مجید اچکزئی ، جمشید دستی اور بہالپور وپاڑہ چنار کے واقعات میں فرق کیوں؟ اشرف میمن

431
0

پبلشرنوشتۂ دیوار محمد اشرف میمن نے کہا: یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ریاست اور حکومت کا قبلہ الگ الگ ہوتاہے۔ کوئٹہ میں نامعلوم کی معلومات نہ ہوتیں تو یہ بھی ایجنسیوں کے اس کھاتے میں ڈال دیا جاتا جو دھماکوں کے بعد افواہیں پھیلادی جاتی ہیں کہ خفیہ ہاتھ ملوث ہے۔ مجید اچکزئی نے جرأت کی یا مجبوری کی وجہ سے اعتراف کرنا پڑا؟۔ نامعلوم افراد پر ایف آئی آر درج کرنے سے پتہ چلنا چاہیے اگر محمود اچکزئی نے مطالبہ کردیا کہ اسی روڈ پر کھڑا کرکے مجرم کو یہی سزا ملنی چاہیے تو اسکے نتیجہ میں انقلاب آئیگا۔ کراچی کی سڑکوں پر12مئی کا واقع پرویز مشرف کے دور میں ہوا تو محمود خان اچکزئی بہت اچھا بولتے تھے کہ مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔ انسان، پٹھان اور مسلمان فطرت کے تقاضے پر چلیں تو دنیا امن و امان کا گہوارہ بن جائے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہوسکتاہے کہ اپنا استنجاء چھوڑ کر دوسرے کا عضو دھونے لگ جائے۔ اپنا گند سب کو خود ہی صاف کرنا پڑتاہے۔ 9/11کا واقعہ امریکہ میں ہوا، لیکن تباہ افغانستان ، عراق ، لیبیا اور دیگر ممالک کوکیا گیا جسکی وجہ سے مرض بڑھتا گیا ،جوں جوں دوا کی۔
محمود خان اچکزئی سب سے پہلے اپنے مجرم کو سزا دلانے میں پیش پیش رہے تو اپنی قوم اور پھر سب کا بھلا ہی بھلا ہوگا۔ پھر وہ نوازشریف کو بھی کہہ سکے گا کہ بابا ، آمریت کے دور میں کرپشن کی تو اس کی سزا بھی بھگت لو، طالبان تو اپنی شریعت کی بات کرتے ہیں تم نے تو ساری زندگی آمر کے گود میں گزاردی، جنرل ضیاء الحق خود کرپٹ نہیں تھا تو اس کا بیٹا بھی آپکے ساتھ نہیں ، اختر عبدالرحمن کی فیملی نے کرپشن کی تھی تو وہ آپکے ساتھ ہیں۔ آنکھیں نہ دکھاؤ اور نہ گھماؤ، سیدھا سیدھا حساب دو اور چلتے بنو تاکہ جمہوریت پر قوم کا اعتماد بحال ہوجائے۔ خوشحال کسان ،خوشحال پاکستان کے مد میں جو رقم اشہارات پر خرچ کردی ہے تاکہ میڈیا کو خریدا جاسکے ، اگر اس کا آدھا حصہ بھی غریبوں پر خرچ کیا جاتا تو کم از کم ان لوگوں میں اتنا شعور ہوتا کہ پیٹرول لینے کیلئے اس بے تحاشی کا کبھی مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ افریقہ کے جنگلی انسانوں کو بھی پتہ ہوگا کہ پیٹرول کیلئے جاہلوں کی ایسی گہماگہمی بہت غلط اور آگ کے دریا میں کودنے کے مترادف ہے۔ ہر پیٹرول پمپ پر سگریٹ کی ممانعت لکھی ہوتی ہے۔ شہباز شریف فرنگی ہیڈپہن کر قوم کو بتانا چاہتا ہے کہ طالبان کے حامیوں کو کس طرح اپنا رنگ ڈھنگ بدلنا آتاہے اور جاہلوں کے سامنے جھوٹی سلیمانی ٹوپی پہننا بھی آسان ہے۔ سوشل میڈیا پر تعصب کو ہوا دینے کی بات ٹھیک نہیں ہے البتہ جاہل میں جہالت کی وجہ سے ہی تعصب ہوتاہے۔
پنجاب سے ووٹ ملتے ہیں جس کی وجہ سے اقتدار کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ پاڑہ چنار کا تعلق قبائلی علاقہ سے ہے وہاں کے نمائندے ویسے بھی اپنا ووٹ فروخت کرتے ہیں تو عوام کو خوش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جو بھی قومی اسمبلی کا نمائندہ بن کر آئے اسکے دام لگادئیے جائیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس قوم کی مشکلات اس وقت دور ہوں گی کہ جب ریاست اپنا کام کرے گی اور حکومت اپنا کام کرے گی۔ غریب و امیر ، طاقتور و کمزور اور حکومت و اپوزیشن کی بات اپنی جگہ پر مگر ریاست طاقتور ہو تو بات بنے۔ حکومت خود ہی ریاست کو طاقتور بنانے سے ڈرتی ہے۔ حکمران اگر ریاست کو خود تسلیم کریں تو ہی ریاست طاقتور ہوگی۔ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ پر مرکزی و صوبائی نامزد اور مجرم حکمرانوں کو ٹانگ دیا جاتا تو پارلیمنٹ کا دروازہ توڑنے، پی ٹی وی پر حملہ اور پولیس افسربری طرح زدوکوب پر مجرموں کو ضرور اور کھلے عام سزائیں بھی مل جاتیں۔ عدلیہ پر حملے، چیف جسٹس کو خریدنے اور آمریت کی حمایت کرنے پر سیاستدان نااہل قرار دئیے جاتے تو صاف ستھرے لوگوں کا اقتدار میں آنا بہت آسان ہوجاتا، ریاست بھی مضبوط ہوتی اور جمہوریت بھی مستحکم بن جاتی۔
آمریت کے پروردہ سیاستدانوں سے جمہوری کلچر کو پروان چڑھانے کی امید نامعقول منطق ہے۔ نوازشریف نے اپنے بچوں کے اثاثوں سے ہی لاتعلقی کا اعلان نہیں کررکھا ہے بلکہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ میرے بچے پاکستانی نہیں لندنی ہیں، ہم چاہیں تو وہ عدالت کے کہنے پر جوابدہ بھی نہیں ہوں گے۔جس طرح زرداری کے سوئس اکاؤنٹ بھی پاکستانی نہ تھے لیکن کرپشن کا پیسہ واپس لانے کا مطالبہ ہورہاتھا اسی طرح جن لوگوں نے کرپشن کے پیسوں پر باہر تعلیم اور نیشنیلٹی حاصل کی ہے وہ بھی قوم کو پورا پورا حساب دینے کے پابند ہیں، جو کرپٹ فوجی، بیوروکریٹ و جرنلسٹ ہیں وہ انہی کیساتھ ہیں سب کو پکڑنے کی بات بالکل درست ہے۔ جمشید دستی نے ایک دفعہ پانی کھول کر جس قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے ، وہ رونے کیساتھ ساتھ اس وقت ہنسے گا بھی سہی جب پانامہ لیکس میں شریف فیملی کو بھی اس طرح پنجاب پولیس عوام کے سامنے تذلیل کا نشانہ بنائے۔ زرداری کی زبان کاٹنے والے شریفوں کو مچھر کاٹنے کی تکلیف کبھی نہیں بھولتی ۔ جنرل راحیل ہی نہیں پاک فوج کی موجودہ قیادت نے بھی دہشت گردی کا شکار ہونے والے پاڑہ چنار کے متاثرین کو بڑی اہمیت دی لیکن سیاسی قیادت ڈھیٹ بن گئی ہے، حالانکہ قومی یکجہتی سیاسی قیادت کا فرض بنتاہے۔ مودی سرکار کی دوستی کو نبھانے کیلئے ہندو کی تقریبات میں شرکت کرکے رنگ پھینکنے کی دعوت دیتے ہو لیکن دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کے پاس نہیں جاتے۔ آخرکیوں؟۔عقیدہ کی جنگ اس بات پر ہے کہ کوئی جنت میں جائیگا کوئی جہنم میں، شرک کو اللہ معاف نہ کریگا۔ نوازشریف کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی کہ جنت وجہنم کا فیصلہ ہم نے نہیں کرنا۔ عقیدہ میں زبردستی نہیں مگر جنت جہنم کی بنیاد پر بات ہے، پاڑہ چنار جنت کو دہشتگردوں نے جہنم بنا دیا اور تم نے پوچھا تک نہیں؟، جھوٹے!تمہاری کرپشن سے پنجاب کے عوام شعلوں کی نذرہوئے۔