پاکستان کی بقاء ، خطے کی سلامتی اور عالمی امن کا راستہ

403
0


معروف صحافی مظہر عباس نے سہیل وڑائچ کی کتاب کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ ’’ جنگ و جیو اور دیگر میڈیا چینلوں میں یہ فرق ہے کہ جنگ اور جیو کسی بات کو سچ اور جھوٹ اسلئے نہیں کہتا کہ کوئی اسے کہلواتا ہے بلکہ خود جس کو جھوٹ اور سچ سمجھتا ہے، اپنی بنیاد پر کہتا ہے‘‘۔ سیاست کی طرح مذہبی جذبہ بسا اوقات کوئی کسی کے کہنے پر استعمال کرتا ہے اور اپنے طور پر بھی مذہبی جذبہ استعمال ہوتا ہے، بالفاظِ دیگر جو بات مظہر عباس کہہ رہا تھا،وہی بات مولانا فضل الرحمن بھی علامہ خادم رضوی کیلئے کہہ سکتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر جنگ وجیو اپنے مفادات کیلئے مہم جوئی کا کردار ادا کرنے کے بجائے حق اور حقیقت کیلئے کام کرتے تو بھی تھوڑے دنوں میں ایک مثبت انقلاب آسکتا تھا۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمن اسلام کے معاشرتی، سیاسی اور معاشرتی مسائل کے حل کی طرف توجہ دیتے اور اسکا برملا اظہار کرتے تو خواہ مخواہ میں سیاسی ومذہبی قوتوں اور قائدین کے درمیاں نکاح خواں سے گرکر اب میراثی کا کردار ادا نہ کرنا پڑتا۔ حقیقی اسلام کے ذریعے زر،زن اور زمین کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اگر اسلام کے نام پر غیرشرعی جاگیردارانہ اور غیر اسلامی بینکاری نظام ہو اور معاشرے پر غیر اسلامی معاشرتی نظام ہو تو پاکستان کی بقاء ممکن ہے اور نہ خطے کی سلامتی اور عالمی امن کا قیام ممکن ہے۔ یرغمال شریعت مدارس اور اسٹیبلشمنٹ سے آزاد کرنے میں زیادہ دیر نہ لگے گی۔ صرف ہمت مرداں کی ضرورت ہے تو مدد خدا بھی ہو گی۔
لوگ تہائی،چوتھائی اور نصف پیداوار پر زمین کاشت کراتے تھے، پس نبیﷺ نے فرمایاکہ جس کی زمین ہو،وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر دوسرے کو کاشت کیلئے مفت بلامعاوضہ دیدے،اگر ایسا نہیں کرتا تو اپنی زمین اپنے پاس یونہی رکھ لے۔ (صحیح بخاری) جابرؓ سے نقل ہے کہ جب تحریم ربوٰ کی حرمت نازل ہوئی الذین ےأکلون الربوٰ لایقومن الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطان من المس لآیہ (جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہونگے مگر جسطرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو جنات نے اپنی گرفت میں لیکر پاگل بنایا ہو) جو شخص مزارعت کو نہ چھوڑے اس سے آگاہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ اور اسکے رسولؐ کیساتھ جنگ میں مصروف ہے‘‘۔ المستدرک۔ اسلامی اقتصاد کے پوشدہ گوشے
نمونہ کے طور پر دو احادیث پیش کردی ہیں ، تفصیلات کیلئے علامہ طاسینؒ کی کتاب میں مواد موجود ہے۔ ان احادیث کے ذریعے سے نہ صرف پاکستان کی سرزمین میں استحکام آسکتا ہے بلکہ پورے خطے میں بھی ایک ایسا انقلاب آسکتا ہے جو پوری دنیا کے تیور کو بدل ڈالے۔ عرب ممالک کے پاس تیل کی طاقت تھی لیکن انہوں نے خود کو اسرائیل اور امریکہ کی گرفت میں دیدیا ہے۔عرب کی بقاء بھی برصغیرپاک وہند، ایران وافغانستان، روس وچین اور ترکی کے علاوہ مشرقی ممالک کے اتحاد میں ہے۔ مغرب نے امامت کے مقام سے انصاف نہیں کیا۔ علامہ طاسینؒ سے ایک سہو ہوگئی کہ ایک طرف قطعی طور پر حرام ہونے کی بات کہی اور پھر مشتبہ قرار دیا، اسی طرح مضاربہ کو بھی سود قرار دینے کی کوشش فرمائی ہے۔