ایمان، عمل صالح،حق و صبر کی تلقین خسارے سے بچاؤ

490
0

kitab-o-sunnat-ijma-qiyas-dars-e-nizami-talaq-halala-maslak-e-hanafi-khula-nikah-iddat-ka-tareeqa

اللہ نے فرمایا: ’’عصر کی قسم! کہ انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے، اور نیک عمل کئے اور حق کی تلقین کی اور صبر کی تلقین کی‘‘۔ (سورۃ العصر)
ایمان کیا ہے؟۔ ہرفرقہ ومسلک کے علماء ومفتیان نے اپنے پیروکاروں کو یہ سمجھایا ہے کہ تمہارا عقیدہ درست ہے اور دوسروں کا عقیدہ درست نہیں۔کسی کے عمل کی طرف دیکھنے کی نوبت اسلئے نہیں آتی کہ جب پہلی شرط ایمان موجود نہ ہو توعمل صالح، حق بات کی تلقین اور صبر کی تلقین سب بے بنیاد اور بیکار ہیں۔ مولانا لوگوں کی یہ تنگ نظری ایک مخصوص ماحول کا نتیجہ ہے۔ بریلوی دیوبندی، شیعہ اور اہلحدیث کے علاوہ جماعت المسلمین ، حزب اللہ اور توحیدی وغیرہ فرقوں نے جنم لیا ہے۔ یہاں اکثریت دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر کی ہے جو ایک نصاب تعلیم درسِ نظامی پڑھارہے ہیں۔ درسِ نظامی میں قرآن واحادیث کے علاوہ فقہ اور اصولِ فقہ کی تعلیم بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اصولِ فقہ میں شریعت کے بنیادی چار اصولوں کا ذکر ہے۔1: کتاب،2: سنت، 3:اجماع اور4: قیاس۔
کتاب سے مراد پورا قرآن نہیں بلکہ 5سوآیات جو احکام سے متعلق ہیں۔ باقی آیتیں وعظ، نصیحت ، قصے ہیں جو اصولِ فقہ کی بحث سے خارج ہیں۔ اگر علماء کرام ومفتیان عظام احکام سے متعلق ان500آیات کو باقاعدہ عنوانات کے تحت درج کرکے پڑھانا شروع کردیتے تو اسلام اجنبیت سے محفوظ ہوجاتا۔یہ حقیقت ہے کہ علماء ومفتیان اس بات سے قطعاً بے خبر ہیں کہ کسی عنوان کے تحت کتنی اور کون کونسی آیات درج کرکے ان 5سو آیات کی گنتی پوری ہوسکتی ہے۔ اگر کسی ایک موضوع پر تسلسل کیساتھ چند آیات پیش کی جاتیں تو بھی استاذ وطالب علم دونوں کو سیاق وسباق سے حقائق کا ادراک ہوتا اور اختلافات کا معاملہ بالکل کالعدم ہوجاتا۔ کسی بھی موضوع پر آیات دیکھنے کے بعد شرح صدر ہوجاتاہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ’’ طلاق دومرتبہ ہے، پھر معروف طریقے سے روک لینا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا۔ اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے، اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ دونوں اللہ کے حدودپر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ عورت اس میں جو فدیہ دے اور یہ اللہ کے حدود ہیں،ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوزکرتا ہے تو بیشک وہی لوگ ظالم ہیں‘‘۔( البقرہ آیت:229)۔ حدیث میں آتاہے کہ صحابیؓ نے عرض کیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کا ذکر کہاں ہے؟۔ رسول ﷺ نے فرمایا: تسریح باحسان احسان کیساتھ تیسرے مرحلے میں چھوڑنا تیسری طلاق ہے‘‘
اس آیت میں دو مرتبہ طلاق کے بعد کیا خلع کا کوئی تصور ہوسکتا ہے؟۔ جبکہ خلع کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ عورت کے مطالبے پر شوہر اس کو چھوڑ دے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ خلع کی صورت میں عورت کی عدت ایک حیض ہے۔ جبکہ مرد ایک مرتبہ خلع کی طلاق دے تو دوسری مرتبہ طلاق کی نوبت نہیں آتی ۔یہ معمہ کھڑا ہی نہ ہوتا جو اصولِ فقہ کی کتابوں میں موجود ہے کہ دومرتبہ طلاق اورپھر تیسری مرتبہ طلاق سے پہلے خلع کی بات تسلسل سے ہے یا جملہ معترضہ ہے؟ جبکہ اصولِ فقہ میں یہ احمقانہ بحث ومباحثے اور پاگل پنے کے دلائل دئیے گئے ہیں۔ مسلک حنفی کی دلیل یہ ہے کہ اگلی آیت میں فان طلقھا کا ذکرہے جس میں ف کا تعقیبِ بلامہلت کاتقاضہ یہ ہے کہ فدیہ کیساتھ اس کاتعلق متصل طور پر ہو۔جہاں تک اس بات کا تقاضہ ہے کہ دومرتبہ طلاق کے بعد خلع تیسری طلاق ہے تو چوتھی طلاق کا تصور لازم آئیگا تو اسکا جواب یہ ہے کہ خلع مستقل طلاق نہیں بلکہ ضمنی چیز ہے اسلئے دومرتبہ طلاق کے بعد خلع ہو تو تیسری طلاق واقع کرنا جائز ہے۔ شافعیؒ اور جمہور کے نزدیک خلع مستقل ہے اسلئے آیت میں یہ جملہ معترضہ ہے تاکہ دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق کی گنجائش رہے۔(نورالانوار ملا جیونؒ )
حالانکہ آیت کا مطلب بالکل واضح ہے، دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری طلاق کیلئے تیسرے مرحلے میں احسان کیساتھ چھوڑنے کی وضاحت ہے۔ جسکے بعد یہ بھی واضح ہے کہ تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیاہے اس میں سے کچھ بھی واپس لو الایہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں۔۔۔
یہ باہوش واحواس ایک ایسی جدائی کا فیصلہ ہے کہ آئندہ رابطے کا کوئی ذریعہ بھی نہ رہے اور فیصلہ کرنے والے بھی یہی قرار دیں۔ اس کے بعد سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ شوہر کی غیرت کا تقاضہ ہوتا ہے کہ وہ عورت طلاق کے بعد کسی دوسرے سے شادی نہ کرے اور اگر کسی اور سے شادی کرے تو اس میں شوہر کی مرضی کا بھی لحاظ رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو مرد کی اس خصلت سے تحفظ دیا کہ عورت مرضی سے دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔
اس صورت کی طلاق کے بعد اللہ نے فرمایا کہ ’’ اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرلے‘‘۔ ایک عورت میں خود یہ غیرت ہوتی ہے کہ باہوش وحواس طلاق کے بعد بھی دوسری جگہ شادی کرنا اپنی غیرت کے خلاف سمجھ رہی ہوتی ہے اور شوہر بھی اس کو مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔ قرآن کے سیاق وسباق کو دیکھ کر عالمِ انسانیت کیلئے یہ آےۃ ہدایت کا ذریعہ بن سکتی ہے کیونکہ اس آیت نے انسانوں کو انسانیت سکھادی ہے اور حیوانوں اور جذبہ حیوانیت سے انسانیت کو قرآن نے بالکل ممتاز کردیاہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اگر دونوں رجوع کرنا چاہتے ہوں تو اللہ نے اگلی دونوں آیات میں وضاحت کردی کہ عدت کی تکمیل کے فوراً بعد بھی اس نے رجوع کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی بغیر کسی تأمل کے نہ صرف رجوع کا دروازہ کھلا رکھا ہے بلکہ رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت بھی اللہ نے بہت واضح الفاظ میں جاری کی ہے۔ اگر قرآنی آیات و احادیث صحیحہ کی تعلیم کا درس نصاب میں پڑھایا جاتا تو ہرطالب علم اور عالم دین راشدو مہدی بنتا۔ جو ایکدوسرے پر گمراہی کا فتویٰ لگاتے ہیں وہ ایکدوسرے کو نجومِ ہدایت قرار دیتے قرآن نے بہت سلیس انداز میں بتایا ہے کہ عدت کے تین ادوار ہیں ۔ ان میں اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے۔ پھر ان تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کی وضاحت کی ہے۔ پھر طلاق کی تین اقسام کی تین آیات میں وضاحت کردی ہے۔ نبی ﷺ نے بھی قرآنی آیات کو پاکی کے ایام و حیض کے حوالے سے واضح کیا ہے لیکن درسِ نظامی میں قرآن کو احادیث سے ٹکرانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
قرآن میں بار بار بتایا گیا ہے کہ طلاق سے رجوع کا تعلق عدت سے ہے۔ عدت کی تکمیل پر بار بار معروف طریقے سے رجوع یا چھوڑنا واضح ہے۔عدت کی تکمیل پر چھوڑنے کا معروف طریقے سے فیصلہ کرنے کے بعد دو عادل گواہ مقرر کرنے کا حکم بھی ہے۔ ساری دنیا نکاح و طلاق کے قوانین کوقرآن وسنت کے مطابق بنانے کیلئے تیار ہے لیکن ہمارے ہاں جہالت ہی جہالت کا دور دورہ ہے اور اس سے نکلنے کیلئے بڑے اور معروف علماء ومفتیان کو حقائق پر مجبور کرنا ہوگا۔