Home Unity اسلام کو اجنبیت سے نکالنے کی ٹھوس راہ اور حنفی مسلک: اداریہ...

اسلام کو اجنبیت سے نکالنے کی ٹھوس راہ اور حنفی مسلک: اداریہ نوشتہ دیوار کالم 2 صفحہ 2 شمارہ اپریل 2018

354
0

Larki-ki-shadi-uski-marzi-k-bina-karna-saudi-arabia-londi-nikah-court-marriage-daf-bajana-binori-town-madrassa-fatwa

حنفی اصول ہے کہ پہلے قرآن وسنت میں تطبیق( موافقت پیدا کی جائیگی) اگر تطبیق نہ ہو تو قرآنی آیت پر عمل اور حدیث کو ترک کیا جائیگا۔ اصول الشاشی کا پہلا سبق یہی ہے کہ حدیث اور جمہور کیخلاف عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر درست ہے۔ کورٹ میرج کیلئے حنفی مسلک بنیاد ہے جو درسِ نظامی کا حصہ ہے۔
نکاح کیلئے حدیث میں دو عادل گواہی کا ذکر ہے اور قرآن میں طلاق کیلئے بھی دو عادل گواہوں کا حکم ہے۔ قرآن کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلاق کے گواہ کا خاتمہ کردیا تو معاشرے میں اسکے بھیانک نتائج نکلے۔ بھاگی لڑکی شادی کرلے تو نکاح کیلئے دوعادل گواہ کی شرط تھی اور شریف اس نکاح پر گواہ نہیں بن سکتے۔ اسلئے دوسری حدیث کو بھی فقہ میں روند ڈالا گیا۔ چنانچہ حدیث کے منافی دوفاسق گواہ بھی کافی قرار دئیے گئے مگر حدیث نے غیرفطری راستہ روکنے کیلئے مزید پابندی لگائی ہے کہ دف بجاکر نکاح کا علان کرو تاکہ سب جان لیں کہ نکاح ہوا، کیونکہ نکاح خفیہ یاری نہیں ۔ فقہاء نے اسکا بھی توڑ نکالا اور دوفاسق گواہ کو اعلان قرار دیا ۔ پوری دنیا میں شادی کیلئے بدمزگی کے واقعات کورٹ میرج، مارکٹائی ، قتل وغارت نہیں۔ جسکے مناظر یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ علماء ومفتیان خاص طور پر جامعہ بنوری ٹاؤن والے پاکستان بلکہ دنیا بھر سے بڑے علماء ومفتیان کو دعوت دیں اور یہ مسائل حل کریں۔
حنفی مسلک اور قرآن کے مطابق عدت میں نکاح قائم رہتا ہے۔قرآن نے عدت میں باہمی رضامندی اور عدت کی تکمیل پر بار بار رجوع کی گنجائش دی۔ رجوع نہ کرنے کی صورت پر دوعادل گواہ بھی مقرر کرنے کا حکم دیا جبکہ ایک حدیث نہیں کہ قرآن کے برعکس عورت کو طلاق کے بعدعدت میں حلالہ کا حکم ہو، ایک عورت نے عدت کی تکمیل کے بعد دوسرا نکاح کیا ۔تووہ حدیث قرآنی آیات کے منافی نہیں۔
حضرت مولانا بدیع الزمانؒ نے اصولِ الشاشی کا پہلا سبق پڑھایا تو میں نے یہ سوال کیا کہ ’’قرآن وسنت میں تطبیق ہے، آیت سے طلاق شدہ عورت کو نکاح کی اجازت اور حدیث سے کنواری مراد لی جائے۔ کنواری و طلاق شدہ وبیوہ کے احکام بھی مختلف ہیں؟‘‘۔ استاذ محترم کو میری بات پسند آئی اور ہلکا تبسم کیا اورپھر فرمایا کہ ’’اگلی کتابوں میں جواب ملے گایا خود کسی نتیجہ پر پہنچوگے، یہ ابتدائی کتاب ہے‘‘۔ بیوہ کیلئے واضح ہے کہ لاجناح علیکم ما فعلن فی انفسھن ’’تم پر گناہ نہیں کہ (بیوہ عدت کے بعد) اپنی جانوں کے بارے میں جو فیصلہ کریں‘‘۔ طلاق شدہ وبیوہ قرآن میں آزاد ہوں تو حدیث سے اجازت کا پابند بنانا غلط ہوگا ۔ حدیث کنواری تک محدود ہو جو آیت سے متصادم نہیں تو احناف اور جمہور کو بھی اعتدال پر آنا ہوگا۔
جب بیوہ و طلاق شدہ کو آزاد اور کنواری کو ولی سے اجازت کا پابند بنایا جائے تو مسالک کیساتھ ساتھ اسلامی معاشرے میں بھی اس اعتدال کا چھوٹے سے لیکر بڑی سطح تک خیرمقدم کیا جائیگا۔ خواتین کے حقوق کی حفاظت کا ببانگِ دہل منبر ومحراب سے اعلان کیا جائے تو دنیا بھر کی خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات بھی اپنی بہنوں اور بیٹیوں کیلئے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔ بخاری میں ہے کہ’’ باپ اگر بیٹی کی اجازت کے بغیراسکا نکاح کردے تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوتا ہے‘‘۔ کنواری بیٹی اور اسکا باپ پابند ہو تومعاشرے میں اعتدال آئیگا جو پوری انسانی دنیاکیلئے قابلِ رشک ہوگا۔
آیات اور احادیث صحیحہ میں قطعی طور پر تضاد نہیں ۔ قرآنی آیات کو بھی مسالک نے اپنی ناسمجھی سے متضاد بنانے میں اپنا بنیادی کردار ادا کیا ۔ آیات میں طلاق شدہ وبیوہ کیلئے کھل کر خود مختار ہونے کا ذکر ہے، آیت وانکحوالایامیٰ منکم و الصٰلحین من عبادکم وایمائکم (اورنکاح کراؤ طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا اور نیک غلاموں و لونڈیوں کا ) میں اللہ نے انکے نکاح کی ترغیب دی۔ الایمکنواری کے مقابلے میں طلاق شدہ وبیوہ کو کہتے ہیں۔ مگر ان کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی طرح نہیں کہ انکا اختیار اس آیت سے ختم سمجھا جائے ۔ البتہ عام طور پر معاشرے میں بیوہ وطلاق شدہ خواتین کے نکاح کا احساس نہیں ہوتا ہے اسلئے معاشرے پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ اگر وہ خود شرم و حیاء ، عفت و عصمت اور شوہرو بچوں کا احساس رکھ کرشادی کیلئے اقدام نہ اٹھاسکتی ہوں تو معاشرہ یہ کردار ادا کرے۔
ممکن نہیں کہ قرآن نے بیوہ وطلاق شدہ کو خود مختار اور محتاج بھی قرار دیا ہو۔ اس آیت میں لونڈی و غلام کا بھی ذکر ہے ،قرآن کی دوسری آیت میں واضح ہے کہ فانکحوھن باذن اہلھن ’’ ان سے انکے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو‘‘۔ قرآن میں تضادنہیں بلکہ تمام حدود و قیود کھل کر واضح ہیں۔ ایک آیت سے ثابت کرنا کہ نکاح کرانے کا حکم ہے تو وہ اجازت کی پابند ہیں اور دوسری آیت سے ان کی آزادی ثابت کرنامسلکی تضادات اور افراط وتفریط ہے اعتدال کی راہ سے امت ہٹ گئی ۔ قرآن امت وسط کو افراط تفریط نہیں اعتدال و صراط مستقیم کی راہ بتاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ وانکحوالایا میٰ منکم والصٰلحین من عبادتکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنیھم اللہ من فضلہ واللہ واسع العلیمOولیستعفف الذین لایجدون نکاحًاحتی یغنیھم اللہ من فضلہ والذین یبتغون الکتٰب مماملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرًا واٰتوھم من مال اللہ الذی اتٰکم ولاتکرھوافتےٰتکم علی الابغاء ان اردن تحصنًا لتبتغواعرض الحیاۃ الدنیا ومن یکرھن فان اللہ من بعد اکراھن غفور رحیمO ان آیات میں بیوہ وطلاق شدہ خواتین اور نیک غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرنے کا حکم ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ ان کو مالدار بنادے گا۔ پھرفرمایا کہ جولوگ نکاح تک پہنچ نہیں رکھتے ، ان کو پاکدامنی کی زندگی گزارنی چاہیے یہانتک کہ اللہ ان کو مستغنی کردے۔ بیوہ وطلاق شدہ سے نکاح کیلئے کوئی آزاد تیار نہ ہو تو اللہ نے کہا کہ’’ مشرک سے غلام بھی بہتر ہے‘‘۔ اگر کوئی غلام کسی آزاد عورت سے معاہدے کے مطالبہ پر راضی ہو تو اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر اس میں خیر نظر آئے تو یہ معاہدہ بھی کرلینا چاہیے اور جو اللہ کی طرف سے عطاء کردہ مال میں سے اس کودیدو۔ بیوہ وطلاق شدہ اور غلام ولونڈی کی بات کے بعد اللہ نے کنواریوں کا مسئلہ بھی حل کیا۔ فتیات سے مرادلڑکیاں ہیں جن کو مرضی سے شادی نہ کرنے دیجائے یا زبردستی سے جہاں چاہت نہ ہو وہاں شادی پر مجبور کردیا جائے۔ سعودی عرب جیسے ملک میں بھی بیٹی کی قیمت وصول کرکے اسکی مرضی کے بغیر شادی کی جاتی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’لڑکیوں کو بغاء(زنا یا بغاوت) پر مجبور نہ کرو، اگر وہ شادی کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم اپنا دنیاوی مفاد اس میں تلاش کرو، اور جس نے ان کو زبردستی سے مجبور کیا توان کی مجبوری کے بعد اللہ غفور رحیم ہے‘‘۔
لڑکی بغاوت کرے یا چھپ کر تعلق رکھے تو سرپرست بھی ذمہ دار ہوگا اگر لڑکی کی اسکی چاہت کے بغیر زبردستی سے شادی کردی تو اس ناجائز پر اللہ معاف کریگا۔ احادیث کو قرآن کی تفسیر میں لکھاجاتا تو معاشرے پر اچھے نتائج مرتب ہوتے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ قرآنی آیات کی بھی غلط تشریح کی گئی ۔عرب آج بھی اپنی بیٹیوں کو بیچتے ہیں۔ قرآن کی یہ تعلیم نہیں کہ’’ لونڈی پاکدامن رہنا چاہے تو ان کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر مجبور کیا تو اللہ غفور رحیم ہے‘‘ پھر عذاب الیم شدید العقاب کالفظ ہوتا۔