حج (معروفات)

529
0

حج و عمرہ دلچسپ موضوع ہے کہ خلفاء راشدینؓ کے اختلاف کی ہماری کتابوں میں وضاحت ہے۔ مشرکین مکہ دورِ جاہلیت میں سمجھتے تھے کہ حج کے زمانہ میں عمرہ کرنا جائز نہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک حج کیا جس میں عمرہ کا احرام بھی ساتھ باندھ لیا۔ حضرت عمرؓ نے سمجھا کہ لوگ اس کو سنت سمجھ کر افضل کا یقین رکھتے ہیں۔ چنانچہ پابندی لگائی کہ حج کیساتھ عمرے کا احرام نہ باندھا جائے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ نماز کی سنتوں کے بعد اندرون سندھ، بلوچستان، پختونخواہ ، افغانستان اور دیگر علاقوں میں بعض دیوبندی اجتماعی دعا مباح سمجھ کر کرتے اور بعض بدعت سمجھ کر مخالفت کرتے ۔ کانیگرم جنوبی کانیگرم کے علماء نے نمازکی سنتوں کے بعد دعا نہ کرنے پر ایک پنج پیری عالم دین پر قادیانیت کے فتوے تک لگادئیے ۔ رسول اللہﷺ سے ایک وفد ملنے آیا،بڑی مونچھ اور داڑھی مونڈھ کر خوفناک چہرے والوں سے نبیﷺ نے پوچھا کہ تم نے چہروں کو کیوں مسخ کیاہے ؟، تو وہ کہنے لگے کہ ہمارے دین کا یہ حکم ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ہمارے دین نے ہمیں مونچھ کم رکھنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ‘‘۔ حدیث کا مطلب ان کو غلط طرزِ عمل سے آگاہ کرنا تھا۔ حضرت عمرؓ اس کو اچھی طرح سمجھتے تھے اسلئے اپنی بڑی مونچھ کو دین کے خلاف نہ سمجھا ۔ عربی مقولہ ہے الناس علی دین ملوکہم عوام الناس اپنے حکمرانوں کا طرزِ عمل اپناتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کی وجہ سے بعد میں آنے والے مسلمان حکمرانوں ، سرداروں اور علماء کرام کے ہاں بڑی مونچھ کی روایت پڑگئی تھی، ٹیپو سلطانؒ ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، علامہ اقبال وغیرہ کی تصایر عام ہیں۔ اگر حضرت علیؓ کی مستحکم حکومت قائم ہوتی تو پھر بہت پہلے سے سر منڈھانے کی روایت مسلمان حکمران ، علماء اور عوام الناس میں پڑ جاتی۔ اسلئے کہ حضرت علیؓ کے متعلق ہے کہ داڑھی چھوٹی اور سر کو مونڈھواتے تھے۔ بہر حال حج وعمرہ ایک ساتھ کے حوالہ سے حنفی مسلک کا جمہور سے اختلاف تھا۔ بخاری میں حضرت عثمانؓ کا روکنے اور حضرت علیؓ کا اعلانیہ مخالفت کا واقعہ ہے۔
حضرت عمرؓ کا ذہن تقلیدی نہیں اجتہادی تھا، اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انکے کردار کو قرآن وسنت کیخلاف انحراف اور سازش قرار دیا جائے۔ امام ابوحنیفہؒ کا ذہن بھی اجتہادی تھا اسلئے وہ حضرت عمرؓ کی تقلید پر زور دینے کے بجائے جس راہ کو حق اور ٹھیک سمجھتے تھے اسی کو اختیار کرلیتے ۔ جب حنفی مکتب کی طرف سے ایک ساتھ حج و عمرہ کا احرام باندھنے کیلئے دلائل دئیے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کیخلاف شیعہ اور حنفیوں میں کوئی فرق نہیں ۔ حضرت ابن عمرؓ سے کہا گیا کہ تمہارے والدؓ ایک ساتھ حج و عمرہ کا احرام باندھنے کے مخالف تھے تو کہنے لگے کہ اپنے باپ کو نبیﷺ کی جگہ رسول تو نہیں مانتا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ تم پر پتھر نہ برس جائیں کہ میں کہتا ہوں کہ اللہ کے رسولﷺ نے یہ کیا اور تم حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کا حوالہ دیتے ہو۔ صحیح مسلم میں حضرت عمران بن حصینؓ کے حوالہ سے تقیہ اختیار کرنے کا ذکر ہے اسلئے کہ وہ اس مؤقف پر ڈٹے تھے کہ حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ سنت اور اللہ کی طرف سے نازل کردہ حکم ہے۔ بنی امیہ کے حکمران ضحاک نے ایک ساتھ حج وعمرے کو زبردست جہالت قرار دیا تو حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے سمجھایا کہ ہم نے نبیﷺ کیساتھ ایک ساتھ حج و عمرے کا احرام باندھا ۔ حج و عمرہ پر اختلاف کی شدت خلوص کا مظہر تھامگریہ اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے کی شروعات تھیں، خواتین کو مساجد سے روکنااس سے زیادہ بڑا قدم تھا ۔حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ’’ نبیﷺ موجودہوتے تو خواتین کو مساجد سے منع فرمادیتے‘‘۔ حضرت عائشہؓ نے خلافت کیخلاف جہادی لشکر کی قیادت کی۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘۔پھر گردنیں مارنے تک نوبت پہنچی لیکن ایکدوسرے پر کفر کے فتوے نہیں لگائے۔ امام حسنؓ نے صلح میں کردار ادا کیا۔ ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے اور خواتین کی جماعتوں کونکالنے سے زیادہ آسان سنت کے مطابق ماحول بناناہے جہاں خواتین وحضرات مکہ کی طرح اجتماعی نماز کا اہتمام کرکے مساجدکو آباد کریں ۔ٹی وی کی رونقیں اور شخصیات کا پروٹوکول مساجد کو آباد نہیں کرسکتی ہیں۔ گھر، محلہ اور مسجد سے سنت کے ماحول کاآغاز ہوگا تو معروف کا درست تصوربھی اجاگر ہوگا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’ قریش کی خواتین کو دنیا کی خواتین پر اسلئے فضلیت حاصل ہے کہ وہ اونٹ پربھی سواری کرلیتی ہیں‘‘۔ اونٹ کی سواری سے زیادہ ڈرائیونگ ہے، گاڑی چلاناعورت کیلئے شریعت کے منافی نہیں لیکن سعودیہ میں یہ پابندی لگائی گئی۔ جب خواتین پر مساجد میں پابندی لگ گئی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوئی ہیں، آج پھر سنت کی طرف آنا پڑے گا۔