دنیا بھر میں ظلم وجبر کا نظام اور دین، علم اور ایمان مفقود

590
0

hazrat-khola-ghadir-khumm-ali-mola-ghazwa-e-badar-hadith-e-qirtas-haji-usman-alliance-motors

پا کستان میں جس ظلم وجبر کا نظام ہے یہ مغرب و مشرق، شمال و جنوب دنیا پر مسلط ہے۔ اسلام نے جمہوریت کی بنیاد رکھ دی ۔ خلافت کا نظام جمہوریت کا مرہونِ منت تھا۔ اس سے زیادہ جمہوریت کیا ہوگی کہ حضرت خولہ بنت ثعلبہؓ نے سرکارِدوعالم ﷺ کی بارگاہ میں مجادلہ کیا اور وحی عورت کے حق میں نازل ہوئی؟۔ رسول اللہ ﷺ نے حدیث قرطاس میں اپنے بعد کیلئے ایک ایسی وصیت کا فرمایا کہ ’’ آپﷺ کے بعد اُمت ہلاک نہ ہو‘‘۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ جسکے بعد صحابہؓ کے دوگروہ نے ایکدوسرے کیخلاف شور مچایا اور نبیﷺ نے اپنے ہاں سے سب کو نکل جانے کا حکم دے دیا تھا۔
یہ وصیت خلیفہ کے حوالہ سے تھی اسلئے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کے عظیم اجتماع میں فرمایا کہ’’ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک قرآن اور دوسری میری عترت، خبردار جب تک ان کو مضبوطی سے تھاموگے تو میرے بعد گمراہ نہ ہوگے‘‘۔اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘۔ خلافت کے مسئلہ پر حضرت عثمانؓکو شہید کیا گیا اور پھر یہ سلسلہ حضرت علیؓ کے دور میں حضرت علیؓ کی شہادت تک کافی بڑھ گیا، پھر حضرت امام حسنؓ نے مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح کرادی اور پھر بنی امیہ کے دور میں خلافت کا سلسلہ امارت میں بدل گیا اور یزید کے دور میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا سانحہ پیش آیا۔ شاعرنے خوب کہا تھا کہ
قتل حسین ہے اصل میں مرگِ یزید اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام تسلسل کیساتھ ہردور میں پھر بھی اجنبیت کا شکار ہوتا رہاہے، درباری شیخ الاسلاموں نے ہردور میں بتدریج اسلام کا بیڑہ غرق کیا ہے
غدیرخم میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جس کا میں مولیٰ ہوں یہ علی اس کا مولیٰ ہے‘‘۔ رسول اللہﷺ کو وصیت نہ لکھنے دی تو آپﷺ کے وصال فرمانے کے بعدقریب تھا کہ خلافت کے مسئلہ پر انصارؓ ومہاجرینؓ اور قریشؓ واہلبیتؓ کے درمیان زبردست تنازعہ کھڑا ہوجاتا مگر صحابہ کرامؓ کی جمہوری ذہنیت نے اس پر قابو پالیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ اتبعوا سواد الاعظم’’زیادہ عظمت والے گروہ کا ساتھ دو‘‘۔ اعظم کا معنی اکثر نہیں بلکہ زیادہ عظمت والی جماعت ہے اور یہ جمہوریت کیلئے سب سے بڑی بنیاد ہے۔حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں برسراقتدار تو وہی جماعت آئے گی جس کی اکثریت ہو لیکن جب عظمت والی کو ترجیح دی جائے گی تو ایک دن اکثریت بھی حق کی طرف مائل ہوگی۔
رسول اللہﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر فدیہ لینے کا فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر کیا لیکن حضرت عمر فاروق اعظمؓ اور حضرت سعدؓ نے اقلیت سے مشورہ دیاتھا اور اللہ تعالیٰ نے اقلیت کے مشورے کو قرآن میں اعظم کا درجہ دیا تھا اسلئے وصیت بھی نبی کریمﷺ نے حضرت فاروق اعظمؓ کی رائے سے لکھنا چھوڑدی۔ اہل تشیع کی آذانوں میں حضرت علیؓ کیلئے ولی اللہ، وصی رسول اللہ و خلیفتہ بلافصل کی صدائیں اسلئے بلند کی جاتی ہیں۔ ہماری اہل تشیع سے استدعا ہے کہ حضرت علیؓ کے بعد اگر آپ کا حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ کے بعد بتدریج مہدئ غائب تک بارہ خلفاء پر ایمان ہے تو کلمہ وآذان میں ہر دور کے ہر امام کیساتھ تبدیلی کی ضرورت تھی۔
ولی کے عربی میں کئی معانی ہیں ۔ آقا ،غلام، حکمران، سرپرست اور دوست کو بھی کہتے ہیں۔ ہم قرآن کی آیت میں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ انت مولانا آپ ہمارے مولا ہیں تو اس کا معنی غلام نہیں لیتے، یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے غلام ہیں ورنہ تو اس سے بڑھ کر کافری کیا ہوگی؟، قرآن میں عبد کا لفظ بندے اور غلام دونوں کیلئے آیا ہے لیکن غلام کو اپنا بندہ عبودیت کے اعتبار سے کہنا کفر ہے اسلئے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ جب علماء کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارا مولی ہے اور مولانا سے دوست مراد ہے تو کیا بڑے بڑے مولانا صاحبان اپنے لئے مولا کے معنی دوست کے ہی لیتے ہیں؟۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ’’یہودونصاریٰ کو اپنا ولی مت بناؤ ‘‘ تو اس سے مراد دوست بنانا نہیں بلکہ فیصلے کیلئے اختیار دینا اور سرپرستی مراد ہے۔ جب ان کی خواتین سے نکاح جائز ہے تو بیوی سے بڑھ کر دوستی کیا ہوسکتی ہے۔ لڑکی کا ولی اسکا سرپرست ہوتا ہے دوست نہیں ہوتا ہے۔مولانا طارق جمیل بھی بدل گئے۔
عربی میں ذنب دُم، گناہ اور بوجھ کو بھی کہتے ہیں۔نبیﷺ گناہوں سے معصوم اور محفوظ تھے۔ نبیﷺ کی پیٹھ نبوت کے بوجھ نے توڑ کر رکھ دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ الم نشرح لک صدرک و وضعناعنک وزک الذی انقض ظہرک ’’ کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولاہے؟ اور تجھ سے وہ بوجھ اٹھادیا جس نے آپ کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے کہ ذنب کے بدلے جہنم رسید کردونگا، یا ذنب کے بدلے مشکل میں ڈال دونگا تو ذنب کا معنیٰ گناہ کے ہونگے لیکن جب اللہ تعالیٰ یہ فرمائے کہ انا فتحنا لک فتحًا مبینًا لیغفراللہ ماتقدم من ذنبک و ما تأخر ’’اور ہم نے تجھے کھلی ہوئی فتح دیدی تاکہ تجھ سے تیرا اگلا اور پچھلا بوجھ ہٹادے‘‘ تو اس میں ذنب کا معنیٰ گناہ نہیں ہوسکتا ہے بلکہ بوجھ ہی ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کا بھی یہی ترجمہ بنتا ہے کہ جب نبیﷺ دیر تک عبادت میں مشغول رہتے توحضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ جب آپ کا اگلا پچھلا بوجھ ہلکا کردیا ہے، پھر آپ خود کو کیوں مشقت میں ڈالتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘۔ حضرت حاجی محمد عثمان ؒ کے ایک مرید کا کہنا تھاکہ نبیﷺ کو مشاہدے میں دیکھتا ہے۔ حاجی عثمانؒ کے علم میں بات آئی کہ بخاری میں نبیﷺ کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف کرنے کی بات ہے تو گناہ والی بات دل نے نہیں مانی اور مرید سے کہا کہ پوچھ لو۔ مرید نے بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ حدیث درست ہے مگر اسکے الفاظ میں ردوبدل ہے ۔ یعنی گناہوں والا ترجمہ درست نہیں ہے۔ حاجی عثمانؒ کے حلقہ ارادت میں بڑے مدارس کے بڑے علماء ومفتیان ، فوجی افسران ، بڑی تعداد میں تبلیغی جماعت میں وقت لگانے والے اور عام تعلیم یافتہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں شامل تھے۔ا لائنس موٹرز کی آزمائش آئی تو حاجی محمد عثمان ؒ کو گمراہ قرار دینے کا سب سے بڑا ہتھیار یہ مشاہدہ تھا۔ خانقاہ کی دیوار پر لکھا ہوا تھا کہ نبی کریمﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ ’’ حاجی عثمان کا کوئی مرید ضائع نہ ہوگا مگر جو اخلاص کیساتھ نہیں جڑا‘‘۔ مشاہدات والے ہزاروں میں تھے لیکن الائنس موٹرز کے جال میں پھنسنے کی وجہ سے اکثر وبیشتر بھاگ گئے۔
نبیﷺ نے جبری دورحکومتوں کے بعد دوبارہ طرزِ نبوت کی خلافت کی خبر دی ہے۔ اسلام کو مدارس کے علماء ومفتیان نے بگاڑ دیا لیکن وہ غلطی پر ہونے کے باوجود معذور تھے اسلئے کہ حق کا ادراک نہ ہو تو اللہ تعالیٰ بھی نہیں پکڑتا البتہ اتمامِ حجت کے بعد ہٹ دھرمی سے وہ اپنے آپ کو ذلت کی انتہاء تک پہنچاسکتے ہیں۔ ہم پر یہ فرض اور قرض ہے کہ حقائق کو پیش کرکے اپنے ضمیر کے بوجھ کو ہلکا کریں۔