جاوید غامدی کا قرآن کے بارے میں سراسر جھوٹا بیان اور حلوے میں زہر کی ملاوٹ اور ملمع سازی

506
0

نوشتۂ دیوار کے منتظم اعلیٰ فیروز چھیپا علمدار نے ڈاکٹر جاوید غامدی کے حالیہ بیان پریہ تبصرہ کیا کہ جاوید غامدی مسلمانوں کو قرآن کی آیت کا غلط مفہوم پیش کرکے مٹھائی کے اندر زہر کھلاتا ہے۔ قرآن مردہ قوموں میں زندگی کی روح پھونک کر دورِ جاہلیت سے علم وعمل، بلندی وعروج اور بڑے اعلیٰ درجے کے اقتدار کی منزل پر پہنچاتاہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک اچھوت نسل سے تعلق کی بنیاد پر آدمی وہی سوچے گا جو اسکے ماحول کیمطابق ہوگا، لیکن قرآنی تعلیمات کو غلط رنگ میں پیش کرنا بڑی زیادتی ہے۔ واقعۂ کربلا کے بعد ائمہ اہلبیتؒ بھی مھدی کے انتظار میں بیٹھ گئے مگر قرآن کو نہ بدلا۔ انبیاء کرامؑ نے مشکل حالات میں قوم کو بدلنے کی مثالیں قائم کیں۔ جاوید غامدی کے بیان پر تبصرہ صفحہ2میں اداریہ پر دیکھ لیجئے۔

جاوید غامدی کا قرآن کے بارے میں سراسر جھوٹا بیان اور حلوے میں زہر کی ملاوٹ اور ملمع سازی

یہ سوال ہے کہ یورپ کی جو عیسائی قومیں ہیں وہ پچھلے تین سو سالوں سے They have been rolling the planet. مسلمانوں کی باری کب آئیگی؟۔

غامدی: مسلمان اپنی باری لے چکے۔

سوال: اب دوبارہ نہیں آئیگی؟۔

غامدی: اور یہ میں محض تفنن طبع کیلئے نہیں کہہ رہا۔ قرآن مجید کہتا ہے، تلِکَ ایام نداولہا بین الناس ہم اس دنیا کے اقتدار کو اسی طرح ایک لائن میں ایک کے بعد دوسری قوم کو دے رہے ہیں اور یہ ایام اسی طرح اُلٹتے پلٹتے رہتے ہیں بلکہ مزید یہ کہتا ہے کہ دنیا کی قوموں کو ایک لائن میں رکھکر ہم ایک کے بعد دوسری قوم کو اسٹیج پر لارہے ہیں۔ یہ آخری زمانہ ہے، قرآن نے بتایا ہے کہ حضرت نوح کے تیسرے بیٹے یَافِس کی اولاد کے پاس حکمرانی ہو گی۔ پہلے دور میں انکے پہلے بیٹے حام کی نسلوں افریقی اقوام کے پاس دنیا کی حکمرانی رہی۔ دوسرے دور میں انکے دوسرے بیٹے سام کی سمیٹک نیشن کے پاس اقتدار رہا ہے اور اب یہ یافِس کی اولاد ہے جو امریکہ میں، آسٹریلیا میں، یورپ میں، وسط ایشیاء میں اور اسی طرح ہندوستان میں بھی بڑی حد تک آباد ہیں تو اللہ نے اپنے اسٹیج پر اب ان کو موقع دے رکھا ہے۔ مسلمان قومیں اپنا وقت لے چکی ہیں۔ یہ ہے آپکے سوال کے ایک حصے کا جواب۔دوسرا یہ کہ مسلمان سے ہٹ کے اسلام کو ذرا زیر بحث لائیں تو اسلام تو کسی قوم کا مذہب نہیں، آپکے اندر جذبہ یہ نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ وہ پٹی ہوئی مسلمان قومیں دوبارہ اقتدارحاصل کر لیں، پوری طاقت سے اٹھئے اور جنکے حق میں اقتدار کا فیصلہ ہو چکا ہے ان کو مشرف بہ اسلام کریں۔ اسلام کسی قوم کا نام نہیں میسج، پیغام ایک عالمگیر صداقت ہے تو آپ اٹھیں اور پیغام انکے پاس پہنچائیں جنکے حق میں اقتدار کا فیصلہ ہو چکا ۔میں کئی مرتبہ پاکستان میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ پاکستان پر جن کو اللہ نے حکومت کیلئے منتخب کیا، وہ تین چار سو خاندان ہیں اور انکی اولادیں ہیں ایک لمبے عرصے تک یہی رہنا ہے کیونکہ جب تک ایجوکیشن نہیں بڑھے گی بہت سے حالات نہیں ہونگے تو کوشش کریں کہ یہ کچھ تھوڑے سے دیندار ہو جائیں کچھ اخلاقی چیزوں کو مان لیں، لیکن لوگ الٹی کوشش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مسجد کے مولوی صاحب کو ایوان اقتدار پر پہنچانا ہے۔ مسلمانوں کو اقتدار تک لیجانے میں بڑی مشکلات ہیں اسلئے کہ قدرت کا نظام تو اپنا فیصلہ کر چکا لیکن یہ موقع ہمارے پاس موجود ہے کہ ہم اپنے میسج کو ان قوموں تک پہنچا دیں اور کیا بعید ہے آپ کو معلوم کہ ایک زمانے میں یافِس کی اولاد حملہ آور ہوئی، عرب کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور آپکے علم میں ہے کہ بغداد کا سکوت ہوا اور سعدی نے اس موقع پر بڑا ہی درد انگیز مرثیہ کہا ، پوری مسلمان امت رو رہی تھی اور ترک چنگیزخان کی اولاد وہ حملہ آور ہو گئی آخری خلیفہ کو ٹاٹ میں اور قالین میں بند کر کے مار دیا گیا،اسکے بعد ہوا کیا؟۔ اسلام کی طاقت آگے بڑھی اقبال نے کہا کہ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے۔ ترک مسلمان ہو گئے، سلطنت عثمانیہ وجود میں آئی اور پانچ سو سال تک مسلمانوں کی حکومت رہی۔ میرے نزدیک اب یہ صحیح راستہ وہ نہیں، جسکی وجہ سے لوگ ایکدوسرے کو مار رہے ہیں، صحیح یہ ہے، اسکو اختیار کرنا چاہیے کیونکہ میسج میں بڑی طاقت ہے۔

سوال: سر ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ امام مہدی اور حضرت عیسیٰ نے آنا ہے وہ ہمیں دوبارہ سے ریوائیو کرینگے اور اینڈ آف ٹائم میں مسلمانوں کا غلبہ ہو گا۔

غامدی: اگر انھوں نے آنا ہے اور آکر یہ کام کرنا ہے تو تشویش کی کیا بات ہے؟

سوال: آ نہیں رہے یہ تو ابھی تک آ نہیں رہے؟۔

غامدی: پھر اطمینان کیساتھ سوتے ہیں۔ میں تو کئی بار یہ کہتا ہوں کہ بھئی کوئی اچھا کھانا وانا بنا کر فریج میں رکھ لیتے ہیں تاکہ انکی خدمت میں پیش کیا جائے۔ میرے نزدیک مسلمانوں کو ان افسانوں سے اب نکلنا چاہیے اور اس حقیقت کی زمین پر کھڑے ہونا چاہیے، مسلمان قومیں عالمی اقتدار کا خواب نہ دیکھیں۔ ان کیلئے پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنی جہالت دور کریں۔ سچا علم پھیلائیں۔پانچ سو سال سے ہم نے دنیا کو کچھ نہیں دیا۔ اچھا جمہوری نظام اور جمہوری کلچر پروان چڑھائیں لوگوں کو اس طرح تربیت کریں کہ وہ اعلی اخلاق کیساتھ جینا سیکھیں۔ اپنے گریبان میں اپنا منہ ڈال کر دیکھیں تو ہم جھوٹ بولتے بد دیانتی کرتے ہیں دھوکا دیتے ہیں، ہماری بنائی ہوئی دواؤں پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ تو اپنے آپ کو علم اور اخلاق کے لحاظ سے بلند کریں۔ جن ملکوں نے کچھ ہمت دکھائی توانکے حالات بدلے ۔ یعنی عالمی اقتدار الگ چیز ہے لیکن اپنی قوم کی حالت بدلنا، زندگی کی سہولتیں فراہم کرنا، علم کے دروازے کھولنا۔ میں جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہا ہوں اس قوم نے اپنے آپ کو بہتر جگہ پر کھڑا کر لیا ۔ باقی عالمی سطح پر اقتدار کا فیصلہ اب انکے حق میں ہو گا جن کا میں نے ذکر کر دیا۔ یہ بات خود قرآن نے واضح کر دی ہے۔ ایک ہی راستہ ہے جیسے ہمارے جلیل قدر علماء نے بہت صبر کیساتھ اسلام کی دعوت پیش کی اور ترک مسلمان ہو گئے ایسے ہی آپ کو ان قوموں تک خدا کا پیغام پہنچانا ہے اور سب سے بڑا موقع آپ لوگوں کو ملا ہے جو ان قوموں کے اندر آ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔