اسلامی انقلاب یا سوشلزم کی جدوجہد؟ نادر شاہ

921
1

سوشلزم کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ذاتی ملکیت اور دولت کا خاتمہ کرکے ہر چیز سرکار کی تحویل میں ہو، ایران کے ایک بادشاہ نے ’’زر، زمین اور زن‘‘ کو فتنہ قرار دیکر فیصلہ کیا کہ ہرچیز ریاست کی ہوگی۔ لوگ اپنے اوقات کار میں اپنی استعداد اور صلاحیت کیمطابق جو زندگی گزاریں گے وہ سرکاری ہوگی۔ یہ نظام اس وقت کامیاب ہوسکتا تھاجب انسان کی مرغیوں کی طرح کچھ نسلیں ہی ہوتی ۔ ان میں زیادہ تر برائلر باقی انڈے دینے والی، جنگجو اور فینسی وغیرہ کی انواع واقسام۔ اس طرح سے وہ حدود وقیود میں رہ کر زندگی گزارتے۔
علامہ اقبال نے ’’فرشتوں کا گیت ‘‘ کے عنوان سے اس نظام کی تائید کی،جسکا ایک شعر’ جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو‘ ہے اور اقبال نے کارل مارکس کا کہا کہ ’’وہ پیغمبر نہیں مگر اسکے ہاتھ میں کتاب ہے‘‘۔ اس نظام کا یہ خلاصہ ہے کہ جس طرح اسلام نے سودی نظام میں مال کے ذریعہ مال کمانے کو بدترین کہا ہے ، صرف قرض رقم نہیں بلکہ نقد سونا چاندی اور خوراک کے مختلف اشیاء کا نام لیکر اسمیں زیادتی کو سود کہا ہے۔ اسی طرح وہ تمام ذرائع اور وسائل جسکے ذریعہ سے مزدور کی محنت کا استحصال ہو، یا کسی بھی مالی ذریعہ سے زائد منافع کمایا جائے وہ سب کا سب سود اور ناجائز ہے۔ مثلاً ایک آدمی کسی کو دس لاکھ روپیہ دے اور دس ہزار ماہانہ سود لے یا اس دس لاکھ پر مکان خریدے اور اس کا ماہانہ دس ہزار کرایہ لے دونوں ہی سود ہے۔
جس طرح سے موجودہ سودی بینکاری کو اسلام سے بدل دیا گیا ہے، اسی طرح سے مکان کا کرایہ بھی سود کے جواز کیلئے ایک حیلہ ہے۔ اسکا فیصلہ کن حل کارل مارکس نے نکالا ہے کہ مزدور جو محنت کرتا ہے ، سرمایہ دار اس کی محنت کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اسلئے زر کا نظام ہی ختم ہونا چاہیے۔ روس اور چین میں مزدوروں کی فلاح والا نظام تھا اور یورپ اور مغربی ممالک اورآسٹریلیا ، جاپان وغیرہ میں سرمایہ دارانہ نظام ہے لیکن ہمارا مزدور اور وہ محنت کش طبقہ جس کو حکومت چھین لینے کی دعوت دی جاری ہے ،سرمایہ دارانہ نظام والے ممالک کی طرف بھاگتا ہے ، روس و چین کی طرف باندھ کر بھی لے جایا جائے تو نہیں جاتا اور اگر وہاں انکے حالات بدلتے یا عقیدت ومحبت رکھتے تو پھر وہاں جانے میں کیا تھا؟۔
محترم لال خان صاحب اور دیگر محنت کشوں کا علمبردار طبقہ اپنے خلوص سے سوچنے پر مجبور ہیں کہ سوشلسٹ انقلاب مسائل کا حل ہے،اگر محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر انسان کو معاوضے کی تلاش ہو تو سرمایہ دار اور جاگیردار سے یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے ہی مفاد کیلئے محنت اور صلاحیت کا پورا پورا معاوضہ دے لیکن اگر ریاست ہی مالک بن جائے تو پھر حکومت سے لڑنا معمولی بات نہیں ، ناممکن نہیں تو مشکل ضرورہے۔ مزدوروں اور محنت کشوں کو قربانی کا بکرا بناکر نظام کی تبدیلی کیلئے استعمال کیا جائے اور پھر بھی اس کی قسمت نہ بدلے تو کون کس کا کیا بگاڑ سکتا ہے، آخرت میں مواخذے کا خوف بھی گارگر ہوتا ہے اور یہ بھی اس نظام میں بالکل مفقود ہوجاتا ہے۔طبقاتی تقسیم میں ایک دوسرے کیخلاف اکسانے کے کام سے اصلاح ہوسکتی ہو تو یہ قوتِ مدافعت کو بیدار کرنے کا ذریعہ ہے اور مقابلے میں ترقی کا عمل جاری رہتا ہے اور اس قسم کی کاوشیں ہونی چاہئیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے غلام کو عبد قرار دیا، اور یہ بھی بتادیا کہ عبدیت(غلامی) کسی اور کی نہیں صرف اللہ کی ہی ہوسکتی ہے۔ غلامی کی جو جراثیم ہڈیوں اور رگوں میں سرائیت کر چکے تھے ، اللہ تعالیٰ نے نسل در نسل غلام رہنے والی قوموں کوبہت محدود وقت میں بڑی زبردست حکمت سے نکالا۔ مشرک رشتہ داروں کی نسبت سے عبدمؤمن اور مؤمن لونڈی سے شادی کو بہتر قرار دیا۔ فیض احمد فیض بہت بڑے انقلابی تھے لیکن کسی غریب گھرانے کی خاتون سے بھی شادی نہ کی لونڈی سے شادی تو بہت دور کی بات ہے۔ اللہ نے قرآن میں طلاق شدہ، بیواؤں کی شادی کرانے کا حکم دیا،تو صالح غلاموں اور لونڈیوں کی شادی کرانے کا بھی حکم دیا ۔ اللہ نے قرآن میں لونڈی بنانے کے رسم کو اہل فرعون کا وظیفہ قرار دیا اور اس رسمِ بد کو ختم کرنے میں اسلام نے بہترین کردار ادا کیا ،کسی غلام کو آقا سے نفرت یا مارکھلانے کی بجائے حسنِ سلوک اور سہولت سے آزادی دلائی ۔کالے حبشی غلام حضرت بلالؓ نے وہ عزت پائی کہ بڑے بڑے بادشاہوں کے تاج کو انکے پاؤں کی خاک کے برابرنہیں سمجھا جاتا ۔بڑے بڑے لوگ ان کا نام گرامی رکھنے پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔
سرمایہ دار ملکوں میں محنت اور صلاحیت کی وہ ناقدری نہیں ہوتی جوسوشلسٹ نظام میں ہوتی ہے۔ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے کچھ نے اپنی صلاحیتوں کا صلہ پایا اور پھر اپنی دولت کو غریبوں کیلئے وقف کردیا۔ ہمارے ایک ساتھی شاہ وزیرخان بنیرسوات کا رہاشی ہے، پہلے داڑھی لمبی تھی اور پھر چھوٹی کرلی۔ لوگوں نے کہا کہ افسوس تم نے داڑھی چھوٹی کرلی ہے؟۔ اس نے کہا :’’ جب میری داڑھی بڑی تھی تو کونسا تم میرے پیچھے بوتل لیکر گھومتے تھے کہ اس کو دم کردو، پہلے بھی یہی شاوزیرتھا اور اب بھی وہی شاہ وزیرہوں‘‘۔
ایک مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے کی حالت اپنی صلاحیت کیوجہ سے بڑی مشکل سے بدل سکتی ہے۔ برائلر مرغے کولڑنے والے اصیل مرغے سے لڑادیا تو اسکا کام کردیا۔ اچھی شکل، اچھی ذہنیت اور اچھی صلاحیت کوئی جرم نہیں اور نہ بدشکل، ذہنی غباوت اور کم صلاحیت کوئی جرم ہے، دوافراد ایک طرح کی صلاحیت رکھتے ہوں ایک کم محنت کرے اور دوسرا زیادہ۔ اگر زیادہ محنت کرنے والے کا فائدہ اسکے بچوں کو پہنچے تو یہ قدر زایدکے فارمولے سے متصادم نہ ہونا چاہیے ورنہ کوئی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر معاشرے کی ترقی و عروج میں بھی کوئی کردار ادا کرنے کے کام نہ آئیگا،ترقی وعروج کی فضاء اسوقت ہی قائم ہوسکتی ہے جو افراد کے اجتماع میں انفرادی طور پر ایک دوسرے سے بڑھنے ،آگے نکلنے ،زیادہ سے زیادہ آسانی وسہولت اور فوقیت حاصل کرنے کا ایک ماحول بھی موجود ہو۔ سکول میں پڑھنے والے بچے ہوں یاسڑک پر چلنے والی گاڑیاں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کیفیت ایک فطری عمل ہے اور پھر بعض معاملات میں ایک دوسرے کیلئے قربانی دینے کا ماحول اعلیٰ درجے کی اخلاقیات کی وجہ سے پیدا ہوتاہے ،ایک سری گھروں میں گھوم کر واپس آنا اور میدان قتال میں مرنے سے بچنے کیلئے پانی مانگتے ہوئے پھر کسی کو ترجیح دینا وہ روحانی اقدار ہیں جو مذہب پیدا کردیتاہے ےؤثروں علی انفسھم ولوکان بھم الخصاصۃ ’’وہ اپنی جانوں کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انہی کو ضرورت بھی ہو‘‘۔ تعصب بھرنے سے اعلیٰ اخلاقی قدریں پیدا نہیں ہوسکتی ہیں۔
فتح مکہ کے بعد کسی کو غلام بنایا اور نہ لونڈی انتم طلقاء لاتثریب علیکم الیوم ’’تم آزاد ہو، آج تم پر کوئی ملامت نہیں‘‘۔یہود ومنافقین کیساتھ میثاقِ مدینہ اور مشرکین سے صلح حدیبیہ کی عہدشکنی کے بعد فتح مکہ کے موقع پر بہترین سلوک ریاضی کا کلیہ نہ تھا، تاہم اہل فکر ودانش میں ریاضی کے قانون میں دو اور دوچار کی طرح معاشی اور معاشرتی نظام سمیت سائنسی معاملات میں بھی مکالمے کی ضرورت ہے، اسلام چیلنج میں پورا اترنے میں ناکام نہیں عقلی بنیادوں پر زیادہ قابل ترجیح نہ سمجھا جائے تو پھینک دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہونا چاہیے۔ اسلام کو فرقہ وارانہ مسالک نے اجنبی بنا دیا ہے، کمیونسٹ پارٹیاں کس وجہ سے انتشار اور ایک دوسرے سے عناد کا شکار ہیں؟۔اگر مارکسی نظریہ ایک ریاضی ہے تو ریاضی میں اختلاف، تفریق اور انتشار کیساہوسکتاہے؟۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا : ارض اللہ واسعۃ ’’اللہ کی زمین وسیع ہے‘‘۔ اور احادیث میں آتا ہے کہ زمین کومزارعت پر دینا سود ہے، زمین کو مفت نہ دے سکو تونہ دو، بٹائی ، کرایہ اور ٹھیکہ پر دینا جائز نہیں ۔ مزارعہ اپنی محنت کامالک بنے تو مزدور کا معاوضہ بڑھ جائیگا بلکہ مارکیٹ میں بھی اپنی مرضی کا معاوضہ حاصل کریگا۔ جاگیردار خود کھیتی باڑی میں لگ جائے تو وہ بھی محنت کش ہوگا۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اور امام شافعیؒ نے بھی مزارعت کو سود قرار دیامگر علماء سوء کو ہردورکا جاگیر داراور سرمایہ دار خرید لیتا ہے جو شریعت کا خودساختہ فتویٰ اپنے ذاتی مفاد کیلئے کشید کرلیتا ہے، آج بینکاری کے سودی نظام کو بھی معاوضہ لیکر سندِ جواز دیا جارہاہے۔ جن علماء سوء نے احادیث اور اماموں سے انحراف کیا تھا، انہوں نے یہ علت بتائی تھی کہ ’’مزارعت کی وجہ سے لوگ غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے، اسلئے اسکو سود و ناجائز قرار دیا گیا ‘‘۔ چلو ان کی بات مان لی لیکن آج بھی مزارعہ تو غلامی کی زندگی ہی بسر کررہے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے جس صحابی کو زمین کا مالک بنادیا تھا،جب اس کو آباد نہ کیاتو حضرت عمرؓنے چھین لی۔ آج مزارعین کو اپنی محنت کا مالک بنادیا جائے اور جو لوگ خود زمینوں میں کھیتی باڑی کرکے آباد نہیں کرسکتے اور نہ دوسروں کو دیں ،انکی زمین چھین لی جائے تو پاکستان میں خوشحالی اور اسلام کا انقلاب آجائیگا۔
عوام، غریب، پسماندہ طبقات اور پسے ہوئے انسانوں کے حقوق کیلئے یہ جائز آواز اٹھائی جائے اور حکمران اور بااثر طبقہ یہ دینے کیلئے تیار نہ ہو تو کوئی بھی غریب کے حقوق یا اسلام کے نام پر ڈھونگ رچانے کے قابل نہ رہیگا سیاسی قائدین میں شامل جاگیردار طبقہ مزارعین کو ان کا جائز حق دینگے تو بھی معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی کا آغاز ہوجائیگااور غریب اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر کارل مارکس کے نظریات کو سمجھنے کے قابل بھی بن سکے گا، اب تویہ بدھوطبقہ کامریڈلال خان کی زبان میں بات سمجھنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہے اور جب عملی طور سے بدلتی ہوئی قسمت لال خان کو نظر آئیگی تو اسلام کو سلام کرینگے۔
لعل خان جیسے سمجھدار، بہادر اور انسانیت سے محبت رکھنے والے اسلام کی بنیاد پر مخلص عوام کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے جو بیچارے بیوی کو حلالہ کیلئے بھی پیش کردیتے ہیں اور مفاد پرست مذہبی طبقے کی اجارہ داری ختم ہوجاتی تو مؤثر انقلاب میں دیر نہ لگتی۔

1 COMMENT

  1. حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔
    طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔
    خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔
    تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔
    بہت شکریہ