جاوید غامدی کا بیان قرآن نہیں بکواس ہے. اجمل ملک

757
0

hazrat-nooh-mufti-taqi-molana-fazal-ur-rehman-maulana-maududi-javed-ahmed-ghamidi-ghulam-ahmed-pervez-ghulam-ahmed-qadiani-islamic-scholars-triple-talaq-quran-syed-atiq-ur-rehman-gailani

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر محمداجمل ملک نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ کسی طرح سے حقائق واضح ہوجائیں۔ مساجد کے علماء کرام جو درسِ نظامی کے فاضل ہوتے ہیں،ان کو حق بات کا اعتراف کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔اسکے برعکس مذہب کے نام پر اپنی دکانیں چمکانے والوں نے بھی لگتاہے کہ مذہب کو معاش کا ذریعہ بنالیا۔اجمل ملک نے جاوید غامدی کے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان کا تعاقب کرتے ہوئے پڑھے لکھے جاہلوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنے پر زور دیاہے کہ جاوید غامدی کو ہماری میڈیا میں بڑی حیثیت دی جاتی ہے۔ قرآن پر اسکی معلومات کو سند سمجھا جاتاہے مگر اسکا بیان حقیقت کے کس قدر منافی ہے کہ ’’اور میں محض تفنن طبع کیلئے نہیں کہہ رہا ۔قرآن مجیدکہتا ہے تلک ایام ندالہا بین الناس ہم دنیا کے اقتدار کو ایک لائن میں کھڑا کرکے ایک کے بعد دوسری قوم کو دے رہے ہیں۔ یہ آخری زمانہ ہے، قرآن نے بتایا ہے کہ حضرت نوحؑ کے تیسرے بیٹے یافس کے پاس حکمرانی ہوگی۔ پہلے انکے پہلے بیٹے حام کی نسلوں افریقی اقوام کے پاس حکمرانی رہی۔ دوسرے دور میں دوسرے بیٹے سام سمیٹک نیشن کے پاس اقتدار رہاہے اور اب یہ یافس کی اولاد ہے جو امریکہ آسٹریلیا ، یورپ،وسط ایشیاء میں اور ہندوستان میں بڑی حد تک آباد ہیں۔ تو اللہ نے اپنے اسٹیج پر اب ان کو موقع دے رکھاہے، مسلمان قومیں اپنا وقت لے چکی ہیں،یہ آپکے سوال کے ایک حصے کا جواب‘‘۔
جاوید غامدی کو ہم سازشی ، ایجنٹ اور دغا باز نہیں کہتے۔ ریٹائرڈ کی عمر تک پہنچنے کے بعد اچھے اچھوں کی دماغی صلاحیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ یہ قرآن ہی کی بات ہے۔ اگر دنیا میں ہندوؤں کو بھرپور غلبہ ملتا تو پھر جاوید غامدی یہ بھی کہتا تھا کہ حضرت نوحؑ کا جو بیٹا کنعان دریا میں غرق ہوا تھا، یہ ہندو اسی کی اولاد ہیں ، جس کی نئی جنم سے اللہ نے اقتدار کا وعدہ پورا کردیا، یہ قیامت تک اقتدار میں رہیں گے، ہم اچھوتوں کا کام یہ نہیں کہ اقتدار کی منزل تک پہنچیں بلکہ ہم اپنے نام کیساتھ عربی قبیلہ غامدیہ کی طرح غامدی لگادیں اس سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔یہ پست ذہنیت کی علامت ہے۔
جہاں تک قرآن کی بات ہے تو نوحؑ کی اولاد میں نمایاں حضرت ابراہیم ؑ تھے، جن کی اولاد کیلئے امامت کی دعااور ظالم نہ ہونے کی شرط پر دعا کی قبولیت کا ذکر قرآن میں ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے ایک بیٹے اسحاقؑ سے بنی اسرائیل تھے، یوسف ؑ کو بھی اقتدار ملا تھا۔
حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کو اقتدار ملا تھا اور قریش مکہ نبیﷺ کی بعثت ہوئی ، دنیا کی سپر طاقتوں کو خلافت نے شکست دیدی تھی اور یہ سب حضرت ابراہیمؑ کی اولاد تھے۔ایک بادشاہ جو لوگوں سے زبردستی بیوی چھین لیتاتھا وہ حضرت نوحؑ کے کسی اور بیٹے کی اولاد تھا۔ جواہل فرعون بنی اسرائیل کے مردوں کو ذبح کرتے تھے وہ کوئی اور نسل تھی۔ بنی اسرائیل کو بنی اسماعیل سے بھی جدا کرنا بھی غلط ہے۔
کوئی جھوٹ بولے تو بھی کسی ڈھنگ سے بولے۔ مذہب ایک ایسا حربہ ہے کہ اس میں جھوٹ کی بھی کوئی حد اور ڈھنگ نہیں۔ جاوید غامدی کا بے ڈھنگے جھوٹ میں اس طرح بڑی ڈھٹائی سے اظہار اور میڈیا کا اس کو کوریج دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ سیاسی لوگ بے ڈھنگے لگتے ہیں جب سندھی اجرک، بلوچی وپٹھانی پگڑی اور چترالی ٹوپی عوام کو مانوس کرنے کیلئے پہنتے ہیں۔ شہباز شریف پیٹرول کی آگ میں جلنے والوں کے پاس بھی انگریزی ہیڈ پہن کر اسلئے گیا کہ جاویدغامدی کے بیان سے خود کو یافس کی اولاد سمجھتا ہوگا۔ مریم نواز بھی کہتی ہے کہ ’’ ہم حکمران خاندان ہیں‘‘۔
جاوید غامدی نے مزید کہاہے کہ ’’پاکستان پر اللہ نے جن کو حکومت کیلئے منتخب کیاہے۔ وہ تین چار سو خاندان ہیں اور ان کی اولادہیں۔ ایک لمبے عرصے تک یہی رہنا ہے، جب تک ایجوکیشن نہیں بڑھے گی، بہت سے حالات نہ ہونگے تو کوشش کریں کہ یہ کچھ تھوڑے دیندار ہوجائیں، کچھ اخلاقی چیزوں کو مان لیں، لیکن لوگ الٹی کوشش کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ مسجد کے مولوی کو ایوانِ اقتدار میں پہچانا ہے‘‘۔
حالانکہ جاوید غامدی یہ سب کچھ غلط بول رہا ہے۔ مفتی محمودصاحب مسجد کے مولوی تھے مگر اپنی صلاحیتوں سے وزارت اعلیٰ کے منصب پر پہنچ گئے، نوازشریف کا باپ صنعتکار تھااگروہ جنرل ضیاء الحق کی ڈکیٹیر شپ کا سہارا نہ لیتا تو اقتدار کی اہلیت بھی اس میں نہیں تھی، آج بھی اس سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے تووہ اور اس کی اولاد اور خاندان میں کچھ صلاحیت نہیں ہے۔جنرل ضیاء الحق، پرویزمشرف اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح وغیرہ کا کونسا اقتدار والا خاندانی بیک گراؤنڈ تھا؟۔
جاید غامدی قرآن اور جمہوریت کے نام پر درس دینے کے بجائے پہلے اپنے دماغی علاج کا کوئی بندوبست کریں۔ قرآن اور تاریخ کی موٹی موٹی باتوں کا بھی اس کو علم نہیں ہے اور جمہوریت سے بھی واقف نہیں۔ کسی ادارہ میں پروفیسری کی اور پھر شاید ریٹائرمنٹ کا دکھ لیکر بیٹھ گئے۔ قرآن کہتاہے کہ انسان ایسی عمر کو پہنچ جاتاہے کہ جب وہ علم کے بعد کچھ نہیں سمجھتا۔ ومنھم من یرد الی ارذل العمر لکی لا یعلم بعد علم شئیاً ’’ اور ان میں سے بعض اس رذیل عمر تک پہنچتے ہیں کہ علم کے بعد کچھ سمجھ نہیں رکھتے‘‘۔ افراد ریٹائر ہوتے ہیں، مر جاتے ہیں اور نیست ونابود ہوجاتے ہیں مگر قوموں کے عروج وزوال کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہتاہے جبتک دنیا میں موجود ہوں۔ قرآن مایوس لوگوں کو کافر قراردیتا ہے قرآن مردہ قوموں کو زندگی کی نعمت عطا کرتا ہے، قرآن گری ہوئی قوموں کو عروج بخشتا ہے ۔قرآن دنیا وآخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔ قرآن اللہ پر ایمان دیتا ہے، قرآن موسیٰ کو فرعون سے ٹکرانے کی دعوت دیتاہے تاکہ بنی اسرائیل کو غلامی سے بچائے ، ظالموں کے سامنے لیٹنے کی دعوت قرآن نے نہیں دی ہے، قرآن نے مکہ مکرمہ کے غلاموں حضرت بلالؓ وغیرہ کو ابوجہلوں اور ابولہبوں سے ٹکرایا تھا۔
بدر واحدکے غزوے اور صلح حدیبیہ کا معاہدہ گواہ ہے کہ جاوید غامدی پرلے درجہ کا جاہل ، مکار اور بکواسیہ ہے۔ اگر حکومت اسکے ساتھ ملی ہوئی نہ ہو تو میڈیا پر اس سے درست وضاحت طلب کی جائے، اگر وہ معذور ہو تو یہ غلط درس دینے سے توبہ کرلے۔اس دور میں اسلام کو اجنبیت سے نکالنا مسائل کا حل ہے۔