جسٹس اعجازالاحسن کا گھر دوبار نشانہ بنا:محمد حنیف عباسی

238
0

justice-aijaz-ul-hassan-hanif-abbasi-dgispr-dr-tahir-ul-qadri-dhool-dawn-news-wusat-ullah-khan-hussain-nawaz

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کوایک نہیں دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا مگرنوازشریف و مریم نواز نے کوئی مذمت بھی جاری نہیں کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے تأثر ابھر کر سامنے آیا کہ’’ فریقین حکومت اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا یہ نتیجہ ہے‘‘۔ ایسا نہ ہو کہ جب کسی جج کے قتل کا سانحہ پیش آئے اور حالات بے قابو ہوں تو مارشل لاء لگانے کی نوبت آجائے۔ اس حقیقت کاریکارڈ موجود ہے کہ دھرنے کے دوران طاہرالقادری نے جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا تو مشاہداللہ خان بار بار یہ مؤقف دہراہا رہاتھا کہ ’’ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں خفیہ ہاتھ ملوث تھے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو ٹرینڈ لوگ دئیے گئے ۔وغیرہ‘‘۔
ایک فوجی دماغ سیاسی حکمت عملی نہیں سمجھتا ہے۔ جنرل باجوہ نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’’ بلوچستان کی سیاست میں کوئی ملوث ہو تو اس اہلکار یا افسر کا نام بتادو، ہم خبر لے لیں گے۔سیاستدان کسی سے بھی رابطہ نہ کریں ‘‘۔ مگر پھر بھی کہا گیا کہ ’’جنرل باجوہ ڈارکٹرائن کوئی نہ کوئی بات ہے‘‘۔ آخر کار ڈی جی آئی یس پی آر کو وضاحت کرنی پڑ ی کہ جنرل باجوہ کے کوئی عزائم نہیں ہیں‘‘۔ پھر نوازشریف کا بیان آیا کہ ’’ ہم تمام اداروں سے بات کرنے کو تیار ہیں‘‘۔ میاں رضاربانی نے بھی اس کی حمایت کردی تھی اور بعض نادان صحافی بھی یہ ڈھول پیٹ رہے تھے۔ اگر فوجی سمجھ کر بیان دینے کی صلاحیت رکھتا تو وضاحت کردیتا کہ ’’بھئی ہم نے واضح کیا ہے کہ ہم اپنے کام سے کام رکھیں گے۔ پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف صدر مملکت تھا، نوازشریف جیل میں تھے اور معاہدہ ہوگیا تو مسلسل جھوٹ الاپتے رہے کہ معاہدہ نہیں ہوا، پھر 5 سال کا مان لیا اور 10 سال کا انکار کیا۔اب تو تمہاری ہی حکومت ہے ، مذاکرات کس سے کیوں کرنے ہیں؟۔ پارلیمنٹ کی تقریر کسی نے زبردستی نہیں کروائی۔ عدالت میں خود جانے کا فیصلہ کیا، عدالت کو دھمکیاں دیں تو ہم اس پر شاباش نہیں دے سکتے تھے۔ عدالت نے نظریۂ ضرورت دفن کیا ہے تو اس پر خوش ہونا چاہیے تھا کہ ایکدوسرے پر الزام تراشی کے بجائے عدالت کے فیصلوں سے حقائق کی جانچھ پڑتال ہوسکے گی‘‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیک نیتی سے صلح کی کوشش کرنے کا سوچا ہوگا مگر یہ اس غلط ماحول کا نتیجہ ہے کہ میڈیا میں بار بار کہا جارہاہے کہ نوازشریف کو اداروں سے ٹکراؤ مہنگا پڑگیاہے‘‘۔ یہ انتہائی غلط مؤقف ہے۔ نوازشریف اداروں کیخلاف بیانبا زی کر رہاہے مگر اداروں نے اس کو ابھی تک سنجیدہ اس کو نہیں لیا ہے اور یہ بات غلط ہے کہ اداروں کوئی ٹکراؤ ہے۔ عدالت نے بہت ہی محتاط انداز میں صرف اقامہ پر فیصلہ دیا اگر پارلیمنٹ کی تقریر کو قطری خط سے جھوٹا قرار دیا جاتا تو سارا قصہ ختم ہوتا۔ ڈان نیوز اور معروف صحافی ، اچھی صحافت کیلئے سکہ کی حیثیت رکھنے والے وسعت اللہ خان نے بھی کہا کہ ’’ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ٹکراؤ کا نتیجہ ہے‘‘۔ حامد میر نے کہا کہ ’’ حسین نواز کو روکتارہا کہ انٹریونہ دینا اور پھر سوال کچھ کرتا، جواب میں لندن کے فلیٹ کاذکر کریتا تھا۔