سینٹ الیکشن میں‌جمہوری نظام کی زبردست اور عالیشان فتح ہوئی ہے. اشرف میمن

205
0

horse-trading-raza-rabbani-jamiat-ulama-islam-establishment-balochistan-assembly--mehmood-khan-achakzai--saleem-bukhari--javed-hashmi-baghi-

پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہاکہ سینٹ الیکشن میں جمہوریت کی زبردست اور عالیشان فتح ہوئی ہے۔ رضا ربانی نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ’’ ارکان کے بیلٹ پیپر پر اسکا نام لکھ دیا جائے۔ پھر اگر جماعت کے سربراہ کو اپنے کسی رکن پر شک ہو کہ اس نے جماعت کے خلاف ووٹ دیا ہے تو اس پر ضابطہ کے مطابق کاروائی کی جائے، ہارس ٹریڈنگ اس طرح سے روکی جا سکتی ہے‘‘۔ تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر محترم رضا ربانی کی تجویز مسترد کردی کہ ’’ اس طرح رکن کی رازداری قائم نہ رہے گی اور اس کی آزادی پرحرج آئیگا‘‘۔کیا سینٹ الیکشن میں جمہوریت کا بھرپور تقاضہ پورا نہیں ہوا؟۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت بلوچستان میں اپوزشن میں تھی اور بلوچستان کی حکومت کو جمعیت علماء اسلام بچانا چاہتی تو وہ بچاسکتی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے حوالہ سے واویلا کرنیوالے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جسکا بنیادی کردار ہے وہ مولانافضل الرحمن تو نوازشریف کے بغل میں بیٹھا اتحادی ہے۔
نااہل نوازشریف اور اسکے بگڑے ہوئے بے غیرت ٹولے میں کوئی غیرت ہوتی تو دوسروں کو گالی گلوچ سے نوازنے کے بجائے مولانا فضل الرحمن کو بھگادیتے کہ اسٹیبلشمنٹ کا کھیل تم ہی نے کامیاب بنایا ہے۔ اگر بلوچستان میں آپ ہمارا ساتھ دیتے تو یہ کھیل کامیاب نہ ہوتا اور عین موقع پر تمہارے ارکان احتجاج نوٹ کرانے کیلئے باہر نہ جاتے تو ہمارے اپنے ارکان کے دل بھی نہ بیٹھتے ۔ پچھلی مرتبہ بھی تمہارا کوئی حق نہیں تھا لیکن بلوچستان کیلئے زکوٰۃ کے طور پر ڈپٹی چیئرمین کا قرعہ تمہارے نام نکلا تھا۔ اس دفعہ اگر محمود خان اچکزئی کی پارٹی کو زکوٰہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تو وہ مضبوط اتحادی تھے۔ تمہاری طرح دگرگوں نہیں تھے کہ فیصلہ بھی نہ کریں پائیں کہ جانا کس کیساتھ ہے؟۔
ن یا ش لیگ کی حکومت اور اسکے اتحادی جو لڑائی دوسروں کی بساط پر لڑ رہے ہیں ،پہلے اپنے اندرونی معاملات پر تو حقائق پر فیصلہ کرلیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جمہوریت کا ایک لمبا سفر طے کیا ہے اور اسکے پاس ہر ایک کا معروضی حقیقت کے وسیع تر تناظر میں ایک معقول جواب ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان کی ہر حکومت میں ہم حصہ دار رہے ہیں حتیٰ کہ پرویزمشرف کے دور میں اپوزیش لیڈری بھی میرے حصہ میں آئی تھی پھر بھی سینئر وزیر مولانا عبدالواسع تھا۔ جب ہمیں تم نے مرکزی حکومت اور کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رکھا لیکن بلوچستان میں تمہاری ضد تھی کہ ہمیں اپوزیشن کا مزہ پہلی مرتبہ چکھایا۔ اس میں محمود خان اچکزئی کی بہت بڑی خواہش ہوسکتی تھی لیکن ہمارا خیال تم نے نہیں رکھا۔ جب ن لیگ کے اپنے ارکان باغی بنے تو جمعیت علماء اسلام کی اپوزیشن سے بلوچستان کی حکومت کیلئے سہارا بننا غیرت و حمیت کے بھی منافی تھا۔ اگر ہم اپنے ارکان کو بھی مجبور کرتے تو پھر ہمارے ارکان بھی تمہارے ارکان جیسے باغی بنتے۔ جاوید ہاشمی ایک شریف آدمی تھا لیکن تمہاری روش نے باغی اور داغی کے مختلف مراحل سے گزار کر کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے؟۔اپنی دُم کا بوجھ اپنی پیٹھ پر رکھ کر اس بڑھاپے میں بھی وہ مسلم نواز کو دوبارہ شمولیت کی دعوتِ گناہ دے رہاہے لیکن پھر بھی ن لیگ دوبارہ رسک لینے کی ہمت نہیں کررہی ہے
یہی تو جمہوریت کی روح ہے کہ مرکز، صوبے، سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے لیکر اقتداراپنے مطلق العنان قائد کی دستر س سے باہر رہنے کیلئے خفیہ رائے شماری تک آزادی سے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرنیکا اختیار ہر ایک کو حاصل ہو۔ بلوچستان میں اگر اسٹیبلمشنٹ کا ہاتھ تھا تو صوبائی سطح کی تبدیلی سے لیکر مرکز میں سینٹ کے الیکشن کے آخری لمحات تک مولانافضل الرحمن کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن ان کیساتھ کھڑے ہیں جو تبدیلی کیلئے زرداری پر بھی بھاری قوت کا نعرہ لگارہے ہیں۔ شکر ہے کہ ن لیگ کے یعقوب ناصر پزائیڈنگ افسر تھے ورنہ تو سینٹ میں بھی خفیہ والوں پر دھاندلی کا الزام لگنا تھا۔ن لیگ کے وزیروں اور رہنماؤں نے الیکشن کے موقع پر ووٹ پول کرنے کے وقت بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اگر وہ اپنی فتح یقینی سمجھتے تو بہت پہلے کسی کو نامزد کردیتے۔ جمہوریت کو ن لیگ ایک ایسا کھلواڑ سمجھتی ہے کہ اس میں بھڑوی عورت کی طرح سب کچھ جائز قرار دیتی ہے ۔صحافی سلیم بخاری نے کہا تھا کہ ’’ پارلیمنٹ بھڑوں سے بھری ہوئی ہے‘‘۔ جمہوریت کے نام پر جمہوریت کے خلاف سازش ہورہی ہ