وانا جنوبی وزیرستان میں امن کمیٹی اور پی ٹی ایم کے درمیان فوج نے لڑائی روکی. آصف غفور

402
0

ispr-major-general-asif-ghafoor-good-taliban-ptm-manzoor-pashtoon-adiala-jail-baba-farid-imran-khan-murgha

Asif-Manzoor

دارہ اعلاء کلمۃ الحق کے جنرل سیکرٹری محمد فاروق شیخ نے کہا سوشل میڈیا پر برپا انقلاب کا راستہ روکنا ممکن نہیں۔ رمضان میں وانا وزیرستان کے عوام نے فوج کو دھکے دئیے، فائرنگ کرنیوالے گڈ طالبان کی طرف دھکیلا، پشتو میں گالی دے کر کہا کہ ہمیں گولی مارو۔گڈ طالبان کے دفاتر کو آگ لگادی، وردی والوں کے سامنے جنرل باجوہ اور آصف غفور ، کرنل جنرل سب کو دہشتگرد قرار دیا۔ نیٹ پر عجیب وغریب مناظر کی ویڈیوکلپ چل رہی ہیں۔ دنیا بھر میں اسلام آباد سے گرفتار PTM کے کارکنوں کی رہائی کیلئے مظاہرے اور سوالات اٹھائے گئے کہ سوات سے وزیرستان تک طالبان نے قتل وغارت کا بازار گرم کیا، ملا فضل اللہ فوج کو کافر قرار دیتا ، عدلیہ اور جمہوری نظام کو کفر قرار دیتا، میڈیا میں خبروں کی بھرمار ہوتی، FM ریڈیو چلتا، سکولوں کو اڑایا جاتا اور بچیوں کی تعلیم پر پابندی لگادی مگر ریاست نے ان کو غدار نہیں کہا، پروپیگنڈہ نہیں کیا، میڈیا پر پابندی نہیں لگائی اور دوسری طرف PTMاور اسکے قائد منظور پشتین کا چہرہ ہے جس نے امن کا جھنڈا اٹھایا، آئین کی بات کرتا ہے۔ تحفظ دینے کا مطالبہ کررہاہے۔ کوئی گولی، لاٹھی، پتھر اور ہاتھوں میں مٹی کے کنکر تک نہیں اٹھائے ۔ پھر بھی غدار، را کا ایجنٹ، کافر قرار دیا جارہاہے۔ منظور پشتین نے کہا کہ جو کام طالبان دہشت گرد کرتے تھے ،یہ وہی کررہے ہیں ،دونوں دہشت گرد ہیں۔ جیل میں جاتے اور نکلتے وقت قیدیوں کے حوصلے بلند اور خوش تھے۔ بلوچوں نے ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھائے، ایم کیوایم اقتدار کی دہلیز تک بار بار پہنچی مگر PTM نے کالے سفید جھنڈوں سے جس پر امن انداز میں پذیرائی حاصل کرلی۔ اسکا راستہ تشدد سے روکا گیا تو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑیگا۔یہ عوام کی بہادری، جرأت، جسارت اور دلیری کا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے کہ اس کی مثال ڈھونڈنے سے نہیں ملتی ۔ اگر فوج کرفیو نہ لگاتی تو گڈ طالبان کے خلاف سرتاپا احتجاج عوام سب کا قلع قمع کردیتے۔ سوال ہے کہ 27افراد کورہا کیا جو بغاوت اور غداری کے سخت ترین مقدمے میں قید تھے لیکن وہ باہر آکر بتارہے تھے کہ اڈیالہ جیل میں 5ہزار قیدیوں کا بہت برا حال تھا جن میں 3500پٹھان تھے جو معمولی معمولی دفعات کے تحت قید تھے لیکن ان کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جنہوں نے پارلیمنٹ کا دروازہ توڑ دیا، PTV قبضہ پر مبارکباد کا تبادلہ کیا، پولیس کی درگت بنائی اور تھانے سے زبردستی ساتھی چھڑالئے ۔ ان کو اڈیالہ جیل ایک رات کیلئے بھی نہ بھیجا۔ عمران اپنی بیگم کیساتھ بابا فریدؒ کے مزار پر مرغا بننے کے بجائے یہ اعلان کرے کہ مجھ سے اور PTMکے ورکرز سے جو امتیازی سلوک ریاست نے کیا ، بھرپور مذمت کرتا ہوں اور ہم ریاست کی اس ذہنیت کو بدل ڈالیں گے۔ صرف علی وزیر کی حمایت کرنے پر معاملہ کبھی درست سمت نہیں جائیگا۔

Asif--Ghafoor-Pic

میجرجنرل آصف غفور نے کہا: ’’کچھ نے فوج کے خلاف نعرہ لگایا، جس پر مقامی افراد نے ان کو طلب کیا، دونوں فریق کے درمیان جھگڑا شروع ہوا۔ فوج نے لڑائی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس میں کوئی بچی نہیں مری ۔ کہا جارہاہے کہ فوج یا طالبان نے فائرنگ کرکے بندے مارے ۔ ہم اس نبیﷺ کے امتی ہیں جو خود پر سہہ کر معاف کردیتے تھے۔ فوجی وردی پہننے سے کوئی پاک نہیں ہوجاتا ، ان کی بھی غلطی ہوسکتی ہے‘‘۔ قتل وغارتگری کرنیوالے کس کے پیڈ لوگ تھے ؟ ۔ پتہ پریس کانفرنس بتارہی ہے۔ حقائق کے تناظر میں اس نعرے سے نہیں روکا جا سکتا کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔ ISPR کی پریس کانفرنس غلط فہمی کا ازالہ نہیں بلکہ اعترافِ جرم ہے۔ انگوراڈا سے شکئی تک وزیرستان کی چار تحصیلوں کے وسیع علاقہ میں کرفیو نافذ رہا مگر الیکٹرانک و پریس میڈیا سے عوام کو خبر بھی نہ پہنچنے دی گئی۔ پریس کانفرنس میں بھی نہیں بتایا تو عوام اس نتیجے تک پہنچنے پر مجبورہونگے کہ’’ دال ہی کالی ہے‘‘۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں پختونوں نے احتجاج کا جو انداز اپنایا ، اسکا دنیا پر کیا اثر مرتب ہوگا؟۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان اور دنیا کے کسی کونے کھانچے میں اس خوبصورتی کیساتھ آزادی، ریاست سے تصادم اور فوج کے خلاف نعرے نہیں لگے ہیں۔ اگرچہ ان کی تعداد تھوڑی ہے لیکن کوئی حادثہ پورے خطے کا نقشہ بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگائے گا۔ یہ کون لوگ ہیں؟۔ گھربار، افراد، قبیلہ اور علاقہ کی قربانی دینے والے سالوں سال سے در درکی ٹھوکر کھانے والے قبائلی عوام ۔ انگریز کے دور میں بھی اور آزادی کا جھونکا آنے کے 70سال بعدبھی ریاستی قوانین اور ڈسپلن کے دائرے سے آزاد قبائل ۔ محراب گل افغان کے نام سے علامہ اقبال نے محسود، وزیر اور شیرشاہ سوری کا تذکرہ کیا اور انقلاب کی نوید سنائی ہے۔ پاکستان اسلام کیلئے بناتھا۔ جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کو انٹر پول سے اپنی دولت سمیت لایا جاتا تو زرداری اور نوازشریف کی دولت بھی بیرون ملک سے لانے میں دشواری نہ ہوتی۔ زرداری نے کتنی بڑی بات صرف میڈیا ٹرائیل پر کہی کہ اینٹ سے اینٹ بجا دینگے۔ نوازشریف کتنی دولت لوٹ کر لے گیا؟۔ پارلیمنٹ اور میڈیا میں اپنی جھوٹی صفائی پیش کردی اور عدالت میں رپورٹ دینے کا چیلنج مخالفین کو دیا۔ جب عدالتوں میں کیس چلا، ثبوت نہیں ملا تو فوج پر غلط پشت پناہی کا الزام لگادیا اور بنگلہ دیش کی طرح پنجاب الگ کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ قبائل نے کھایا پیا کچھ نہیں، قربانیوں پر قرنیاں دیں۔ تذلیل پر تذلیل برداشت کی۔ ایک علاقہ میں آپریشن کا اعلان ہوتا، عوام دربدر ہوتے۔ طالبان دوسرے علاقے میں منتقل ہوتے، علاقہ کلیئر قرار دیا جاتا تو عوام کیساتھ طالبان بھی پہنچتے۔ زیادہ تر عوام ہی آپریشن میں جیٹ طیاروں کی زد میں آتے۔ یہ سلسلہ لمبے عرصے تک چلا۔ عوام کی تکلیف پر منظور پشتین نے تحریک شروع کردی جو مقبول ہوگئی۔
منظور پشتین کے خاندان کو نہ فوج نے نقصان پہنچایا ہے نہ طالبان نے۔ وہ عوام اور اپنی قوم کے درد کیلئے اٹھا ہے۔ البتہ علی وزیر کے بڑے جوان بھائی فاروق کو طالبان نے شہید کیا۔ پھر انکے والد کو شہید کیا پھر خاندان کے 17 افراد کو شہید کیا گیا۔ پاک فوج نے بھی انکی مارکیٹوں کو مسمار کردیا۔ شریف خاندان ہے، کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے۔ اپنا پیٹرول پمپ تھا۔ کاروبار تھا اور بڑی جائیداد کے مالک ہیں۔ شرافت جرم بن گئی ۔ فوج اور طالبان نے خوامخواہ دشمن سمجھ لیا۔
منظور پشتین کا تعلق غریب گھرانے سے ہے۔ علی وزیرنے محسود تحفظ موومنٹ کا ساتھ دیا تھا تاکہ وزیروں کے محسود بھائی تاریخ کے بدترین جبروظلم سے نکل سکیں۔ علی وزیر نے خود یہ درد محسوس کیا تھا۔ جہانگیرترین اور عمران خان کی جوڑی جدا ہوسکتی ہے ۔ عمران خان بیگم بدلنے میں شرم محسوس نہیں کرتا تو رہنما ء کی تبدیلی کوئی بات نہیں۔ علی وزیر اور منظورپشتین ایک ہیں۔ اگر اس تحریک کو کالے سفید جھنڈوں کیساتھ دنیا میں پذیرائی مل گئی تو کشمیر سے فلسطین کی آزادی تک دنیا کے مسائل حل ہونگے۔ کاش ! ہمارا برسر اقتدار طبقہ اور یہ لوگ ایک اور نیک ہوجائیں۔