پاکستان میں پانی کے بحران کا ہنگامی بنیاد پر آسان حل

437
0

kalabagh-dam-tharparkar-karachi-rivers-of-pakistan-bhains-colony-karachi-Jam-Kando-Karachi

مدیر مسؤل نوشتۂ دیوار نادرشاہ نے کہا چیف جسٹس ثاقب نثارنے پانی کا مسئلہ تو اٹھادیا، اسکے حل کیلئے معروضی حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سندھ کویہ خوف ہے کہ پنجاب کالاباغ ڈیم سے صحراؤں کو آباد کرکے سندھ کو پانی سے محروم کریگا اسلئے اسے زندگی موت کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ غیراسلامی جاگیرداری نظام ختم کیا جائے، صوبہ سندھ میں دریا کے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، جس سے پانی دریامیں رُکے۔گھوٹکی سے ٹھٹھہ تک مختلف مقامات پر چھوٹے بڑے ڈیم بنائیں اور کراچی وتھرپارکر کیلئے خصوصًا اور سندھ کی باقی آبادی کیلئے بالعموم نہری نظام بنائیں ، یہ آسان اور سستا ہے۔ پہاڑی ومیدانی علاقے کے بچے ندی نالوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے پانی کی سطح بلندکرتے ہیں، جب پانی نہ ہو تو یہ پانی پینے اور مویشی کے کام آتاہے۔ ندی یا پہاڑیوں سے پتھر اٹھا کر لوہے کے جال سے سہارا دیا جائے۔ دریا میں ہمہ وقت وافر پانی کی گنجائش ہے اوراسکا فائدہ اُٹھایاجائے تو زمین کے اندر بھی پانی کی سطح بلند اور کھاری کی جگہ میٹھا پانی آجائیگا اور چھوٹے ڈیموں پر بجلی کے منصوبے بھی لگ سکتے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کی زمینوں پر سرکاری محکموں سے مل کر قبضہ کیا جارہاہے ۔کراچی کا پانی بھی چھین لیا۔اگر حیدر آباد کراچی کی راہ میں ڈیم بنا تو ملیراور لیاری ندیاں پانی سے مالامال ہوں گی۔
کراچی میں جہاں بارش کے پانی سے ذخیرہ بناکر زیرِ زمین پانی کا بندوبست کیا جاتا تھا اسکا راستہ بند کردیا گیا۔ جس کی ایک مثال بھینس کالونی موڑ سے آگے جام کنڈو راستہ میں سورتی کمپنی کے پاس خشک ندی ہے۔ جب سندھ وکراچی کو بڑی مقدار میں پانی ملے تو کالاباغ ڈیم، دریائے سندھ اور باقی دریاؤں سے پانی کے ذخائر کا موقع ملے گا۔ پانی وبجلی کا محکمہ وفاقی ہے ،وفاق سندھ سے ابتداء کرے تو مسائل کے حل میں مشکل کا سامنا نہ ہوگا۔ بلوچستان تربت بلیدی میں MPA نے سرکاری فنڈز سے بارش کے پانی سے کئی ڈیم بنائے، علاقہ سرسبزوشاداب کردیا جو قابلِ تقلیدتھا مگر ہماری سیاست، صحافت ریاست ، عدالت کے دھندے اور لگن جدا ہیں ۔ سندھ کبھی کربلا،کبھی طوفان نوح کا منظر پیش کرتاہے مگر وفاق کو صرف پنجاب کی فکر اسلئے ہے کہ مریم نواز اور ن لیگیوں نے صحرائیں خرید لی ہیں۔ کراچی میں پانی کے مسئلہ پر بلاول بھٹو پر لیاری میں پتھراؤ ہوا، سیاستدان یہ اڑا رہے ہیں کہ رینجرز نے پانی کا مسئلہ بنایا ہے، زرعی زمین کے کنوؤں سے بھی میٹھا پانی ٹینکروں کو نہیں اٹھانے دیا جارہا ہے ۔ ایسا تو یزید ، چنگیز ، فرعون اور نمرود نے بھی نہ کیا ۔ درندوں کا پیٹ بھرتا ہے مگر حکمران کا پیسے سے نہیں ۔

Nadir-Shah-Map-River