کیا واقعی افغانستان بہانہ اور پاکستان نشانہ تھا؟ عتیق گیلانی

487
0

qurbani-frontline-kutya-nato-dog-k-electric-hakeem-ullah-mehsood-bait-ullah-mehsud-black-water-haqqani-network

امریکہ نے القاعدہ نمبر1،نمبر2، اچھے طالبان، برے طالبان ، اچھی جہادی تنظیمیں، بری جہادی تنظیمیں ، آزاد ی کیساتھ گھومنے اور پابندی لگنے کے شکار گروپوں اور بلیک واٹر کی بھرمار سے خطے کا بیڑہ غرق کردیا ۔ بینظیر بھٹو ، شوکت عزیز، پرویزمشرف ، GHQ، مولانا فضل الرحمن، شیخ رشید اور قاضی حسین وغیرہ کی حفاظت مسئلہ تھا۔بیشک پاکستانی ریاست نے ضمیرکی قربانی اور عوام کالانعام کی قربانی دی۔ عید قربان پر بھیڑ بکری ، دنبے بکرے بیل اور اونٹ قربانیاں دیتے ہیں ان کا گوشت کھالیا ، آلائشوں کو دفن کردیا، حلال کی اس قربانی کے بعد قصائی و بیوپاری اگلے موسم کا انتظار کرتے ہیں۔ بکرے ، گائے اور اونٹ بلند آواز سے چیختے ہیں کہ ہم تیار ہیں مگر حقائق سے وہ لاعلم ہوتے ہیں۔ دوسری حرام کی قربانی ہے جو کتیا ضرورت اور مجبوری سے کتوں کے ریلے کیلئے دیتی ہے ۔بدمست کتیااس کیفیت میں اپنے پرائیوں کو کاٹتی ہے پھر رنگ برنگے بچوں کی حفاظت اور پرورش کا بوجھ اٹھاتی ہے، آوارہ کتوں کی بہتات ہو تو مارنے کی مہم شروع ہوجاتی ہے ۔ کتیا مارے تو ماں کو تکلیف پہنچتے گی، بچے حرامی ہوں تو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنا قبول کرے مگرماں مارنے کا دل گردہ نہیں رکھتی ۔پولیس ، عدالتوں ، حکومت کے اداروں بلکہ پرائیویٹ kالیکٹرک کی ستائی ہوئی عوام کی حالت جانوروں سے بدتر ہے۔ ریاست کا سلوک عوام سے کتیا ماں جیسا ہوتا تو بہتر ہوتا۔ حضرت حسن بصریؒ نے 10صفات کا ذکر کیا ہے جو مؤمن میں کتوں جیسی ہوں۔
ابوالعلاء معریٰ کو تیتر شکار کرکے دیالیکن اس نے کہا کہ توتیتر نہیں باز ہوتا تو شکار کرتا۔
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
امریکہ نے افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام کے بعد پاکستان پر مہربانی کا فیصلہ کیا۔ جنرل راحیل و جنرل باجوہ نے پاکستان سے کھیل ختم کیا تو امریکی پیٹ میں مروڑ اٹھا کہ افغانستان کی طرح پاکستان میں نیٹو، داعش ، طالبان اور اقسام و انوع کے لشکر ہوں کیونکہ پروگرام خطے میں تادیر رہنا ہے۔ چوہدری نثار نے اسلام آباد 400 مکان میں رہائش پذیر افراد کو رجسٹریشن کا پابند کیا تو فخریہ انداز میں بیان کیا۔ حکومت اور پاک فوج کا دہشتگردی کے خاتمہ پر اختلاف نہیں۔ پہلے امریکہ کی جنگ سمجھا لیکن بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تو سب نے کہا: یہ ہماری جنگ بن چکی۔ بلیک واٹر اور حقانی نیٹ ورک کی بھرمار پربہت خوشی تھی مگر پاکستان سے دہشت گرد اور دہشتگردی کا خاتمہ ہونے لگا تو امریکہ کے تیور بدلے۔
قبائل پہلے انگریز سے لڑے ،اگر نیٹو نے حملہ کیا تو عوام زمین کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ رینجرز کو قبائل بھیجا جائے جو پولیس کی طرح ہے۔ فوج دشمن سے نمٹنا جانتی ہے۔ طالبان نے قبائلی عوام کا دل بٹھادیا۔ فوج کو بہتر سلوک کرنے کی ضرورت ہے ورنہ توقبائل نیٹو سے لڑنے کے قابل بھی نہ ہونگے۔ پاکستان نے اپنی حفاظت کیلئے کالعدم لشکریں پال رکھی ہیں، سرکاری ملازم کیلئے ممکن نہیں کہ خطے میں دھشتگردی پر انکے بغیر قابو پاسکے۔ اپنے ہمدرد سے لڑنا شروع کیا تو نئے محاذسے نئی جنگ چھڑ جائے گی۔ یہ بدمعاشی اپنی مجبوری ہے۔
BBC.COMپر یہ خبر نشرہوئی تھی کہ بیت اللہ محسود کے دست راست حکیم اللہ محسود کو افغانستان میں نیٹو نے گرفتار کیا۔حکیم اللہ محسود مقامی لوگوں اور بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث پایاگیا تو دوسری طرف امریکہ کو بھی مطلوب تھا اسکا کزن نیٹو نے پکڑکر پاکستان کو حوالے کیا۔ پاکستان امریکہ سے پوچھتا کہ حکیم اللہ کو گرفتار کرنے کے بعدکیوں چھوڑا ؟ ۔اخبار جہاں کے شمارہ میں بینظیر کے قتل کے بعد طالبان کو پیسے دیتے ہوئے برطانوی فوج کو رنگے ہاتھ پکڑنے کا ذکر بھی تھا۔ پاکستان امریکی امداد لیتا تھااسلئے امریکی مرضی پر دہشتگردوں کو پال رہا تھا ۔ بھارت افغانستان میں اپنا پیسہ خرچ کر رہا ہے اسلئے امریکہ کی طرح دہشت گرد پال سکتا ہے۔بینظیر بھٹو کارکنوں کی خوشی کیلئے بلڈ پروف سے باہرنہ لہراتی تو دہشتگرد کامیاب نہ ہوتے۔ جن لوگوں کو جرم کے الزام گرفتار کیا تھا، ضروری نہیں کہ وہ مجرم ہوں۔حنیف پاڑہ چنار وغیرہ کو 135سال قید کی سزا الذوالفقار تنظیم کے الزام میں دی گئی ، حالانکہ بیگناہ تھے جبکہ زرداری کو کرپشن میں12سال گرفتاری کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ عدالت کا نظام درست نہ ہوا تو انصاف کیلئے سب کا اپنا اپنا پیمانہ ہوگا۔
دفاعی تجزیہ نگارجنرل ر امجد شعیب نے حامد میر کے پروگرام میں بتایاکہ پٹھان کوٹ حملے کے بعد مولانا مسعود اظہر پر الزام لگاجب پاکستان کی ایجنسیوں نے تحقیق کی تو بھارت کو 10میں6دہشتگردکے نام معلوم ہوسکے جو گجرات میں حملہ کرنیوالے تھے۔ مغربی ملک کی ایجنسی اسکے پیچھے تھی، انڈیا نے ہمارا شکریہ بھی اداکیا۔ پاکستان و بھارت امریکی CIA کا نام کیوں نہیں لیتے؟،جہادی امریکی ایجنڈا پورا کررہے ہیں یا یہ اسلام کی خدمت ہے؟۔
مجھے رازِ دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو سامنے آنکھوں کے آتا ہے