4:اسلامی احکام اور خواتین کے حقوق کی وضاحت

655
0

عالمی اسلامی جمہوری منشور کے اہم نکات
4:اسلامی احکام اور خواتین کے حقوق کی وضاحت
جب تک اللہ تعالیٰ کے احکام کی درست وضاحت عوام کے سامنے نہیں آئے گی یہ قوم کبھی بھی فلاح کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکے گی۔ جب اسلام نے لونڈی اور غلامی کے نظام کو حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی بنیادیں فراہم کی ہوں۔ سورۂ النساء آیت19میں پہلے کسی بھی خاتون کو خلع کا حق دیا ہو اور پھر آیت20،21میں شوہر کو طلاق کا حق دینے کیساتھ یہ وضاحت بھی کردی ہو کہ عورت کے مالی اور اخلاقی حقوق بالکل محفوظ ہوں۔ مگر اسکے برعکس عورت سے نہ صرف خلع کاحق چھین لیا بلکہ آیت کے مفہوم کو مسخ کرنے کی کوشش بھی کی۔ خواتین کو خلع کاحق نہ دینا لونڈی بنانے بلکہ زنا بالجبر کو قانونی طور پر رائج کرنے کے مترادف ہے، طلاق شدہ اور بیوہ خواتین کو اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کی قرآن نے اجازت دی اور کنواری کیلئے حدیث میں ولی کی اجازت ضروری ہے مگر لڑکی کا والد لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرائے تو اس کو بھی حدیث میں ناجائز قرار دیا گیا ۔جیسے چیئرمین نیب کیلئے حکومت اور اپوزیشن لیڈر کی رضامندی اور اتفاق ضروری ہے ویسے کنواری لڑکی اور باپ کی مرضی ضروری قرار دینے سے بڑا اچھا اثر مرتب ہوتاہے۔ کورٹ میرج کا فتنہ قرآن وسنت کے احکام کو درست نہ سمجھنے کا شاخسانہ ہے۔ جب قرآن وسنت کے خلاف اپنی بیٹی اور بہن وغیرہ کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کروایا جائے تو زنا بالجبر سے بدتر اسلئے ہے کہ یہ چند لمحات کا جبر نہیں بلکہ زندگی بھر کا جبر ہے جو لونڈی بنانے سے بھی بدتر ہے، کم نہیں۔
خواتین کے حقوق قرآن وسنت سے اُجاگر ہوں تو علامہ اقبالؒ کے وہ اشعار عوام اور خواص کو اچھی طرح سمجھ میں آئیں جو’’ ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے کہ شیطان کو آئین پیغمبرﷺ سے کیوں خوف تھا۔شوہر کو طلاق پر ایک درجہ اضافی دیا گیا ہے توحق مہر بھی بیوی کی رضامندی سے شوہر کے ذمہ ہے۔ اور فضل کی بنیادشوہر کا محافظ ہونا اور مال خرچ کرنے کی بنیاد پرہے۔ بیوی کھلائے پلائے تواس کی فضیلت ہے البتہ شوہر پھر بھی محافظت کی وجہ سے اپنی فضیلت رکھتا ہے۔ نکاح و طلاق اور خلع کے حوالہ سے قرآنی آیات ترجمہ و درست مفہوم کیساتھ دنیا کے سامنے آئیں تو ہمارا معاشرہ آئیڈل بن جائیگا ۔ خواتین جج، ڈاکٹر، پروفیسراور دیگر عہدوں پر پہنچ کر شادی اسلئے نہیں کرتیں کہ نکاح کے نام پرشوہر کی بدترین غلامی کا شکار نہیں ہونا چاہتی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ۔ خاتون افسر اور شوہر نوکر چاکر ہو تودونوں کی اپنی اپنی حیثیت پر اثر نہیں پڑیگا۔ عورت خلع لینا چاہے تو اسکی عدت بھی تین طہروحیض کے بجائے حدیث صحیحہ میں ایک حیض ہے۔ حدیث قرآن سے متصادم نہیں۔ عورت کو حمل ہو تو اسکی عدت بچے کی پیدائش ہے جسکا دورانیہ حیض سے کم بھی ہوسکتا ہے۔حدیث میں لونڈی کی عدت دو حیض قرار دیا گیا لیکن اس حدیث کوآیت سے متصادم سمجھنے کے بجائے حنفی مسلک کا معیار قرار دیا گیا۔ قرآن و سنت میں تضادہر گزنہیں ہے۔