عمران خان نے محرم الحرام میں نکاح کیا یا متعہ؟ ارشاد علی نقوی

393
0

عمران خان شیعہ مخالف طبقوں کو محرم کے نکاح پر اپنا ہمنوا بناتا ہوگا اور اہل تشیع سے کہتا ہوگا کہ میں نے متعہ کیا تھا

نوشتۂ دیوار کے ڈیزائنرسیداشاد علی نقوی نے موجودہ دور کے فراڈ سیاسی قیادتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ مفاد پرستوں کے ہاتھوں قوم کے اخلاق، کردار ، اقدار، سیاست اور لیڈر شپ سب کچھ تباہ ہوں تواس کی ذمہ داری کس پر پڑے گی؟۔عمران خان نے نکاح کیا تھا لیکن کس ڈرامہ بازی سے کہہ رہا تھا کہ تبدیلی آئیگی اور میں شادی کروں گا۔
آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا کہاتھا اور پھر اس کی غلط تعبیریں کرتے ہوئے بھی نہ شرمایا، نوازشریف اور شہباز شریف نے جب زرداری کو قومی دولت لوٹنے کا ذمہ دار قرار دیا تو معلوم ہوتا تھا کہ حبیب جالب کی روح ان میں جاگ گئی ہے لیکن پانامہ لیکس سے اپنے پاجامے بھی لتھڑے نظر آئے تو قوم کو پتہ چلا کہ انسان اور سیاستدان دوسروں کے خلاف نہیں بول رہے تھے بلکہ کتے بھونک ، گدھے ڈھینچو، ڈھنچو کررہے تھے۔ عمران خان دونوں کو جس طرح سے منافق، بے غیرت، بے شرم، ملی بھگت اور سازباز کا مرتکب قرار دے رہاتھا تو عوام محسوس کررہی تھی کہ عمران خان سیدھا، باغیرت، شرم و حیاء رکھنے والا، صاف ستھرااور بالکل پاکیزہ کردار رکھنے والا انسان ہے لیکن جب اسکی فائل کھلی ہے تو اس سے بڑا ڈرامہ باز کوئی نہیں لگتاہے۔ ہر چیز کی حد ہے مگر عمران خان نے رسی توڑدی ہے۔ 14اگست 2014ء کو عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کا تاریخی دھرنا شروع ہوا تھا۔ اس دوران محرم الحرام اور عیدالبقر بھی آئے ، 31اکتوبر کو7محرم الحرام کی تاریخ تھی۔ریحام خان کے ساتھ نکاح کی خبر میڈیا میں جنوری کو دی گئی۔ مفتی سعید خان نے نکاح کے بارے میں جنوری میں میڈیا سے کہا کہ ’’ میں عمران خان کے بہاف پر کہہ رہا ہوں کہ ابھی عمران خان کا نکاح ہواہے‘‘۔ جب ریحام خان نے طلاق کے بعد انکشاف کیا کہ 31اکتوبر شادی کی سالگرہ تھی اور تحفہ مانگنے پر مجھے طلاق ملی تھی تو میڈیا نے مفتی سعید خان سے پوچھا کہ شادی کب ہوئی تھی؟۔ 31اکتوبریاپھر جنوری کو؟، مفتی سعیدخان نے کہا کہ ’’ 7محرم کو نکاح ہوا تھا، اس کے مطابق تاریخ دیکھی جائے‘‘۔ پھر میڈیا نے مفتی سعیدخان کے کلپ بھی چلائے۔ مفتی سعید خان کے کہنے میں کہ عمران خان کے بہاف پر کہہ رہا ہوں اور قطری شہزادے کے خط میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ جھوٹ کی بنیاد پراگر کوئی قومی اسمبلی اور سیاسی جماعت کی قیادت کیلئے نااہل ہوسکتاہے تو دونوں کو نااہل کیا جائے۔
دھرنے کے دوران ضرب عضب شروع تھا تو عمران خان ایک طرف امپائر کی انگلی اٹھنے کی دھائی دے رہا تھا تو دوسری طرف پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالہ کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ آج میڈیا پر انکشاف ہورہا ہے کہ دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی چیف ظہیر الاسلام کا کردار تھا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جیوٹی وی چینل پر روزسنگباری کی جاتی تھی۔ انصار عباسی نے بھی کہا تھا کہ ’’دھرنے کے پیچھے آرمی چیف نہیں لیکن کچھ لوگ خود کو آرمی چیف سے زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں‘‘۔یہ بھی عجیب معاملہ تھا کہ دھرنے میں عمران خان کو چاہنے والی لڑکیاں سرِ عام شادی کی پیشکش کرتی تھیں، روز روز کی گہماگہمی ایک تماشہ ہوتا تھا، جب شادی کرہی لی تھی تو اس کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی؟۔ پھر ڈرامہ بازی کی ضرورت کیا تھی کہ ’’تبدیلی آئے گی اور شادی کروں گا‘‘۔ ایسا ڈرامہ تو کسی بھی سیاسی قیادت نے نہیں رچایا ہے۔ دوسروں کو ڈرامہ باز کہنے کی اس قدر جسارت اور خود اتنا بڑا ڈرامہ رچانے میں کوئی مشکل محسوس نہیں ہوئی؟۔ آصف علی زرداری نے سیاسی اداکار کے لقب سے ٹھیک یاد کیا تھا لیکن سیاسی اداکاری تو اب اس کا اپنا بیٹا بھی کررہاہے۔ سیاست ادکاری کی آرٹ ہو تب بھی قوم کے جاہلوں سے کھیلنے میں زیادہ حرج نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی ایک سیاسی اداکارہی تھا جس کی نقل موجودہ سیاسی قیادتیں اتار رہی ہیں۔
اصل مسئلہ قلابازیاں کھانے، غیراخلاقی حرکتیں کرنے اور دوسروں کو ڈھٹائی سے موردالزام ٹھہرانے کیساتھ اپنی ایسی حرکات ہیں جن کی کوئی توجیہ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ 7محرم کو نکاح سے طالبان ، لشکر جھنگوی اور داعش کو پیغام دیاگیا کہ عمران سے زیادہ اہل تشیع کا کوئی مخالف نہیں، عام سنی بھی محرم خصوصاً عاشورے میں نکاح اور شادی سے اجتناب کرتے ہیں۔ شادی کی بھی جائے تو اس کو چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جب طالبان کا غلغلہ تھا تو عمران خان انکی بڑی ڈھٹائی سے تائید کرتا تھا، طالبان کا دور نہ رہا تو جلسے میں ’’نعرۂ حیدری :یا علی‘‘کی آوازیں بھی بلند ہورہی ہیں۔ ایاک نعبد وایاک نستعین کے بجائے اب یاعلی مدد کے نعرے بھی لگ جائیں تو مسئلہ نہیں لیکن قوم کے سامنے اس بات کی وضاحت تو کم ازکم کی جائے کہ ’’پہلے متعہ تو نہیں کیا تھا؟‘‘۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ طالبان کو اس نکاح سے جو پیغام دیا جارہاتھا اس کو اہل تشیع کے سامنے یہ دوسرا رنگ دینے میں بھی حرج محسوس نہیں کرینگے۔ تحریک انصاف علماء ونگ کے سربراہ مفتی عبدالقوی کا ویڈیو پیغام الیکٹرانک ، سوشل اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے پہنچ چکا تھا۔ایک حرکت سے اس کو نکال دیا گیا تو کیا تحریک انصاف کے سربراہ کیلئے کوئی اخلاقی معیار شرط نہیں ہے؟۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی بیوی کے نازیبا تصویروں پر بھی امریکی قوم کو بہت اعتراض ہے لیکن عمران خان کس قسم کی مٹی سے بنایا گیا انسان ہے کہ اپنے لئے کسی اخلاقی معیار کو خاطر میں بھی نہیں لاتا ہے؟۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں میڈیا کو اس شرط پر تو اشتہارات نہیں دیتیں کہ عمران خان کا چہرہ بے نقاب نہ کیا جائے؟۔ سیاسی جماعتوں کی بہادری ملا، طالبان اور فوج سے نہ ڈرنے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں اور قائدین کیخلاف بولنے سے ہیجڑوں کو بھی ڈر نہیں لگتا۔سینٹر مشاہداللہ خان نے سماء ٹی وی چینل پر فیصل قریشی کے پروگرام میں کہاتھا کہ ’’ عمران خان پرائے بچے پال رہا ہے‘‘۔ مبشرلقمان نے دانیال عزیز کو یہودی ماں کا بیٹا کہہ کر اصل یہودی قرار دینے پر چیلنج کررکھاہے۔ قلابازی کھانے والے دانیال عزیز اور عمران خان کے کردار پر یہودبھی شرم کھا رہے ہوں۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے اس کردار کی بنیادپر کہا کہ ’’جسے دیکھ کر شرمائے یہود‘‘۔
قوم کو شعور وآگہی دینا صحافتی فریضہ ہے۔ کسی جماعت کی وکالت اورکسی کیخلاف محاذ آرائی کرنا صحافت کے بنیادی فریضے کے منافی ہے۔ قوم کے شعور کو بیدار کرنے کا فرض نبھانا چاہیے۔ سیاسی قائدین قوم کیلئے رول ماڈل ہوتے ہیں اور ان پر تنقید کرنا انکے ذاتیات کا مسئلہ نہیں ۔ قوم کے سامنے خود کو قیادت کیلئے پیش کرنیوالا اپنی معاشرتی زندگی کو ذاتیات نہیں کہہ سکتا،لیڈر کی ذات پبلک پراپرٹی ہوتی ہے۔جج، جرنیل اور جرنلسٹ جانبدار بن جائے تو اس کا منہ ہی کالا ہے۔