کھرل عباسیاں ضلع باغ کشمیر کی لڑکی کا افسوسناک حال اور حقیقی اسلامی تعلیم

441
0

کشمیر (نمائندہ خصوصی)محمد حنیف عباسی کو کشمیر سے خصوصی رپورٹ ملی ہے کہ ایک گھرانہ کھرل عباسیاں میں ہے۔ چچا نے یتیم بھتیجے کو گھر میں پالا ۔اپنی لڑکی سے اسکی شادی کرادی اور تین بچوں ایک 7سالہ بیٹا ، دوسرا 5سالہ بیٹا اور تیسری 2سالہ بچی کی ماں گذشتہ رمضان گھر سے بھاگی اور راولپنڈی کے دار الامان میں پناہ لی۔ باپ پولیس پر ڈیڑھ دو لاکھ کا خرچہ کرکے لڑکی کو گرفتار کرکے گھر واپس لایا۔ لڑکی کا اصرار ہے کہ مجھے شوہر کیساتھ نہیں رہنا۔ اور لڑکا شوہر بھی کہتا ہے کہ مجھے لڑکی نہیں چاہئے مگر طلاق بھی نہیں دیتا۔ لڑکی کا باپ لڑکے کو طلاق کے عوض دو لاکھ دینے کو بھی تیار ہے لیکن لڑکے کا اصرار ہے کہ طلاق کیلئے اسکو 5لاکھ روپیہ دینے ہونگے۔ لڑکی کہتی ہے کہ مجھے حق مہر بھی نہیں دیا اور مجھ پر کسی طرح خرچہ بھی نہیں کیا، میرے گھر میں رہتا تھا تو طلاق کیلئے کس چیزکی رقم دیں؟۔
یہ ایک اس لڑکی کی کہانی نہیں بلکہ ہزاروں کا معاملہ ہے۔ ایک اور خاتون نے اپنی بہو کو بیٹے سے طلاق دلوادی ، اس کا حق مہر 2لاکھ مقرر کیا تھا لیکن حق مہر کی رقم بھی نہیں دی۔ اس خاتون پر ایک انجانی بلا نازل ہوئی ہے جو کچھ بول اور بتانہیں سکتی، صرف بیٹھ کر رو رو کر اپنا غم کھا سکتی ہے۔ کیا انسانوں نے حقوق نسواں کیلئے عذاب کا انتظار کرنا ہے؟۔ یا وہ اللہ کی طرف سے خلع اور حق مہر کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کمزوروں پر رحم کرینگے؟۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ زمین والوں پررحم کرو ، آسمان والا تم پر رحم کریگا۔ بہت بڑی بات یہ ہے کہ نوشتہ دیوار کی قارئین خواتین نے مزارعت اور وراثت کے مسئلے پر اپنے مفاد کو قربان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ انکے ایمان کی علامت اور خلوص کی دلیل ہے۔ مذہبی لوگ حقوق العباد اور اسلامی احکامات کی پامالی کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کیلئے دریائے شرم کی گہرائی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ اللہ بچائے۔