اسلام اور کمیونزم کے درمیان فاصلہ کیسے کم ہوسکتا ہے؟۔محترم لال خان ایک مؤثراور باکرادار شخصیت لگتے ہیں

832
0

معراج محمدخان نے پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف کے علاوہ اپنی پارٹی بھی بنائی تھی لیکن وہ ایک کامیاب لیڈر اور ناکام سیاستدان تھے۔ محترم لال خان زیادہ بڑے اور قدآور شخصیت لگتے ہیں جو اپنے مضبوط نظریات کا بیباک انداز میں پرچار کرتے ہیں۔ میری بلوچ رہنمایوسف نسکندی مرحوم سے ملاقات ہوئی تھی جو پہلے تبلیغی جماعت سے والہانہ انداز میں وابستہ تھے اور پھر برگشتہ ہوکر کمیونسٹ بن گئے اور ہماری حمایت میں ایک بیان بھی دیا تھا۔ میں نے مذہب کے حوالہ سے اتنی بات سامنے رکھی کہ ایک آدمی پنج وقتہ نماز کسی لالچ کے بغیر پڑھ لے، زکوٰۃ دے اور دیگر عبادات روزے رکھے،حج وعمرہ کرے توکیا کسی جماعت ، کسی نظریے اور کسی تحریک کوایسے کارکن مل سکتے ہیں؟۔ ایک بلوچ یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ تازہ وضو کرکے نماز پڑھارہا ہو، اس کی ریح خارج ہوجائے اور پھر سب کے سامنے وضو ٹوٹ جانے میں انتہائی شرم محسوس کرکے بھی نماز چھوڑ دے؟ ، یہ مذہب کا کمال ہے کہ وہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر نماز چھوڑ کر چلاجاتا ہے۔ میری باتوں سے یوسف نسکندی ؒ نے بھی اتفاق کیا اور پھر مجھے اپنے شاگرد سلیم اختر سے ملنے کا حوالہ دیا۔
سلیم اختر سے ملاقاتیں رہیں ان کا کہنا تھا کہ پہلے آپ سے ملاقات ہوجاتی تو میں اسلام چھوڑ کر کمیونسٹ نہ بنتا۔ ان کے ذریعہ امداد قاضی سے ملاقات کا پروگرام عاصم جمال کے ہاں بنا۔ پھر وہاں سے ایک چھوٹا سا کتابچہ ملا،جو کمیونزم سمجھنے کا ایک بنیادی قاعدہ تھا۔ اس کتابچے کا خلاصہ اور اس کی تردید پر میں نے ماہنامہ ضرب حق میں ایک مضمون لکھا۔ کتاب کا مصنف بیمار ہوگیا،اسلئے جواب نہیں لکھ سکتا تھا۔ سلیم اختر نے کہا کہ تمہاری باتوں کا جواب دینے کی صلاحیت صرف جنگ کے صحافی نجم الحسن عطاء میں ہے، چناچہ نجم الحسن عطاء نے تفصیل سے گھما پھرا کر تحریر لکھ دی، جسکے جواب میں ہم نے بھی کچھ لکھ دیا، آخر کار ان کہنا تھا کہ میرا دماغ بھی گھوم گیا۔ کمیونسٹوں کیساتھ مکالمے کی ضرورت ہے اور علماء ومفتیان کیساتھ بھی مکالمے کی ضرورت ہے، کمیونسٹوں نے معاشی نظام اور علماء ومفتیان نے اسلام کا بیڑا غرق کیا ہے، دونوں میں مخلص افرادکے خلوص پر شک نہیں مگر غلط بات پر اڑنابیکار ہے۔
شیخ الاسلام، مفتی اعظم اور بڑے القاب والوں نے سودی نظام کو اسلام کا نام دیا ہے تو پھر غیراسلامی آخر کیا ہے؟۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرامؑ کو مبعوث فرمایا، قرآن میں ان کی زبانی بار بار یہ کہلوایا : قل الاسئلکم علیہ اجرا ’’کہہ دو، اس پر میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا‘‘۔جب صوفیاء کرام نے اللہ اللہ کے ورد پر کوئی اجر نہیں مانگا تو عوام میں دین کی برکت سے خلوص آگیا۔ متقدمین علماء کی اجماعی رائے تھی کہ قرآن پڑھانے، نماز پڑھانے ، تبلیغِ دین پر معاوضہ جائز نہیں، اسلئے کہ حدیث میں منع کیا گیا تھا۔ پھر متأخرین علماء نے رائے قائم کرلی کہ دین کی تبلیغ، قرآن پڑھانے اور نماز پڑھانے وغیرہ پر معاوضہ جائز ہے۔
بعد ازآں مذہب نے پیشہ کی صورت اختیار کرلی۔اب آج اگر دین کو بطور پیشہ کے استعمال نہ کیا جائے تو دین کے نام پر مدارس اور بہت سی رونقیں ختم ہوجائیں گی اوراس میں شک کی گنجائش نہیں کہ مدارس کو پیشہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حد تو یہ ہے کہ حلالہ کی لعنت بھی پیشہ بن گئی، سود کامعاوضہ بھی پیشہ ہے، طلاق کا فتویٰ بھی پیشہ ہے،قرآن خوانی بھی پیشہ ہے، طلبہ کی تعداد،مدرسہ کی رونق بھی پیشہ،اہتمام بھی پیشہ، تدریس بھی پیشہ اور چندہ بھی پیشہ۔ کوئی سکول و کالج اشتہار اسلئے شائع کرتاہے کہ وہ تعلیم کوبطورِ پیشہ استعمال کرتا ہے اس کا مالک خوب کماتا ہے مگر مدرسہ کا بھی یہی حال ہوتا ہے، اشتہارات کی ضرورت ہوتی ہے تو لکھا جاتا ہے کہ ’’داخلہ جاری ہے، قیام ، طعام، ماہانہ مفت معقول وظیفہ، مفت علاج معالجہ اور قابل مدرسین کی خدمات فلاں درجہ تعلیم کی سہولت موجود ہے‘‘ ،دوسری طرف طلبہ کی تعداد،مدرسین کی تنخواہیں اور اخراجات پورا کرنے کیلئے چندے کی ضرورت پر ایسازور دیا جاتا ہے،جیسا اللہ کہیں لٹ گیا ہو،طلبہ بھوک سے مرر رہے ہوں،اساتذہ نڈھال اورمہتمم بدحال ہو۔
پہلے سکول کالج میں امیرزادے پڑھتے تھے اور مدارس میں غریب غرباء لیکن اب مدارس کے منافع بخش کاروبارنے غریبوں کو بھی امیر بنانا شروع کردیا اور پیسے والے لوگ بھی بچوں کے اچھے مستقبل کیلئے مدارس کارُخ کررہے ہیں اور مدارس کے مہتمم کے بچے اچھے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاسؒ نے تبلیغ کے کام کی بنیاد اس بات پر رکھی کہ چندہ نہ ہو،لوگ اپنی جان، اپنامال اور وقت اللہ کی راہ میں خرچ کریں لیکن جماعت پر سود خور قسم کے لوگ قابض ہوگئے جو پہلے دیسی طریقے سے حیلے کرکے سودی کاروبار میں ملوث تھے اور اب مفتی محمد تقی عثمانی کے فتوے کے سہارے پر سودی کاروبار کی ترویج کررہے ہیں ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے بھائی مولاناصوفی عبدالحمیدصاحب نے اپنی کتاب ’’مو لانا عبیداللہ سندھیؒ کے علوم وافکار‘‘ میں بہت پہلے ان کا یہ نقشہ کھینچا تھاکہ ’’منافع خور سمگلر قسم کی ذہنیت کے لوگوں کااس جماعت پرقبضہ ہوگیا ہے‘‘۔
جنرل راحیل شریف ضربِ عضب میں دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنے کی بات کرتے ہیں مگر یہ معلوم ہے کہ تبلیغی جماعت دہشت گردوں کی سب سے بڑی سہولت کار ہے، جب آرمی پبلک سکول پشاور کا واقعہ ہوا تھا تب بھی جماعت کے افراد اس ذہن سازی میں مشغول تھے کہ ’’ دہشت گردوں نے بہت ہی اچھا کام کیا ہے‘‘۔ جماعت کے لوگوں کو باقاعدہ منافقت کی زبردست ٹریننگ دی جاتی ہے کہ کس کس طرح پینترے بدلتے رہنے کا نام حکمت ہے، علماء کے خلاف یہ زہر اگلتے ہیں لیکن علماء کے اکرام کی بھی تعلیم دیتے ہیں، بدترین قسم کی فرقہ وارانہ اور متعصبانہ ذہنیت کی آبیاری کرتے ہیں اور بات اتفاق واتحاد اور عدمِ منافرت اور فرقہ واریت کی مخالفت کی کرتے ہیں۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ بہت لوگوں میں اچھا جذبہ اور اخلاص بھی ہے لیکن اچھا جذبہ اور خلوص خوارج میں بھی تھا اور موجودہ دور کی خارجیت کی تمام نشانیاں بدرجہ اتم ان میں موجود ہیں۔
بریلوی مکتبۂ فکر کے لوگ صوفیت کے علمبردار تھے،وہابی اور دیوبندی مکتبۂ فکر کی تجدیدِ دین کیخلاف ردِ عمل کے طور پر ان میں تعصب اور منافرت کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، تبلیغی جماعت میں لگے ہوئے پنجاب کے 80%سے لوگ بریلوی مکتب سے تعلق رکھتے تھے۔ وزیرستان کے پہاڑوں میں محسود اوردامان(دامن) میں بیٹنی قوم تبلیغی جماعت کوپہلے نئے دین کے علمبردار سمجھتے اور سخت مخالفت کرتے تھے۔ پھر یہ سلسلہ اتنا بڑھ گیا کہ عوام نے سمجھا کہ ہم اور ہمارے آبا واجداد پہلے دین سے عاری تھے اور تبلیغی جماعت نے نماز، وضو، غسل اور اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا ہے، اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ مذہبی لبادے، حلیے اور مذہب کی زبان میں گفتگو تبلیغی جماعت ہی کی مرہونِ منت ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ حقیقت میں ہم خلوص سے بھی گئے اور غسل، نماز وغیرہ کے فرائض و مسائل کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
لطیفہ ہے کہ گاؤں والوں کو کچھوا مل گیااور وہ اس کو پہچانتے نہ تھے، اپنے سردار کے پاس لائے کہ یہ کیا ہے؟،سردار جی اسے دیکھ کر پہلے روئے ، پھر ہنسے ،پوچھاگیا کہ روئے اور ہنسے کیوں؟، سردارجی نے کہا کہ ہنسا تو اسلئے کہ تم لوگ کتنے نالائق ہو، اس کا پتہ نہیں، رویا اسلئے کہ مجھے خود بھی پتہ نہیں کہ یہ کیا ہے۔ اب یہ ہے کہ اس کے آگے گندم کے دانے ڈالو، اگر اس نے کھالیا تو یہ کبوتر ہے اور نہیں کھائے تو پھر جو بلا بھی ہے سو ہے۔اللہ کی قسم ! کہ مذہبی طبقات نے دین کا وہ حشر کیا ہے جسکا عکس اس لطیفے میں موجود ہے۔ شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث دوسروں کے حال پر ہنسنا شروع کردیں گے اور اپنے حال پررونا شروع کردیں گے۔انکے ہوشیار اور بڑے علماء کا حال اس لطیفے میں مذکور اس سردار جی سے مختلف نہ پائیں گے جو دین کا تصور شناخت کیلئے اتنا رکھتے ہیں کہ جیسے سردار جی نے کہا کہ کچھوا کے سامنے گندم کا دانہ ڈال دو ، کھالیا تو کبوتر ہے اور نہیں کھایا تو جو بلا بھی ہے سو ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی کے بارے میں مفتی کفایت اللہ نے ایک میڈیاچینل پر کہا کہ’’ اس وقت روئے زمین پر شیرانی صاحب جتنا بڑا عالم کوئی نہیں ہے‘‘۔ ایک مرتبہ مولانا شیرانی صاحب کے پاس پہنچا تو وہاں مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن بھی بیٹھے ہوئے تھے، پاکستان کے بارے میں مولانا صاحبان ایسی گفتگو کررہے تھے جیسے کچھوا سے ناواقف سردارجی کی روح ان میں بول رہی ہو کہ ’’پاکستان ایک عجب الخلقت ریاست ہے‘‘۔نووارد کی طرح مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تمہارا پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔
موقع کو غنیمت سمجھ کر میں نے پہلے قرآن سے کتاب کی تعریف بتائی کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ الذین یکتبون الکتاب بایدیھم ’’وہ لوگ جو کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں‘‘۔ یعنی کتاب ہاتھ سے تحریر کی جانے والی چیز کا نام ہے۔ پھر کتاب کی تقدیس کا ذکر کیا: والقلم ومایسطرون’’ قسم ہے قلم کی اور جوسطروں میں ہے‘‘ ۔ ذٰلک الکتاب لاریبہ فیہ ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شائبہ تک نہیں ہے‘‘۔اللہ کی پہلی وحی میں علّم بالقلم’’قلم کے ذریعہ سکھایا‘‘ کا ذکر ہے، مگر علماء درسِ نظامی کی تعلیم میں پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ مصحف ( کتابی شکل میں) قرآن اللہ کی کتاب نہیں۔اس پر حلف بھی نہیں ہوتا، اس کی ابتداء بسم اللہ بھی مشکوک ہے، جب تم لوگ اللہ کی کتاب کی تعریف میں اس قدر کھلی بددیانتی اور غلط فہمی میں مبتلا ہو تو پاکستان پر کیا بحث کروگے؟، مولانا عطاء الرحمن نے پشتو کی کہاوت سنائی کہ ’’بھوکا روٹی کیلئے بدحال تھا توکسی نے کہا کہ پھر وہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا‘‘۔ ہم پاکستان کی بات کر رہے تھے اور یہ اپنے مطلب کی بات کرگیا۔
یہ اس جماعت کا حال ہے جو ’’کتاب کے نشان پرالیکشن میں حصہ لیتی ہے اور الیکشن میں آیت کا حوالہ دیتی ہے کہ یایحیےٰ خذ الکتاب بقوۃ ’’اے یحیےٰ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑلو‘‘۔جو ریاست میں حصہ دار بننے کیلئے ہمہ وقت بیتاب اور کوشاں رہتی ہے۔ کتاب کو پکڑنے کی بجائے کتاب کے ذریعہ سے ریاست سے قوت حاصل کرتی ہے۔ عمران خان کے رہبر مفتی محمد سعیدخان نے بھی اپنی کتاب ’’ریزہ الماس‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ جس طرح قرآن میں ضرورت کے طور سے خنزیر کا گوشت کھانا جائز ہے، اسطرح کچھ شرائط کیساتھ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ خنزیر کا گوشت جسم کا حصہ بن جاتا ہے جبکہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھا جائے تو جسم کا حصہ نہیں بنتا‘‘ ( یعنی قرآن کی بات فقہ حنفی سے زیادہ بدتر ہے نعوذ باللہ) جن فقہاء صاحبِ ھدایہ کی کتاب تجنیس، فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ شامیہ میں لکھا ہے کہ ’’سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘۔ تو وہ تحریری شکل میں اس کو اللہ کا کلام بھی نہیں مانتے تھے اور موجودہ دور کے اُلو کے پٹھے تو یہ بھی نہیں سمجھتے کہ یہ جو پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ ’’ مصحف تحریری شکل میں اللہ کی کتاب نہیں، یہ محض نقوش ہیں جولفظ ہیں اور نہ معنیٰ‘‘۔ (نورالانوار: ملاجیونؒ )۔ اس کا معنیٰ کیا ہے، کچھوے والے لطیفے میں جو معقولیت ہے ان میں اتنی بھی ہوتی تو کسی نتیجے پر پہنچتے۔ یہ تو پڑھتے ، پڑھاتے جارہے ہیں اور اتنی خبر بھی نہیں کہ اس سے وہ بالکل جاہل ہیں مگر انہوں نے توپیٹ پوچا کرنی ہے، بیوی بچے یا اپنی عزت پالنی ہے اور کیا کرنا ہے؟۔
اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ سے قرآن میں فرمایا: ولاتنکحوا مانکح اٰباکم من النساء الا ما قد سلف ’’اور تم نکاح مت کرو جن عورتوں سے تمہارے آبا نے نکاح کیا ہے مگر جو پہلے ہوچکا‘‘۔ حنفی مکتبۂ فکر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ حقیقی معنیٰ موجود ہو تو مجاز پر عمل نہیں ہوسکتا ۔ ابا کے اصل معنی باپ ہیں اور مجازی طور پر اسکا اطلاق دادا پر بھی ہوتاہے۔قرآن کی اس آیت میں دادا کی منکوحہ عورتیں مراد نہیں ہوسکتیں، ان کی حرمت ہم اجماع سے ثابت کرتے ہیں۔ نکاح کے اصل معنی ملنے کے ہیں اور یہاں شرعی عقد نکاح مراد نہیں بلکہ زنا بھی نکاح ہے۔ اگر غلطی سے نیند میں شہوت کا ہاتھ کسی محرم پر لگ گیا تو یہ بھی نکاح ہے ،اس کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگی اور بیوی شوہر پر حرام ہوجائے گی اور اگر ساس کی شرم گاہ کو باہر سے شہوت کیساتھ دیکھا تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی اسلئے کہ وہ معذور ہوگا لیکن اگر ساس کی شرم گاہ کو اندر سے شہوت کیساتھ دیکھا تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی اور بیوی کو شوہر پر حرام ہونے کا فتویٰ دیا جائیگا۔(نورالانوار: ملاجیونؒ )۔
اگر کچھواگندم کھائے اور اس کو کبوتر کہا جائے توبات اتنی غلط نہ ہوگی جتنا علماء نے درسِ نظامی کے نصاب میں اسلام کا حال کیاہے ۔اللہ نے باربار قرآن میں طلاق کے بعد معروف طریقہ سے رجوع کی وضاحت کی ہے۔ شافیوں کے نزدیک نیت رجوع کیلئے شرط ہے،نیت کے بغیر مباشرت کرنا بھی رجوع نہیں۔ حنفی مسلک میں نیت شرط نہیں، شہوت سے نظر لگ جائے تو بھی طوعاً وکرھاً رجوع ہے اور نیند میں شہوت سے لگ جائے تو بھی رجوع ہے اور شہوت کا اعتبار شوہر کا بھی ہے اور بیوی کا بھی ہے۔ معروف رجوع کو مذہبی طبقات نے منکر بناکر رکھ دیا ہے۔ غسل اور وضو کے مسائل سے لیکر ایک ایک مسئلہ معروف کی جگہ منکرات کا آئینہ ہے۔
مولانا شیرانی سے میں نے پوچھا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ’’ اور انکے شوہر ہی عدت کے دوران رجوع کاحق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ صلح کرنا چاہیں ‘‘ تو کیا کوئی ایسی حدیث یا آیت ہے جو عدت کے دوران اسکے برعکس رجوع کا حق منسوخ کردے؟، مولانا شیرانی صاحب نے کہا کہ طلاق آپ کا موضوع ہے ہم کسی اور موضوع پر بات کرلیتے ہیں، نماز پر گفتگو کرلیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس سے اور اچھی بات کیا ہوسکتی ہے؟۔ آپ کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے، کل آپ کو حکومت مل جائے تو بے نمازی کو کیا سزا دوگے؟۔ دوفقہی اماموں کے نزدیک بے نمازی کو قتل کیا جائیگا، ایک کے نزدیک قیداور زودوکوب کیا جائیگا، تو جب نماز کی سزا کا ذکر قرآن وسنت میں نہیں تو اپنی طرف سے اس کا جواز ہے؟، خوف سے نماز پڑھی جائے تو ایسی نماز کا اعتبار ہوگا؟، کوئی بے وضو اور حالتِ جنابت میں نماز پڑھ لے تو؟، مولانا شیرانی نے کہا کہ نماز کے فضائل پربات کرنا مقصد تھا ،میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت میں کسی کو چلہ یا چارماہ کیلئے بھیجو، میں یہ گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ اتنا پکا نمازی بن جائیگا کہ نبیﷺ اور صحابہ کرامؓسے غزوۂ خندق میں نمازیں قضاء ہوئیں مگر اس سے اس حال میں بھی نہ ہوگی۔ مولانا شیرانی نے کہا کہ میں اس بات کی تائید کرتا ہوں ۔
مولانا شیرانی نے پھر معیشت کو موضوع بناکر ایک لمبی چوڑی داستان سناڈالی، میں نے کہا کہ اخروٹ یا کوئی چیز گنتی کے حساب سے درجن کے مقابلہ میں دو درجن سود نہ ہو لیکن وزن کے حساب سے کلو کے مقابلہ میں دو کلو سود ہو، تو اس کا دنیا کے سامنے کیا حل پیش کریں گے؟۔ ظاہر تھا کہ جواب نہ دارد۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کا یہ حال ہے تو دوسروں کا بھی بہت آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جہاد کرکے مسلم مالک کے ڈھانچے تباہ کئے لیکن انکے مقابلہ میں دہشت گردوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا،تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔علماء کی بجائے بہادرکیمونسٹ رہنما اسلام سمجھ کر اسکی تبلیغ کرتے تو طالبان ایسے ہیرو ہوتے کہ پوری انسانیت ان کی شانہ بشانہ ہوتی لیکن علماء نے اسلام کا بیڑہ غرق کرکے ان بہترین اصل مجاہدین کوحقیقی دہشت گرداور خارجی بنادیا ہے۔ سید عتیق الرحمٰن گیلانی