اداریہ نوشتۂ دیوار(ملکی مافیا کا قومی بیانیہ)

359
0

صدر ممنون نے قومی اسمبلی میں کہا ’’ قومی بیانیہ کو پوری قوت سے متحد ہوکر پیش کرنا ہوگا‘‘ مگر قومی بیانیہ ہمارے ٹی وی ٹاک شوز پر مختلف خبروں اور تجزیوں میں بزبانِ حال یہ ہے کہ
اسٹیبلشمنٹ اور انکے کارندے پیپلز پارٹی کو بھارت ، محمودخان اچکزئی کو ایران اور مولانا فضل الرحمن کو افغانستان جبکہ ن لیگ کو امریکہ سمجھتے ہیں۔ زرداری نے 11 سال جیل کاٹی ، 450کھرب کرپشن اور دہشتگردوں کا سہولت کارڈاکٹر عاصم رینجرز کی تحویل میں رہا۔ ن لیگ نے ڈان لیکس میں فوج کو ناکوں چنے چبوادئیے تو اسٹیبلشمنٹ کے رضاکار وں نے کہا کہ اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن ن لیگ کیساتھ ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ امریکہ پاکستان تباہ کرتا تو ایران و افغانستان کو تکلیف ہوتی؟۔ گدھے گدھی کا رومانس بھی جنگ لگتاہے۔
محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے نزدیک فوج ن لیگ کے ہاتھوں جتنی ذلیل و خوار ہوجائے تو مضائقہ نہیں، اسلئے کہ ن لیگ کی فوج سے امریکہ وپاکستان کی بڑی دوستی ہے۔ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے ۔نام نہادجمہوریت ،عدلیہ اور فوج ایکدوسرے کو ذلیل کرنیکی کوشش کرینگے تو دوسرے تالی بجائیں گے۔ پرویز مشرف اردو اسپیکنگ مہاجر تھا تو گومل ڈیم و تربت ڈیم بنایا ،بھاشاڈیم اور گوادر سی پیک کی بنیاد رکھی ، کراچی گوادر کوسٹل ہائی وے، بلوچستان اور وزیرستان کے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی کام کئے، ملک کو قرضوں سے چھٹکارا دلایا ،سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاکر پاکستان کو عالمی قوتوں سے بچایا۔ اشفاق کیانی پر خود کش حملہ نہ ہوا۔ کرپٹ جرنیل کو میڈیا نے بڑاامیج دیکر پیش کیا ۔ جنرل راحیل شریف نے کرپٹ مافیا کو لگام دینے کی کوشش کی اور فوج کے کردارکوبڑی حد تک بہتر بنایا۔
ن لیگ فوج کو اس حد تک زیر اثر لائی کہ آئی ایس پی آر نے رد الفساد کابیان دیا کہ ’’10 دہشتگرد مارے گئے، 3فوجی شہید ہوئے اور خود کش جیکٹ برآمد ہوئے‘‘۔ تو روزنامہ دنیا میں وزیر داخلہ چوہدری نثار کی بھی خبر لگی کہ ’’واہ کینٹ میں خود کش جیکٹ کیسے پہنچے؟، یہ سب جانتا ہوں مگر ایک ذمہ دار عہدے پر ہونے کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کرسکتا ‘‘۔ ڈان لیکس کچھ بھی نہیں اسکے مقابلے میں لیکن کسی نے اس کو نہیں اٹھایا۔ شیخ رشید کو مولانا فضل الرحمن کی حیثیت افغانستان اور محمود خان اچکزئی کی ایران کی لگتی تھی اسلئے کہا اگر ڈان لیکس پر فوج نے قدم اٹھایا تو مولانا فضل الرحمن فوج کیخلاف نہیں جائیں گے، فوج خود لیٹ گئی تو مولانا فضل الرحمن کیا کرتے؟۔قومی بیانیہ کردار سے بنتاہے، گفتار سے نہیں۔
شہباز شریف جسطرح سابق صدر زرداری کو چوکوں پر لٹکانے ، سڑکوں پر گھسیٹنے اور انواع و اقسام کی گالی گلوچ سے نوازتا ، ڈوگر کیخلاف جالب کے اشعارگا کر دستوراور آئین کو نہ مانتا حالانکہ اسکی صوبائی حکومت بیساکھی پر کھڑی تھی تو موجودہ حکومت کے خاتمہ پر نہال ہاشمی اور وزراء کا رویہ کیا ہوگا؟۔ افتخار چوہدری کی عدالت میں نواز شریف کالا کوٹ پہن کر جنرل اشفاق کیانی کیساتھ پیش ہوا ، جسٹس سجاد علی شاہ پر ہلہ بول دیا، جسٹس قیوم کو خرید لیا ۔ بھٹو کی پھانسی پر جنرل ضیاء کی برسیاں مناتا، اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی سے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر پیسے لئے، تو یہ کونسا مذہب ،نظریہ اور یہ کونسی سیاست ہوسکتی ہے؟۔
ن لیگی رہنما کبھی نہ کہتا کہ’’ آئی ایس پی آر جنرل باوجوہ اب بندوق کی نالی میں رسی ڈال کر صاف کریگا ‘‘ اگر ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر نعیم اللہ باجوہ کی بے عزتی پر ایکشن لیتا۔ ن لیگ کے ایم این اے پرویز خان کورنگے ہاتھوں پکڑلیا تو گلو بٹ سے زیادہ سزا کے لائق ڈاکٹر نعیم اللہ باجوہ کو ڈانٹنے پر عابد شیر علی تھا۔مارشل لاء کے گودی بچے ن لیگ کا وطیرہ ہے کہ انکے گناہوں سے چشم پوشی نہ کرنا بھی جرم ہے، اب یہ جے آئی ٹی اور عدلیہ کیخلاف چیخ و پکار اور دہشت مچائے ہوئے ہیں۔ یہ جمہوری کلچر نہیں مافیا سے بھی بڑا کردار ہے۔
کسی نے آنکھوں میں دھول کیا جھونک ڈالی اب میں پہلے سے بھی بہتر دیکھتا ہوں
قومی بیانیہ یہ ہے کہ عدلیہ نے 2/3سے مہینوں فیصلہ محفوظ رکھ کر عدالت نہیں سیاست کی اور پھر جے آئی ٹی بناکر مریم نوازکا نام نکال دیا۔ پارلیمنٹ کی تقریرکے ثبوت اور قطری خط کے تضادنے وزیراعظم کا احرام کھول دیا۔ کتاب سے صفحات غائب نہ تھے بلکہ جھوٹ کا پلندہ تھا۔ عدلیہ نے روزانہ کی بنیاد پر جو سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد کافی وقت لگایا، یہ سب انصاف نہیں بلکہ نام نہاد سیاہ غلاف تھا۔ جن کو جے آئی ٹی قبول نہ تھی وہ اس کی حمایت میں آگئے، ججوں سے سوال پوچھا جائے کہ تم نے سیاست کرنی ہے یا عدالت؟، اب تو خواجہ سعد رفیق یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو سازش اور سیاست قرار دیتاہے۔ یہ بتایا جائے کہ فوج ، عدلیہ اور ن لیگ سب مل کر مافیا کا کردار ادا نہیں کررہے ہیں؟۔ یہ سب آپس میں ایک ہیں، صرف عوام کی آنکھوں میں زیادہ دھول ڈالنے کی ضرورت اسلئے ہے کہ ’’ الیکٹرانک میڈیانے شعور کو بیدار کیاہے‘‘۔ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد اس کا بیٹا اور یوسف رضا گیلانی کا بیٹا اغواء ہوا۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ڈاکٹر عاصم پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام لگا۔ ذوالفقار مرزا نے عذیر بلوچ کو پالا، زرداری پر الزام لگانے سے پہلے مرزا کو کیوں نہیں پکڑا گیا؟۔پیسوں سے بھری کشتیاں پکڑی گئیں تو پیسے کہاں گئے؟۔ کیا مافیا مل کر اس کو کھارہا ہے؟۔ ن لیگ کی فوج اور عدلیہ کے سائے میں پلنے اور نمک حرامی کی تاریخ رہی ہے۔جلاوطنی کے بعد نوازشریف آیا تورؤف کلاسرانے سکیورٹی فورسز کا لکھ دیا کہ ’’ ایک ڈکٹیٹر کے کہنے پر سپاہیوں نے کتوں کی طرح سابق وزیر اعظم کو گھسیٹا‘‘ ۔ اسوقت کوئی ن لیگی رہنما اور کارکن ائیرپورٹ نہ آیا۔دوبارہ نوازشریف آیا تو نعروں کے جواب میں کہا ’’چپ کرو، تم کہتے تھے کہ نواز شریف قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر مجھے ہتھکڑی پہناکرلیجایا جارہا تھاتو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا‘‘۔بھڑکیاں مارنے والوں نے میاں شریف کا جنازہ بھی نہ پڑھا ۔دھرنے کے موقع پر ن لیگی وزارء پناہ کیلئے حامد میرکے گھر گئے تھے۔ ڈوب مرنے کومیراجی چاہتاہے ، شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
ڈان لیکس کے مسئلہ پر پاک فوج کو فتح کرنے کے بعد عدلیہ اور جے آئی ٹی کے ارکان کیلئے تسلسل کیساتھ جوزبان وزراء استعمال کرر ہے تھے ،جوشیلے مہاجر نہال ہاشمی نے کلمہ پڑھ کر کہا کہ’’ میں نے کسی کو دھمکی نہیں دی‘‘ ۔ اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ میں خوب کہا کہ ’’ضرورت پڑتی ہے تو یہ لوگ ٹانگ بھی پکڑ لیتے ہیں،ویسے تکبرو رعونت سے انکے گردنوں میں سریہ ہوتا ہے‘‘۔ ماڈل ٹاؤن میں بندے ماردئیے لیکن غریبوں کو انصاف نہ مل سکا۔ اب طاقتور فوج بھی ڈان لیکس کے معاملہ میں مظلوم عوام کی صفوں میں کھڑی ہوگئی ہے۔
امامت کے قابل بننے سے پہلے قوم کا تزکیہ ہے، پرویزمشرف کا دور تزکیہ میں گزرگیا، فوج کے جونئیر لوگ طالبان کے ہاتھوں شہید ہوتے مگر جواب نہیں دے سکتے تھے اسلئے کہ قوم طالبان کیساتھ کھڑی تھی ، ڈان لیکس کے معاملے پر فوج کے بڑوں کا بھی تزکیہ ہوگیا۔ بلوچستان کی بلوچ عوام، کوئٹہ میں ہزارہ اور دیگر لوگوں کا تزکیہ، قبائلی علاقہ جات و کراچی کی عوام اور عدلیہ کے ججوں کا تزکیہ اوراے این پی کے قائدین وکارکنوں کا تزکیہ، مساجد وامام بارگاہوں کا تزکیہ بھی ہوچکاہے۔ انقلاب کے ذریعہ پنجاب شریف کا بھی تزکیہ ہوگا۔شہباز شریف یہ کہنے کے بجائے کہ سپریم کورٹ صرف ایک شریف خاندان کا احتساب نہ کرے یہ کہتاکہ ’’پہلے ہمیں سڑکوں پر گھسیٹا ،چوکوں پر لٹکایا جائے، دوسروں کی باری بھی آجائیگی‘‘۔
قرآن کو عملی جامہ پہنانے کا نام سنت ہے۔ جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت سے انقلاب برپا ہوگا۔ سفر میں 2، 3 افرادجارہے ہوں تب بھی ایک کو امیر بنانے کا حکم ہے، نمازکی امامت تربیت ہے، مختلف ممالک کے حکام بھی شریعت کا تقاضہ ہیں۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے پہلے قرآن، پھر سنت اور پھر اجتہاد کے ذریعے فیصلے کا کہا تونبیﷺ نے پسند فرمایا۔ قرآن کو چھوڑ کر احادیث کو مسلک بنایااور احادیث کو چھوڑ کر اجتہادی مسائل کی تقلید کی۔ یہ الٹی گنگا سیدھی کرنی ہوگی۔ گھر کاسربراہ مرد ہوتا ہے لیکن شوہر بیوی اورباپ بچوں کا مالک نہیں ۔ حکمران اوررعایا کے ایکدوسرے پر حقوق ہوتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کے مطابق میاں بیوی کے درمیان حکمرانی اور حقوق کا درست تصور پیش ہوگا توملکی معاملات میں بھی حکمران ورعایا کے حقوق کا درست تعین ہوگا اورپھر عالم اسلام ہی نہیں، دنیا کے انسان بھی قرآن کے مطابق طلاق اور خلع کا معاملہ رائج کرینگے۔ علماء کرام علمی حقائق کی طرف توجہ دیں اور جاہلوں سے چھٹکارا پائیں۔ ایجنٹ علماء ومفتیان ، مذہبی سیاستدان اور مجاہدین آخرت نہیں دنیا کے طلبگار ہیں۔