Trending

نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ اسکے پاس قیدی ہوں حتی کہ زمین میں زیادہ خون بہاتے تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے

ghazwa e badar, ghazwa e uhud, imam mehdi, abhinandan, londi, ghulam

نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ اسکے پاس قیدی ہوں حتی کہ زمین میں زیادہ خون بہاتے تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے..

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اس آیت کا واضح اور درست مفہوم مسلمانوں کی سمجھ میں آجاتا تو وہ دنیا کو بدل سکتے تھے!

اس آیت میں قرآن کے اعلیٰ مقاصدصحابہ کرام کا تزکیۂ ، کتاب اور حکمت کی تعلیم ہے۔

قرآن کی ایک ایک آیت فیصلہ کن ہے جسمیں بیشمار حکمتوں کے زبردست خزانے ہیں

اللہ نے فرمایا کہ ” نبی کیلئے مناسب نہیں کہ اسکے پاس قیدی ہوں حتی کہ زمین میں خوب خون بہائے، تم لوگ دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔ (القرآن) آیت میں میدانِ جنگ میں مشرکوں کا خون بہانے سے قیدیوں سے فدیہ لینے تک کی تمام روداد ہے۔ جب اللہ نے مسلمانوں کا پلہ بھاری کردیا تو صحابہ نے اپنے قریبی رشتہ داروں اور نبیۖ کے چچا عباس اور داماد کو قیدی بنالیا۔ جب ان قیدیوں کو فدیہ لیکر چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا تو مسلمان جشن منارہے تھے کہ ان کو فتح بھی ملی۔قریبی رشتہ داروں کی جان بھی بچ گئی اور فدیہ کے ذریعے بہت سارا مال بھی کمالیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر وحی کے ذریعے وہ تاریخی ڈانٹ پلادی کہ سب کی طبیعت صاف کردی۔ حضرت عمر اور حضرت سعد نے یہ مشورہ دیا تھا کہ جو قیدی جس کا قریبی رشتہ دار ہو وہ اس کو قتل کردے۔ عباس حضرت علی کے چچا ہیں، فلاں فلاں کے عزیز ہیں لیکن باقی صحابہ نے مشورہ دیا کہ فدیہ لیکر چھوڑ دیا جائے۔ نبیۖ نے وحی نازل ہونے کے بعد فرمایا کہ اللہ نے مجھے وہ عذاب بھی دکھایا جس کا قرآن میں ذکر ہے اور اگر وہ عذاب نازل ہوتا تو عمر اور سعد کے علاوہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔ ان آیات اور احادیث صحیحہ کی درست تفسیر پیش ہو تو آج ہم صراط مستقیم پر چل سکتے ہیں۔ علماء کرام اور مفسرین نے اس واضح قرآنی آیات سے مثبت نتائج نکالنے کے بجائے تفسیر اور مفہوم کا بیڑہ غرق کردیا۔
اگر نبیۖ کے چچا اور داماد کو بدر میں دانستہ قید کرنے کی بجائے قتل کردیا جاتا تو خلافت راشدہ سے لیکر بنوعباس کے اقتدار تک مسلمانوں کے اندر نبیۖ کے داماد حضرت علی اور چچا کی وجہ سے تفریق وانتشار کے معاملات کا سامنا کرنا پڑتا۔اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے میں دنیاوی قرابت نے کردار ادا کیاہے۔
(1:)نبی ۖ نے مشاورت کیساتھ یہ فیصلہ کیا تو اللہ نے اس کو نامناسب قرار دے دیا کہ نبیۖ کیلئے یہ مناسب نہیں تھا۔ تم لوگ دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ یہ آیت انسانوں کیلئے بڑی رہنمائی ہے۔
کیا آج کا کوئی مذہبی اور سیاسی لیڈر یہ اعتراف جرم کرسکتا ہے کہ جس فیصلے میں رہنماؤںاور کارکنوں کو اپنے دنیاوی مفاد کی خاطر آمادہ کرے اور پھر اقرار کرے کہ یہ نامناسب تھا اس میں میرا مفاد تھا؟۔
اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے یہ زبردست رہنمائی فراہم کردی کہ نبیۖ سے بڑھ کر کوئی بھی نہیں اور جب نبیۖ کیلئے کوئی بات نامناسب اور دنیاوی مفاد ہوسکتی ہے تو پھر مذہبی اور سیاسی قیادتوں کی ساری کی ساری زندگی جب دنیاوی مفادات کی تابع ہو اور ایک بار بھی اعترافِ جرم کی جرأت نہ کرسکیں تو لعنت ہو ان جھوٹے منافقوں پر جو نبیۖ کی سیرت کو اعلیٰ نمونہ سمجھنے کے باوجود بھی اپنی غلطیوں کا اعتراف نہ کریں۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” اگر خیر یعنی دنیاوی مفادات میرے ہاتھ میں ہوتے تو سب سمیٹ لیتا لیکن اللہ نے سب کچھ اپنے ہاتھوں میں رکھا ہے”۔ اللہ نے ہر انسان کیلئے واضح فرمایا کہ انہ لحب الخیر لشدید ” بیشک وہ دنیا کی محبت میں بہت سخت ہے”۔ نبیۖ نے اللہ کی وحی کا اعتراف اس آیت کی تفسیر کی وجہ سے نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپۖ کے ضمیر کی آواز اور نفس پاک کی وہ بے تکلفی تھی جس کا اعتراف ہرانسان کو کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن میں ہے کہ ” حضرت یوسف نے جیل سے رہائی کی پیشکش کو ٹھکرادیا”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” میں یوسف کی جگہ ہوتا تو ایسا نہیں کرسکتا تھا”۔ نبیۖ نے بشری تقاضے کو سامنے رکھ کر حقیقت کا اعتراف کیا لیکن یہ صلاحیت جب اللہ انسان میں وقتی طور پر پیدا کرتا ہے تو جس طرح حضرت موسیٰ کی والدہ کے دل کو تسلی کیلئے مضبوط کردیا تھا ،اس طرح وہ اپنی قدرت سے ہی انسانوں کو کامیاب کردیتا ہے اور اللہ نے قرآن میں بار بار اسکا ذکر فرمایا ۔مگرکچھ لوگ عقیدتمندوں کوغلط جھانسہ دیتے ہیں۔
اگر قرآن وسنت سے مسلمان رہنمائی لیتے تو آج ہم اتنے گرے ہوئے نہ ہوتے۔ نبیۖ کے وصال پر انصار و مہاجرین کے درمیان خلافت کے مسئلہ پر زبردست اختلاف اور اپنا اپنا استحقاق واضح کرنے پرفتنہ وفساد برپا ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تھا مگر اللہ نے اپنے فضل سے خیر کردی تھی۔قرآن کی اس آیت سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ اکثریت کی رائے پر مشاورت کے بعد عمل ہو لیکن یہ امکان بھی رہتا ہے کہ اکثریت کی رائے مفادپرستی پر مبنی ہو اور اقلیت کی رائے ٹھیک اور اس میں خلوص بھی ہو۔
سیاستدان و مذہبی لیڈر اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر جس طرح مساجد کی امامت، مدرسوں کے چھوٹے بڑے عہدوں کیلئے جتن کرتے ہیں انکا ٹریک ریکارڈ بھی دیکھ لیا جائے۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیب کی موجودگی میںجس طرح انکے صاحبزادگان، مولاناحسین احمدمدنی و مولانا انور شاہ کشمیری کے صاحبزادگان میں پھڈا ہوا۔ اور دارالعلوم دیوبند دو حصوں میں بٹ گیا۔ جمعیت علماء اسلام اور دیگر جماعتوں میں تقسیم کا عمل رہا۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانامحمد خان شیرانی کا کہاکہ صوبائی امارت سے ان کو محروم کرنے کا معاملہ تھا یا اسٹیبلیشمنٹ کی پشت پناہی تھی ۔ اوریہ دونوں باتیں مختلف ہیں۔ یہ الزامات اپنے ذاتی مفادات کو ایک تقدس کا ناجائز لبادہ پہنانے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اگرعلماء کرام قرآن وسنت اور صحابہ کرام سے کچھ سبق سیکھ لیتے تو بہت ہی اچھا ہوتا۔
تبلیغی جماعت کو دیکھ لیں جس نے اپنے اصل مرکز بستی نظام الدین انڈیا سے بغاوت کرلی ہے۔ جو راستے میں دو یا تین افراد میں سے ایک کواپنا امیر بنانا شرعی حکم اور شیطان سے بچنے کا اہم ذریعہ سمجھتے تھے ۔ آج انکا کوئی مشترکہ امیر تک بھی نہیں ہے۔
قرآنی آیات کو سامنے رکھتے تو بڑے بڑوں کو اعترافِ جرم کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ انسان بہت کمزور ہے اور دنیاوی خواہشات و لالچ کا ہونا ایک فطری بات ہے لیکن انکے پیچھے انسان کس حدتک گرسکتا ہے؟۔یہ انسانوں کے کردار اور شخصیات کا ذاتی معاملہ ہے۔جس میں ماحول کا عمل دخل ہے اورقرآن وسنت رہنمائی کابہترین ہیں۔
(2:) اگر اللہ بدری قیدیوں کے فدیہ لینے پر تنبیہ نازل نہ کرتا تو ہم قافلوں کی لوٹ مار اورفدیہ لیکر قیدیوں کو آزاد کرنے کو اسلامی فریضہ سمجھتے۔ اللہ نے نبیۖ اور صحابہ کی تنبیہ سے دنیاوی مفاد کاراستہ بند کیا۔ دہشتگردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں نے اغواء برائے تاوان کی جو دھوم پاکستان میں مچائی تھی جس سے اسلام اور مجاہد بدنام ہوگئے ۔ اگر علماء ومفتیان ان آیات کو واضح کرتے تو اسلام کے نام پر بدکردار اور مفادپرست طبقہ اس مہم جوئی کی کبھی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ پختونوں کو معاملہ سمجھ میں آیا تو انہوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ طالبان اور پاک فوج کے لوگ انبیاء اور صحابہ کا درجہ رکھتے ہیں اور ہم عام لوگ کافر ہیں۔قرآن کی تعلیم واضح ہوتی تو طالبان مفادات کو تقدس کا نام نہ دیتے۔
اسلام کے نام پر خاندانی خلافتوں سے پہلے جو خلافت راشدہ کے دور میں قتل وغارتگری ہوئی تھی یا بعد میں حکمرانوں ، بادشاہوں اور مذہبی طبقات نے بشری تقاضوں کے مطابق اپنی کمزوریاں دکھائی ہیں تو ان کو تقدس کا لبادہ پہنانا غلطیوں پر غلطیاں ہیں۔
(3:) ہم صحابہ کرام کیلئے حسنِ ظن رکھنے کو سب ہی سے زیادہ بنیادی فرض سمجھتے ہیں کیونکہ مؤمنوں سے حسنِ ظن رکھنے کا حکم ہے اور وہ اولین مؤمنین تھے۔ صحابہ کرام نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے بچاؤ اور فدیہ کے حصول کیلئے یہ جنگ نہیں لڑی تھی بلکہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دیکر اپنی موت کی قیمت پر جہاد کیا تھا اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا قرآن میں جھوٹ بولا ہے کہ ”تم لوگ دنیا چاہتے ہو”۔ جس کا سادہ جواب یہ ہے کہ دنیا سے مراد یہ تھا کہ نبیۖ سے صحابہ اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبت رکھتے تھے اور یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ ۖکے چچا عباس کو قتل کرکے نبیۖ کو تکلیف پہنچائی جائے۔
صحابہ کا تزکیہ ہوا تو خلافت راشدہ قائم ہوگئی کیونکہ نبیۖ کی قرابتداری اور دنیاوی محبت کو خاطر میں نہیں لایا گیا اور حضرت ابوبکر پر قریش کے کمزور قبیلے سے تعلق کے باوجود بھی اتفاق کیاگیا۔ امریکہ نے کتنے عرصے بعد بارک حسین اوبامہ اور کالی بیگم کو امریکی صدر اور خاتون اول کا اعزاز بخشاتو اس سے زیادہ ابولہب و ابوجہل جیسے اکھڑ دماغوں کے غرور خاک وخون میں ملاکر پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر کی خلافت پر اتفاق بڑا کرشمہ تھا۔
خاندانی جاہلیت کے جذبات جاگ اُٹھے تو بنو امیہ اور بنو عباس کا اقتدار خلافت راشدہ نہیں رہا۔ آج مذہبی اور سیاسی موروثی طبقات میں کوئی اعلیٰ اقدار نہیں بلکہ نکمے قبضہ مافیا ہیں۔ جب طالبا ن کی دہشتگردی زوروں پر تھی تو ایک قبائلی رہنما گربز بیٹنی نے کہا تھا کہ ” ایک قوم کا بادشاہ مرگیا تو کوئی بادشاہ بننے کو تیار نہیں تھا۔ آخر کار ایک شخص نظر آیا جس نے بکری کا بچہ ڈنڈے سے ماردیا، بکری کی ٹانگیں توڑ دیں اور اس کو سرِ عام ظالمانہ طریقے سے گھسیٹنے لگا۔ یہ ظالمانہ منظر بعض لوگوں نے دیکھا تو یہ فیصلہ کیا کہ اسی کو بادشاہ بنانے کی پیشکش کرتے ہیں۔وہ بادشاہ بننے پر راضی ہوا تو لوگوں نے شاندار استقبال کیا۔ بادشاہ نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پہلا بادشاہ اچھا نہیں تھا وہ ہاتھ اُٹھا دیں۔ کچھ لوگوں نے ہاتھ اُٹھالیا تو بادشاہ نے ان کو ایک طرف کھڑا کرکے ان کا سر قلم کرنے کا حکم دیا۔ یہ دیکھ کر لوگوں پر دہشت طاری ہوگئی۔ پھر بادشاہ نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے کہ پہلا بادشاہ اچھا تھا تو اپنے ہاتھ اُٹھادیں۔ کچھ لوگوں نے ہاتھ اُٹھادئیے تو ان کو بھی لائن میں کھڑا کرکے سرقلم کرنے کا حکم دیا۔ یہ دیکھ کر لوگ انتہائی خوفزدہ ہوگئے کہ کس مصیبت سے واسطہ پڑگیا ؟۔ پھر بادشاہ نے کہاکہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ پہلا بادشاہ اچھا بھی تھا اوربرا بھی تھا تو وہ اپنے ہاتھ اُٹھادیں۔ ایک شخص نے کہا کہ میں اس کا جواب دوں گا لیکن میں کان کا بھاری ہوں، سننے کی صلاحیت کم ہے۔ مجھے میرے کان میں بادشاہ سوال پوچھے۔ جب بادشاہ نے اس کو اپنے قریب کرلیا تو اس نے گلے سے پکڑ کر نیچے گرادیا اور کہا کہ اُلو کے پٹھے تم تو وہی بکری والے ظالم ہو۔ لوگوں نے اس کو انجام تک پہنچادیا اور اپنی جان اس ظالم سے چھڑالی۔ اب یہ طالبان دہشتگرد بھی اسی بکری والے ظالم بادشاہ کی طرح ہیں ۔ ان کو گلے سے پکڑنے کی دیر ہے”۔
ہم پر مسلط عمران خان اور اسکے کھلاڑی و دیگر سیاستدان، ریاستی عہدوں پر موجودمنصب دار اور مذہبی طبقے سب کے سب اس بکری والے ظالم بادشاہ کی طرح مسلط ہوگئے ہیں۔ جس دن عوام ان کی گردن پکڑیں تو ان کا حشر بنوامیہ و بنوعباس اور شاہ ایران اورانقلابِ فرانس سے بھی بدتر ہوگا۔
اہلبیت، بنوامیہ ،بنوعباس کی گروہ بندی سے مسلمان تقسیم اور تباہ ہوگئے ۔ اگروہ قرآنی آیت کو سامنے رکھ اپنی اپنی قیادتوں کے بھینٹ نہ چڑھتے تو قرآن چھوڑنے کی شکایت بھی نبی ۖنہ کرتے۔ اسلام نے انسانیت کی فلاح وبہبود کا فریضہ سونپ دیا اور مسلمان گروہی تعصبات میں پھنس کر رہ گئے ۔
(4:) ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ جس نبیۖ کیلئے اللہ نے فرمایا کہ ” آپ کو انسانیت کیلئے رحمت بناکر بھیجا ہے”۔ اور ” آپ کی سیرت و کرداردنیا کیلئے اعلیٰ نمونہ ہے” تو اس آیت میں کیا پیغام ہے؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب بدری قیدیوں کو مدینہ لایا گیا تو کئی دن لگ گئے۔ نبیۖ نے اللہ کے حکم پر مشاورت سے فیصلہ فرمایا تھا، آپۖ یہ سوال بھی اٹھاسکتے تھے کہ اے اللہ! ہم نے تیری خاطر اپنوں سے لڑائی لڑی۔ بہت سوں کو خاک وخون میں نہلادیا۔ بہت سوں کو قیدی بنالیا۔ اگر میدان جنگ میں فرشتے اُترسکتے تھے تو پھر ایک وحی بھی نازل ہوسکتی تھی کہ پکڑنے اور قید کرنے کے بجائے ان لوگوں کو تہہ تیغ کرکے آخری فرد تک کو نہ چھوڑو۔ قرآن میں دیگر انبیاء کرام کی طرف سے بڑی فرمائشیں ہیں۔ عرضداشت ہیں ۔گزارشات ہیں مگر نبیۖ نے جائزعذربھی پیش نہ کیا اسلئے کہ اخلاق و کردار کے اعلیٰ ترین منصب پر فائزتھے۔
قرآن کی اس آیت میں تزکیہ نفس اور احسان و سلوک کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر کے غیر معقول معاملات پر صبر سے کام نہیں لیا لیکن نبیۖ نے ان غیبی آیات پر سرتسلیم خم کرکے بتادیا کہ غرور نفس کا بانکپن زندگی میں ہی ہم نے بھلادیا۔ فیض احمد فیض چھپکلی سے بھی ڈرتے مگر غارِ ثور میں سانپوں اور تعاقب کرنے والے دشمنوں کے خوف سے آزاد نبیۖ کی سیرت میں بڑاکمال تھا ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نزول وحی کا ایک بہت اہم مقصد تزکیۂ نفس بھی بتایا ہے اور اس آیت کا بڑا بنیادی مقصد تزکیہ بھی تھا۔ نزولِ وحی کا دوسرا مقصد حکمت کی تعلیم بھی ہے۔ اس آیت میں نبیۖ اور صحابہ کے ذریعے حکمت کی تعلیم دنیا کو دی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ تنبیہ در اصل مشرکینِ مکہ کے ان قیدیوں ہی کو کرنی تھی جو فدیہ کے بدلے آزادی کے بعد جنگ کے میدان پھر اُترسکتے تھے۔ بعد کی آیات میں یہ تفصیل ہے کہ اگر انہوں نے اسکا غلط فائدہ اٹھالیا تو اللہ پھر موجود ہے اور اگراپنے دلوں میں خیر رکھی تو فدیہ سے زیادہ بہتربدلہ اللہ دے گا۔ یہ وہ حکمت کا کلام ہے جس میں ہرزبان کے اندر یہ کہا جاتا ہے کہ بیٹی آپ سے کچھ کہتا ہوں مگر بہو سنو آپ بھی۔ جس میں مقصد بہو ہی کو اس گھرکے اصول سمجھانا ہوتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں ہے کہ ایک پہلو لیکر کثیرالجہت مقاصد کو سبوتاژ کردیا جائے۔ اگر اس وقت رسول ۖ کے چچا حضرت عباس کفر کی حالت میں ماردئیے جاتے تو پھر ان کی اولاد کو خلافت پر قبضہ کرکے مظالم یا اسلام کو مسخ کرنے کا موقع بھی نہیں مل سکتا تھا۔ کسی بات کے قریب ودور کے اپنے اپنے نتائج ہوتے ہیں ۔
یہ وقت بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطاء کی ہے صدیوں نے سزا پائی
(5:) اللہ تعالیٰ اس آیت میں وقتی سرزنش سے انسانیت کی فلاح کا راستہ ہمیشہ کیلئے کھولنا تھا۔ جس نے غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے اکھڑ بازی کو اپنا شیوہ بنالیا تو وہ ابلیس لعین کے راستے پر چلتے بنا۔ جب غزوہ اُحد میں صحابہ نے شکست کھالی اور امیر حمزہ سیدالشہداء کے کلیجے کو نکال کر چبا ڈالا گیا تو پھر مسلمانوں کو احساس ہواکہ بدری قیدیوں سے فدیہ لیکر ہم نے واقعی بڑا غلط کیا کہ معاف کیاتھا اور ایک کے بدلے ستر ستر کا ایسا حشر نشر کرنے کی قسمیں بھی کھالیں۔ لیکن اللہ نے اس کے برعکس فرمایا کہ
” کسی قوم کے انتقام کا جذبہ تمہیں اس حدتک نہ لے جائے کہ اعتدال اور انصاف کے دامن کو بھی چھوڑ دو”۔ (القرآن) نبیۖ اور صحابہ کرام کیلئے خوشی میں غم منانے اور غم منانے میں اعتدال کا سبق دیا اور دشمن سے بھی زیادتی کرنے کو ناروا قرار دیا۔ اللہ نے اس پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ یہ بھی واضح فرمادیا کہ ” جتنا انہوں نے تمہارے ساتھ کیا ،ا تنا ہی تم بھی کرسکتے ہو۔ اگر ان کو معاف کردو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے بلکہ ان کو معاف ہی کردواور یہ معاف کرنا بھی ہماری توفیق کے بغیر ممکن نہیں ”۔( القرآن)
اللہ نے صحابہ کے نفوس قدسیہ کیلئے جس تربیت کا اہتمام فرمایا تو یہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ تعلیم وتربیت نہیں دی کہ جب دشمن میدان جنگ یا کسی ماحول میں مضبوط ہوں تو تم معافی پر اتر آؤ اور جب تمہارے ہاتھ مضبوط ہوں تو انتقام کی راہ چلو۔ ایک دفعہ ہمارے ایک عزیز سے محسودوں کے ایک گروہ نے اپنی غلطی پر معافی مانگ لی تو اس نے یہ مشورہ میرے والد صاحب سے کیا کہ اب میں کیا کروں؟۔ والد صاحب نے کہا کہ وہ معافی مانگ رہے ہیں تو معاف کردواور بات ختم کردولیکن اس نے بات نہیں مانی اور معاف کرنے سے انکار کردیا اور پھر ان مخالفین نے اپنی طاقت کا دھونس دکھادیا تو ہمارے عزیز نے میرے والد صاحب سے مشورہ کیا کہ اب کیا کروں؟۔ والد صاحب نے کہا کہ اب تو ان کو ہرگز معاف نہ کرو کیونکہ دھونس سے معافی کے مقاصد بدمعاشی ہوتے ہیں۔ اس عزیز نے کہا کہ آپ کیسے انسان ہو کہ جب مجھے جان کا کوئی خطرہ نہیں تھا تو مشورہ دے رہے تھے کہ معاف کردو اور اب جب جان کو خطرہ ہوگیا ہے تو مجھے معاف نہیں کرنے کا مشورہ دے رہے ہو؟۔
طاقتور کو معاف کرنا در اصل اپنی جان کی امان مانگنا ہے۔جب طالبان نے ہمارے گھر پر حملہ کیا تو محسود قوم کے مشران کو اپنے ساتھ لائے اور کانیگرم وزیرستان میں جس تاریخ کو طالبان نے فیصلہ کرنا تھا تو محسود قوم کو آنے نہیں دیا گیا اسلئے کہ انکویہ پتہ تھا کہ اگر یہ خاندان ظالموں کے سامنے ڈٹ گیا توپھر بکری والے ظالم بادشاہ کی طرح ہماری گردن بھی دبوچ لی جائیگی اور انکو شاید کسی نے اطلاع بھی دی ہوگی کہ وقت کے سفاک یزید کے سامنے ڈٹ جانے والے حسن و حسین کی اولاد میں کچھ افراد ابھی زندہ ہیں جن کا سرکٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا۔
علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں انہی فطرت کے مقاصد کی ترجمانی کرنے والے خانزادگان کبیر کا تذکرہ کیا ہے۔ جہاں سے طلوع اسلام کیلئے اس ہاشمی خاندان سے پھر برگ وبار پیدا ہوں گے۔ ہم یہ کہہ نہیں سکتے ہیں کہ ہمارے اندر کمی ،کوتاہی ، غلطی، گناہ اور ڈر وخوف کا کوئی تصور نہیں ہے اور لالچ بھی نہیں رکھتے ہیں۔ نہیں بھئی نہیں ہم بہت کمزور ہیں اور ہم اپنے سے زیادہ کسی کو کمزور نہیں سمجھتے ہیں لیکن کوئی غرور اور تکبر کرتا ہے تو ہم ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کی ذات کو یہ زیب دیتا ہے۔ اگر کسی انسان میں اللہ نے کوئی خوبی رکھی ہے یا اس نے کسی اعزاز سے اس کو نوازا ہے تو یہ اللہ ہی کا اپنا کمال واحسان ہے۔
(6:) اس آیت میں ایک طرف اللہ نے قانون کا بھی واضح تصور دیا کہ فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر ہوسکتا ہے اور یہ بتادیا کہ اقلیت کافیصلہ ٹھیک اور اکثریت کا غلط بھی ہوسکتا ہے۔ حکومت واپوزیشن کے وجود کا اس سے زیادہ بہتر تصور کسی کتاب میں نہیں ہے۔
رسول اللہ ۖ کے دور اورخلافتِ راشدہ میں جمہوریت کی زبردست روح موجود تھی لیکن ووٹ کا مغربی طرزِ عمل وجود میں نہیں آیا تھا۔ یہ دیکھنا پڑے گا کہ اسلام میں ووٹ کے ذریعے حکومت منتخب کرنے کی گنجائش ہے یا نہیںہے؟۔
عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہۖ لایزال اہل الغرب ظاہرین علی الحق حتی تقوم الساعة نبیۖ نے فرمایا کہ ”اہل مغرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے ” ۔ (صحیح مسلم)
اہل مغرب کیلئے حق پر قائم رہنے کی یہ پیش گوئی کس بنیاد پرہے؟۔ کیا ان کی خواتین کا عریاں لباس حق پر قائم رہنے کی نشانی ہے؟یا جدید سائنس میں ترقی اہل حق ہونے کی نشانی ہے؟یا چاہتے ہیں تو ملکوں اور قوموں کو تباہ کردیتے ہیں اسلئے وہ حق پر قائم ہیں؟یا ان کا تعلق بنی اسرائیل کیساتھ ہے؟۔ آخر کس وجہ سے اہل مغرب کو حق پر قائم رہنے کی خوشخبری دی گئی ہے؟۔حالانکہ مشرقی تہذیب وتمدن اور اقدار پر اہل مشرق فخر کرتے ہیں اور ہم ان کو فطرت کے قریب سمجھتے ہیں۔
اہل مغرب کی بڑی خوبی حکومت کو ووٹوں کے ذریعے بدلنا ہے۔ جہاں حکومت ووٹ کے ذریعے بدل سکتی ہو وہاں انسانوں پر ظالمانہ نظام قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا۔ اللہ نے دین اور نظام میں جبر کو مسلط نہیں کیا بلکہ ابلیس کو اطاعت کی بجائے نافرمافی کرنے کا اختیار دیا ۔
(7:) اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ قیدیوں کو قتل نہ کرنے کا قانون اسلام نے اولین اصولوں میں رکھ دیا تھا۔ آیت میں قافلے کا مال لینے سے فدیہ لینے تک مجموعی صورتحال ہے۔ قرابتداروں پر تلوار چلانا بہت مشکل کام ہے۔ میدانِ بدر میں بھی جو فضاء تھی وہ بہت خطرناک تھی۔ رسول اللہۖ کی صاحبزادی حضرت زینب کیلئے یہ بہت بڑا مسئلہ تھا کہ مسلمان لشکر میں آپ کے والدنبیۖ تھے جبکہ دشمنوں میں آپ کے شوہر تھے۔ ایک عورت شوہر کی موت پر بھی خوش نہیں ہوسکتی تھی۔ مسلمانوں کو اللہ نے اتنی بڑی آزمائشوں سے گزار کر دنیا کی امامت عطاء کردی۔ ہم خطابت کے جوہر سے لوگوں کو بھی ورغلانے کا فن جانتے ہیں اور اپنا تن من پالتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ تن،من اور دھن سب کچھ اسلام اور وطن پر قربان کردیں گے۔
(8:) اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ فیصلہ ٹھیک ہو یا غلط مگر ایک دفعہ کرلیا جائے تو اس معاہدے کی پاسداری ضروری ہے۔ آیت میں قیدیوں کو قتل کے مشورے کی تصدیق نہیں بلکہ اس جذبے کی توثیق تھی جس کا لحاظ بدر کے میدان میں رکھا جاتا تو پھر قرابتداری کے ناجائزجذبات مستقبل میں بھی نہیں منڈلاسکتے تھے۔ انصاف یہ ہے کہ دیر نہ کی جائے۔ اگر ایک مرتبہ دیر کردی تو پھر معاملہ اُلٹ بھی سکتا ہے اور اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ بدر میں سب کو قتل کردیا جاتا تو بہتر تھا لیکن جب ایک دفعہ قیدی بنالیا گیا تو پھر ان کو قتل نہ کرنا ہی منشاء الٰہی کے عین مطابق تھا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے ہی وحی بھی نازل کرسکتا تھا۔ میدانِ جنگ میں وحی کے سننے اور سمجھنے کا موقع بھی نہیں تھا۔ ہماری عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں جتنی دیر لگادیتی ہیں تو اس میں بھی ظالم کو اپنے انجام تک پہنچانے سے زیادہ بہتر ان کو معاف کردینا ہے۔ مظلوموں کے اندر اس وقت تو انتقام کا وہ جذبہ بھی ماند پڑجاتا ہے۔
آج اسلام اور مسلمانوں کو عالمگیر خطرات کے سامنے اپنی اہلیت ثابت کرنی ہوگی۔ اسلام نے جو عقائدونظریات اور تربیت وایمانیات کا سبق چودہ سو سال پہلے پڑھایا تھا ،اس کو دیکھنے، سمجھنے ، اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
غلامی کا نظام امریکہ نے( 1864 عیسوی) میں ختم کیا جبکہ اسلام نے غلامی کا نظام بنانے والے ادارے جاگیرداری اورمزارعت کو چودہ سو سال پہلے ہی سود قرار دیکر ختم کردیا تھا۔ فقہ کے ائمہ اس پر متفق تھے مگر درباری ملاؤں نے بادشاہوں کے کرتوت کو ختم کرنے کے بجائے مذہب ومسلک کے نام پر جواز بخشنا شروع کردیا تھا اگر اسلام کے نام پر خاندانی اور موروثی بادشاہتوں کی جگہ قرآن وسنت کا نظام ہوتا تو دنیا سے جاگیردارنہ نظام کے خاتمے میں اسلام کا سب سے بڑا کردار ہوتا اور غلام ولونڈی کا نظام بھی بہت پہلے مٹ چکا ہوتا۔ حضرت سیدنا بلال حبشی اور دیگر غلامی کے نظام میں جکڑے ہوئے افراد نے اسلام کی آغوش میں پناہ لی تو وہ کسی جنگی قیدی سے غلام بن کر نہیں آئے تھے بلکہ جاگیردارانہ نظام نے ہی انکو غلام اور لونڈی بناکر مارکیٹ میں بیچا تھا۔
جب دور دراز سے کوئی غلام یا لونڈی مؤمنوں کی آغوش میں آتے تو انکو بڑی عزت اور بہت راحت بھی ملتی، حضرت زید بردہ فروشوں کے ہاتھوں غلام بن گئے تھے مگر نبیۖ کی آغوش سے وہ اپنے چچا اور خاندان میں جانے کیلئے تیار نہ تھے۔ محمود غزنوی کے غلام ایاز اپنے آقا کیلئے سب سے بڑا سرمایہ بن گئے۔ قرآن میں ان غلاموں کا بھی واضح ذکر ہے جو تیز دھوپ اور گرم ہواؤں سے خلاصی پاکر مسلمانوں کی خدمت میں حاضر ہوں تو وہ اپنی مشکل کی زندگی سے بہت آسانی کی زندگی پانے پر اپنے رب کاشکر ادا کرینگے۔ جو ایک دوسروں پر تحائف کی طرح پیش کئے جائینگے۔ مسلمانوں نے وہ دور دیکھ ہی لئے ہیں لیکن ان کا قرآن سے اتنا تعلق مضبوط نہیں ہے کہ وہ قرآن کی واضح آیات کے واضح پیغامات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے۔ جو بڑی غلطی ہے۔
جب مسلمان حکمرانوں میں خلیفہ عبدالحمید جیسے عثمانی خلفاء نے ساڑھے چار ہزار لونڈیا ں اپنی ملکیت میں رکھیں اور محمد شاہ رنگیلا نے عیاشیوں کے بازار گرم کئے تو امامت کا منصب ان سے چھن گیا۔ قرآن میں غلام کیلئے عبد اور لونڈی کیلئے اَمة کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسلام نے عبدیت صرف اللہ ہی کیلئے جائز رکھی ہے اور انسانوں کو انسانوں کیلئے اللہ نے عبدیت کی جگہ حریت عطاء کردی ہے۔ ہماری بڑی مشکل یہ ہے کہ عربی اور اردو کو مکس کرلیتے ہیں اور پھر معانی بھی بدل لیتے ہیں۔ ہمارے جدامجد شیخ الطریقت سیدعبدالقادر جیلانی نے اپنے خطبات میں سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یا غلام جو عربی میں لڑکے کو کہتے ہیں ۔ اردو میں غلام عبد کو کہتے ہیں۔ پیرانِ طریقت نے غوث اعظم کے نام پر یہ خوئے طریقت ایجاد کرلی کہ مریدوں کو اپنا غلام سمجھ لیاحالانکہ اسلام میں غلامی جائزہی نہیں ہے۔
دورِ جاہلیت میں غلاموں اور لونڈیوں کو جانور کی طرح ملکیت کا درجہ حاصل تھا۔ اس کو قتل کرناہو یا آنکھ پھوڑ دینی ہو یا کان کاٹ دینے ہوں یا اسکے دانت توڑ دینے ہوں یا ہاتھ کاٹ دینے ہوں یا پھر مار کٹائی کرنی ہو ،سب کی اجازت تھی اسلئے کہ مملوک کیساتھ مالک کو سب کچھ کرنے کا حق تھا۔ اسلام کی تعلیمات نے غلام ولونڈی کا نکاح کرانے کا حکم دیا اور جب نکاح کے حقوق ملتے ہیں تو معاشرے میں تمام انسانی حقوق خود بخود مل جاتے ہیں۔
غلاموں اور لونڈیوںکو ذاتی ملکیت کے درجہ پر نہیں رکھا گیا بلکہ ان کو ایک معاہدے کا درجہ دیدیا۔ ملکت ایمانکم اور غلام ولونڈی میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک معاہدہ کسی آزاد فرد سے بھی ایسا ہوسکتا ہے جیسے کسی لونڈی اور غلام سے ہوتا ہے۔ معاہدہ کیا ہے؟۔ ایک لونڈی یا غلام کو جتنے میں خریدا ہے اس کا وہ فرد مالک نہیں ہے بلکہ یہ انسان اسکے گروی ہیں۔ اسلام نے دنیا کو بدل دیا تھا مگر ہمارے مذہبی طبقے نے اسلام کی فطری تعلیم کو بھی بالکل غیر فطری بناکر رکھ دیا۔ الحمد للہ علماء و مفتیان کا ذہن کھل رہاہے اور کامریڈوں نے بھی اسلام کی افادیت کو اچھی طرح سمجھنا اب شروع کردیا ہے۔
سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار
پیرانِ کلیسا ہوں کہ شیخانِ حرم ہوں
نے جدت گفتار ہے نے جدت کردار
ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگاہ زلزلۂ عالم افکار

جواب دیں

Back to top button