مجھے بھیک مانگنے پر شرم آتی ہے، وزیر اعظم عمران خان: واہ بھئی واہ سچ مچ؟ اشرف میمن

455
0

imran-khan-amir-liaquat-jemima-bushra-bibi-khawar-manika-shaukat-khanum-bheek-mangna-abdul-sattar-edhi-dr-tahir-ul-qadri-ptv-attack-case

کراچی (نمائندہ خصوصی )نوشتۂ دیوار کے پبلیشرتحریک انصاف سندھ کے سابق سینئر نائب صدر وامیدواربرائے قومی اسمبلی محمداشرف میمن نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو یہ کہتے ہوئے غیرت، شرم اور حیاء نہیں آئی کہ ’’ مجھے بھیک مانگتے ہوئے شرم آتی ہے‘‘۔ واہ بھئی واہ سچ مچ ایسا ہے تواس خوشگوار تبدیلی کو خوش آئند کہا جائے یا نہیں؟ اپنی ماں شوکت خانم کے نام پر بھیک مانگتے ہوئے شرم نہ آئی، تو ریاست بڑی ماں ہوتی ہے ،اس کیلئے بھیک مانگتے ہوئے کیوں شرم آئے گی؟۔ عمران خان نے تو میڈیا پر کہا تھا کہ میں وزیراعظم بنوں گا تو قرضہ اُتارنے کیلئے فنڈز اکٹھے کرکے دکھاؤں گا۔ قوم نے سوچا کہ دوسرے کرپٹ ہیں، ان کو بھیک نہیں قرضہ بھی نہیں ملے گا، عمران خان کنگال ہے، شوکت خانم کے نام پر بھیک مانگ کر دکھائی ، پارٹی کیلئے بھیک مانگ کر دکھائی، دھرنوں کیلئے بھیک مانگ کر دکھائی، الیکشن مہم کیلئے بھیک مانگ کردکھائی تو قرضہ اتارنے کیلئے بھی بھیک مانگ کر دکھائے گا، اپنے بچے بھی اپنے یہودی ننھیال کی بھیک سے پرورش پارہے ہیں۔ اگر عمران خان کو اپنی اماں سے عقیدت تھی تو اس کی نافرمانی کرکے جمائماسے شادی اسلئے کی کہ مالدار تھی، پھر بھیک مانگ کر ہسپتال اسلئے تو نہ بنایا کہ اس کی بھیک سے خود بھی پلتا رہے؟۔ پھر پارٹی میں کرپٹ اور سرمایہ دارکو شامل کیا تاکہ ان کی بھیک سے پلتا رہے، اب اسلئے تو وزیراعظم نہیں بنا کہ کرپٹ ساتھیوں کے ذریعے اس ملک کو لوٹنے کی باری لے؟۔
ہماری قوم بڑی سیدھی سادی ہے۔ عمران خان کی اس بات پر بھی خوش ہوئی کہ بھیک مانگنے پر شرم آنے کی بات کردی، حالانکہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ کرکٹ سے زیادہ یہ شخص بھیک مانگنے میں عالمی شہرت یافتہ ہے، اگر بھیک پر ایوارڈ ملتا تو ستار ایدھی اسکے مقابلے میں ہار جاتا،اتنی مہارت اس کو بھیک مانگنے میں حاصل ہے۔ یہی ادا تو ریاست اور قوم کو پسند آئی تھی اسلئے کہ قوم کو بھیک مانگنے کی ضرورت پہنچ گئی تھی۔ عمران خان کے پاس اور کیا عقل، دانشمندی، فلسفہ ، نظریہ اور منطق ہے؟۔ اپنے مفاد کی خاطر خاور مانیکا سے بیگم بشریٰ پنکی چھین لی۔ اسکے بچوں کی عزتِ نفس کا بھی خیال نہیں رکھا، وہ چیختے اور چلاتے رہے کہ ہماری ماں نے کوئی شادی نہیں کی ، ہماری بے عزتی نہ کی جائے۔ عامر لیاقت نے کہا کہ قرآن کے خلاف عدت میں شادی کی ہے تو اس کو پارٹی میں شامل کیا اور ٹکٹ بھی دیدیا۔ جو بیویوں کو بھی جوتوں کی طرح بدلے اس پر کارکنوں ، رہنماؤں اور قوم کا کیا اعتماد ہوسکتاہے؟۔ یہ جمہوریت ، قوم اور اس نظام کے خاتمے کی نشانی ہے کہ ایک ایسا شخص وزیراعظم بن گیا جس کو اقدار، روایات اور مذہب کا کوئی خیال نہیں۔ اُمت کا کوئی فرقہ تو بہت دور کی بات ہے،کوئی غیرمسلم بھی ایسا نہیں کہ کسی مزار کی راہداری کو چاٹے۔ دہشتگردی کا عروج تھا تو اس نے دہشتگردوں کی حمایت سے اسلام و مسلمانوں کوبدنام کیا، دہشتگردی کازور ٹوٹا تو مزار کی دہلیز چاٹنے سے اسلام اور مسلمانوں کا مسخ چہرہ دنیا کو دکھایا جا رہاہے۔ دنیا کو دکھایا گیا کہ پاکستانی مسلمانوں کے اقدار ہیں کہ سبھی کوبے غیرتی کا طعنے دینے والے کا اپنا چہرہ کیا۔ بیگمات ہتھیالینے ، دہشتگردوں کی حمایت ، مزار پر سجدے، پردے و بے پردگی، قول وفعل میں بدترین تضادات کے شکار شخص کو حکمران بنایا جائے تو چڑھتے سورج کے پجاری اسکی قیادت کو تسلیم کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے، اگر خدانخواستہ عالمی قوت نے افغانستان میں رہائش پذیر دہشتگردوں یا بھارت کے ہندؤوں کو پاکستان پر مسلط کیا تو قوم قبول کریگی۔ عمران خان اس کی سرپرستی حاصل ہے جو اللہ کے اقتداراعلیٰ کے مقابلے میں مہرہ مسلط کرتی ہے، وہ قوت مخالف ہوئی تو قندیل بلوچ کے قتل پر عمران خان کو پکڑا جائیگا کہ اس نے بشریٰ پنکی سے تعلق کا انکشاف کیا ۔
طاہر القادری جہاز سے نہیں اتر رہاتھا کہ ماراجاؤنگا مگر پھر پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا،PTV پر قبضہ کیا، قبرکھودی اور کفن لہراکرڈرامہ کیا۔ عمران نے یہ کہہ کر ذلت افزائی کی کہ’’ میں نے طاہرالقادری سے رشتہ تو نہیں مانگا تھا‘‘۔ یہ سازشیں ہیں جن سے قرآن کیمطابق پہاڑ ہل جائیں۔