جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ کی وہ نشانی ہے جس کا انکار ممکن نہیں. فاروق شیخ

373
0

jamaat-e-islami-pakistan-establishment-muttahida-majlis-e-amal-sirajul-haq-labbaik-ya-rasool-allah-mumtaz-qadri-sheikh-rasheed-raja-zafar-ul-haq-article-62-and-63

مدیر مسؤل نوشتہ دیوار فاروق شیخ نے کہا: اللہ کی مہربانی سے جماعت اسلامی نے بالکل آخری وقت میں راجہ ظفرالحق کی تائید کردی۔ اسٹیبلشمنٹ کا موڈ معلوم کرنے کیلئے جماعت اسلامی کا ترازو بہت اچھا پیمانہ ہے۔ جس کا انکار وہ خود بھی نہیں کرتے ہیں اور اچھی بات بھی یہی ہے کہ حقائق کا اعتراف کیا جائے۔ خواجہ آصف نے انکشاف کیا تھا کہ سراج الحق نے مجھ سے کہا کہ ’’فوج تو آپکے ساتھ ہے ‘‘، اگر اسٹیبلشمنٹ کی چاہت ہوتی تب بھی اس بات کا امکان نہیں تھا کہ جماعت اسلامی اپنی حمایت حکومت کے پلڑے میں ڈالتی۔لیکن جب اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار تھی تو سراج الحق نے ن لیگ کو ووٹ دینا اسلئے مناسب سمجھا تھا کہ وہ ضمنی الیکشن میں دیکھ چکے تھے کہ ن لیگ کی حمایت نہ ہونے کے بعد کی پوزیشن کا کیا حال تھا؟۔ جماعت اسلامی نے ممتاز قادری کی شہادت کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا لیکن تحریک لبیک یارسولﷺوالوں نے اپنی سیاست شروع کردی ۔
جمعیت علماء اسلام س اور جماعت اسلامی نے مذہب کوزندہ رکھنے کیلئے ممتازقادری کی شہادت کو سیاسی حربے طور پر اسلئے استعمال کیا کہ عوام کے پاس جانے کیلئے ان کو دوسرا کوئی ایشو نہیں مل رہا تھا۔ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی بات اسلئے کی تھی کہ کوئی بے گناہ سزا کی زد میں آنے سے بچ جائے۔ تبدیلی کی تجویز رکھنے اور تبدیلی کیلئے اقدامات اٹھانے میں بھی بڑا فرق ہے۔ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم ایک مذہبی مسئلہ تھا تو پالیمنٹ میں شیخ رشید واحد آدمی تھا جو اس مسئلے کو اجاگر کررہا تھا۔ سینٹ میں جمعیت علماء اسلام کے حافظ حمد اللہ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایاتھا۔ پھر لبیک پاکستان کی طرف سے فیض آباد دھرنا اور ملک گیر سطح پر احتجاج ہوا تو حکومتی وزیر زاہد حامد کوسازش میں ملوث ہونے کے جرم پر برطرف کیا گیا۔ حکومت اور اسکے نمائندوں نے وعدہ کیا تھا کہ جو لوگ بھی اس سازش میں ملوث قرار پائے ان کو قرار واقعی سزا دی جائیگی لیکن تاحال وہ وعدہ جمہوری حکومت نے پورا نہیں کیا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو ترمیم کی گئی تھی اس کو راجہ ظفر الحق نے باہوش و حواس ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔ لیکن کمیٹی کی رپورٹ راجہ صاحب نے نواز شریف کو دے دی۔ عدالت میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ نواز شریف سے اس رپورٹ کو طلب کرسکے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ختم نبوت کے حلف نامے کے علاوہ پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں نے دیگر حلف نامے بھی تبدیل کردئیے ہیں۔ پہلے ضروری تھا کہ الیکشن میں حصہ لینے والا حلف نامہ تحریر کرتا کہ اس نے کوئی قرض نہیں لیا ہے جو معاف کرایا ہو۔ بیرونی و اندرونی ممالک میں اس کی یہ جائیداد ہے ۔ اسکے پاس دوہری شہریت نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔
نواز شریف کو بھی وزارت عظمیٰ سے اسلئے نااہل قرار دیا گیا تھا کہ اس نے اپنے اقامے کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اپنے اقامے کا ذکر نہ کرنا آئین کی دفعہ 62، 63کی اتنی خلاف ورزی نہیں ہے جتنی دوہری شہریت دفعہ 62،63کی خلاف ورزی ہے۔ نواز شریف کو اقامہ چھپانے پر نا اہل قرار دیا گیا تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بہن اور دیگر سینٹ کے ممبران کو دوہری شہریت چھپانے پر زیادہ نا اہل قرار دینا چاہیے تھا۔ صادق اور امین کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ عوامی بیت الخلاء میں کوئی بندہ پدو مارے اور جھوٹ بولے کہ ساتھ والے نے مارا ہے۔ بلکہ اس کا تعلق حلف نامے کے ساتھ درج کئے جانے والے حلف نامے کے ساتھ ہے۔ جب حلف نامہ نہیں رہا تو آئین کی یہ دفعات بھی خود بخود غیر مؤثر ہوگئی ہیں۔ چیف جسٹس بابا رحمتے اگر ریٹائرڈ ہوگئے تو اپنے بال بچوں کی روزی کیلئے پھر وکالت کرنے لگیں اور نواز شریف نے ان کو وکیل کرلیا تو یقیناًعدالت میں اس کیس کی وکالت کریں گے کہ اب حلف نامے سے تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر قانون پاس کردیا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کے پاس اقامہ ہے یا نہیں ، اسی طرح کوئی جائیداد ہے یا نہیں اور سچ جھوٹ کا بھی اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا جس بنیاد پر نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا تھا اب وہ بنیاد ہی ختم کردی گئی ہے لہٰذا اس کی نااہلی بھی ختم کی جائے۔ پچھلی مرتبہ محترم عبد القدوس بلوچ نے بھی اس نکتے کو اٹھایا تھا جس کی شہ سرخی شاید میڈیا کی نظروں میں نہ آئی ہو اور بعض لوگ تو کہہ رہے تھے کہ یہ دفعات ختم نہیں ہوئیں ہیں۔