Home نوشتہ دیوار Nawishta-e-Diwar-19 انڈیا کے چیف جسٹس نے بھارتی عوام کے بخئے ادھیڑ دئیے۔ 

انڈیا کے چیف جسٹس نے بھارتی عوام کے بخئے ادھیڑ دئیے۔ 

263
0

میں گائے کو ماتا نہیں مانتا ہوں۔ گائے کو گھوڑے اور کتے سے زیادہ نہیں مانتا،دنیا کھاتی ہے ابھی میں کیرالہ ہوکر آیا ہوں تو میں نے وہاں بیف کھایا۔
چلا رہے ہیں رام مندر ۔ میں آپ کو بتاؤں اصل رامائن جو سنسکرت میں ہے اس میں رام خدا نہیں بلکہ انسان ہے ۔دو ہزار سال کے بعد وہ خدا بن گیا
اندرا گاندھی نے کہا غریبی ہٹاؤ ، آپ پیچھے پیچھے، جیسے چوہے بانسری بجانیوالے کے پیچھے پیچھے۔صحافی کو چمچہ گیری کرنی پڑتی ہے ورنہ نوکری جائیگی۔
انڈیا کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے نے کہا کہ سرکار کا دماغ خراب ہوگیا ہے ۔ کس طرح سے یہ چار سال سے Behaveکررہے ہیں حد کردی ہے دنیا میں ہماری ہندوستان کی ناک کٹادی۔ میں امریکہ میں ابھی چھ مہینے رہ کر آیا ہوں ، جون سے دسمبر تک تھا لوگ ہنستے ہیں ہندوستان پر کہ یہ کس طرح کے پاگل لوگ ہیں کہ کسی کو پکڑ کر مار ڈالا ،یہ کہ گائے کاٹ رہا تھا۔ کسی کو کچھ کررہے ہیں پاگل پن کئے جارہے ہیں کئے جارہے ہیں چار سال سے پاگل پن ہوا ہے اس ملک میں۔
ایک صحافی نے سوال کیا کہ گائے کو سب سے بڑا ہوا بنا کر پیش کیا گیا ہے اس وقت۔ جسکے جواب میں ہندوستان کے چیف جسٹس مرکنڈے نے کہا کہ میں نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے میں سائنٹیفک آدمی ہوں میں گائے کو ماتا نہیں مانتا ہوں۔ گائے کو گھوڑے اور کتے سے زیادہ نہیں مانتا ہوں، جیسے گھوڑا یا کتا ہے، ویسے گائے ایک جانور ہے۔ اور دنیا کھاتی ہے گائے کا گوشت ، امریکہ کھاتا ہے یورپ کھاتا ہے ، افریقہ ، چائنا، آسٹریلیا ، یہاں تک کہ افغانستان ، پاکستان ، تھائی لینڈ میں بھی، ہندوستان میں بھی، ابھی میں کیرالہ ہوکر آیا ہوں تو میں نے وہاں بیف کھایا۔ کوئی بری چیز نہیں ہے دنیا کھاتی ہے۔ وہ سب برے لوگ ہیں آپ ہی سادھو سنت ہیں؟۔ حد کردی پاگل پن کی۔ آپ میں مگر پگلیٹی بھری ہوئی ہے ماتا ماتا پاگلوں کی طرح چلا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گائے ماتا ہے کیونکہ وہ دودھ دیتی ہے پینے کو۔ تو بھئی بکری بھی دیتی ہے دودھ پینے کو، بھینس بھی دیتی ہے، اونٹ کا بھی پیتے ہیں لوگ دودھ، تبت میں یاک کا پیتے ہیں، وہ سب دیوی دیوتا ہیں؟۔ پاگل پن کی باتیں ہیں۔ بے وقوفی کی باتیں ہیں۔ اب تم گدھے ہو تو بنے رہو گدھا۔ گدھے کا علاج نہیں ہے میرے پاس۔ گائے کو ماتا ماننا او رپوجا کرنا انتہائی بے وقوفی کی بات ہے۔ آپ گائے کو ماتا مانتے ہیں ذرا سوچئے کوئی جانور انسان کی ماتا ہوسکتی ہے؟ دماغ ہے آپکے پاس یا گوبر بھرا ہوا ہے۔ گائے جانور ہے جیسے گھوڑا اور کتا ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ میں نہیں مانتا ہوں۔
صحافی نے کہا کہ اسی طرح کی اظہار رائے کھل کر کرنے کے بعد نصیر الدین شاہ کو پاکستان بھیجنے کی بات کی گئی ہے۔ جسکے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ اس کو تو بھیج دیا مجھے بھیج کر دکھاؤ اگر ہمت ہو تو، بے وقوفی کی باتیں۔ عقل استعمال کرو یا عقل بالکل کھو گئی تمہاری۔ گائے ماتا ہے گائے دیوی ہے، پاگل پن کی باتیں۔ دنیا کے سامنے اپنا مذاق اڑوارہے ہو لوگ سوچتے ہیں کہ گدھے ہیں ہندوستان میں اور کچھ نہیں۔
صحافی نے کہا کہ ایک پولیس افسر سے زیادہ اہمیت گائے کی نظر آتی ہے ، بلند شہر کا معاملہ جس طرح سے سامنے آیا۔ چیف جسٹس مرکنڈے نے کہا کہ جیسے میں نے کہا اکبر الہ آبادی کا شعر ہے
خبر دیتی ہے تحریک ہواتبدیل موسم
تو اب بد ل رہا ہے زمانہ،
بڑا اچھا جھٹکا پانا ان لوگوں کیلئے بہت ضروری تھا۔ جس پر صحافی نے کہا کہ ہم پورا شعر سننا چاہیں گے آپ سے۔ چیف جسٹس مرکنڈے نے پورا شعر سنایا۔
خبر دیتی ہے تحریک ہواتبدیل موسم
کھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے اور ہوں گے
زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
زمزمے کا مطلب ہے گیت اور زعم کا مطلب گھمنڈ، تو چار سال سے یہ لوگ زعم میں تھے ان کا دماغ خراب ہوگیا تھا۔ پاگل پن کئے جارہے ہیں کئے جارہے ہیں کئے جارہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ رام مندر بننے سے کیا بیروز گاری ختم ہوجائے گی ؟ child malnutrition ختم ہوجائے گا؟، farmers distressختم ہوجائے گا؟ یہ سب الیکشن کیلئے ہے چونکہ چناؤ آرہا ہے۔ اسی لئے چلا رہے ہیں رام مندر رام مندر۔ میں آپ کو بتاؤں اصل رامائن جو سنسکرت میں ہے اس میں رام خدا نہیں ہے بلکہ انسان ہے۔۔۔ دو ہزار سال کے بعد وہ خدا بن گیا۔۔۔آپ کسی سنسکرت کے اسکالر سے پوچھ لیں۔ تو جب وہ انسان ہے تو اس کا عبادتخانہ کیوں بنارہے ہو؟۔
عبادتخانہ تو دیوی دیوتا کا بنایا جاتا ہے انسانوں کا تھوڑی بنایا جاتا ہے۔ لوگوں نے اصل رامائن پڑھا نہیں کیونکہ آپ لوگ پڑھے لکھے لوگ تو ہیں نہیں۔ ادھر اُدھر ہوا میں تیر ماردیا کہیں۔ جو بھگوان ہے ہی نہیں تو اس کا مندر کیا بنارہے ہو؟ ۔۔۔
آپ لوگ پروفیسر ہیں اس یونیورسٹی کے میں آپ کا ایک ٹیسٹ لے لیتا ہوں بہت بڑے پروفیسر بن کے آئے ہیں نا آپ ۔ ابھی ٹیسٹ لے لیتا ہوں۔ آپ کی بیٹی اگر کسی دلت (اچھوت) سے شادی کرنا چاہے گی آپ راضی ہوں گے؟۔ کبھی نہیں ہونگے۔ قتل کردیں گے اس کا۔ دلت (اچھوت) لڑکا اگر غیر اچھوت لڑکی سے شادی کرنا چاہے تو وہ اپنی موت کو دعوت دے رہا ہے۔ قتل ہوجائے گا آپ کی پروفیسری سب رہ جائے گی جب آپ کی لڑکی کہے گی کہ اچھوٹ لڑکے سے شادی کرنی ہے۔ آپ یہ نہ سمجھئے کہ بڑے پی ایچ ڈی لئے ہوئے ہیں کوٹ اور ٹائی پہنی ہے تو بڑے تعلیم یافتہ ہیں۔ میں آپ کو تعلیم یافتہ نہیں مانتا ہوں کیونکہ آپ میں بھی کوڑا بھرا ہوا ہے نسل پرستی بھری ہوئی ہے۔ سر میں گوبر بھرا ہے آپ کے بھی معاف کرئے گا۔ یہ آپ کا ٹیسٹ ہے کہ اگر آپ میں نسل پرستی بھری ہے کہ نہیں؟۔ ننانوے فیصد پروفیسرز کے سر میں یہ نسل پرستی بھری ہے۔ لڑکی گھر چھوڑ کر بھاگ جائے تو یہ الگ بات ہے مگر آپ اجازت کبھی نہیں دیں گے۔ کیونکہ آپ دلت (اچھوت) کو نیچ مانتے ہیں۔
آج بھی 71سال ہوگئے ہیں آزادی کے مگر ابھی تک دلت کو نیچ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ تم بڑے پسماندہ ملک میں ہو۔ ۔۔۔ آپ کے میڈیا کے جو مالک ہیں یہ بزنس مین ہیں اور بزنس مین گورنمنٹ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا ہے، کیونکہ ناراض کیا تو گورنمنٹ بیس طریقے سے ناراض کرسکتی ہے۔ انکم ٹیکس نوٹس اور پلیوشن نوٹس ، یہ نوٹس وہ نوٹس تو مالک نہیں چاہیں گے گورنمنٹ کو پریشان کرنا۔ تو چمچہ گیری کریں گے گورنمنٹ کی۔ تو لہٰذا آپ کو بھی چمچہ بننا پڑے گا۔ چمچہ نہیں بنو گے تو آپ کی نوکری گئی۔ بہت بڑے آپ سینہ تان کے آئے ہیں جرنلسٹ اور زیادہ آپ نے بک بک کیا تو مالک آپ کو نوکری سے نکال دے گا۔ آپ کے بھی بیوی بچے ہیں نا ان کو کھلانا ہے آپ کو۔ کیا کھلاؤ گے اگر نوکری چلی گئی؟۔
معاف کیجئے گا میں میڈیا کے صرف چند افراد کی عزت کرتا ہوں دو چار ہیں ۔ ان کے علاوہ میں میڈیا کی عزت نہیں کرتا کیونکہ سب بکے ہوئے ہیں۔ ٹی وی تو میں نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ کیا بکواس چل رہی ہے۔ ایک وہ لارڈ تھے بھاؤ بھاؤ ان کا نام رکھا ہے میں نے آپ سمجھ سکتے ہیں وہ کون ہیں۔ تو یہ میڈیا والے کیسے چمچہ گیری کرتے ہیں اب بی جے پی پاور میں آئی تو بی جے پی کی چمچہ گری ہورہی ہے اگر وہ الیکشن ہار گئی تو یہی جرنلسٹ جو پاور میں آئے گا اس کی چمچہ گیری شروع کردیں گے۔ تو بھیا بہت بہت شکریہ نمستے ! ایک دو کو چھوڑ کر میرے دل میں کسی کی عزت نہیں ہے۔تم سب بکے ہوئے ہو۔ میں میڈیا کے بارے میں بات ہی نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ بہت دکھ ہوتا ہے جو میڈیا کو کرنا چاہیے ۔ ۔۔۔
آپ کسی ٹھگ کو چن لیں سب ٹھگ بیٹھے ہیں جو آپ کو بہت پیار اٹھگ لے اس کو ووٹ دے دو۔ میں تو نہیں دوں گا ووٹ کیونکہ مجھے سب ٹھگ لگتے ہیں۔ معذت میں اس بکواس کام کا حصہ نہیں بنتا چاہتا ۔ آپ بنئے ہم کیا آپ کو رائے دیں۔
آپ کو ٹھگ پیارے ہیں ۔ جیسے وہ اندرا گاندھی نے کہا غریبی ہٹاؤ اور آپ پیچھے پیچھے، جیسے چوہے بانسری بجانے والے کے پیچھے پیچھے، اندرا گاندھی کو دھڑادھڑ ووٹ مل گئے اور وہ جیت گئی۔ پھر مودی آئے انہوں نے کہا بگاڑ بگاڑ وکاس وکاس ، لو بھی تمہاری نوکریاں تو چلی گئی ہیں جو تھیں وہ بھی چلی گئی ہیں یہ وکاس ہوگیا ہے۔
انا ہزارے آئے ایمانداری ایماندداری کرکے چیف منسٹر ہوگئے لو بھیا ایمانداری۔ اب ہم کیا تم کو سمجھائیں ؟ تم کو عقل نہیں ہے یا گوبر بھرا ہے ۔ اس کا میرے پاس علاج نہیں ہے۔ مجھے پارلیمنٹری ڈیموکریسی پر بھروسہ ہی نہیں ہے تو نوٹا یا پوٹا ا س کے کوئی معنی نہیں۔