اسلام کا معاشرتی نظام بہت بڑا اثاثہ ہے لیکن مدارس کے مفتی، ائمہ مساجد اور مذہبی جماعتیں وفرقے اپنے کاروبار کو توجہ دے رہے ہیں

740
0

islamic-revolution-islam-ki-nishat-e-sania-quran-o-sunnat-khatm-e-nabuwat-khadim-hussain-galian-baba-nikah-and-agreement-triple-talaq-fatwa-ittehad-e-ummat-dars-e-nizami

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا ہے کہ اسلام کا معاشرتی نظام بہت بڑا اثاثہ ہے لیکن مدارس کے مفتی، ائمہ مساجد اور مذہبی جماعتیں وفرقے اپنے کاروبار کو توجہ دے رہے ہیں ،قرآن وسنت سے وہ رجوع کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ امریکہ ،کینیڈا اور یورپ ومغرب کے علاوہ دنیا بھر کے تمام جدید ممالک صرف اسلام کے قانونِ نکاح وطلاق اور خواتین کے حقوق معلوم ہوئے تو قرآن کی طرف پوری انسانیت کا رجوع ہوگا۔ عبادات کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن اسلام کا معاشرتی نظام دنیا کے سامنے پیش نہ ہوسکا اسلئے دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک کے علاوہ مسلم ممالک بھی اسلام کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ سعودیہ نے جدت اختیار کرنے کو ترجیح دی اور ہم بھی حدود اور قیود کو پھلانگ رہے ہیں۔
دعلماء کرام اور مفتیانِ عظام اس بات پر وایلا مچارہے ہیں کہ مسلمان عوام ، حکومتیں ، دنیااورعالم انسانیت اسلام سے فاصلہ بڑھارہے ہیں لیکن وہ اپنی اصلاح پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ہم نے نکاح وطلاق کے احکام قرآن وسنت سے واضح کئے مگر علماء کو فرصت نہیں کہ تھوڑی سی توجہ دیدیں۔ رسول ﷺ جو شکایت قیامت کے دن اللہ سے کرینگے کہ ’’میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘ تو کیا علماء و مفتیان خود کو اس شکایت میں بے گناہ ثابت کرسکیں گے؟۔ یہ تو کہا جاتا ہے کہ علماء اپنا وقت قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ میں لگاتے ہیں لیکن کیا اللہ کے قرآن اور نبیﷺ کی سنت کی طرف بھی کوئی توجہ دیتے ہیں؟۔
حضرت حاجی محمد عثمانؒ سے کراچی کے بڑے علماء کرام بیعت تھے، حضرت عثمان ؒ سے بعض کی دوستی تھی، مدارس کا اساتذہ طبقہ بھی بیعت اور حلقہ ارادت میں شامل تھا۔ اس خانقاہ سے اتحادِ امت کی آواز ابھر رہی تھی۔ نیکی اورتقویٰ کا اعلیٰ معیار قائم ہورہاتھا۔ پھر علماء ومفتیان نے چندافراد کے کہنے پر فتوے لگادئیے۔ حالانکہ جو الزامات لگائے وہ کیا وجہ تھی کہ چند سرمایہ دار مریدوں کو خلافِ شریعت کا تو پتہ چل گیا مگر علماء ومفتیان بالکل بے خبرہی رہے تھے؟۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگ جس شریعت اور تقویٰ پر عمل کررہے تھے۔ چند فتوؤں سے ایسی بھگڈر مچ گئی کہ ایک دنیا بدل گئی۔ داڑھیاں صاف ہوگئیں، ذکرو اذکار بند ہوا اور شریعت پر عمل موقوف ہوگیا۔ دینداری دنیا داری میں تبدیل ہوگئی اور آباد خانقاہ ویران ہوگئی۔ پارلیمنٹ میں جو ختم نبوت کے مسئلہ پر فارم سے حلف نامہ اسلئے ہٹادیا گیا کہ باقی سب معاملات میں بھی حلف نامے کو ختم کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ ایمان مجمل و ایمان مفصل میں بھی حلف نہیں ۔ اصل معاملہ حلف نامہ سے قرضہ، جائیدادوغیرہ کی تفصیل ہٹانا تھا جس سے درست معلومات کا ہر امیدوار پابند ہوتا۔ لیکن اس میں سیاستدان کامیاب ہوگئے ہیں۔
مذہبی جذبات کو ختم نبوت کے نام سے بھڑکایا گیا تو اس کے نتیجے میں علامہ خادم حسین رضوی نے سرِ عام مغلظات بکیں ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ علماء ومفتیان اپنا نصاب بھی درست کرینگے اور اس میں بھی ایمان کیخلاف بڑی سازش کو نکالنے کیلئے اسی طرح جذبہ کا مظاہرہ کرینگے؟۔
ہم فرقہ واریت کے بالکل خلاف ہیں اور درسِ نظامی کو غلطیوں سے پاک کرنا صرف ہماری نہیں بلکہ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے۔ ہمارا مقصد کسی کی تحقیر وتذلیل نہیں۔ ہم صرف رسول اللہ ﷺ کی قرآنی شکایت پر اُمت مسلمہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں اور اسکے سب سے بڑے ذمہ دار علماء ومفتیان ہیں۔ باقی لوگ بھی اپنا دامن نہیں بچاسکیں گے اور اگر مسلمان قرآن کی طرف متوجہ ہوگئے تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوجائیگا۔ ہماری ریاست بھی حقائق کی طرف رجوع کرے تاکہ پاکستان کا مقصد حاصل ہو۔