عمران خان وزیر اعظم کا خواب پورا نہ کرسکا تو پنجاب کا صوفی بن سکتا ہے. محمد حنیف عباسی

380
0

imran-khan-wazir-e-azam-ka-khuwab-pura-na-kar-saka-to-panjab-ka-sufi-ban-sakta-hei-Haneef-Abbasi

پنجابی مسلمان : علامہ اقبال

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو توشرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
زیرو پوائنٹ کے کالم نگار معروف صحافی جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں عمران خان، بشریٰ مانیکا،اسکے سابق شوہر خاور مانیکاکے بارے میں کچھ حقائق لکھ دئیے ہیں۔ خاور مانیکا ایک بُری شہرت کا افسر لیکن روحانی شخصیت کا مالک بھی تھا،ماڈرن بشریٰ مانیکا پابند صوم وصلوٰۃ،روحانیت اور علم نجوم کی ماہر ہے۔1988ء میں بینظیربھٹو وزیراعظم بن گئیں،پھر تحریک عدمِ اعتماد میں چانگا مانگا کے اندر ن لیگ کی منڈی لگائی، پیپلزپارٹی کی بچت ہوئی اور خاور مانیکا کے والد غلام محمد مانیکا نے تحریکِ عدم اعتماد کے دوران مسلم لیگ کو چھوڑکر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ جاویدچوہدری نے لکھ دیاہے کہ غلام محمد مانیکا خاندان بہت عرصہ سے سیاست میں ہے اور پاکپتن کے شاہ فریدشکر گنج ؒ کے یہ مرید بھی ہیں۔ عمران خان انکا مرید ہے۔ اب عرصہ ہوایہ خاندان پی ٹی آئی میں ہے۔ عائشہ گلالئی کی آفت آئی تو بشریٰ مانیکا عمران خان بابا فریدؒ کے مزار پر لے گئی۔ بشریٰ نے خواب میں رسول اللہﷺ کے حکم پر سرور مانیکا سے خلع لے لیاجو اب بشریٰ وٹو بن چکی ہیں۔ شادی ہوچکی ہے یا ہونے والی ہے اس کا اعلان کسی ایسی گھڑی میں کیاجائیگا کہ جو علوم نجوم کے حوالہ سے مناسب بھی ہو۔
جاوید چوہدری نے لکھ دیا ہے کہ ’’پاکستان کیلئے جس خوشخبری کا ذکر ہے اس کا آغاز بھی آئندہ بشریٰ اور عمران خان کی شادی اور وزیراعظم بن جانے کے بعد ہوجائیگا‘‘۔پنجاب کی مٹی میں خاص طور سے پیری مریدی کا کھیل کامیاب رہتاہے ۔ ڈبل شاہ کی کامیابی بھی اس وجہ سے ممکن ہوسکی تھی۔ قائداعظم اور فاطمہ جناح پیری کی شکل میں آتے توپنجاب ان کی عقیدتوں، کرامات اور بڑی روحانی قوت کا معترف رہتا۔ جنرل ایوب خان کی طاقت بھی نہ ہوتی کہ وہ فاطمہ جناح کو پنجاب میں شکست دیتے۔ تحریک طالبان پوری قوم کیلئے امریکہ کیخلاف بہت بڑا سرمایہ تھا،امریکہ آج تک نیٹو کیساتھ مل کر بھی شدت پسندقوتوں کو شکست نہیں دے سکا لیکن پاک فوج نے دہشت گردوں پر قابو پالیاہے۔ مسلم لیگ ن کی مقبولیت کا گراف فوج کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے مگر ن لیگ کو لگادم دینے کیلئے پی ٹی آئی سے کام لیا جارہاہے۔ اگر بشریٰ کی روحانی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو پاک فوج کی سیاسی مداخلت کا رستہ بھی مکمل طور سے رُک جائیگا۔ جس طرح عمران خان روحانی بنیادوں پر اپنے مسائل کے حل کیلئے بشریٰ کے دروازے پر پہنچ گئے اسی طرح سے پنجاب ہی نہیں پاکستان بھر میں مسائل کے شکار عوام اس آستانے پر سجدہ تعظیمی بجا لاسکتے ہیں۔
تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو جس کی روحانی قوت ، مشوروں اور سعادت کی گھڑیوں میں کامیابی کے راز بتانے سے وزیراعظم کے منصب پر فائز کیا ہو یا پھرسیاست سے کنارہ کشی کرکے صوفیت کی گدی پر بٹھادیا ہو تو اس کی کرامت پر کس کو یقین نہ آئیگا؟۔ اگر عمران خان شادی کرکے بھی وزیراعظم کے منصب پر نہ پہنچ سکے تو پھر آخری کھیل یہ ہوگا کہ سیاست کو حقارت کی ٹھوکر مار کر پنجاب میں آستانہ عالیہ سجادیں گے۔ جہاں لوگوں کے دینی ،روحانی،مالی،نفسانی اور ہر قسم کے مسائل حل کرنے کیلئے ٹھکانہ بن جائیگا۔بینظیر بھٹو اور وزیراعظم نوازشریف بھی تنکے والے ننگے بابا کے پاس عقیدت سے پہنچتے تھے اور جتنی تعداد میں ڈنڈیاں ماری جاتی تھیں اتنے اتنے سال حکومت کرنے کیلئے ملتے تھے۔جب ہندو اور مسلمان پنجاب کے پیروں کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے تو سکھ مذہب کے روحانی بانی بابا گرونانک نے ایک نیا مذہب ایجاد کیا۔ برصغیر پاک وہند راجہ رنجیت سنگھ کا اقتدار انگریز کے مقابلہ میں سب سے زیادہ مضبوط تھا۔ اورنگزیب عالمگیر بادشاہ کے پاس ایک بہروپیہ آیا اور شاہی دربار میں بھرتی ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ بادشاہ نے کہا کہ پہلی شرط آزمائش ہے۔ بہروپیہ نے مختلف لبادے بدل بدل کر قسمت آزمائی کی لیکن بادشاہ ہر بار اس کو پہچان کر شرمندہ کردیتا تھا۔ آخر کار بادشاہ ایک مشکل مہم پر جارہاتھا،پتہ چلا کہ کوئی درویش عرصہ سے گوشہ نشین ہے، اورنگزیب بادشاہ نے بھی دعاکی غرض سے خدمت میں حاضری کا فیصلہ کیا، قریب جاکر پتہ چلا کہ درویش غنودگی کے عالم میں ہے جب تک ہوش میں نہ آئے بادشاہ بھی حاضری نہیں دے سکتا۔ اورنگزیب بادشاہ کی عقیدت میں اضافہ ہوا کہ واقعی کوئی بڑی بزرگ شخصیت ہے، اس ویرانے میں بادشاہ کی بھی پروا نہیں ہے۔ پھر جب پیرصاحب ہوش میں آگئے تو اورنگزیب بادشاہ نے اپنے ساتھ بڑا سرمایہ لیکر خدمت میں حاضر ہوا، درویش سے دست بستہ دعا کی درخواست کی اورنذرانہ بھی پیش کردیا، اس نے کہا کہ میں تمہاری دولت کو پائے حقارت سے ٹھوکر مارتا ہوں لیکن آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟، میں وہی بہروپیہ ہوں۔ بادشاہ نے کہا کہ آپ نے اپنے فن کا کمال ثابت کیا ہے اور اس رقم کو بطور انعام لے لو، مگر درویش نے کہا کہ میں تمہاری نوکری پر لعنت بھیجتا ہوں، جب درویشی کی نقل میں اتنی عزت ہے کہ میری داڑھی سے دھوکہ کھاکر میرے پاؤں کو بھی چھو رہے ہو، عاجزی ونکساری بھی کررہے ہو تو اصلی درویشی کیوں اختیار نہ کرلوں؟۔
اگر پنجاب کی عوام کو ن لیگ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا تو عمران خان درویشی کی راہ پر چل سکتے ہیں اور عمران خان کو حکومت دیدی گئی تو طالبان سے زیادہ یہ رنگ وروپ خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ انقلاب نہیں آسکتا جس کیلئے قوم کو اُمید ہے۔