جشن، خدمات، فرقہ پرستی کی یاد میں لوگوں کو جمع کیا گیا مگر ڈیڑ ھ ہزار سالہ جشن اسلام کا خیال نہیں آیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ڈیڑھ ہزار سالہ
جشن اسلام کانفرنس
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اُمت مسلمہ کے بزرگو! نوجوانو!بچو!، خواتین وحضرات اور دنیا بھر کے قابلِ احترام انسانو!
ڈیڑھ ہزار سال ہونے کو ہیں کہ اللہ رب العالمین جل جلالہ نے رحمۃ للعالمینﷺ کی ولادت کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا۔ آپﷺ کی ولادت سے قبل اصحاب الفیل کا واقعہ رونما ہوا۔ جنگِ عظیم اول و دوم کے بعد برطانیہ کے اقتدار کی چادر لپیٹ دی گئی۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے پاکستان معرضِ وجود میں آیا اور پھر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ شکستِ سویت یونین کے بعد سپر طاقت امریکہ نے مسلم اُمہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ واحد سپر طاقت امریکہ کے مقابلے میں پاکستان اور افغانستان کے کچھ لوگ ڈٹ گئے۔لیکن جب تک اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا سہارا نہیں لیں گے،امت مسلمہ کی خیر نہیں ہے۔قرآن کا مخاطب مؤمن اور انسان ہے۔ مؤمنوں نے قرآن سے کیا حاصل کیاہے؟۔قیامت کے دن اس کو رسول اللہ ﷺ کی شکایت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ہذاالقراٰن مھجورا ”اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا“۔ دیوبند کا ڈیڑھ سو سالہ جشن، خدمات اور فرقہ پرستی کی یاد میں بار بار لاکھوں لوگوں کو جمع کیا گیا لیکن ڈیڑ ھ ہزار سالہ جشن اسلام کا خیال نہیں آیا۔
ڈیڑھ ہزارسالہ جشن اسلام کانفرنس میں ہم تمام مکاتبِ فکر کے مسلمانوں اورتمام غیرمسلموں کو بھی دعوت دیں گے۔ فرقہ وارانہ اختلافات نے جہاں بہت ہی منفی کردار ادا کیا ہے وہاں اسکے مثبت پہلوؤں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ علماء دیوبند اور پیر مہر علی ؒشاہ گولڑہ کے متفقہ مرشد تھے لیکن بریلوی دیوبندی نے ان کی کتابوں اور تجاویز پر بار بار اتفاقِ رائے قائم کرنے کے باوجود بھی فرقہ واریت سے باز نہ آسکے۔ اپنے مرشد سے روگردانی اچھی بات اور نہ فرقہ واریت کی شدت اور ہواؤں کو پھیلاوا دینا درست بات ہوسکتی ہے،تاہم اس اختلاف میں بھی خیر کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرامؓ، ائمہ مجتہدینؒ، فقہاء ومحدثینؒاور صوفیاء ؒومتکلمینؒکے ہردور میں کافی سنجیدہ اور معرکۃ الآراء مسائل پر بہت بڑے بڑے اختلافات رہے ہیں لیکن آج کے دور میں اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہم قرآن کے بنیادی احکام کی طرف اپنا رخ موڑ تے ہوئے عالمِ اسلام اور عالمِ انسانیت کو ایک ایسا پیغام دے سکیں کہ رب العالمین کی طرف رحمۃ للعالمین کی قرآن میں شکایت کے ازالے کی ایک عظیم الشان کوشش ثابت ہوجائے۔ پھر دنیا میں نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ عالمِ انسانیت کے تمام مسائل بھی حل ہونے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔انشاء اللہ العزیز
پاکستان کے داخلی و خارجی حالات کے پیشِ نظر ایسی تجاویز پیش کرینگے کہ مزاحمت کے راستے مفاہمت میں بدل جائیں۔قرآن و انسان کے ذریعے پاکستان انجن، پڑوسی مسلم وغیرمسلم ممالک پروں کا کام دیں تاکہ اس پستی میں ہم پرواز کے قابل بن سکیں۔براعظم ایشیاء کو دنیا کی امامت کے قابل بنانا ہماری خواہش ہے۔ علامہ اقبالؒ نے ایشیاء کی پاسبانی کے اعزاز کا ذکر اشعار میں کیا۔آج پاکستان پہل کرے تو چین،سعودیہ، ایران، افغانستان، ترکی،بھارت، روس اور عرب وعجم ساتھ دیں گے۔
10نکات کے ذریعے مزاحمت اور مفاہمت ایک لمحہئ فکریہ ملاحظہ فرمائیں اور پھر مسائل کا مستقل حل پیش کرنا ہوگا۔
1: پاکستان کیلئے سب سے بڑامسئلہ کشمیر اور جہادی تنظیموں مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کا معاملہ ہے۔ چند باتیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ تمام عوام وخواص اور اندرونی وبیرونی تخریب کارعناصر کو جواب مل جائیگا۔
ا: کشمیراقوام متحدہ کا مسئلہ بھی ہے۔ استصوابِ الرائے کے وعدے پر 70سال گزرنے کے بعد بھی عمل نہیں ہوسکا۔
ب: کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ بھی ہے۔ کانگریس اورمودی حکومت کے درمیان شدید اختلافات آئینہ ہے۔
ج: مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز کشمیری محبوبہ مفتی نے بھی بھارت کے آئین میں ممکنہ تبدیلی پر ردِ عمل دیا ہے۔
د: عالمی سطح پر برطانیہ اور امریکہ بھی بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر مظالم کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔
2: خطے میں سب سے بڑا مسئلہ افغان خانہ جنگی ہے جس سے نہ صرف عالمِ اسلام کی اینٹ سے اینٹ بج گئی بلکہ پوری دنیا میں بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان دہشت گردی کی ایک انتہائی خطرناک فضاء بن گئی ہے۔اسکے حقیقی محرکات کو سمجھنے اور ازالے کی سخت ضرورت ہے۔افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی تباہی کے بعد پاکستان، ایران اورسعودی عرب کی باریاں بھی لگ سکتی ہیں۔ غربت اور استحصال کے مارے ہوئے لوگ ایک دفعہ کھڑے ہوگئے تو خیر کسی کی بھی نہیں ہوگی۔ افغانیوں کے درمیاں شدید نفرتوں کو اُبھارنے کے وظائف پڑھنے کے بجائے بااثر طبقات کو مل جل کر مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں اور انسانوں کی جان بچانے کیلئے طالبان اور افغان حکومت میں طاقت کے بجائے افہام و تفہیم کا راستہ اپنانے میں دیرینہ مسائل کا مستقل حل ممکن ہے۔ طالبان اعتراف کریں کہ ہم سے صدر نجیب کو شہید کرنے سمیت بڑی بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اور ہماری وجہ سے غیر ملکی طاقتوں کو در اندازی اور شر پھیلانے کا خوب موقع ملا۔ جن حکمرانوں کی بدولت جمہوری انداز میں افغان ملت کی بقاء کا سامان ہوا ہے وہ ہمارے دشمن نہیں بلکہ عظیم محسن ہیں۔ اور افغان حکومت کے کرتے دھرتے تہہ دل سے اعتراف کریں کہ طالبان نے امریکہ اور نیٹو افواج کی مزاحمت کرکے افغانیوں کو دنیا میں اچھی پہچان دی ہے۔ روس کے بعد امریکہ کی مزاحمت کرنے کی بدولت ہم افغانی طالبان کی وجہ سے سرخرو ہوئے ہیں۔
3: بھارت یہ سمجھ لے کہ مسئلہ کشمیر کی بنیاد برطانیہ اور عالمی قوتوں نے اس خطے کو دوبارہ غلام بنانے کیلئے ڈال رکھی ہے۔ اگرہم نے مشرقی پاکستان سے دستبردار ہونے کے بعد بنگلہ دیش سے اچھے تعلقات بھی استوار کرلئے۔ پاکستان کی تحریک کا آغاز بنگالیوں نے ہی کیا تو کشمیر سے دستبردار ہونے پر بھارت کا کچھ بھی نہ بگڑے گا، خطے میں امن وامان قائم ہوگا۔ اسلحے کی دوڑ میں شرکت کے بجائے غریب کی غربت کیلئے ہم کام کرسکیں گے۔سرحدوں پر جان دینے والے سپاہی امریکہ وکینیڈا سے زیادہ خوشحال زندگی بسر کرنے کے قابل بن سکیں گے۔پورے کشمیر اور پاکستان سے بھارت یکجان دو قالب ہوجائیگا۔
4: پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سودی قرضے ہیں جن کی وجہ سے ہر آنے والی حکومت پہلے سے زیادہ غریب عوام کو اپنے ٹیکسوں کے جال میں پھانسی کے پھندے پر چڑھارہی ہے۔ خطرہ اس بات کا ہے کہ چند ہزار کی تنخواہ لینے والے ملازمین کی ایک بڑی تعداد عوام کیساتھ بغاوت میں حصہ لیں اور انقلابِ فرانس کی طرح تمام پرتعیش طبقات کو نیست ونابود کردیں۔ اس منطقی نتیجے کی طرف جانے اور پہنچنے سے پہلے پہلے ایک ایسا انقلاب برپا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پر تعیش خاندانوں کی نرم ونازک لڑکیاں اور خواتین کی عزتیں ”مرتا کیا نہیں کرتا“ ان غریبوں کے ہاتھوں غیرمحفوظ نہیں بن جائیں جن کو اپنی دو وقت کی روٹی، گیس وبجلی کے بل اور بچوں کی تعلیم کیلئے کوئی مواقع میسر نہیں۔ کمیونزم سے متاثرہ طبقے ایک تسلسل کیساتھ عوام کو دعوتِ گناہ دے رہے ہیں۔
5:پاکستان کے سیاسی جماعتوں کے اچھے رہنماؤں کو بھی حالات نے ڈھیٹ بنادیا ہے یا ریلوں کی شکل میں جماعتوں کی تبدیلی سے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے،ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے بعد نوجوان طبقے میں میڈیا کے زور اور اسٹیبلیشمنٹ کی پسندیدگی کے سبب مقبول ترین تحریک انصاف نے بھی دم توڑ دیا۔ ہرقول وفعل میں قائدتحریک یوٹرن نہیں بلکہ مرغا بن کے کھڑا ہے۔ فوج اور سول بیوروکریسی میں بھی اقتدار سنبھالنے کا دم نہیں۔ انگریز کے ملازمین عدلیہ سمیت اپنی بوسیدہ ہڈیوں کی بدولت کسی انقلاب کا اچھا خواب دیکھنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں، تاہم پھر بھی ہم مسلمان ہیں اور مایوسی ایک بڑا کفرہے۔
6: ایسی تحریک ضروری ہے کہ اسکے عزائم پر ریاست خود بھی عمل کرسکے، ہر حکومت اس لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانا چاہے تو آسانی سے پہناسکے۔ لیڈر اپنی تھیلی میں جھوٹی بلی کے ذریعے عوام سے ووٹ لینے میں کامیاب نہ ہو۔ بلکہ منشور اس قدر عوامی ہو کہ اس پر ایک نالائق طبقہ بھی بہت آسانی سے عمل کرنے میں کوئی دقت محسوس نہ کرے۔ اگر موجودہ حکمران چاہیں تو بھی اس پر بہت آسانی کیساتھ عمل کرکے ملک و قوم کو ان مشکلات سے نکال سکیں۔
7: پاکستان قرض، سود، بھیک اور کرپشن کے موذی امراض کا شکار ہے۔ ان بیماریوں سے نکلنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاستدانوں، جرنیلوں، ججوں، تاجروں اور بیوروکریٹوں نے اپنے حق حلال کی کمائی سے بیرون ملک اپنی جائیدادیں بنائی ہیں اور اپنے بچے بسائے ہیں تب بھی قوم کے بچوں کو اپنا سمجھ کر بچوں سمیت اپنا سرمایہ واپس لائیں۔
8:پاکستان بنانے کا مقصد اسلام کا نفاذ اور کمزور طبقے کا تحفظ تھا لیکن نہ تو اسلام نافذ ہوسکا اور نہ ہی کمزور طبقے کو تحفظ مل سکا ہے۔ ایک تحریک کے ذریعے اسلام کو طاقتور طبقے کا غلام اور ریاست کو طاقتور طبقے کی لونڈی بنانے کا راستہ روکنا ہوگا۔
9: طبقاتی تقسیم اور طبقاتی تعصبات کا راستہ روک کر باصلاحیت افراد کو قوم، ملک اور انسانیت کی خدمت کے مواقع دینے ہوں گے۔ ہرشعبہ ئ زندگی سے گند کو چھانٹ کر صاف ستھرا ماحول دینا ریاست اور انقلابی تحریک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
10: تعلیم اور صحت کے معاملے میں جعل سازی ہو تو اس قوم کیلئے بہتری کا راستہ کیا ہوسکتا ہے؟۔ عدلیہ کا نظام وکالت اور دین کی خدمت فرقہ واریت کے رحم وکرم پر ہو تو اس قوم کو ایک بڑے حادثے کا شکار ہونے سے بچانا بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں