قرآنی آیات کی روح کو سمجھنے کیلئے پرویز کی غلط فکر تھی: عتیق گیلانی کی ایک تحریر

888
0

اقراء باسم ربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقراء و ربک الاکرم الذی:پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو علق سے پید اکیا، پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے عزت بخشی قلم سے سکھاکر‘‘۔لقنا الانسان من نطفۃ امشاج’’ہم نے انسان کو مشترکہ(والدین) نطفہ سے پیدا کیا‘‘۔ ونفس ما سواہا، فالھمہا فجروھا و تقوٰھا ’’ اور جان کی قسم اور جو اسکو ٹھیک کیا پھر اسمیں اسکی بدونیک خواہشات ڈالیں‘‘۔ نیک وبدخواہش بھی علق ہے کہ حلال وحرام بچے اسی کا نتیجہ ہیں۔ فرمایاقد افلح من زکٰھاوقدخاب من دسٰھا:بیشک فلاح پائی جس نے اسے پاک کیا، نامراد ہوا جس نے اسے خاکسترکیا۔تزکیہ وطہارت اور اسکے برعکس فجور کے ذریعے گند نفسانی اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
قتل الانسان مااکفرہ من ای شئی خلقہ من نطفۃ ’’ مارا جائے انسان کیوں کر ناشکری کرتاہے،کس چیز سے پیدا کیا ؟، نطفہ سے!‘‘۔ خلق من ماء دافق یخرج من بین الصلب والترائب ’’ پیدا کیا گیاکودتے پانی سے جو پیٹھ اور سینے کے بیچ سے نکلتاہے‘‘۔ علق کے معنی ’’لٹکاہوا‘‘ ۔ تخلیق کاہرہر مرحلہ علق ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہؒ نے لکھا کہ ’’جرمن ڈاکٹر نے جدید تحقیق کی کہ باپ کا سپرم ماں کی بچہ دانی سے لٹک جاتا ہے۔قرآن نے 14سو سال پہلے علق قرار دیا اور وہ اس بات پر مسلمان ہوگیا‘‘ جونک اور ہرمعلق چیز کو علق کہتے ہیں۔ مرداور عورت کی بیماری سے تخلیق کا مادہ بہتاہے۔ حمل گرتا ہے۔ جہالت یا اعلیٰ تمدن میں انسان کو اپنی اوقات یاد دلانے کی بات ہو تو یہ موٹی بات سمجھنا آسان ہے کہ انسان کو علق کی پیداوار کیوں کہا؟۔ عضوء تناسل بھی علق ہے۔دیہاتی روایات میں کھلے ڈھلے الفاظ کا بے دریغ استعمال ہوتاہے ،قرآن نے تہذیب وعلم کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے۔ ابولہب وابوجہل کو قرآن کی بات سمجھ میں آئی کہ کھلے مہذب الفاظ میں قرآن نے انسان کو سمجھایاہے ۔ تکبر نے ابلیس کو عزازیل سے گرا کر شیطان بنا دیا۔قلم کے ذریعے عزت دینے کیساتھ ساتھ انسان کواپنی پیدائش کی اوقات بھی یاد دلائی گئی ہے ۔
جرمنی میں قادیانی ٹیکسی ڈرائیور سوال جواب پر ہمیں اپنے مرکز لے گیا، فرینکفرٹ میں مبلغ سے جواب نہ بنا تو کالون کے مبلغ کا پتہ بتادیا۔ مذہب کی شکل میں دھندہ ہے، مولوی تو ہر جگہ اللہ معاف کرے اب ملازم بن کر رہ گیاہے الاماشاء اللہ۔ میں نے قادیانی مبلغ سے کہا کہ ’’ مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا: میں مریم تھی، اللہ نے مجھ سے مباشرت کی تو خود سے پیداہوکر عیسیٰ بن گیا۔کیا مرزاکایہ مشاہدہ جرمنی میں لکھ کر سائن بورڈ لگالوگے؟۔ جس پر مبلغ نے کہا کہ ’’قرآن میں نطفہ کی پیدا وارکہاگیا تو کیا ہم اس کا بورڈ لگاسکتے ہیں؟‘‘ ۔ میں نے کہاکہ بالکل بہت شوق سے لگائیں۔ سب ہی کو اعتراف ہوگا کہ واقعی سچ ہے،قرآن نے بالکل درست کہا، تکبر ہمیں زیب نہیں دیتا‘‘۔
غلام احمد پرویز نے پڑھا لکھا طبقہ احادیث سے بدظن کردیاہے مگر علماء نے معقول جواب کے بجائے فتویٰ داغا، یہ ہتھیار کارگر ہوتا تو علماء ایکدوسرے پر لگاتے ہیں۔ دلیل کا جواب دینا چاہیے، امام ابوحنیفہؒ نے حدیث سے گریز کیا۔پرویز نے ان کوقرآن کیخلاف سازش قرار دیا، کہا کہ ’’ نبیﷺ امی (ان پڑھ) نہیں پڑھے لکھے تھے، اللہ نے فرمایا کہ اقراء پڑھ۔ ان پڑھ کیلئے یہ خطاب نہیں ہوسکتا۔ بخاری کی کہانی غلط ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ماانا بقاری میں پڑھ نہیں سکتا ۔ جبرئیل نے سینے سے لگایا تو پڑھنا آیا، گھبراہٹ ہوئی، حضرت خدیجہؓ نے دلاسہ دیا، چچا ورقہ بن نوفل کے پاس لیکر گئیں، اس نے نبوت کی تصدیق کی۔یہ یہودکی سازش تھی تاکہ یہ ثابت ہو کہ نبیﷺ نے ورقہ سے سیکھااور قرآن الہامی کتاب نہیں۔اللہ نے فرمایا: لنثبت بہ فوادک تاکہ قرآن سے تیرا دل ثابت قدم ہو۔ وحی گھبراہٹ کا ذریعہ نہ تھا، یہ کیا بات ہوئی کہ ایک خاتون نبیﷺ کو دلاسہ دے رہی تھیں ۔چچا کے پاس لے گئیں؟‘‘۔امام ابوحنیفہؒ نے حدیث کو آیت سے متصادم کہاتو بہت احتیاط برتی ، پرویز نے حدیث نہیں قرآن میں بھی من مانی سے دریغ نہیں کیا۔
پرویزی لکھا پڑھا طبقہ علماء کے طلبہ ، صوفیاء کے مریداور قادیانی چیلہ سے بھی زیادہ ہٹ دھرم بنتاہے۔ پرویز کو اسلئے مانا جاتاہے کہ وہ قرآن کا داعی تھا تو اگر اسکی بات غلط ہواور پھر بھی اس پر ڈٹا جائے تویہ ہٹ دھری ہے۔ اللہ نے اقراء ضرور فرمایا اور اس کا معنی قلم کے ذریعے لکھی تحریر پڑھنے کے ہیں لیکن سوال ہے کہ جبرئیل قرآن کو کس چیز پر لکھ کر لائے ؟۔ کوئی تختہ سیاہ تھا؟، کاغذ کا ٹکڑا تھا؟، نوشتۂ دیوار تھا؟، لوح وقلم کونسے تھے؟، نزل علی قلبک قرآن کو تیرے دل پر نازل کیا۔ سر کی آنکھ سے بھی پڑھناہے اوردل کی آنکھ سے بھی پڑھنا ہے، روایت میں دل کی آنکھ سے پڑھنا مراد ہے۔ ان الاعمیٰ عمی القلب ’’ اصل اندھا دل کا اندھا ہوتاہے‘‘۔ یہی ہٹ دھرمی ہے۔ اگرنبیﷺ کے دل پر قرآن نازل نہیں ہوا، تو ورقہ بن نے اوراق پڑھنے سکھادئیے؟ ۔
نبیﷺ کو جبرئیل نے سینے سے لگایا تو دل سے دل کو راہ ہوتی ہے، اللہ نے قرآن کو جبرئیل کی طرف بھی منسوب کیا: انہ لقول رسول کریم بیشک یہ عزت والے فرشتے کی بات ہے۔ پہلی وحی سے گھبراہٹ کی بات ہو تو اللہ نے فرمایا: لو انزلنا ھٰذا القراٰن علی جبل لرئیتہ خاشعًا متصدعًا من خشےۃ اللہ ’’ اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے تو ہیبت کے مارے ریزہ ریزہ ہوجاتا‘‘۔ یہ بنیﷺ کا ظرف تھا جو برداشت کرگیا۔ موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے آگ کی شکل میں اپنا جلوہ دکھایا ، پھر بتایا کہ میں اللہ ہوں۔پھر اپنے ہاتھ کے عصا سے گھبراگئے۔اپنا جلوہ دکھایا تو موسیٰ بیہوش گرپڑے۔ دنیا نے اگر ترقی کرلی تو دل کی بات دل کی آنکھوں سے بھی پڑھنے کامعاملہ سمجھ میں آئیگا۔ نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ دنیا اس قدر ترقی کریگی کہ بیوی کے بوٹ کے تسمہ پر کوئی چیز چپکا دی جائے گی جس سے شام کو سارا ریکارڈ دکھا جائے گا‘‘۔ صحاح ستہ کی ایسی حدیث کو ضعیف قرار دیا گیا لیکن اب اس کا سمجھنا آسان ہوگیاہے۔ پرویزی کھل کر پلٹ کر آجائیں!۔
نبیﷺ پر وحی کے نزول سے پہلی مرتبہ گھبراہٹ طاری ہوئی، زوجہ محترمہؓ نے دلاسہ دیا تو قرآن نے بیوی کو تسکین کا ذریعہ کہا، یہ صرف جنسی تسکین نہیں بلکہ ہر مشکل وقت میں ایکدسرے کا دکھ درد بانٹتا ہے، کوئی حادثے کا شکار ہو اور دوسرا دلاسہ دے تو انہونی بات نہیں۔پرویز نے مذہبی جذبہ سے عوام کو متأثرکیا۔ رسول ﷺ کا ناموس حساس معاملہ ہے۔احادیث صحیحہ میں سورۂ نور کی تفسیریہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان لگا، اللہ نے صفائی پیش کردی۔ قرآن و حدیث اور سیرت کی کتابوں کے بالکل برعکس پرویز نے لکھا کہ ’’ حضرت عائشہؓ پر نہیں کسی اور خاتون پر بہتان لگا، یہ روافض کی سازش تھی تاکہ بہتان کی راہ ہموار ہو، حضرت عائشہؓ پر بہتان کی سزا قتل ہے‘‘۔ احادیث کا ذخیرہ جھوٹ تھایا حضرت عائشہؓ پر بہتان کی سزا قتل نہیں تواس سے بڑھ کرتوہینِ رسالت کیاتھا؟۔ مذہبی طبقہ اور پرویزی مل بیٹھ کر مسئلہ حل کریں۔ افسوس کہ بریلوی مکتبہ فکرکے شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی نے سورۂ نور کی تفسیر میں جہاں حضرت عائشہؓ پر بہتان کا ذکر کیا، وہاں حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کے واقعہ کی تفصیل لکھ دی جسکا قارئین پر غلط اثرپڑ سکتا ہے۔
یہ نبیﷺ کا ظرف تھا کہ اپنی زوجہ محترمہؓ پر بہتان برداشت کیا۔ کسی اور کی زوجہ پر بہتان لگتا تو برداشت نہ کر تا۔ اللہ نے عظیم بہتان کی سزا سے ’’اسٹیٹس کو‘‘ کا خاتمہ کردیا۔ غریب ا امیر، کمزور طاقتور اور بڑے چھوٹے کی عزت کیلئے بہتان پرایک سزا مقررفرمائی۔ طاقتور طبقات نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ہوتاہے۔ پرویز مشرف کا قریبی ساتھی عمر اصغر خان کے بارے میں شواہد کہتے کہ وہ خود کشی نہیں کرسکتا تھا مگر شاہد کسی طاقتور کی کچار میں ہاتھ پڑگیا تھا۔ بہتان کمزوروں پر لگتے ہیں۔ عزتیں کمزوروں کی لوٹ لی جاتی ہیں ۔ناک، کان، آنکھ اور دانت کمزوروں کے ہوں تو خیر نہ ہوگی لیکن طاقتوروں کا کون کیا بگاڑ سکتاہے؟۔ ایک صحابیؓ کے بیٹے نے دوسرے کا دنت توڑ دیا۔ بدلے کی بات پر قسم کھالی کہ اپنے بیٹے کا دانت اسکے بیٹے کے بدلے نہ توڑنے دونگا۔ نبیﷺ نے بالکل بھی رعایت نہ دینی تھی لیکن مظلوم نے خود ہی معاف کردیا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ بعض لوگ اللہ کو اتنے پسند ہوتے ہیں کہ اگر قسم کھالیں تو اللہ اس کو پورا کردیتاہے‘‘۔(بخاری)صحابہؓ کی عقیدت اس حدیث میں بھی ہے، لیکن اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ اللہ کے مقبول ترین بندے نے بھی اپنی حیثیت کا لحاظ کیا۔ صحابہؓ پر تو انگلی اٹھانے والے بھی ہیں اور احادیث کی سازش قرار دینے والا طبقہ بھی ہے مگر قرآن کو توسب مانتے ہیں،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے گو غلطی سے مگر قتل تو کیا تھا؟، قانون کی بالادستی میں زبردستی نہ ہو تو رضاکارانہ طور سے خود کو پیش کرنا بہت مشکل کام ہے۔
نبیﷺ نے طائف میں اکیلے پتھر کھائے ،قوم کو معاف کردیا۔ یہودیہ کا کچرا ڈالنا برداشت کیا ، پھر بیمار پرسی کیلئے بھی تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہؓ پر بہتان برداشت کرلیا ، یہ قربانیاں تو امت کے کمزور، غریب، بے بس اور بے سہارا طبقات کیلئے دی تھیں۔ نبیﷺ کو عظیم الشان مقام سے نوازا گیا ، بہتان کی سزا عام خواتین کے برابر اور جرم پر درگزر نہیں بلکہ ڈبل سزا کا حکم دیا۔ ہمارا اسلام انسانیت کیلئے بہترین نمونہ ہے لیکن مولوی اپنے دھندے میں مشغول ہیں۔اسلامی نظریاتی کونسل نے بیان دیا ہے کہ ’’یہ جناح کا نہیں یحییٰ خان کا پاکستان ہے۔ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کاہے کرایہ کے مجاہدین پالے اور اب کو ان کو دہشت قرار دیکر مارا جارہاہے۔ یہاں کرائے کے مولوی، صحافی اور سیاستدان مل جاتے ہیں‘‘۔ بالکل سو فیصد درست بات ہے لیکن کیا یہ وہ اسلام ہے جس کو اللہ نے نبیﷺ پرنازل کیا تھا، یا پھر علماء کی اسٹیبلشمنٹ کا بنایا ہوا مذہب ہے، اس پر بھی غور کرو‘‘۔ پانامہ کیس نوازشریف پر چلا، مروڑ مولوی کے پیٹ میں کیوں اُٹھتا ہے۔ فتاویٰ عالمگیری کے شکار بڑوں کی سزاتصور نہیں کرسکتے ، مغلوں سے انگریزنے اقتدارلیا، اب انگریزی نظام کا اسٹیٹس کوچل رہاہے، جس کا خاتمہ انشاء اللہ پاکستان سے عالمی نظامِ خلافت سے ہوگا۔ پرویزی مکتبۂ فکر کے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ غلام احمد پرویز نے احادیث سے زیادہ قرآن کی آیات کو دھچکا پہنچانے کی کوشش کی ۔بطور مثال حضرت مریمؑ نے کہا کہ مجھے اولاد کی خبر دی جبکہ لم یمسسنی بشر مجھے کسی بشر نے چھوا نہیں؟، اس طرح کے واقعات میں پرویز کو جھوٹا سمجھنا ہوگا یا قرآن کو، کیونکہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔قرآن کی بہترین تفسیراحادیث صحیحہ ہیں، اللہ نے فرمایا: لایمسہ الا المطہروں ’’ قرآن کو نہیں چھوسکتے مگر پاکباز‘‘ ڈاکٹر اسرار ؒ نے قرآن کی خدمت کی مگرغلط تفسیر کی تشہیر کی کہ’’ قرآن لوح محفوظ میں ہے اور یہ اسکی فوٹو کاپی ہے، جسکو ناپاک بھی چھو سکتے ہیں‘‘ حالانکہ لایمسہ سے مرادہاتھ لگانا نہیں عمل ہے ۔عورت سے مباشرت کیلئے لٰمستم النساء ہے۔ جیسے الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملوہا سے مراد توراۃ کو لادنا نہ تھا بلکہ عمل تھا ، اس طرح قرآن میں لایمسہ سے عمل کرنا مراد ہے،یہ تفسیر بخاری میں ہے۔ ڈاکٹرا سرار اور مفتی تقی عثمانی پر دباؤپڑا تو غلطی سے اعلانیہ رجوع کرنے پر مجبور ہوگئے۔
قرآن وحدیث میں طلاق کا مسئلہ واضح ہے۔ عبداللہ بن عمرؓ نے بیوی کو حیض میں طلاق دی توحضرت عمرؓؓ نے یہ ماجراء نبیﷺ کو سنادیا۔ نبیﷺ غضبناک ہوئے اور پھر سمجھادیا کہ پاکی کے دِنوں میں ہاتھ لگائے بغیر پاس رکھو، یہاں تک کہ حیض آئے۔ پھر پاکی کے دنوں میں پاس رکھو، یہاں تک کہ حیض آئے پھر پاکی کے دنوں میں چاہو تو رجوع کرلو اور چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دیدو، یہ ہے وہ عدت جس میں اللہ نے طلاق کا حکم دیا ہے۔ کتاب التفسیر سورۂ طلاق،بخاری۔صحیح بخاری کتاب الاحکام، کتاب العدت اور کتاب الطلاق میں بھی یہ ہے۔ مسلم میں حسن بصریؒ کی روایت ہے کہ ایک مستند شخص سے سنا کہ ابن عمرؓ نے ایک ساتھ تین طلاقیں دی تھیں۔ 20سال تک کوئی دوسرا شخص نہ ملا، جس نے تین طلاق کی ترید کی ہو، پھر زیادہ مستندشخص نے بتایاکہ ایک طلاق دی تھی، بہر حال اس حدیث میں تین مرتبہ طلاق کا تعلق 3طہرو حیض ہی قرآن کی تفسیر ہے۔
اللہ نے فرمایا :المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروء ’’طلاق والیاں تین مرحلوں تک انتظار کریں‘‘ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوااصلاحا ’’ اور انکے شوہر ہی اس مدت میں صلح کی شرط پران کو لوٹانے کا حق رکھتے ہیں‘‘۔ اگر حمل ہو تو پھر انتظار کی یہ عدت تین مراحل کی نہیں بلکہ بچے کی پیدائش تک انتظار کرنا پڑیگا ۔ آیت میں خواتین کے حق کا تحفظ ہے کہ عدت کے بعد وہ شادی کرسکتی ہیں ، یہ نہیں کہ آدھا بچہ باہر آیا تو رجوع کی گنجائش ختم ہوگی جیسا فتاویٰ شامی ہے اور مفتی اس پر فتویٰ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اللہ نے اگلی آیت میں فرمایا الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحساناُس سے کیا مرادہے؟،جواب یہ ہے کہ اس سوال کی گنجائش بالکل بھی نہ تھی اسلئے کہ اسے پہلے عدت کی دوصورتوں کا ذکر ہے ایک حمل اور دوسری طہرو حیض کے تین مرحلے۔ ظاہر ہے حمل میں دومرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ رجوع یا چھوڑنے کی صورت نہیں بنتی تو مراد تین مرحلوں کی صورت ہے۔حضرت ابن عمرؓ نے سمجھنے میں غلطی کی تو نبیﷺ غضبناک اسلئے ہوئے کہ مسئلہ بہت واضح تھا۔ جب نبیﷺ نے وضاحت کی کہ طہروحیض کے تین مرحلے مراد ہیں تو پھر مزید وضاحت کی گنجائش تلاش کرنے میں قرآن کیساتھ حدیث کابھی تومذاق ہے،لیکن غلط فہمی مسئلہ نہیں، اللہ دین کی سمجھ دے۔
صحابیؓ نے پوچھا: یارسول اللہ!؛ قرآن میں تیسری طلاق کا ذکرکہاں ہے ؟۔ نبیﷺ نے یہ نہ فرمایا : فان طلقہا فلاتحل لہ ’’اگر پھرطلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں‘‘ تیسری طلاق ہے بلکہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ الطلاق مرتٰن کے بعد تسریح باحسان احسان کیساتھ رخصتی تیسری طلاق ہے‘‘یہ مزید وضاحت ہے کہ تیسری طلاق سے کیا مراد ہے؟۔
سوال ہے کہ مرحلہ وار تین طہرو حیض میں تین مرتبہ طلاق کا مسئلہ سمجھنا مشکل نہیں، تین مرتبہ طلاق بس طہرو حیض کی صورت میں ہونگے۔ پھر رجوع کی کیا صورت ہے؟۔ جواب یہ ہے کہ پہلے مرحلہ میں رجوع ، دوسرے مرحلے میں رجوع اور تیسرے مرحلے میں تیسری مرتبہ طلاق دیدی توبھی رجوع ہے۔ نبیﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تیسری مرتبہ طلاق دی توپھر رجوع نہیں ہوسکتا، بلکہ یہ سمجھایا کہ تیسرے مرحلے میں رجوع اور طلاق میں سے کوئی بھی صورت کا تعلق طلاق کے عمل سے ہے۔ اگر نبیﷺ یہ وضاحت بھی کرتے کہ تیسری مرتبہ طلاق دی تو رجوع نہیں ہوسکتا تو بھی امام ابوحنیفہؒ کے مسلک کے ترازو سے قرآن و حدیث کو دیکھاجاتا، آیت ہے کہ ’’شوہرکواس مدت میں رجوع کا صلح کی شرط پر حق ہے‘‘۔ اور حدیث ہوتی کہ ’’تیسرے مرحلے میں رجوع کا حق ختم ہے‘‘ ۔ تو قرآن سے حدیث کو متصادم قرار دیکر ترک کیا جاتا۔حدیث میں تیسرے مرحلہ میں رکھنا یا چھوڑنا واضح ہے اور یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ نبیﷺ نے ابن عمرؓ کے کی طرف سے حیض میں طلاق کے باوجود اس کو شمار نہیں کیا بلکہ طلاق کو واضح طور سے طہرو حیض کا عمل قرار دیا، ورنہ تو چاہیے تھا کہ آپﷺ فرماتے کہ ایک مرتبہ کی طلاق توواقع ہوگئی، اب آئندہ دو مرتبہ کی رہ گئی مگر نبیﷺ نے اس کو شمار نہ کیا۔طلاق کو شمار کرنے کا تعلق عدت کیساتھ ہی ہے۔ روزے میں دن رات کی طرح نبیﷺ نے طہرو حیض سے تین مرتبہ عدت و طلاق کا تصوربتادیا۔
قرآن میں بھرپور وضاحت ہے اذا طلقتم’’ جب عورتوں کو طلاق دو تو عدت کیلئے دو، ۔۔۔ عدت کا احاطہ کرکے شمار کرو، انکو انکے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔۔۔ ہوسکتاہے کہ اللہ صلح کی راہ نکال دے۔ جب تم طلاق دے چکو اور انکی عدت پوری ہوچکی تو معروف طریقے سے رکھو یا معروف طریقے سے الگ کردواور دو عادل گواہ بھی بنالو۔ ۔۔۔ جو اللہ سے ڈرا، اس کیلئے اللہ راہ بنادیگا‘‘( سورۂ طلاق)۔علماء کو ترجمہ وتفسیر میں بھی ظاہری الفاظ سے ہٹ کر چلنا پڑا ہے۔
سوال یہ ہے کہ مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کی عدت کے بعد رجوع کی گنجائش ہے؟۔ جواب یہ ہے کہ بالکل ہے! ، سورۂ طلاق دیکھ لو۔ مرحلہ وار تین طلاق پر رجوع کی بھرپور وضاحت ہے۔ رکانہؓ کے والد نے رکانہؓ کی والدہ کو اس طرح سے طلاق دی۔ پھردوسری خاتون سے شادی کرلی، اس نے شکایت کی کہ وہ نامرد ہے۔ نبیﷺ نے اسکو چھوڑنے کا حکم دیا اور حضرت رکانہؓ کے والد کو حضرت رکانہؓ کی والدہ سے رجوع کا فرمایا، انہوں نے عرض کیا :وہ تو تین طلاق دے چکا۔ نبیﷺ نے فرمایا: مجھے معلوم ہے اور سورۂ طلاق کی آیت پڑھ کر حوالہ دیا۔ (ابوداؤد)۔طلاق میں علماء نے بڑا مغالطہ کھایا، جیسے روزہ دن کے بجائے رات کو ٹھہرایا جائے بلکہ اس سے زیادہ کیونکہ پھر رات میں ایک روزہ رکھا جاسکتا ۔ الفاظ کی ملکیت کا تصور دیکر صرف قرآن و سنت کا مذاق نہیں اڑایا بلکہ دنیا میں سب سے بڑا عجوبہ کی بنیاد رکھی، لکھا کہ ایک طلاق کے بعد بیوی کسی سے نکاح کرلے تو پہلا شوہر بدستور بقیہ2طلاق کا مالک ہوگا۔ فقہ میں یہ صورتیں ہیں1:پہلی و تیسری طلاق واقع بیچ والی باقی 2:پہلی و تیسری طلاق باقی بیچ والی واقع۔ 3: پہلی دو طلاقیں باقی اور تیسری واقع۔ بخاری میں ہے کہ’’ بیوی کو حرام کہنا کھانے پینے کی طرح نہیں بلکہ تیسری طلاق ہے‘‘، حالانکہ سورۂ تحریم میں حرام اور مجادلہ میں ماں کہنے کا مسئلہ واضح تھا۔ علماء مل بیٹھ کر معاملہ سلجھائیں تو انقلاب آئیگا۔
امام ابوحنیفہؒ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا کہ یہ خرافات ان کی جانب منسوب ہونگے۔ یہ بعد کے لوگوں نے اپنی اپنی سمجھ اور ظرف کے مطابق کیا کیا مسائل کھڑے کردئیے ، یہ مسلک کیلئے نالائق وکالتوں کا شاخسانہ ہے۔ قرآن و سنت میں واضح ہے کہ دومرتبہ طلاق کا تعلق طہروحیض کے پہلے دو مرحلوں سے ہے اور نکاح کے بعد ہاتھ لگائے بغیر طلاق دی تو پھر دو تین مرتبہ طلاق کا تصور ہی ختم ہوجاتاہے۔ عورت کی عدت میں شوہر کیلئے مشروط رجوع کا حق ہے ۔اصولِ فقہ کی کتابوں کا اکثر مواد ہاتھ لگانے سے پہلے کی تین طلاقوں اور انکی عجیب و غریب غیرفطری اور غیر شرعی صورتوں سے بھراہواہے۔ بڑے علماء کرام اور مفتیانِ عظام خود غرض بن کر نہ سوچین یہ عزتوں کا مسئلہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ عدت میں اور تکمیلِ عدت کے بعد رجوع ہے تو آیت کا مطلب کیا ہے کہ ’’فان طلقہا فلا تحل لہ اگر پھر اسکو طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہ ہوگی ۔۔۔‘‘۔ جواب یہ ہے کہ آیت سے متصل یہ صورت واضح ہے جس میں میاں بیوی اور فیصلہ کرنے والے باہوش وحواس متفق ہوجائیں کہ میاں بیوی ایکدوسرے سے ملنے پراللہ کی حدود پامال کرنے کا خدشہ محسوس کریں تو عورت کی طرف سے وہ فدیہ دیا جائے۔ اس صورت میں شوہر کے مزاج کا خیال رکھتے ہوئے یہ قید لگائی گئی کہ عورت جب تک دوسری شادی نہ کرے اس کیلئے حلال نہیں۔ درسِ نظامی میں اصول فقہ کی کتاب ’’ نورالانوار‘‘ میں جمہور فقہاء کا مؤقف بتایا گیا کہ اس طلاق کا تعلق دو مرتبہ طلاق سے ہے اور بیچ کی بات جملہ معترضہ ہے مگرحنفی مؤقف یہ ہے کہ ف تعقیبِ بلا مہلت کیلئے آتاہے اسلئے اس طلاق کا تعلق اس سے ماقبل بیان کردہ صورتحال سے ہے۔ ابن تیمیہؒ کے شاگرد علامہ ابن قیمؒ نے ایک طرف حضرت ابن عباسؓ کے قول سے حنفی مسلک کی تائید کردی کہ اس طلاق کا تعلق دومرتبہ طلاق کے بعد سیاق وسباق کیمطابق عورت کی طرف سے فدیہ دینے کی صورتحال سے ہی ہے اور دوسری جانب تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے فدیہ کے بارے میں لکھا کہ ’’یہ طلاق نہیں بلکہ الگ چیز ہے‘‘۔ حالانکہ حنفی مؤقف اور حضرت ابن عباسؓ کا قول ایک معاملہ کی وضاحت کرتے ہیں کہ فدیہ کے بدلے میں جو طلاق دی جائے وہی مراد ہے۔
سورۂ بقرہ میں اس آیت230سے پہلے اور بعد کی آیات میں عدت وعدت کے بعد باہمی رضاسے رجوع واضح ہے۔ دورِ جاہلیت نہیں اب باہوش وحواس کوئی طلاق دے تو عورت کو مرضی سے شادی نہیں کرنے دیتا ۔برطانیہ میں لیڈی ڈیانا اسی جرم پر ماری گئی ۔ قرآن کا حکم تسلیم کروالیا جائے کہ شوہر بیوی کو تمام شروط وقیود سے طلاق دے، تو قرآنی آیت کیمطابق عورت کو اس کی مرضی سے شادی کرنے دی جائے۔ کوئی حق تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں مگرحیلوں سے معاشرہ حلالہ کی بے غیرتی کا عادی بنادیا گیا۔جب قرآن وسنت کے عظیم معاشرتی نظام کو سمجھ کر نافذ کرینگے تو مغرب بھی اسلام کے سامنے چت ہوجائیگا۔علماء کرام اپنے حال اور امت پر رحم فرمائیں۔
حضرت عمرؓ نے جھگڑے میں یکدم تین طلاق کو ناقابلِ رجوع قرار دیا، طلاق کے بعد قرآن کیمطابق شوہر غیر مشروط رجوع نہیں کرسکتا۔ ائمہ نے طلاق کا درست فتویٰ دیا، ورنہ عدت کے بعد عورت شادی نہ کرسکتی، عدت وطلاق لازم ملزوم ہیں۔ عدت ختم ہو تو طلاق کی ملکیت باقی نہیں رہتی۔ضعیف روایت پر مسائل کاغلط ڈھانچہ بنایاگیا۔ اسلامی قانون نے صنفِ نازک اور کمزور کو تحفظ دیا مگر طاقت نے اسلام کا بیڑہ غرق کردیا۔ علماء کا حق کا اعلان کریں تو بھلا ہوگا۔ عتیق گیلانی