پھر بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لیجانے کی ایک ترکیب

686
0

imam-abu-hanifa-ghazali-mufti-abdul-rauf-sakharvi-sir-agha-khan-sood-interest-mark-up-intercourse-fatawa-e-aalamgiriya
امام ابوحنیفہؒ پر نیکوکار علماء دین ، صوفیاء اور محدثین نے اصحاب الرائے کے امام اور گمراہی کا فتویٰ لگایا لیکن آپؒ نے جس بات کو ٹھیک سمجھا اس پر قائم رہے۔ احادیث صحیحہ کو قرآن کے خلاف سمجھا تو تردید سے دریغ نہ کیا اور اعلان کردیا کہ ’’حدیث صحیح ثابت ہو تو وہی میرا مذہب ہے‘‘۔ افسوس کہ ’’زاغوں کے تصرف میں ہے شاہیں کا نشیمن‘‘۔ حضرت عمرؓ نے حدیث قر طاس پر قرآن کو ترجیح دی ۔ شیعہ اپنے امام کی غیبتِ کبریٰ کے ہزار سال بعد اجتہادی قوت سے محروم ہیں۔ قرآن میں اولی الامر سے اختلاف کا جواز ہے ،صحابہ کرامؓ نے نبیﷺ سے بھی اولی الامر کی حیثیت سے اختلاف کیا۔ رئیس المنافقین کا جنازہ، بدری قیدیوں پر فدیہ اور صلح حدیبیہ میں رسول اللہ کا لفظ کاٹنے پر اختلاف نمایاں مثالیں ہیں۔ شیعہ امامیہ امام سے اختلاف کو جائز نہیں سمجھتے اور تین،ساڑھے تین سو سال بعد امام اوجھل ہوا تو اجتہاد کی گنجائش پیدا ہوئی حالانکہ اجتہاداولی الامر کے امور ہیں ، حضرت سلیمان ؑ نے حضرت داؤد ؑ سے اختلاف کیا۔ جس کو قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا اور اس اختلاف گمراہی نہیں بلکہ بڑی ہدایت قرار دیا۔
ابوحنیفہؒ نے قرآن کیمطابق نکاح سے زیادہ مباشرت کو حرمت مصاہرت قرار دیا ودخلتم بھن وان لم تکونوا دخلتم بھن’’اور اگر تم نے نکاح کے بعد انکی ماؤں میں ڈالا، اگر نہ ڈالا توتمہارے لئے ربائب جائز ہیں‘‘۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس قرآنی آیت اور انسانی فطرت کے مطابق صرف عقدِ نکاح نہیں بلکہ متعہ والی ،لونڈی اور ہر طرح کی مباشرت والی کو ناجائز قرار دیا تھا۔ اصولِ فقہ میں کم عقل طبقے جو منطق وریاضی سے نابلد تھے نے نکاح اور ہاتھ لگانے کی غلط تشریح کرکے بات کو کہاں سے کہاں پہنچادیا ؟، اس پر اہل علم بہت پریشان ہیں اور فقہ واصول فقہ سے نکالنا چاہتے ہیں۔جبکہ امام غزالیؒ نے عبداللہ بن مبارکؒ کے معتبر حوالہ سے لکھا کہ ’’ امام ابویوسف نے بادشاہ سے معاوضہ لیکر اس کیلئے باپ کی وہ لونڈی جائز قرار دینے کا حیلہ تراش لیاجسکے ساتھ اسکے باپ نے مباشرت کی تھی‘‘۔ یہ پہلاباقاعدہ شیخ الاسلام تھا جسکا یہ کردار تھا۔ سرکاری مرغوں نے ہر دور میں اس طرح کے حیلے تراشے ہیں۔ فتاوی عالمگیر یہ میں ہے کہ بادشاہ قتل ، چوری ، زنا اور جس طرح کے حدود پامال کرے اس پر حد کو جاری نہیں کیا جاسکتا، اسلئے کہ’’ وہ ٹینشن لیتا نہیں دیتا ہے‘‘۔ زیادہ دور جانے کی بات نہیں جامعہ دارالعلوم کراچی کورنگی کے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے شادی بیاہ کی رسم لفافہ لینے دینے کی رقم کو سود قرار دیا ، اس کا بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس رسم کونہ صرف سود کہتا ہے بلکہ 72 گناہوں میں سب سے کم تر گناہ اپنی سے زنا کے برابر قرار دیتا ہے۔ دوسری طرف پورے پاکستان میں یہ واحد دیوبندی طبقہ ہے جو اسلاف و اخلاف سے منحرف ہوکر سود کا کاروبار حیلہ سے اسلامی قرار دیتا ہے۔ عوام کے وہ لفافے جو جزاء الاحسان الا احسان کے زمرے میں آتے ہیں۔جن میں سود کا شائبہ نہیں اور نبیﷺ کا وہ عمل جس میں سود کا شائبہ تک نہ تھا ۔ فلاتمنن فتکثر ’’ اور اسلئے احسان نہ فرما کہ زیادہ اچھا بدلہ ملے گا‘‘۔ کو سود قرار دینا بھی بڑا افسوسناک ہے۔ چونکہ بھلائی کرنے پر اچھے ثمرات مرتب ہونے کی امید ہوتی ہے لیکن نبیﷺ کو ہجرت تک کرنے کی ضرورت پڑگئی ، اللہ نے فرمایا کہ ’’ہم تمہیں آزمائیں گے۔ کچھ خوف سے،کچھ اموال اور جانوں کی کمی سے اور کچھ ثمرات کی کمی سے‘‘ مال میں میوے بھی شامل ہیں ۔ ثمرات سے مراد نتائج ہیں۔ ایک طرف حرمتِ مصاہرت کے وہ عجیب مسائل جن کو دیکھ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور دوسری طرف باپ کی لونڈی کو معاوضہ لیکر جائز قرار دینے کی مہم، ایک طرف نبیﷺ اور عوام پر بلاوجہ سود کمانے کے فتوے اور دوسری طرف سودی بینکاری کے جواز کے فتوے؟۔
ایک طرف قرآن وسنت میں ایگریمنٹ یا متعہ کے جواز کے دلائل کو تسلیم نہ کرنا اور دوسری طرف زنا بالجبر کیلئے گواہی کی شرط پر اصرار۔ علامہ اقبالؒ نے اپنا کہا تھا کہ ’’مجموعہ اضداد ہے اقبال نہیں ہے‘‘ لیکن مجموعہ اضداد قرآن وسنت کے خلاف سازش اور حیلے کی بھرمار کرنے والے تیس مار خان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر نبیﷺ ابوسفیان کی بیگم ہندؓ کو لونڈی بنانے کا حکم دیتے تو درست تھا لیکن غلط تھا کہ ’’نبیﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر متعہ یا زنا کی اجازت دیدی‘‘۔ اسلئے کہ خیبر کے موقع پر متعہ اور پالتو گدھے کی حرمت نازل ہوچکی تھی۔ مفتی محمدتقی عثمانی نے کراچی اور حیدر آباد کے کوؤں کوجائز قرار دیا، سودی رقم کوزکوٰۃ کی کٹوتی کے نام پر جائز قرار دیا اور سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا۔ نبیﷺ پر سود ی خواہش کی تہمت لگادی اور عوام کو ماں سے زنا کے گناہ کا مرتکب قرار دیا ہے۔
حضرت عمرؓ نے عورت کے حق اور جان خلاصی کیلئے فیصلہ دیا کہ ’’ایک ساتھ تین طلاق پر بھی شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے‘‘۔ قرآن میں واضح ہے کہ اصلاح کی شرط پرہی شوہر عدت میں رجوع کرسکتا ہے۔ تنازعہ کی حالت میں حضرت عمرؓ نے درست فیصلہ کیا تھا۔ حضرت علیؓ نے بھی اپنی رائے اور فتویٰ کو واضح کیا تھا ۔ قرآن کی آیات میں بھی کوئی ابہام نہیں تھا۔ بعد میں مسئلہ پیدا ہوا کہ عورت کو اکٹھی تین طلاقیں دی جائیں تو تین شمار ہوں گی یا ایک؟۔ حالانکہ اصل معاملہ یہ تھا کہ شوہر نے رجوع کرلیا تو رجوع معتبر ہوگا یا نہیں؟۔ اگر قرآن کے مطابق جواب دیا جاتا کہ اصلاح سے رجوع ہوسکتا ہے ورنہ نہیں تو بات ختم ہوتی لیکن بات سے بھتنگڑ بنانے کے شوق میں مسائل درمسائل اور اختلافات در اختلافات بنائے گئے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں ایسے واقعات ہوئے کہ کسی نے متعہ کرلیا اور بچے کی پیدائش کے بعد نسب سے انکار کردیا۔ بچیوں سے زیادتی کرلی اور اس کو متعہ کے نام سے جواز بخش دیا، اسلئے حضرت عمرؓ نے اس پرسختی سے پابندی لگادی۔حضرت عمرؓ کے اقدام کی ولالت اور مخالفت کرنے والوں نے مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا اور آج پوری اُمت قرآن وسنت سے دوری کے نتائج بھگت رہی ہے۔ سعودیہ کی حکومت نے پہلے مسیار کے نام پر متعہ کو جواز بخشا اور اب یورپ کی آزادی سے بھی استفادہ کرنے کی بھرپور طریقے سے ٹھان لی ہے۔ افراط وتفریط کا شکار طبقہ قرآن وسنت کو پہنچانے میں ڈنڈی مارتا ہے تو اسکے یہی نتائج نکلنے تھے۔
علماء وارث الانبیاء ہیں۔ انبیاء درہم دینار نہیں علم کی وراثت چھوڑتے ہیں۔ علماء چندہ کے وقف کو وراثت بناتے ہیں۔دارالعلوم کراچی وقف ہے ، مفتی اعظم مفتی شفیعؒ نے محنت مزدوری یا باپ دادا کی وراثت سے حاصل نہیں کیا۔ وقف ٹرسٹ کی ملکیت ہے۔ خلافت راشدہ میں خاندانی بنیاد پر قبضے کا تصور نہ تھا۔ یزید کا بیٹا معاویہ تخت چھوڑ گیا۔سر آغا خان خود کو آغا خانیوں کا روحانی باپ سمجھ کر کہے کہ مریدنی بیٹی ہے نکاح نہیں ہوسکتا،حالانکہ نبیﷺ نے نکاح کیاتوام المؤمنینؓؓ کا درجہ مل گیا۔ آغاخان ہسپتال ، یونیورسٹی وغیرہ ٹرسٹ کی ملکیت ہیں سرآغا خان کی نہیں البتہ جماعت خانے ذاتی ملکیت ہیں۔ ہم نے مدارس اور اداروں کوبھی جماعت خانوں کی طرح ذاتی ملکیت بنادیا۔انا للہ واناالیہ راجعون۔ عتیق گیلانی