جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی پر بچی سے زیادتی کا گھناؤنا اور جھوٹا الزام: ارشاد نقوی

532
0

jamia-binoori-town-karachi-girl-child-blame-criminal-syed-irshad-ali-naqvi-mudeer-social-media-dawn-news-video-clip-sale-10-thousand-rupees-kab-tak-noorani-basti-korangi

مدیر خصوصی نوشتۂ دیوارسید ارشاد علی نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈان نیوز کا ایک ویڈیو کلپ اور اس کے ساتھ یہ خبر چل رہی ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اُستاذ نے ایک 6سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے 10ہزار میں فروخت کرنے کی کوشش کی اور رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ مدرسے والے پشت پناہی کررہے ہیں۔ یہ خبر دیکھتے ہی جھوٹی اسلئے لگی کہ جامعہ بنوری ٹاؤن میں کوئی بچیاں نہیں پڑتی ہیں۔ تاہم پھر بھی محمد اجمل ملک ایڈیٹر نوشتۂ دیوار نے جامعہ بنوری ٹاؤن کے مفتی مزمل صاحب سے یہ پوچھا کہ وہاں بچیاں پڑھتی ہیں یا نہیں؟ ۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ ’’جامعہ کی عمارت میں بچیوں کو تعلیم دینے کا کوئی انتظام نہیں ہے تاہم ادارے کی شاخ میں بچیوں کو پڑھایا جاتا ہے اور ان کی اساتذہ بھی خواتین ہوتی ہیں۔ مجھے بھی دو دن پہلے پتہ چلا ہے کہ اس قسم کی کوئی خبر سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔ مجھے اس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہیں‘‘۔
ہم نے سوشل میڈیا پر اس خبر کی تفصیل نکالی جو ڈان نیوز میں 6سال قبل ایک پروگرام ’’کب تک‘‘ میں چلی تھی۔ نورانی بستی کورنگی کا یہ واقعہ ہے جس میں ایک مولوی نما شخص نے 6سالہ بچی کیساتھ جنسی زیادتی کی اور پھر اس کو گھر کے پاس پھینک دیا۔ خاتون اینکر دلسوزی سے چیخ و پکار مچارہی تھیں کہ دنیا کی عدالت میں تجھے کوئی سزا نہیں ملے گی لیکن اللہ کی عدالت سے تم بچ نہ پاؤ گے ۔ 6سال قبل اس درندے کو سزا ملتی تو واقعات کا یہ تسلسل بھی نہ ہوتا۔