قرآن کی آیات سے واضح انحراف کا معاملہ: عتیق گیلانی کی ایک تحریر

868
0

فاذا اخصن فان اتین بفاحشۃفعلیھن نصف ما علی المحصنٰت من العذاب ذٰلک لمن خشی العنت منکم وان تصبیروا خیرلکم ۔۔۔؛ومن یفعل ذٰلک عدوانًا وظلمًا فسوف نصلیہ نارًا۔۔۔Oترجمہ’’ جب لونڈی نکاح میں لاؤ، پھر اگر وہ فحاشی کی مرتکب ہوں،تو ان پر عام عورتوں کی نصف سزا ہے۔ یہ اس کیلئے ہے جو تم میں سے تکلیف میں پڑنے سے ڈرتا ہواور اگر تم صبر کرلو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔اللہ چاہتاہے تمہارے لئے واضح کرنااور تمہیں بتانا ان لوگوں کا طریقہ جو تم سے پہلے گزرچکے اور وہ تم پر توجہ چاہتاہے اور اللہ علیم حکیم ہے۔ اللہ چاہتاہے کہ تم پر توجہ دے اور جو لوگ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں انکی چاہت ہے کہ تم میلان کا شکار ہوجاؤ ، بہت بڑے میلان کا۔ اللہ چاہتاہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا۔ اے ایمان والو! آپس میں اپنے اموال باطل طریقے سے نہ کھاؤ مگریہ کہ رضا سے تجارت اور اپنی جانو ں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر نہایت رحم والا ہے اور جس نے حد سے تجاوز (دشمنی)اور ظلم سے ایسا کیا تو ہم اسکو عنقریب جہنم میں جھونک دیں گے۔ اور اللہ کیلئے یہ بہت آسان ہے۔( سورۂ النساء: آیات:25تا30)
منکوحہ لونڈی کو آدھی سزا بھی اس کیلئے جو مشکل میں پڑنے سے ڈرتا ہو۔ کیونکہ فحاشی سے رُکنا مشکل ہوسکتاہے،اگر سزا کے بغیر صبرکیا تو یہ بہتر ہے۔ منکوحہ لونڈی کیلئے50کوڑے تو آزاد منکوحہ کیلئے 100 ہیں۔ لونڈی سے شادی ٹھیک ہے بعضکم من بعض ’’تم ایکدوسرے سے ہو‘‘۔ تفسیرو ترجمہ میں حقائق سے انحراف ہے کہ ’’ لونڈی سے نکاح مشکل میں پڑنے سے ڈرنے کیلئے ہے صبر بہتر ہے‘‘۔ فحاشی پر عورت سزا کے بغیر گھر سے نکلے یالُعان کے ذریعے حق سے محروم ہو،یا کوڑوں کی سزا ہو۔ یہ سب صورتیں حلالہ کی بے غیرتی اور غیرت کے نام پر قتل کے مقابلہ میں اسلام کو بڑاعروج بخشیں گی۔
اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ آزاد عورت کے مقابلہ میں لونڈی کی آدھی سزا پہلے امتوں میں بھی رائج رہی ۔ باربار اللہ نے باور کرایا کہ اللہ تم پر خاص توجہ چاہتاہے اور نفسانی خواہشات کی پیروی والے چاہتے ہیں کہ تم میلان میں مبتلا ہو، بہت بڑے میلان میں (بڑا میلان کیا؟، سنگساری اور قتل کا حکم 100 کوڑوں کے مقابلے میں!)اللہ چاہتاہے کہ تم سے بوجھ ( سنگساری کی سزا ) کو ہلکا کردے ۔انسان کمزور پیدا کیا گیا۔ آیات کاواضح مفہوم بگاڑنے کی کوشش کے بعد سیدمودودی کی فصاحت بھی معاملات کو سلجھا نے کے کام نہیں آسکی۔ اگرسیاق وسباق کے مطابق قرآن کا ترجمہ و تفسیر ہو تولوگوں کو ہدایت ملے۔
مذہبی طبقہ وکیلوں کی طرح احکام کی تشریح بدل کر باطل مال نہ اُڑائیں مگر باہمی رضا سے تجارت۔ اور اپنی جانوں کو قتل مت کرو۔ بیشک اللہ بہت رحم والاہے۔ خواتین کو اکثر و بیشتر بدکاری کے جرم میں قتل کا نشانہ بنایا جاتاہے۔ تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی، جے یوآئی ، جے یو پی، وحدت المسلمین، اسلامی نظریاتی کونسل ، قومی اسمبلی اور سینٹ وغیرہ اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرکے یہ اہم معاملات زیرِ بحث لائیں تاکہ اسلامی قانون سازی کی راہ ہموار ہو۔
پھر اللہ نے مزید وضاحت کردی کہ ’’اگر یہ سب کچھ حد سے تجاوز (دشمنی) اور ظلم سے کوئی کرتاہے تو اس کو اللہ جہنم میں جھونک دیگا‘‘۔ غلط فہمی اور خلوص کی بنیاد پر حقائق سے قاصر لوگوں کیلئے وعید نہیں ۔ حضرت عمرؓ نے حضرت مغیرہؓ پر سنگساری کا حکم جاری نہ کیا ، اگر غلط فہمی میں جاری کردیتے تو بھی ان پر وعید کا اطلاق نہ ہوتا۔ حضرت علیؓ سنگسار کرنے کا حکم دیتے ،تب بھی وعید کے زمرے میں نہ آتے۔ علماء نے بھی خلوص کی بنیاد پر غلط فہمی سے مفہوم نہ سمجھا مگر اب ہمارے لئے سب سے بڑا اثاثہ قرآن وسنت ہے۔ مفادات کو مدِ نظر رکھ کر حقائق سے انحراف کرنے پر مذہبی طبقے یقیناًوعید کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
حدودو تعزیرات نہیں معاشرتی معاملات اور حقوق میں بھی قرآن وسنت میں بہت ڈنڈیاں ماری گئیں ۔ الفاظ کی جنگ میں مبتلاء مذہبی طبقے اسلام کے درست مفہوم سے فرقہ وارانہ تعصبات چھوڑ سکتے ہیں اور ملتِ واحدہ بن کر دنیا میں اسلامی نظام کو غلبہ دلاسکتے ہیں۔ اہل تشیع یہ کہہ دیں کہ ’’جو فرق حسینؓ اور یزید میں تھا، وہی علیؓ اور عمرؓ میں بھی تھا‘‘۔ تو ہم نہیں روک سکتے ۔ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ یزید کا کردار غلط تھا اور امام شافعیؒ و امام مالکؒ مقدس ہستی تھے لیکن اگر وہ یزید کی جگہ حکمران ہوتے تو دینداری، فقہ وسمجھ اور خلوص کے باوجود یزید اور بنی امیہ وبنی عباس کے امراء کی نسبت اسلام کا زیادہ بیڑہ غرق کرتے ،اسلئے کہ کربلا کے شہداء سے اسلام کو اتنا نقصان نہ پہنچا جتنا بے نمازی کو قتل کرنے سے پہنچتا، ابوبکرؓ و عمرؓ سے زیادہ اسلام کو علیؓ کے اقتدار سے نقصان پہنچتا۔ عثمانؓ کی شہادت کی افواہ پر نبیﷺ نے بیعت رضوان لی، یداللہ فوق ایدیھم ۔ علیؓ کے پروردہ محمد بن ابی بکرؓ نے پہلے عثمانؓ کی داڑھی میں ہاتھ ڈالاتھا، حسنؓ و حسینؓ دروازے پر حفاظت کر رہے تھے۔سنی عشرہ مبشرہؓکی لڑائی کومنافقت نہیں سمجھتے جو جنگِ صفین و جمل برپا ہوئی تھی۔اہل تشیع کا اس کومذہبی رنگ دینا اور اسلاف سے بدظنی غلط ہے ۔خوارج بھی علیؓ کا لشکر تھے ،پھر برگشتہ ہوئے۔ منصبِ خلافت سیاسی مسئلہ تھا۔ امام حسنؓ نے دستبردارہو کر شیعہ اور خوارج کی اصلاح کی ۔اگرخلافت کا پسِ منظر سیاسی نہ ہوتا تو مسلم اُمہ شروع سے مذہبی تفرقے کا شکار بنتی۔ شیعہ کا ایران وشام اورعراق میں اقتدار کامیاب ہے؟۔ خلافت مذہبی مسئلہ ہوتا تو علیؓ کا اختیارسونپ دینا، حسنؓ کی دستبرداری، حسینؓ کی طرف سے واپسی کے مطالبے سے لیکر آخری امام کی غیبت تک ذمہ داری ائمہ پر پڑتی،اسلئے تو خوارج نے علیؓ اور اسماعیلیہ نے حسنؓ کی امامت کا انکار کیا تھا۔
حضرت علیؓ نے فرمایاکہ ’’میں یہود کو توراۃ، نصاریٰ کو انجیل اور مسلمانوں کو قرآن سے فیصلہ دونگا‘‘ ۔ بظاہریہ خوش آئند ہے مگر توراۃ میں تحریف، انجیل میں حدود وتعزیرات نہیں اور قرآن میں واضح ہے: ومن الذین ھادوا ۔۔۔ یحرفوں الکلم من بعد مواضعہ۔۔۔ ؛فان جاء و ک فاحکم بینھم او اعرض عنھم وان تعرض عنھم فلن یضرک شےءًاوان حکمت فاحکم بینھم بالقسط ۔۔۔ المائدہ: 41، 42۔اور یہود ۔۔۔ بات کو اپنی جگہوں سے ہٹاتے ہیں ۔۔۔ اگرآپکے پاس آئیں تو انکے درمیان فیصلہ کرو یا ان سے کنارہ کشی کرو، اگر اعراض کرو تو آپ کو نقصان نہیں پہنچاسکتے اور اگر فیصلہ کرو تو انصاف سے کرو‘‘۔ قرآن وتوراۃ کا حکم برابر ہوتو ٹھیک اگر نہیں تو قرآن برحق ہے اور یہی انصاف کا تقاضہ بھی۔ تفصیل آگے دیکھئے۔