ ڈکٹیٹر ، موروثیت اور کرپشن کی پیداوار ہیں۔بس چلے تو گردن کو بھی پکڑ لیتے ہیں :بے بسی میں ٹانگیں بھی جکڑ لیتے ہیں۔

Naqsh-e-Inqalab-October-special2016