ایڈیٹر نوشتہ دیوار اجمل ملک کا بیان

378
0

وزیراعظم نوازشریف اعلان کردے کہ ’’ زرداری بھی قوم کا پیسہ لوٹادے اور میرے بچے بھی لوٹادیں، انصاف کیمطابق فیصلہ نہ ہوا تو احتجاج کی قیادت میں خود کرونگا‘‘۔
جنرل راحیل شریف نے غیرجانبداری کا کردار ادا کرکے قوم ،ملک اور سلطنت کو مضبوط کیا۔ جج کی پریکٹس وکالت کی ہوتی ہے اسلئے اسکے ضمیر پر قوم کاکوئی اعتماد نہیں ہوتا
اکبر الہ آبادی نے کہا : وکیل ہوا پیدا تو شیطان نے کہا لو آج میں بھی صاحبِ اولاد ہوگیا ۔ صحافت کا شعبہ ببانگِ دہل کہتا ہے کہ اس شعر کو بھول جاؤ، حق تو یہ تھا جو ادا ہوا

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر محمداجمل ملک نے اپنے بیان میں کہاہے کہ ’’ جب جج، جنرل اور جنرنلسٹ(صحافی) جانبدار بن جائیں تو ان کو جبری طور سے جیل جانا چاہیے۔ جنرل راحیل کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرکے قوم، ملک اور سلطنت کو استحکام کے راستے پر ڈالا۔ حکومت اور اپوزیشن میں اعتدال کی راہ پر چلے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری عمران خان اور نوازشریف شہباز شریف میں کوئی تفریق نہیں رکھی۔سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی اور اپوزیشن لیڈر خورشید کو یومِ دفاع کی مرکزی تقریب میں ساتھ بٹھایا، مسلم لیگ ن کی حکومت کا فرض بنتا تھا کہ کھل کر اظہار کرتی کہ’’ غیرجانبدار آرمی چیف اور فوج کے کردار پر فخرہے،جو سازشی عناصر کے پیچھے بھی نہیں اورنہ حکومت کی دُم چھلہ ہے‘‘۔ مگر ن لیگ کی قیادت ہی ایسی کم عقل ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آیا اور آرمی چیف نے کرپشن کیخلاف بیان دیا تو نوازشریف کو اس کا بھرپور خیرمقدم کرنا چاہیے تھا، وزیراعظم نے الٹا حساب مانگا ،کہ’’ ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کیا ، ہتھکڑی لگائی، حکومت ختم کی گئی اسکا حساب کون دیگا؟‘‘۔میڈیا کو چاہیے تھا ،کہتاکہ’’ جواب اپنے باپ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سے لے لو، جس نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو قانون سازی کرنے اجازت دیدی۔نامزد چیف جسٹس ٹھیک کہتے ہونگے کہ ’’ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے ہمیشہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ دیا۔ عوام مایوس نہ ہوں۔ہم انصاف ہی کرینگے‘‘۔
انسانوں کے ضمیر میں اختلاف ہوتاہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام دونوں بھائی اور پیغمبر تھے۔ جب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جانے کے بعد حضرت ہارون علیہ السلام کی موجودگی میں سامری کے ورغلانے سے ایک بچھڑے کی عبادت شروع کردی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عوام کو سزا نہیں دی ، اپنے ذمہ دار بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑا، حضرت ہارونؑ نے کہا کہ ’’میں نے اسلئے منع نہ کیا کہ ان میں تفریق پیدا ہوتی، جس پر آپ کہتے کہ قوم کو تقسیم کردیاہے‘‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ناراض ہونا اور حضرت ہارون علیہ السلام کا نظریۂ ضرورت پر عمل کرنا ضمیر کا اختلاف تھا کوئی کوتاہی نہ تھی۔ یہ سچ ہے کہ جسٹس منیر سے لیکر جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کئے ہونگے لیکن ضمیروں کا اختلاف بھی قوم کیلئے بعض اوقات اطمینان کا ذریعہ نہیں بن سکاہے۔ ن لیگ نے جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں سپریم کورٹ پر ہلہ بول دیا تھا، ڈوگر کے خلاف طوفان برپا کیاتھا، جسٹس قیوم کا فون اور اقرارِ جرم ریکارڈ پر ہے۔وزیرداخلہ چوہدری نثارنے ٹھیک ٹھاک پریس کانفرنس کردی ہے اور ٹھنڈی فوج کی موجودگی میں عدالت کیلئے حکومت کے خلاف انصاف سے فیصلہ کرنا بھی ضمیر کیلئے بڑے دل گردے کا کام ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا تھا اور نبیﷺ نے اپنے ضمیر کے مطابق ہی کیا تھالیکن صحابہ کرامؓ کی اکثریت کے ضمیر اس پر متفق نہ تھے اور کھل کر اپنے اختلاف کااظہارِ رائے کررہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ نے صلح حدیبیہ کو وحی کے ذریعے فتح مبین قرار دیا۔ صحابہ کرامؓ کی اکثریت نے بدر ی قیدیوں کو اپنے ضمیر کے مطابق فدیہ لیکر رہا کرنے کا مشورہ دیا اور نبیﷺ نے فیصلہ فرمادیا لیکن اللہ نے اس کو نامناسب اور دنیا کی چاہت کا آئینہ دار قرار دیا۔ وحی کا سلسلہ بند ہوچکاہے اور عدلیہ اپنے ضمیر کے مطابق انصاف کرے تو قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے اور قوم کو فیصلے سے اختلاف ہو تو بھرپور احتجاج کا حق بھی رکھتی ہے ۔اپنے لئے شہبازشریف ڈوگر کیخلاف چیخا تھا ،قوم کیلئے بھی کھل کر کردار ادا کرے۔
جیو اور جنگ گروپ جمہوری نظام کی سہولت کاری کے طور پر فوج کو بدنام کرے تو یہ اس کا حق ہے اور اس کو سو خون بھی معاف ہیں لیکن جمہوریت کے نام پر کرپشن اور کرپٹ لوگوں کو دوام بخشنے کیلئے یہ کردار ادا ہو تو اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی؟، شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں جنید نے حامد میر کے ذریعہ پیپلزپارٹی کیخلاف ن لیگ کے اقدام کو غیر مناسب قرار دینے کا سہرا پاک فوج کے ادارے آئی ایس آئی کا نام لئے بغیر ڈالا۔ یہ جیو کی منافقانہ پالیسی ہے کہ 27دسمبر سے پہلے پیپلزپارٹی کو رام کرنے کیلئے پروگرام کیاگیا، روزنامہ جنگ کراچی میں مین لیڈ لگی تھی کہ وزیرمذہبی امور حامد سعید کاظمی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کرپشن کی ہے۔ حالانکہ اسی شام میڈیا پر لائیو پروگرام میں حامدسعید کاظمی حلفیہ بیان دے رہے تھے کہ اس نے کوئی کرپشن نہیں کی ہے۔ کیا جنگ اور جیو کو اعترافِ جرم کیلئے بہت مجبور کیا جائے گا تو اپنا اخلاقی فرض ادا کرینگے؟۔ آزادئ صحافت پر قد غن کا لگانا بڑی بیمار ذہنیت کی علامت ہے، سرِ عام جھوٹ کا بکنا بذاتِ خود بڑی سزاہے مگر اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی سیاسی جماعت کی سپورٹ یا مخالفت صحافت کے مقدس پیشے سے بدترین بددیانتی کا ارتکاب ہے۔ غیرجانبداری کے بل بوتے پر ہی صحافت کی اجازت ملتی ہے۔ آج صحافیوں اور میڈیا چینلوں کی اکثریت کھل کر انحراف کے مرتکب ہیں۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کو قانون صحافت کی اجازت نہیں دیتا مگر یہاں تو آوے کا آوابگڑا ہواہے۔بازارِ صحافت کا ہر میراثی نمبر ون کے دعوے کرتانظرآتاہے۔
قوم کو عدل واعتدال والے ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کی سخت ضرورت ہے۔ عدالت اگر سابقہ ججوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے بے انصافی کرنے والوں کو سزا دے تو جرنیل کو بھی شکوہ نہیں ہوگا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ پرویز مشرف کی طرح ججوں کو بھی کٹہرے کا سامنا کرنا چاہیے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ضمیر کے مطابق ہوسکتا تھا کہ بعض ججوں کو پی سی او کے تحت ہی حلف اٹھانے پر انہی ججوں نے سزا دی جو خود ہی اس جرم میں ملوث رہے تھے۔ ضمیروں کا اختلاف بڑی رحمت ہے اور بعض اوقات ضمیروں کے اختلاف رحمت بھی بنتاہے لیکن بعض اوقات پتہ چلتا ہے کہ ضمیر اتنا آلودہ ہوچکا ہوتاہے کہ قانون کیساتھ جج بھی خود کو اندھا وکیل بنالیتاہے۔ قصور اس کا اس لئے نہیں ہوتا کہ ’’ہمارے نظام میں وکالت کی پریکٹس کرنے والوں کو بھی جج بنالیا جاتاہے‘‘۔ وکیل کا کام انصاف کرنا نہیں ہوتا بلکہ مجرم کو تحفظ دینا ہوتاہے، اعتزاز احسن اور عاصمہ جہانگیر سے معذرت کیساتھ جس کرپٹ اور جرائم پیشہ شخص کی معزز وکلاء صفائی کا ٹھیکہ اٹھالیں تواکبر الہ آبادی کے شعر کی یاد تازہ ہوگی کہ وکیل ہوا پیدا تو شیطان نے کہا لو آج میں بھی صاحبِ اولاد ہوگیا صحافت کا شعبہ ببانگِ دہل کہ رہاہے کہ ’’اس شعر کو بھول جاؤ، مجھے دیکھو، حق تویہ تھا جو ادا ہوا‘‘۔
پوری قوم اور سیاسی قیادت کو نکل کر کہہ دینا چاہیے کہ ’’ اگر انصاف کا قیام عمل میں لایا گیا تویہ خوشگوار طریقے سے تبدیلی قوم کی خوشحالی ہوگی‘‘۔ نوازشریف کہہ دے کہ مجھے عدالت سے انصاف چاہیے، زرداری بھی چور تھا اور میں نے ٹھیک کہا تھا کہ قوم کا پیسہ واپس آنا چاہیے، میں بھی چور ہوں اور اپنے بچوں اور دوستوں کے نام پر پیسہ لوٹانے کے خلاف عدالت کو میرے خلاف بھی درست فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ قوم کے احتجاج کی قیادت مجھے کرنی پڑیگی، مجھے انصاف دواور زرداری کو بھی پیسہ لوٹانے پر مجبور کردو، یہ قوم بہت پس چکی ہے، اب کہیں ہمیں پیس کر نہ رکھ دے‘‘ ۔اجمل ملک