بلوچستان و پختونخواہ انڈسٹریل زون بن سکتے ہیں، فاروق شیخ

349
0

دنیا بھر میں مستقبل کا سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے، پنجاب اور سندھ انسانی ، حیوانی اور نباتاتی حیات کیلئے قدرتی وسائل کے حامل ہیں

پختونخواہ اور خاص طور پر بلوچستان کے سنگلاغ پہاڑ ومیدان، دشت وصحرا انڈسڑیل علاقے کیلئے زبردست ہیں، گھر کے صحن اور بلڈنگ کو سمجھنا ہوگا

کراچی (پ ر) نوشتۂ دیوار نمائندۂ کورنگی فاروق شیخ نے اپنے بیان میں کہاہے کہ کراچی کورنگی میں رہائشی اور انڈسریل ایریا دونوں کا وجود ہے۔پاکستان کے وسیع نقشہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ چھوٹا صوبہ بلوچستان کا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پاکستان کا شمار انشاء اللہ ہونیوالا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی زرخیز زمینوں میں سہولتوں کی ضرورت ہے، جہاں دنیا بھر سے لوگ اپنے کاروباری مقاصد کیلئے آئیں تو ان کو رہائش کی بہترین سہولتیں میسر ہوں۔ پاکستان ایک گھر کی طرح ہے جس میں بلڈنگ اور صحن ہوتاہے، کوئی صحن کی جگہ پر بلڈنگ اور بلڈنگ کی جگہ صحن والے کام نہیں کرتا۔ پنجاب میں بڑے پیمانے پر کارخانے لگ جائیں تو پنجاب رہائش کے قابل بھی نہیں رہے گا۔ سابق صدر مملکت آصف زرداری نے کہاتھا کہ شریف برادران کے سر وں میں لوہار کا دماغ ہے جس کا وہ بہت برا مانے لیکن لوہار ایک محنت کش کو کہتے ہیں۔ حق حلال کی کمائی والا لوہار ہو یا کوئی بھی محنت کش ،اسکو خفت محسوس کرنیکی ضرورت نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا تھا الکاسب حبیب اللہ ’’محنت کرکے کمانے ولا اللہ کا دوست ہے‘‘، حضرت داؤد علیہ السلام اور آپکے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام تو انبیاء کرام کیساتھ وقت کے خلفاء اور بادشاہ بھی تھے ، جن کو اللہ نے لوہے کی صنعت ذرے بنانا سکھایا ۔ اگر شریف برادران کو بھٹو کے دور میں اس صنعت سے ہٹنے پر مجبور نہ کیا جاتا اور یہ لوگ جنرل ضیاء الحق کے ہتھے چڑھ کرگندی سیاست کے عادی نہیں بنتے تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔ اگر کسی کو وراثت میں قابلیت ملے تب بھی اسمیں کوئی برائی نہیں ہے بلکہ بہت اچھی بات ہے، داؤدؑ سے زیادہ قابلیت حضرت سلیمانؑ میں تھی جس کا قرآن و حدیث میں ذکر ہے۔ ایسی قابلیت کی بنیاد پر وراثت ملتی ہو تو کون اعتراض کرسکتاہے لیکن بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے بجائے کوئی روبوٹ لایا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ جنرل ایوب خان ذوالفقار علی بھٹو کو وزیر خارجہ نہ بناتے تویہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج ہم دنیا کے صنعتی ترقی میں عروج پر پہنچے ہوئے ہوتے۔
پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ملک کی قیادت نہیں کی ہے بلکہ اپنی تجوریاں بھری ہیں۔ اگر ان میں خلوص ہوتا تو سی پیک اور ایرانی گیس کا مسئلہ کب کا حل ہوچکا ہوتا۔ بجلی اور گیس سے محروم عوام کا سیاستدانوں کے پاس احساس بھی نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ دونوں خاندانوں کے احتساب کو یقینی بناکر ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ کرپشن تحریک انصاف کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے ۔ دانشوروں کو چاہیے کہ قومی سیاست پر خاندانی تجارت کے راستے کو روکنے میں عوام اور ریاستی اداروں کا شعور بیدار کریں۔ کھلے ڈھلے الفاظ میں ان کو سمجھائیں کہ کیا نوازشریف عمرہ جاتی کے محل پر بلڈنگ میں صحن والے کام انجام دے گا اورصحن میں بیڈروم کے اشیاء ڈالے گا؟۔ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے پر پنجاب کے دل ساہیوال کا بیڑہ غرق کر رہاہے۔ لاہور کے آس پاس علاقوں میں غریب کے بچے صنعتی زہریلی گیس سے ہی معذور ہورہے ہیں، میڈیا کو اشتہارات دیکر خریدا گیاہے۔ان مہلک امراض سے بچاؤ کی ذمہ داری کس کی ہے؟۔ غریب کے بچے منرل واٹر کیا پینے کے صاف پانی سے پنجاب میں بھی محروم ہیں۔ زہریلے مادوں کے اخراج سے جو نقصان پنجاب کی عوام کو پہنچ سکتاہے ، بھارت کو ہمیں مارنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
کراچی میں زیرزمین سمندر کا پانی ہے لیکن یہاں سے بھی صنعتی علاقوں کو انسانی آبادیوں سے بہت دور لے جانے کی ضرورت ہے، اور پنجاب میں تو زیادہ تر زیرزمین پانی ہی استعمال ہوتاہے ، پاکستان میں صنعتی آلودگی کیلئے موثر اقدامات نہیں کئے گئے تو دشمن کو مارنے کی بھی ہمیں ضرورت نہیں رہے گی۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن نے بدمعاش کلچر متعارف کروا رکھاہے جس کی ایک جھلک میڈیا پر ڈاکٹر نعیم باجوہ کے حوالہ سے عوام نے دیکھی تھی۔ اس بیچارے کا یہ قصور تھا کہ ن لیگ کے ایم این اے کی جگہ پر اس کا بھتیجا امتحان دیتے ہوئے پکڑا تھا۔ پرویز خان سے استعفیٰ لینے کی بات سے زیادہ اہمیت کا معاملہ یہ تھا کہ نوازشریف اور شہبازشریف کو اپنے بدمعاش بھتیجے عابد شیرعلی کو سیاست سے آوٹ کرنا چاہیے تھا، اس سے زیادہ بدمعاشی تو ایم کیوایم اور طالبان نے بھی نہیں کی ہے۔