اسلام دین فطرت کو مذہبی طبقوں نے غیرفطری بنا ڈالا

617
0

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’ اسلام اجنیت کی حالت میں شروع ہوا تھا، اور عنقریب یہ پھر اجنبی بن جائیگا، پس خوشخبری ہے اجنبیوں کے لئے‘‘۔
پاکستان میں سنی، شیعہ، دیوبندی ، بریلوی ،اہلحدیث اور دوسری صدی ہجری میں مالکی، حنفی، شافعی، حنبلی، جعفری،اہل ظواہر،محدثین اور دوسرے فقہاء تھے، فقہ و حدیث کی بنیاد پر محدثین اور فقہاء میں سخت اختلاف اور کشمکش کی فضاء تھی لیکن فقہاء ایک دوسرے سے بھی شدید اختلاف رکھتے تھے، اس طرح محدثین کی بھی آپس میں بھی نہ بنتی تھی، ایک دوسرے کو کذاب اور کتے کے بچے کہنے سے بھی دریغ نہ کرتے، جس کی نشاندہی حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ ایک ساتھ تین طلاق کی روایت کرنے والے ایک روای کو دوسرے نے ’’جرو کلبیعنی کتے کا بچہ‘‘ قرار دیا ۔
محدثین فقہاء کو ’’ أ ریتون کیا تو نے دیکھا والا طبقہ یا ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟‘‘کا نام دیتے ، حدیث جسمیں اسلام کا صرف نام باقی رہنے، قرآن کے صرف الفاظ باقی رہنے ، مساجد لوگوں سے بھری مگر ہدایت سے خالی اور انکے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق قرار دیاگیا کہ فتنے انہی سے نکلیں گے اور انہی میں لوٹیں گے، محدثین ؒ اس حدیث کی پیشین گوئی کو اپنے زمانے پر فقہاء کی وجہ سے پورا سمجھتے تھے، جبکہ فقہاء سمجھتے تھے کہ ان کی وجہ سے اسلامی احکام کی تشریح اور حفاظت ہورہی ہے۔
ہمیں ان دونوں طبقے کے خلوص پر کوئی شبہ نہیں لیکن من گھڑت روایات اور حیلہ سازی کے کرشموں کو بھی درست قرار دینا ایمان کا زوال اور اسلام کی بیخ کنی ہوگی۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ پہلے لوگوں نے اس سے غفلت کا مظاہرہ کیا ۔امام غزالیؒ ، مجدد الف ثانیؒ ، شاہ ولی اللہؒ اور بے شمار علماء حق نے اپنے ضمیر، صلاحیت اور ہمت کیمطابق ہدایت کی شمعوں کو جلائے رکھا، اپنے دور کے درخشندہ ستاروں کو گلہائے عقیدت کا پیش کرنا اور ان سے بدظنی کا شکار نہ ہونا ایک بالکل الگ بات ہے مگر انہوں نے کبھی بھی نہ یہ دعویٰ کیا کہ ان سے اختلاف جائز نہیں اور اگر وہ یہ دعویٰ کرتے تو ہمارا فرض بنتا تھا کہ ان کو چمکتے ستاروں کی مانند سمجھنے کی بجائے ان کو زمین میں دفن کرکے قبروں کے نشان بھی زمین پر نہ چھوڑتے، کیونکہ کوئی بت بنائے تو قصور بنانے والوں کا ہوتا ہے لیکن کوئی فرعون کی طرح دعویٰ کرے تو دین میں اس کیلئے کوئی گنجائش نہیں۔
رسول اللہ ﷺ رحمۃ للعالمین آخری نبی کی وحی کے ذریعہ رہنمائی ہوئی،پھر یہ سلسلہ قیامت تک کیلئے بند ہے۔ یہودو نصاریٰ اور مشرکینِ مکہ کا دعویٰ تھا کہ ابراہیمؑ کی ملت پر ہیں مگر وہ دینِ فطرت کی شکل بگاڑ چکے تھے۔جب تک وحی سے رہنمائی نہ ملتی تھی تو نبیﷺ پہلے مشرکینِ مکہ یا یہود ونصاریٰ کے مذہبی فتوؤں کو بعض معاملوں میں درست سمجھتے تھے۔سورۂ مجادلہ ، سورۂ احزاب اور دیگر قرآنی سورتوں اور احادیث صحیحہ میں اسکے بھرپور شواہد موجود ہیں۔دورِ جاہلیت میں معروف منکر اور منکر معروف بن چکا تھا۔رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک خاتون نے عرض کیا کہ میرے شوہر نے مجھ سے ظہار کیا ہے، بیوی کی پیٹھ کو ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دینا ظہار کہلاتا تھا ، سخت ترین طلاق کی صورت یہی تھی۔نبیﷺ نے فرمایا کہ آپ حرام ہوچکی ہیں، اب کوئی راستہ نہیں رہا ہے، وہ بحث وتکرار، مجادلہ و جھگڑاکررہی تھی کہ میرے شوہر کی نیت نہیں تھی، میری زندگی اور میرے بچوں کی زندگی تباہ ہوجائے گی۔ اللہ نے وحی اتاری۔
قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا۔۔۔ بیشک اللہ نے بات سن لی اس عورت کی جو آپ سے جھگڑ رہی تھی اپنے شوہر کے معاملہ میں۔۔۔ ان کی مائیں نہیں مگر جنہوں نے ان کو جنا ہے۔۔۔ یہ (مذہبی فتویٰ) جھوٹ اور منکر ہے۔۔۔ سورۂ مجادلہ کی ان آیات سے علماء و مفتیان کو یہ سبق لینا چاہیے کہ معاشرہ میں اگر منکر معروف کی جگہ لے لے تو بڑے سے بڑا آدمی بھی مغالطہ کھا جاتا ہے،شیعہ مکتب کی رائے اپنے ائمہ اہلبیتؑ کے بارے میں مختلف ہے ، صحیح بخاری میں انکے ائمہ کا ذکر ’’علیہ السلام‘‘ کیساتھ کیا گیا ہے،احادیث میں اہلبیت کی خاص اہمیت بیان کی گئی ہے لیکن اہلبیتؑ زیادہ سے زیادہ ان کے عقیدے کے مطابق بھی نبیﷺ کے واحد جانشین بن سکتے ہیں، قرآن و سنت سے بڑا درجہ تو ان کا نہیں ہوسکتا ہے۔
اہل تشیع کے معروف عالم دین علامہ طالب جوہری سے میری ملاقات ہوئی تھی علامہ علی کرار نقوی بھی موجود تھے، میں نے کہا کہ نبیﷺ سے اختلاف جائز تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں، سورۂ مجادلہ کا واقع بتانے پر قرآن منگوایا، دیکھنے پر کہا کہ ’’ یہ متشابہات میں سے ہے، محکمات یہ ہیں کہ نبیﷺ سے اختلاف جائز نہ تھا‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت اعلیٰ نمونہ تھا ، جس میں جبر نہ تھا، کوئی بھی اختلاف کا مجاز ہوتا تھا، بدر کے قیدیوں پر فدیہ اور حدیبیہ کے معاہدہ میں اختلاف کا اظہار ہوا تھا ، بدر کے قیدیوں پر نبیﷺ کی رائے کونامناسب اور حدیبیہ کے معاہدے میں نبیﷺ کی رائے کو فتح مبین قرار دیا گیا ہے۔سورۂ احزاب کی آیات پڑھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ معروف منکر اور منکر معروف بن چکا ہو،تواسوقت دین پر عمل کتنا مشکل ہے؟۔
سورۂ مجادلہ میں اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے دور میں معروف مذہبی فتویٰ کو جھوٹ اور منکر قرار دیالیکن جب فضاؤں میں منکر معروف بن کر انسانی رگ وریشہ میں خون کی طرح دوڑ رہا ہو تو قبولِ حق سے آدمی مقدور بھر اعراض کرتا ہے۔ اسلئے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کمال ہے کہ نبیﷺ کی سیرت طیبہ کو اعلیٰ نمونہ بناکر پیش فرمایا۔ وحی نازل ہونے سے قبل آپﷺ کے سینہ مبارک کو چاک کرکے کوئی کالی چیز نکالی گئی ، وحی کی رہنمائی کسی اور کی نصیب میں نہ تھی۔اللہ کو معلوم تھا کہ دین قیامت تک چلے گا لیکن معروف کو منکر اور منکر کو معروف بنادیا جائیگا۔ اس وقت قرآن کے الفاظ اور نبیﷺ کی سیرت سے رہنمائی ہدایت کا اہم ترین ذریعہ بن جائیں گے۔اسلئے قرآن میں بار بار اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم ہے اور رسول ﷺکی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا گیا ۔علماء قرآن و سنت کو چھوڑ کر اجماع کا طبلہ بجارہے ہیں ۔
یا ایھا النبی اتق اللہ ۔۔۔ اے نبی! اللہ سے خوف کھا، اور کافروں و منافقوں کی اتباع نہ کر۔۔۔ اور اتباع کر جو تیرے رب نے تجھ پر نازل کیاہے اور اللہ پر توکل کر، اللہ کی وکالت کافی ہے، اللہ نے کسی آدمی کے سینہ میں دو(2)دل نہیں رکھے ہیں اور نہ تمہارے لئے مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کرتے ہو،اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹے بنایا ہے ، یہ باتیں ہیں تمہارے منہ کی ‘‘۔آگے یہ بھی فرمایا کہ ’’ آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو‘‘۔الاحزاب
مولوی بیچارا تو لوگوں سے نہیں اپنے سایہ سے بھی ڈرتا ہے، معاشرے میں اس رسم کو توڑنا اسکے بس کی بات نہیں جب منکر نے معروف کی جگہ لی ہو۔ قرآن کی یہ آیات عام لوگ پڑھ لیں اور پھر بند حجروں میں علماء ومفتیان کو ایک ایک کرکے ماحول فراہم کریں جس میں ان کیلئے حق پر چلنا مشکل نہ رہے۔سنی مکتب سے زیادہ شیعہ مکتب کے علماء ومفتیان کیلئے رسم کے خلاف حق کی راہ اپنانا مشکل ہے ، دیوبندی اور بریلوی کے مقابلہ میں اہلحدیث کیلئے رسم کے خلاف چلنا مشکل ہے اور دیوبندی کے مقابلہ میں بریلوی کیلئے رسم کے خلاف حق پر چلنا زیادہ مشکل ہے۔
بریلوی حضرت ابوبکرؓ ، دیوبندی حضرت عمرؓ ، اہلحدیث حضرت عثمانؓ، شیعہ حضرت علیؓ کے مزاج سے مناسبت رکھتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے زندگی بھر نبی ﷺ کی اطاعت کی لیکن جب اپنے دور میں زکوٰۃ نہ دینے والوں کیخلاف قتال کا فیصلہ کیا تو کسی کی سنی اور نہ مانی۔ حضرت عمرؓ نے حدیث قرطاس میں نبیﷺ سے عرض کیا، ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے،حضرت عثمانؓ نے روایات کو ترجیح دی، حضرت علیؓ نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی۔ دیوبندی مجبوراً اور بریلوی برضا مقلد حنفی ہیں۔ فاروق اعظمؓ، امام اعظمؒ اور دیوبندی اکابرؒ کی اپوزیشن بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔