طلاق اور حلالہ کے نام پر قرآن اورسنت سے انحراف

586
0

justice-saqib-nisar-halwa-khana-teen-talaq-kya-hai-halala-kya-haitalaq-se-bachne-ka-tarika

قرآن وسنت میں سورۂ بقرہ اور سورۂ طلاق کے علاوہ سورۂ نساء، احزاب اور مجادلہ وغیرہ میں طلاق کے احکام کی زبردست وضاحت ہے۔ بڑے مفتیان نے عرصہ سے چپ کی سادھ لی ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار انسانی حقوق کیلئے ان مسائل کا بھی نوٹس لیں ۔ تاکہ امت مسلمہ عذاب سے بچ جائے اور لوگوں کے گھر خراب نہ ہوں۔ مسلک حنفی میں مزارعت کی طرح حلالہ کی لعنت کا کوئی جواز نہ تھا مگر بہت بعد کے فقہاء نے اس کو کارِثواب قرار دیا اور علماء اس پر عمل پیراہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ ایک قول ہے، جیسا ہزار روپیہ۔ دوسرا فعل ہے جیسا ایک ہزار مرتبہ حلوہ کھایا۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ ہزار مرتبہ روپیہ اورنہ یہ کہا جاتا ہے کہ ہزار حلوہ کھایا ہے۔ مرتبہ کا لفظ فعل کیلئے ہی آتاہے۔ عربی، اردو کے علاوہ دنیا کی ہر زبان میں مرتبہ کا لفظ فعل کیلئے آتا ہے۔ فعل کو دہرایا جاتا ہے۔ حلوہ کیلئے ہزار مرتبہ کھانا کہا جائے تو مطلب ہوگا کہ حلوہ کھانے کا عمل ہزار مرتبہ دہرایا ۔ اسکے برعکس ہزار روپے کو ہزار مرتبہ دہرانے کا مسئلہ نہیں ۔ ایک نوٹ ہزار روپیہ ہے۔ جب کہا جائے کہ طلاق دومرتبہ ہے تو اسکاواضح مطلب ہے کہ طلاق اس صورت میں فعل ہے اور عدت کے تین مراحل میں پہلے دو مراحل پر اسکا اطلاق ہوتاہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ طلاق ایک مضبوط معاہدہ ہے۔ عورت سے مباشرت کے بعد اس کو اللہ تعالیٰ نے میثاقِ غلیظ قرار دیا ہے۔ جسکا مطلب پختہ معاہدہ ہے اور اسکے پختہ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کا کوئی معاہدہ بھی ایسا نہیں کہ جس کو توڑنے لازمی عدت یا مدت ہو۔ حیض والی عورت ہو تو پاکی کے ایام اور حیض کے3 مراحل عدت ہے ۔ حیض نہ آتا ہو تو تین ماہ کی عدت ہے اور حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش عدت ہے۔ عدت میں حنفی مسلک کے مطابق نکاح قائم رہتاہے اور قرآن میں یہ واضح ہے کہ’’ اصلاح کی شرط پر شوہر کوبیوی کے لوٹانے کا حق ہے‘‘۔( البقرہ آیت228)۔ اس سے قبل اللہ نے طلاق کا اظہار نہ کرنے پر رجوع کی مدت4ماہ رکھی ہے لیکن اگر اسکا عزم طلاق کا تھا تووہ اللہ کی پکڑ ہوگی اسلئے کہ طلاق کے اظہار کی صورت میں عدت 3ماہ تھی اور ایک ماہ کی اضافی پر مدت پر مواخذہ ہوگا۔ (البقرہ آیات225,26,27)
شوہر طلاق دے یا عورت خلع لے تو حقوق کی نوعیت جُداہے۔ سورۂ النساء کی آیات19،20اور21میں واضح ہے۔ شوہر طلاق دے اور عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو شوہر عدت میں بھی رجوع کا حق نہیں رکھتا۔ نہیں تو پھرمرد کو کئی عدتوں کا حق ہوگا اسلئے کہ شوہر ایک طلاق دیگا، عدت کے آخر میں رجوع کریگا، پھر عدت کے آخر میں طلاق دیگا تو عورت کئی عدتیں گزاریگی۔ یہ واضح ہے کہ طلاق فعل ہے ،چار ماہ تک شوہر طلاق کااظہار نہ کرے توعورت فارغ ہو گی ، اسی طرح یہ واضح ہے کہ طلاق کا اظہار کرنے کے بعد عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا فعل واقع ہوجائیگا۔ طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکناہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا۔ البقرہ آیت229۔ نبی ﷺ نے فرمایا تیسری مرتبہ چھوڑنا تیسری طلاق ہے۔تیسری طلاق کا تعلق مرحلہ وار عدت کے تیسرے مرحلے سے ہے۔ کتاب التفسیرالطلاق، کتاب الاحکام، کتاب العدت اور کتاب الطلاق میں بھی حضرت ابن عمرؓ کے واقعہ پر بخاری میں بھی عدت وطلاق کی یہی وضاحت ہے۔ قرآن اور سنت میں بالکل بھی کوئی ابہام نہیں تھا۔
شوہر طلاق دیتا ہے تو عدت میں صلح کی شرط پر لازمی انتظار کی مدت کاانتظار قرآن و سنت کے نصاب کا حصہ ہے۔ اگر میاں بیوی نے صلح واصلاح کرلی تو یہ قرآن وسنت اور صحابہ کرامؓ کے متفقہ مؤقف کے مطابق درست ہے۔ اگر تنازع برقرار رہنے اور جدائی کا خدشہ ہو تو ایک ایک رشتہ دار دونوں طرف سے مقرر کرنا قرآن کا حکم ہے اگروہ صلح چاہتے ہوں تو اللہ موافقت پیدا کردیگا۔ قرآن کے ان واضح احکام کو چھوڑ کر کوئی کسی جنسی خواہش سے بھرپور مولوی کے پاس جائیگا تو وہ حلالہ کیلئے ہر قسم کے پاپڑ بیلے گا اسلئے کہ حضرت آدم و حواء کو اللہ نے منع کیا کہ شجر کے پاس مت جاؤ، مگر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مجبور ہوگئے تھے۔انسان کے پاس 99دنبیاں ہوں تو بھی حرص میں اپنے بھائی کی ایک دنبی بھی ہتھیانا چاہتا ہے۔
ایک دفعہ طلاق کے بعد عورت صلح کیلئے آمادہ نہ ہو تو شوہر کو زبردستی رجوع کا کوئی حق نہیں ۔ ایک شخص نے ایک ساتھ تین طلاق کا اظہار کیا، پھر اس کی بیوی اور رشتہ صلح پر آمادہ نہ تھے تو شوہرنے حضرت عمرؓکے دربار میں اپنا مقدمہ اٹھایا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ’’ اللہ کی رعایت کا تم غلط فائدہ اٹھاتے ہو، آئندہ کوئی بھی ایک ساتھ تین طلاق دیگا تو اس پر تینوں طلاق نافذ کر دونگا‘‘۔ اگر مقدمہ حضرت عمرؓ کے دربار میں ایک طلاق پر بھی پیش ہوتا تو اسکا قرآن کے مطابق یہی جواب ہوتا کہ اصلاح کی شرط کے بغیر شوہرکو رجوع کا حق نہیں۔حضرت عمرؓ کا فیصلہ قرآن اور فطرت کے عین مطابق تھا۔البتہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میاں بیوی آپس میں صلح کرسکتے ہیں یا نہیں ؟۔ تو اسکا قرآن نے بار بار جواب دیا کہ عدت میں بھی کرسکتے ہیں، عدت کی تکمیل پر بھی کرسکتے ہیں اور عدت کی تکمیل کے بعد کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی رجوع کا قرآن وسنت نے راستہ نہیں روکا ہے۔ قول سے طلاق دی جائے مگر میاں بیوی عدت میں یا عدت کے بعد صلح کا فیصلہ کرلیں تو صلح نہ کرنے میں اللہ کے نام کو ڈھال بناکر رکاوٹ ڈالنا قرآن کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیات میں طلاق کے احکام اور حدود وقیود کی ابتداء آیت224سے کی اورآیت232 تک پوری تفصیل ہے۔
طلاق کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ 1: دونوں جدائی چاہتے ہوں۔جب یہ وضاحت ہو کہ دونوں آئندہ رابطہ کی کوئی چیز باقی نہیں رکھنا چاہتے تو رجوع کا نہیں بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شوہر عورت کو اپنی مرضی سے نکاح کی اجازت نہیں دیتااسلئے اللہ نے واضح کیا کہ طلاق کے بعد عورت پہلے کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔ اس صورت کا ذکر بقرہ آیت229 کے بعد230میں متصل ہے۔ فقہ حنفی کے اصول کیمطابق یہ طلاق اسی صورت کیساتھ خاص ہے۔ (نورالانوار:ملاجیونؒ ) علامہ ابن قیمؒ نے زادالمعاد میں حضرت ابن عباسؓ کے حوالہ سے یہی لکھا ہے۔قرآن کا سیاق وسباق دیکھ لیں۔
2: شوہر نے طلاق دی اور بیوی علیحدگی نہ چاہتی ہو، اس صورت میں عدت کی تکمیل پر بھی رجوع ہوسکتا ہے جسکا ذکر البقرہ آیت231میں ہے۔کوئی مفتی و عالم اور عام آدمی وتعلیم یافتہ ان آیات کو دیکھ لے ان پڑھ کو بھی بات سمجھ میں آئے گی۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں مدارس اورسکول ، کالج اور یونیورسٹیاں نہیں تھے۔
3:بیوی نے خلع لیا ہو اور واپس آنا چاہتی ہوتو بھی رجوع ہوسکتاہے جس کیلئے اللہ نے واضح طور سے فرمایا ہے کہ کوئی طبقہ بھی رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ وہ علماء ومفتیان ہوں، رشتہ دار ہوں یا حاکم ہوں۔ آیت232۔ بخاری میں رفاعہؓ کی بیوی کے واقعہ کو مولانا سلیم اللہ خانؒ نے خبر واحد قرار دیا ۔ طلاق مرحلہ وار دی تھی اور کسی اور سے نکاح بھی کرچکی تھی، قرآنی آیات سے متصادم حدیث نہیں۔