جسٹس کھوسہ نے ٹھیک کہا کہ قانون گدھا ہوتاہے مگر جج گدھا نہ بنے، بشیر نور

315
0

justice-khosa-remarks-supreme-court-aitzaz-ahsan-kulsoom-nawaz-panama-leaks-case-hawa-kharij-hona-election-commission-of-pakistan

جسٹس کھوسہ کے اس فیصلے پر ن لیگ نے مٹھائیاں بھی بانٹیں تھیں۔ جن چینلوں اور صحافیوں نے نوازشریف کی وکالت کا ٹھیکہ اٹھا رکھاہے ان کی ساری محنت کا محور روزی روٹی حلال کرنے کے گرد گھومتی ہے۔ عورت ایک ماں، بہن، بیوی، بیٹی اور تمام رشتوں کے علاوہ کوئی رشتہ نہ بھی ہو تو بہت ہی قابلِ احترام ہوتی ہے۔ وہ جس کنڈیشن میں بھی ہو مرد کیلئے اس کو نگاہِ بد سے دیکھنے کا کوئی واز نہیں ہے اور اس کو خود بھی اپنے ناگفتہ بہ لباس کے باوجود یہ حق پہنچتاہے کہ کوئی نظر گاڑھ کر دیکھے تو اس کو برا لگے مگر جب دعوتِ گناہ اس کا پیشہ بن جائے تووہ عزت کھو دیتی ہے، وکالت کا پیشہ ہی ایسا ہے کہ سلمان راجہ اور اعتزاز احسن جیسے قابلِ احترام شخصیات بھی نواز شریف کے کیس میں90 کے زوایے سے گھوم جاتے ہیں، سیاست میں پارٹی بدلنے پر بھی ایسا ہوتاہے جن کا صحافی لطف اٹھاتے ہیں مگر صحافیوں کا پیشہ بالکل جداہے۔ انہیں یہ اجازت نہیں کہ جانبداری کریں۔ گدھے کو جعلی ڈگری مل سکتی ہے ، پیسوں کے زور پر گدھا منتخب ہوسکتا ہے۔وزیراعظم بن کر گدھا عدالت سے کہے کہ مجھے تم نااہل نہیں کر سکتے تو یہ ڈھینچو ڈھینچو سے ججوں کو ڈرانا ہوگا۔ عدالت نااہل قرار دے اور وہ زور دار ہوا خارج کرکے کہے کہ میرے ساتھ زیادتی ہے تو گدھا آخر گدھا ہی ہوتا ہے، قرآن نے کس کی مثال گدھے سے دی جس نے کتابیں لاد رکھی ہوں۔ الیکشن کے فارم میں نواز شریف نے تین زیرکفالت افراد کا ذکر کیا۔ کلثوم ، مریم،وہ خود۔ کیاالیکشن کمیشن میں پوچھنے کی اہلیت نہیں کہ کوئی اپنے زیرکفالت کیسے ؟۔ مریم کنواری نہیں بال بچے دار تھی۔ بچی کی شادی بھی وہیں ہوئی ۔ بھٹوسے لیکر گیلانی تک ہر وزیراعظم کی نااہلی پر بنگڑے ڈالنے والا شرم وحیاء رکھتا تو یہ نہ کہتا کہ پہلے نظریاتی نہ تھاجب جونیجو کا ساتھ نہ دیا اور جنرل ضیاء کی برسیوں پربھٹو کو انگریز کے کتے نہلانے کا کہتا۔
پنجاب کا بھنگی طالبان کی حالت دیکھنے کابل گیا۔ دیکھا دیکھی نماز پڑھنے مسجد پہنچا۔ رکوع میں زور دار ہوا خارج کردی۔ لوگ ہنس ہنس کر مسجد سے بھاگے۔ بھنگی نے امام سے پوچھا کہ وضو ٹوٹ گیا؟ امام نے کہا کہ ہاں!۔ اس نے کہا کہ ہوا بہت کم نکلی ہے۔ امام نے کہا کہ جاؤبابا وضو تمہارا ٹوٹ گیا ، اس نے بار بار اصرار کیا کہ کیا وضو ٹوٹ گیا ہے حالانکہ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ کچھ ٹی وی چینل، کچھ صحافی، کچھ وکیل اور کچھ مولانا بھی فنی نکات تلاش کررہے تھے کہ کسی طرح امام صاحب اپنی رائے بدلے، بے وضو نماز کے صحیح ہونے کا فتویٰ دے مگرامام اقرارجرم اور دھماکے کی آوازکوکیسے نظراندازکرتا؟۔
جیومیں حامد میر رجل رشید نکلا، جس نے اعتراف کیا کہ عدالت عظمیٰ نے پہلی مرتبہ خلاف توقع ٹھیک فیصلہ دیا ۔ اگر عدالت کو ڈرانے سے ججوں کو اکسانے کا کام نوازشریف نہ کرتاتو روایت برقرار رہنے کا خطرہ بدستور موجود تھا۔ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن نے نوازشریف کو نااہل کروایا مگر جیو کا کردار بھی کم نہ تھا۔پانامہ نے پاجامہ اتارا، دو ججوں نے نااہل کرکے چڈا اتارا۔ پھر جی آئی ٹی نے پیمپر اتارا لیکن جیو مسلسل چیخ رہا تھا کہ سبحان اللہ مشک وعنبر اور گلاب و چنبیلی کی خوشیو سے سارا وطن معطر ہورہاہے۔خلق خدا کو تعفن و بدبو کا سامناتھا۔ جج اپنے منہ پر کالک ملتے یا نواز شریف کے منہ پر ۔ جے آئی ٹی کے ارکان پر ن لیگ نے اتناغصہ اتار دیا کہ ججوں کواتفاقِ رائے سے وزیراعظم کے منہ پر ہی کالک ملنی پڑی۔ کس منہ سے نظر ثانی کی اپیل میں جارہے ہیں؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ وسعت اللہ خان نے فیصلہ آنے سے پہلے اچھا لطیفہ سنادیاکہ میراثی جاگیردار کے پاس گیاتومہمان میراثی اپنی اوقات سمجھ کر نیچے زمین پر بیٹھ گیا، جاگیردار نے اوپر بیٹھا دیا ۔میراثی نے کچھ پیسے کمالئے تھے، بیٹے کو بھی تعلیم دلائی تھی، جاگیردار نے کہا کہ کیسے آنا ہوا؟۔ میراثی نے کہا کہ زمانہ بدل گیا، رشتوں کا معیار بھی بدلا ہے، میرا بیٹا لکھا پڑاہے اگر اپنی بیٹی کا رشتہ دیدو۔ جاگیردار نے اپنے آدمیوں سے اس بات پر خوب پٹھائی لگوادی۔ پھر میراثی اپنی پگڑی اور دھوتی شوتی سنبھال کر جب گھر سے باہر نکلا تو واپس آکر کہنے لگا کہ کیا میں رشتے کا انکار سمجھ لوں؟۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ وزیراعظم کو کوئی نکال نہیں سکتا، اب کہا جاتا ہے کہ کوئی روک نہیں سکتا۔ بادی النظر میں ن لیگی رہنما بہت خوش ہیں۔ 90کی دہائی سے 25سال ہوگئے ہیں کہ لندن کے عالیشان فلیٹوں کا حساب مانگا جارہاہے مگراصلی کاغذات تک نہیں دکھا رہے ہیں، میڈیا پر تسلسل کیساتھ متضاد جھوٹ بولا گیا، پارلیمنٹ میں جھوٹ کا پلندہ تحریری شکل میں نوازشریف نے سنانا شروع کردیا تواس دوران خواجہ سعد رفیق بہت غصہ دکھائی دے رہا تھا، حالانکہ خوش ہونا چاہیے تھا کہ ثبوت دیا جارہاہے مگرخواجہ صاحب کو پتہ تھا کہ یہ ثبوت نہیں بھوت ہے۔ حقائق کے منافی تقریر کادفاع میڈیا میں بڑا مشکل ہوگا، عدالت میں ناممکن ہوگا۔ جے آئی ٹی کے ارکان کو اسلئے قصائی کہا جارہاتھا کہ قربانی کا چھرا صاف دکھائی دے رہاتھا۔ فوج کے سربراہ بھی دھیمے مزاج کے انتہائی شریف النفس جنرل قمر باجوہ، آئی ایس آئی کا چیف بھی شکوک وشبہات سے بالکل مبرا، سپریم کورٹ کاچیف جسٹس بھی کسی سازش کا حصہ نہیں ہوسکتے۔ اپنی اکثریت والی حکومت، عالمی قوتوں سے بھی اچھے مراسم، احتجاجی تحریک کا بھی گلوبٹوں سے مقابلہ مشکل نہ تھا، میڈیا چینل بھی بھرپور ساتھی اورمشہور اینکر پرسن بھی اپنی شہرت کی بلندیاں اپنی جان نچاور کررہے تھے مگر ایسا لگتا تھا کہ جیسے کامران، مجیب الرحمن شامی، شاہ زیب خانزادہ کتے بلے بن کر مری ہوئی بھینس کے تھنوں سے لگے چوس چوس کر عوام کو دھوکہ دیتے ہوں کہ ماشاء اللہ کیا دودھ کی نہریں ہیں، حالانکہ صحافی کا کام وکالت کرنا نہیں ہوتا ۔ جیو کے محمد جنید کے پروگرام میں عدالت کے متفقہ فیصلے پر جواب میں حامد میر نے کہا کہ حکومت کو پہلے سے پتہ تھا کہ اس کو نااہل ہونا ہے مگر سیاسی بیانات دے رہی تھی کہ ہم نااہل نہیں ہونگے، تو جنید نے ہاتھ کو اس انداز سے دکھایا کہ جیسے حامد میرنے جیو کا سار گیم خراب کردیا ہو۔ مولانا فضل الرحمن کی دلیل مثالی ہوا کرتی تھی مگر اب یہ کہنے سے بھی نہیں شرمایا کہ ’’ نوازشریف نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی اسلئے نااہل قرار دیا، اگر تنخواہ لے لیتے تو نااہل نہ ہوتے‘‘۔ حالانکہ عدالت نے کہا ’’کہ مقدمہ یہ تھا کہ خاندان کے اثاثے مشترکہ ہیںیہ ثبوت ہے باپ بیٹے کا ملازم نہیں، تنخواہ کا حساب کتاب نہیں، جو ڈھونڈرہے تھے وہ سراغ مل گیا‘‘۔ لندن فلیٹ کیا رحمن ملک کی عزت افزائی اور نیب کو سچا ثابت کرنے کیلئے 2006ء میں خرید لئے؟۔اصغر خان کیس 1990ء میں آئی ایس آئی سے پیسے لئے۔ پھر حکومت بناکر کرپشن کی ، کرپشن کی وجہ سے حکومت کا خاتمہ ہوا۔ شکرہے کہ یہ نہ کہاکہ کون شریف؟، کون حسن ، کون حسین، کون مریم، کون کلثوم؟… عدالت نے وہی کیا جو نوازشریف کو پرویز مشرف نے سعودیہ بھیجاتھااسلئے ن لیگ خوش اور شرمندہ ہے، عدالتی کاروائی نے بہتوں کی صلاحیت اور ضمیر سے پردہ اٹھا دیاہے۔ بشیر نور :سعودی عرب