جاوید احمد غامدی کے انتہائی باطل نظرئیے کا تعاقب

584
0

جاوید غامدی نے حالیہ ویڈیو بیان میں کہا کہ’’ حضرت نوحؑ کے تین بیٹے تھے ، ایک بیٹے کی اولادافریقی اقوام ہیں، دوسرے بیٹے کی موجودہ مسلمان اقوام ہیں اور تیسرے بیٹے کی امریکی ویورپی اقوام ہیں۔ قرآن کے مطابق تلک ایام نداولھا بین الناس باری باری پہلے افریقی اقوام دنیا پر حکومت کرچکی ہیں، پھر نوح علیہ السلام کے دوسرے بیٹے کی اولاد مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی ، اب مسلمانوں کی باری کبھی نہیں آئے گی ، یہ قرآن کا فیصلہ ہے ، حضرت نوحؑ کے تیسرے بیٹے کی اولاد امریکہ وپورپ نے دنیا میں حکومت کرنی ہے البتہ مسلمان اپنی زندگی کے طرز کو بہتر کرنے کی کوشش کریں اور مسلمانوں کے عالمی غلبہ اور امام مہدی کے انتظار میں بیٹھنا ہوتو انکی مرضی‘‘۔
جاوید غامدی کو سند سمجھا جاتاہے، وہ اپنی ذہنی ساخت کو قرآنی تعلیم کا رنگ نہ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ یہود کا کام یہ تھا یحرفون کلم من بعد مواضعہ ’’ جملوں کو ان کی جگہوں سے ہٹا کر بات کرتے تھے‘‘۔ جاوید غامدی نے یہودی احبار کے طرز پر قرآنی آیت کو غلط رنگ میں پیش کیا۔ اللہ نے نوحؑ کے بیٹوں کی ترتیب کے لحاظ سے نہیں فرمایا کہ’’ ترتیب وار باری باری ان کو حکومت ملے گی ‘‘ بلکہ ونرید ان نمن الذین استضعفوا فی الارض ان نجعلھم الائمہ وان نجعلھم الوارثیں ’’ ہمارا پروگرام ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں کمزور کرنے کی پوری سازشیں ہورہی ہیں کہ انہی لوگوں کو من حیث القوم دنیا کا امام بنائیں اور انہی کو زمین کا وارث بنائیں‘‘۔ قرآن تو ان لوگوں کو حوصلہ دیتا ہے جنکے خلاف سازش پر دنیا متحد ہوتی ہے۔ یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے کنویں میں پھینکااور عزیز مصر کی بیگم نے جیل میں ڈلوادیا مگر جیل سے وہ اقتدار تک پہنچے۔ خمینی سے جیل میں شاہ ایران نے پوچھا کہ تیرے ساتھی کہاں ہیں؟، خمینی نے جواب دیا کہ ’’ماؤنوں کی گود میں‘‘ امریکہ میں کالوں کیخلاف بدترین قوانین تھے لیکن بارک حسین مشعل اوبامہ کیساتھ پورے 8 سال تک امریکہ کا صدر بن کر وائٹ ہاؤس میں رہے۔
جماعتِ اسلامی کے ڈاکٹر فرید پراچہ نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل پر کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبیﷺ کو اذیت دینے والوں کا حکم دیاہے کہ اینما ثقفوا فقتلوا تقتیلا ’’ ان کو جہاں بھی پاؤ ، قتل کردو‘‘۔ حالانکہ یہ آیت بھی ڈاکٹر فرید پراچہ نے اپنی جگہ سے ہٹاکر پیش کی جو یہود کا وطیرہ تھا۔آیت میں خواتین کوزبردستی سے زیادتی کا نشانہ بنانے پر یہ خبر دی گئی ہے کہ پہلے بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جو خواتین کو زیادتی کا نشانہ بناتے تھے لیکن پھر اللہ نے ان کو مغلوب کردیا اور اچھے لوگوں کے پاس طاقت آگئی تو خواتین سے زیادتی پر قتل کرنے کا سلسلہ آتا تھا۔ نبیﷺ نے ایک خاتون کی شکایت پر یقین کیا تو گواہ طلب کئے بغیر قرآن کے حکم کے مطابق اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا۔ افسوس کہ زبا بالجبر کیلئے بھی علماء نے قرآن و سنت کیخلاف چار شرعی گواہوں کو ضروری قرار دیا تھا جس کی وجہ سے کوئی مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچتاتھا ۔ پرویز مشرف نے اس وجہ سے زنا بالجبر کو تعزیرات میں شامل کیا، جس پر مفتی تقی عثمانی نے انتہائی غلط تحریر لکھ ڈالی، وائل ابن حجرؓ کی روایت میں گواہی کے بغیر سنگسار کرنے کی وضاحت ہے ، اسی روایت کا حوالہ دیکر سنگسار کرنے کی حد کو ثابت کیا لیکن گواہی کے حوالہ سے اس حدیث کو نہ مانا۔ جماعتِ اسلامی نے اس کو پمفلٹ کی صورت میں خوب بانٹا، جس کا ہم نے جواب بھی لکھ دیا تھا،مذہبی طبقے کا معاشرے میں یہ سب سے بدتر کردارہے۔
مشعال خان کیس کے بعد جماعتِ اسلامی پختونخواہ علماء ومشائخ کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، تقاریر کے دوران کوئی قافلہ داخل ہوتا تو نعرے بازی کا تکلف کرتے ہوئے عجیب وغریب چال ڈھال کا مظاہرہ کیا جاتا تھا، علماء اور مشائخ اس طرح کی ڈرامہ بازی سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ مشعال خان پر خوب تنقید کی گئی۔ جبکہ ڈاکٹر فرید پراچہ نے مشعال خان کیس کے بعد ٹی وی پروگرام میں کہا کہ ’’ بہت سی آیات ہیں جن میں نبیﷺ کو اذیت دینے پر قتل کا حکم ہے‘‘ ۔ ایک خاتون پوچھ رہی تھی کہ بتاؤ قرآن میں کہاں یہ حکم ہے۔ لیکن ڈاکٹر فرید پراچہ مسلسل اپنی بات دہرا رہا تھا کہ قرآن میں بہت سی آیات ہیں مگر حوالہ نہیں دے رہا تھا۔ سلمان تاثیر کے حوالہ سے بھی نبیﷺ کی اذیت پر جو آیت پیش کی تھی ،اس کا اس رکوع سے بھی تعلق نہیں، جس میں نبیﷺ کی اذیت کے حوالہ سے ذکر ہے۔ اس اذیت میں بھی بنیادی بات یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ مخاطب ہیں کہ جب نبیﷺ کھانے کی دعوت پر بلائیں تو پہلے سے آکر مت بیٹھو، کھانا کھانے کے بعد بھی باتیں بنابناکر زیادہ دیر تک نہ بیٹھو ، اس سے نبیﷺ کو اذیت ہوتی ہے۔۔۔ ‘‘۔ جماعتِ اسلامی جان بوجھ کر بے شعور عوام کے جذبات کو مذہبی بناکر اپنے مذموم سیاسی عزائم کے ذریعے اقتدار تک پہنچنا چاہتی ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تشدد کی سیاست اسلامی جمعیت طلبہ نے شروع کی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کی آمریت اور نوازشریف کے کرپشن میں جماعتِ اسلامی برابر کی شریک رہی۔ اسلامی جمہوری اتحاد وغیرہ کے نام سے جماعتِ اسلامی ہمیشہ استعمال ہوتی رہی ہے۔ جس طرح ہماری اسٹیبلشمنٹ نے شریف برادران کو پاک صاف رکھا تھا اور پانامہ لیکس میں اس کا پاجامہ لیکس ہوگیا ، اسی طرح جماعتِ اسلامی کو بھی پاک صاف رکھا ہے۔
پروفیسر غفور احمد ؒ جیسے اچھے لوگ جماعت اسلامی میں بہت ہیں لیکن انہیں بالکل بے خبر رکھا جاتاہے، اسلامی جمہوری اتحاد کے بارے میں بھی پروفیسر غفور احمد نے بعد میں بتایا تھا کہ وہ لاعلم رہے اور بعد میں حقائق کا پتہ چلاہے۔ مشعال خان کے والد صاحب کے پاس جماعت اسلامی دیر کا کوئی شخص آیاتھا تو اس نے کہا کہ ’’ہم دیر میں علماء کو بہت آگے آنے اور اہم معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرنے دیتے ، تم لوگ علماء کو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہو؟ ‘‘۔ واقعی جماعت اسلامی میں علماء ومشائخ کی اوقات بھی نہیں، جماعت کاامیر کوئی عالم نہیں بن سکتا، سید منور حسن سے سلیم صافی نے ضمیر کی بات کہلوائی تو جماعت کی امارت سے انکو ہٹادیا گیا۔ جماعت اسلامی ضمیر رکھنے والے افراد کو بھی آگے نہیں لاتی جو باشعور اور مخلص ہوں، سید منور حسن کو سیدھا سادا ہونے کے علاوہ کراچی پر قابو پانے کی غرض سے لایا گیا۔جمعیت علماء اسلام نے بھی علماء کی بھیڑ کے ہوتے ہوئے اکرم خان درانی کو داڑھی رکھا کر وزیراعلی بنایاتھا۔
ڈاکٹر طاہرالقادری پہلے نوازشریف کا غلام رہا، تمام جرموں میں شریک اور چشم دید گواہ،اب شریف برادری کی بھینس سے مولانا فضل دودھ پی رہاہے۔