شامی عورتوں کے آج ترکی میں اڈے چل رہے ہیں. اللہ اپنے پاکستان کی حفاظت کرے. عبد القدوس بلوچ

452
0

iman-mazari-ki-taraf-se-fouj-per-laanat--k-bad-imran-khan-ne-fouj-ki-taieed-shuru-krdi

نوشتہ دیوار کے کالم نگار عبد القدوس بلوچ نے کہا: صحافی حقائق بتانے کے بجائے فٹبال کے پلیئر کی طرح مخالف سائڈ پر گول کے چکر میں ہیں۔ رونالڈو ہے تو کوئی میسی۔ جیو کے طلعت حسین و شاہ زیب خانزادہ بھی کھلاڑی ہیں۔ طلعت کو جھوٹ سے بھی شرم نہیں آئی کہ بھٹو نے کہا: ختم نبوت نہیں ختم حکومت کا مسئلہ ہے۔جبکہ قومی اتحاد یا نظام مصطفی کی قیادت کا بھٹو سے ختم نبوت پر اختلاف نہ تھا۔ اصغر خان قادیانی اور نوازشریف اسکی جماعت میں تھے اور ضیاء الحق کے بیٹے انوار الحق کا سسر جنرل رحیم بھی قادیانی تھا۔ جنرل ضیاء کا حکومت پر قبضہ ہوا تو دھرنوں کے بغیر بھی ختم نبوت کے مسئلے پر گھٹنے ٹیکے اور سخت آرڈیننس نافذ کردیا جب قادیانی مشکلات کا شکار ہوئے ، تویورپ میں پناہ لی، امریکہ و یورپ کویہی تکلیف ہے جو قادیانی سے آئینی دفعہ ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ ن لیگی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے اعلان کیا: ’’بڑی ہوشیاری سے سازش کی گئی تھی‘‘۔ جن کو سازش کا ذمہ دار قرار دیا ان کو سیاہی سے مٹادیا تھا جو میڈیا پر دکھایا گیا۔جسٹس صدیقی نے کہاکہ اصل مجرم انوشے رحمان کو بچاکرزید حامد کو قربانی کا بکرا بنایا۔ بیرسٹر ظفر اللہ میں سازش چھپانے کی صلاحیت ہے۔ اگر راجہ ظفر الحق کو ہی عدالت بلالے تو سازش کی تہہ تک پہنچنے میں وقت نہ لگے ۔ جسٹس صدیقی نے حکومت کو دھرنا ہٹانے کا حکم دیکر اچھا کیا، ورنہ مہینوں اور سالوں عوام اذیت کا شکار رہتے۔ غیر مسلح پولیس و ایف سی کے اندر یہ صلاحت نہیں کہ دھرنے والوں کو ہٹاسکے ۔ جسٹس صدیقی جوان ہیں ، اگر ڈنڈا بردار ہوکر کسی ڈنڈا بردار سے مقابلہ ہو تو پتہ چلے کہ حکومت کی رٹ طاقت سے ممکن ہے۔ طاہر القادری و عمران خان کے دھرنے میں پی ٹی وی پر قبضہ میں رینجرز کے جوانوں کو دیکھ کربلوائی ہٹے۔
شورہوا کہ عدالت کے پیچھے فوج ہے اور کھلاڑی صحافیوں نے نوازشریف کے دماغ میں ہوا بھری جس سے حکومت ساکھ کیساتھ اپنا دبدبہ بھی کھو بیٹھی۔جسٹس صدیقی کا یہ ذہن بن گیا کہ دھرنوں کے پیچھے فوج ہے، اسلئے ریمارکس دئیے کہGHQ کے سامنے کوئی دھرناکرے تو فوج کیا کریگی؟ تحقیق کی جائے کہ دھرنے والوں کو آنسو گیس کی گنیں کس نے دیں؟آرمی چیف و رینجرز کو ثالث نہیں کورٹ مارشل ہونا چا ہیے۔ہوسکتا ہے کہ میں قتل یا غائب کردیا جاؤں۔ جسٹس صدیقی کو چاہیے تھا کہ پیسے بانٹنے پر وضاحت طلب کرتے۔یہ انکا بڑا خلوص ہے کہ خود کو آزمائش میں ڈال کریہ ریمارکس دیئے ۔ ظالم و مظلوم کی آنکھ مچولی کا کھیل عدالت میں صدابہار ہے، جس قوم کے ججوں کا ضمیر جاگ جائے تو جبر و ظلم کا خاتمہ ہوکر رہتا ہے۔جج کی بیگم کو غریب بچی پر ظلم کرتے پکڑا گیا مگر وہ کیس دب گیا۔ جنرل راحیل نے فوج میں کرپشن ختم کرنے کی کوشش کی تو فوج پر اسکا اچھا اثر مرتب ہوا۔ نواز شریف نے جنرل راحیل سے دھرنوں کیلئے مدد مانگی تو خورشید شاہ پارلیمنٹ میں گرجے کہ یہ کیا کیا؟۔ اب خورشید شاہ نے خود ہی حکومت کو مشورہ دیا کہ فوج سے مدد لو۔ اس سیاست سے کیا مسائل حل ہونگے؟۔ افتخار چوہدری کو چیف جسٹس بنانے کیلئے پیپلز پارٹی نے آرمی چیف جنرل کیانی کا کردار مان لیا، بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کی سیاست ہے۔ جلاؤ گھیراؤ ہوا تو سب پکے مسلمان بن گئے۔ حافظ حمد اللہ نے آواز اٹھائی تھی تو کسی کے کان پر جوں نہ رینگی، اگر اسوقت چیئر مین سینٹ ، عمران خان اور پیپلز پارٹی و ن لیگ ہوش کے ناخن لیتے تو جمہوریت کی زلفیں موالیوں کی طرح پریشان نہ رہتیں۔ پارلیمنٹ کا کام یہ تھا کہ مشاروت کرکے قوم کو اعتماد میں لیا جاتامگر پارلیمنٹ سازش کی معترف ہو تو اس سے بڑا فراڈ سیاست کے نام پر کیا ہے؟ اور جمہوری قائدین نااہلی کے مسئلہ پر الجھ گئے اور ختم نبوت کا مسئلہ دھرنے کے ذریعے بحران کی صورت اختیار کرگیا۔
صحافیوں کا کام قوم اور اداروں کی درست رہنمائی ہے۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا ، جمہوریت کی بڑی خوبی ہے کہ اس میں لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ جنرل ضیاء نے جب حکومت اور اپوزیشن کو دھوکہ دیکر اقتدار پر قبضہ کیا تو جب تک خدائی موت نہ مرا ، اس وقت تک عوام اس سے اقتدار واگزار کرنے میں ناکام رہی۔ فوج حکومت کے کہنے پر گولیاں بھی مارتی تو یہی مدح سرائی ہونی تھی کہ فوج پہلے سے اس سازش کیلئے کھڑی تھی۔
ن لیگی حکومت کو اعلان کرنا چاہیے کہ شہباز شریف اور نواز شریف پہلے سے ذمہ دار عناصر کو برطرف کرنے کا اعلان کرچکے مگر دو ہزار کے دھرنے پر کوئی وزیر مستعفی ہوتا تو یہ تماشہ روز روز دیکھنے کو ملتا۔ معاملہ بگڑ ا تو جمہوریت کا تقاضہ تھا کہ ملک و قوم کے عظیم مفاد میں دھرنے والوں کا مطالبہ مانا جاتا۔ اپوزیشن نے 2013ء کے الیکشن کو سازش قرار دیا مگر وہ نہ سمجھتے تھے کہ اداروں پر تنقید کرنا کوئی بری بات ہے ۔ عمران خان نے تو افتخار محمد چوہدری سے معافی بھی مانگ لی تھی جسکے بعد مکرنے پر حامد خان بھی ناراض ہوگئے تھے۔ ضمیر ، شرم ، غیرت اور حیاء کی ساری حس تباہ و برباد ہوگئی ہے۔
نواز شریف کوئٹہ کے جلسے میں محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کا حساب چکادے۔ محمود اچکزئی نے وفاداری مشکل وقت میں وقف کر رکھی تھی ،مولانا فضل الرحمن ڈولفن کی طرح بڑی مہارت سے دونوں طرف ناچ رہے تھے۔ اگر زرداری سے کہا تھا کہ نواز شریف کو دھوکہ دیا ہے تو مولانا فضل الرحمن سے بھی کہنا چاہیے کہ زرداری کے دوست نے نواز شریف کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ میری بات کا بہت مذاق اڑایا گیا کہ کیوں نکالا ؟ ۔ مولانا فضل الرحمن سے پوچھتا ہوں کہ کس نے امریکہ کو ختم نبوت کی ترمیم کے بارے میں خبر دی کہ ہم نے کارنامہ کرکے دکھایا۔مولانا! تمہیں بتانا پڑیگا۔ ابھی تو ہماری حکومت ختم نہیں ہوئی کہ تم نے جنازہ پڑھانا شروع کیا۔ جسٹس شوکت صدیقی بھی مولانا فضل الرحمن کو طلب کرکے پوچھ لے کہ کس نے امریکہ کو سازش کامیاب ہونے کی خوشخبری سنائی ، تمہاری جان کو خطرہ نہیں لیکن تم نے بہت ساری جانوں کو خطرات میں ڈالا اور کئی لوگ اسی وجہ سے موت کے شکار ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمن ایک زبان میں ایک طرف کہتے کہ ختم نبوت کے قلعے پر حملہ ہوا اور دوسری طرف پانامہ کو سازش قرار دیتے۔ نواز شریف کیخلاف یہ کیس تو عدالتوں و نیب میں پہلے سے موجود تھے جس پر سیاست اور طاقت کی گرد تھی جس کو سازش قرار دیا جارہا تھا مگر پارلیمنٹ میں کیسے سازش ہوگئی؟۔ اس کا جواب چاہیے۔
بعض صحافیوں کیلئے گدھے سے جھوٹ کا دودھ نچوڑنا بھی مشکل نہ ہوگا مگر اچھے صحافیوں کی بھی کمی نہیں ۔ مظہر عباس اچھے صحافی ہیں ،اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالتے ہیں مگر یہ کہنا درست نہیں کہ ’’آئی ایس آئی کو رپورٹ دینی چاہیے تھی کہ حساس معاملہ ہے اور اس مہینے میں اسکے مضمرات کچھ بھی نکل سکتے ہیں‘‘ اسلئے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال بار بار کورٹ کے سامنے اور میڈیا پر یہ بات دہراتے رہے تھے۔ ایجنسی کا کام خفیہ رپورٹوں کا ہوتا ہے۔ رد الفساد ملٹری کا کام ہے۔ دھرنے حکومت کے دائرہ کار میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن مرکز اورسراج الحق صوبائی حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے دھرنا نہ کر سکے۔ جمہوری نظام کی دُم پکڑ کر چلنے والی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام نے خود سمیت تمام جماعتوں کے منہ پر بھی اسلئے کالک مل دی ہے کہ سازش کی نشاندہی کے باوجود اس کفر کو ووٹ بھی دیا۔
میاں بیوی راضی تو کیا کریگا قاضی؟ ، جب حکومت اور دھرنا والوں نے فوج کو ثالث بناکر فیصلہ کرلیا تو ؟۔ دھرنے والے پنجابی بدمعاش سیاسی رہنماؤں اور گلو بٹوں سے لڑ سکتے ہیں تو لیگی کارکن عدالتوں پر بھی چڑھ دوڑنے کی اپنی تاریخ رکھتے ہیں۔ ان کا تو سارا گلہ شکوہ یہی تھا کہ فوج ہمیں ضمانت دے کہ اگر اپنے آپے سے باہر آنیوالے ججوں کی مرمت کرنا چاہیں تو کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔ عدالت کو کٹھ پتلی قرار دینے والے ن لیگی رہنماؤں کی یہی آرزو ہے کہ فوج عدلیہ کو تحفظ نہ دے تو ہم ماڈل ٹاؤن کی طرح انکی اینٹ سے اینٹ بجادیں۔ دھرنے والے ن لیگ کی اپنی پالیسی کے نتیجے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جیو کی صحافی رابعہ انعم نے اپنے پروگرام ’’لیکن‘‘ میں یہ بات بہت اچھے انداز میں اٹھائی کہ شہباز شریف خود ہی سازش کرنیوالے وزیر کو نکالنے کا مطالبہ کررہے تھے تو دھرنے والوں کا کیا قصورہوسکتاہے؟۔
دھرنے والوں کا ن لیگ نے کھلم کھلا فوج پر الزام نہیں لگایا مگر عدلیہ پر الزام لگائے، کیا کوئی مدعی سست گواہ چست کا کردار تو ادا نہیں کررہا ؟ عدلیہ ، فوج ، سیاستدان، مذہبی طبقے اور علماء بڑے پکے مسلمان ہیں تو مدارس کے نصاب کا بھی نوٹس لیں جس میں قرآن کیخلاف کفریہ تعلیم ہے۔ طلاق کے مسئلے پر بڑا انحراف کرکے خواتین کی عصمت دری اور لوگوں کے گھر تباہ کئے جاتے ہیں۔حکومت ، عدلیہ اور فوج دھرنے والے سمیت تمام مذہبی سیاسی جماعتوں ، تنظیموں اور مدارس سے پوچھیں کہ کیا اس طرح کا نصاب پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟۔

iman-mazari-ki-taraf-se-fouj-per-laanat--k-bad-imran-khan-ne-fouj-ki-taieed-shuru-krdi-2

شیریں مزاری کی بیٹی نے جسطرح پاک فوج پر لعنت کی ہے تو یقیناًقادیانیوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے ۔ اس لعنت کو سوشل میڈیا نے خوب پھیلادیا ،اور جس طرح کے ماحول میں جس کی برینواشنگ ہوتی ہے وہی اسکی زباں سے نکلتاہے۔مرزائی سربراہ کی ویڈیو آئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ تحریک انصاف قائم ہوئی تو عمران خان نے ووٹ کیلئے نمائندہ بھیجا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اگر تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں کو پتہ چلتا تو ن لیگی رہنماؤں کی طرح عمران خان کے گھر پر بھی ہلا بول دیا جاتا۔ عمران خان نے اس خوف سے نکلنے پر صبح دو رکعت شکرانہ ادا کیا۔ شیرین مزاری کی بیٹی کے بیان سے جان چھڑانے کے جتن میں وقت گزارنے کے بعد فوج کے اقدام کی خوب مدح ا سرائی کی۔ اگر ختم نبوت کا مسئلہ عالمی سازش ہو تو تحریک انصاف اس کا حصہ تھی اور مذہبی مسئلہ تھا تو جمعیت علماء اسلام ذمہ داری سے بچ سکتی ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی۔
اگر یہ کوئی سازش نہیں تھی اور غفلت سے یہ سب کچھ ہوا ہے تو اسلام کے ٹھیکہ داروں نے بھی غفلت میں درسِ نظامی کے نصاب پر ابتک کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ پارلیمنٹ میں دونوں مسئلوں کا موازنہ کیا جائے کہ کس کی زیادہ اور کس کی کم غفلت ہے تو یقیناًعلماء و اولیاء کی غلطی بھی معلوم ہوجائے گی۔انبیاء کرامؑ معصوم ہیں ، ان کی وحی سے رہنمائی ہوتی ہے۔کئی معاملا ت میں قرآن نے رسول ﷺ کی رہنمائی فرمائی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا طرزِ عمل اور شیطانی وحی محمدی بیگم کے حوالے سے بھی انتہائی شرمناک تھی۔ نبی ومھدی تو دور کی بات ہے کوئی اچھے انسان بھی ہوتے تو کسی خاتون پر اسطرح سے زبردستی زور نہ ڈالتے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو نبیﷺ نے خواب میں دیکھا کہ اللہ نے آپؐ سے شادی کرائی تو فرمایا کہ میں نے سوچا کہ اللہ کی طرف سے ہے تو پورا ہوگا اور شیطان کی طرف سے ہوگا تو پورا نہ ہوگا۔ (صحیح بخاری)
فرقہ واریت میں مبتلاء عناصرکوجو نفرت ایکدوسرے سے ہے، وہ مرزائیوں سے نہیں۔ مرزائی کہتے ہیں کہ قرآن وسنت پر ہمارا ایمان ہے۔ختم نبوت کے منکر ہم نہیں بلکہ دیگر مسلمان ہیں اسلئے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں دوبارہ آئیں گے۔ یہی ختم نبوت سے انکار ہے۔ قرآن میں اللہ نے جس طرح شہداء کیلئے فرمایا کہ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیاجاتا ہے۔اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کیلئے فرمایاکہ ان کو اللہ نے اٹھالیااور وہ یقیناًقتل نہیں ہوئے، لیکن قرآن میں یہ وضاحت بھی ہے کہ یہ پوچھا جائیگا کہ آپ ؐنے یہ تعلیم دی تھی کہ تجھے اورتیری ماں کو دوالہ بنایا جائے تو وہ کہے گا کہ جب تک میں ان میں موجود رہا تو اے اللہ ! آپ کو معلوم ہے کہ میں نے یہ تعلیم نہیں دی اور جب تو نے مجھے وفات دیدی تو مجھے کوئی پتہ نہیں‘‘۔ قرآن جبکہ ان بڑے بڑے لوگوں کا بھی یہ نظریہ ہے جنکا مرزائیوں سے دور کا واسطہ نہ تھا کہ قرآن کا تقاضہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو فوت سمجھا جائے۔ علامہ اقبال نے غلام قادیانی کو مجذوبِ فرنگی کہا لیکن اس بحث کو شیطانی چال کہاکہ ابن مریم مر گیا یا زندہ جاویدہے، امت کی کس عقیدے میں نجات ہے۔ پھر علامہ اقبال کا ایک بیٹا بھی قادیانی بن گیا۔ جب قادیانیوں پر پابندی نہیں تھی تو بہت کم لوگ قادیانی بنتے تھے اور پابندی لگی تو بڑے پیمانے پر قادیانی بن رہے ہیں۔ علماء اور فوجی افسران ہمارے پیر بھائی تھے اور ان سب کے ایمان کا ہم نے تماشہ دیکھاہے۔