منظور پشتین پر علی محمد خان کے بیانیہ کا سب ہی کیلئے قابلِ قبول جوابی بیانیہ

691
0

malala-yousuf-manzoor-pashteen-asma-jahangir-imran-khan-taliban-army

منظور پشتین نے پوری ریاست اور اسکی لے پالکوں کو جتنا بڑا ٹف ٹائم دیاہے وہ میرے لئے بہت باعثِ حیرت ہے۔ ڈاکٹر شاہددانش کا اپنا مزاج ہے۔ 24چینل کے پروگرام میں ایک انوار الحق کاکڑ اورایک ریٹائرڈ برگیڈ ئیر کی باتیں بہت معقول تھیں۔ جنگوں کی حالت میں انسانی حقوق کے پیمانے بالکل ہی عام حالات سے مختلف ہوتے ہیں اور کور کمانڈر منظور پشتین سے مذاکرات کیلئے ٹیم تشکیل دے چکے ہیں اور سیاسی حکومت عدالتوں میں کرپشن کی پیشیاں بھگتنے میں مصروف ہیں جن کا کام مذاکرات تھالیکن تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کی باتیں سن کر سمجھ نہیں پاتا تھا کہ آدمی ہنسے یا روئے؟۔ علی محمد خان منظور پشتین کے پرامن ساتھیوں سے گولی کھاکر شہید ہونے اور پاکستان کے جھنڈے میں دفن ہونے کی وصیت کرکے کہہ رہا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا بے غیرت ماموں بھی بنگلہ دیش میں ہتھیار ڈال گر انڈیا کی جیل کاٹ کر آیا تھا اور آج میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ جنرل نیازی کی طرح ہتھیار ڈالنے کیلئے ہر وقت دستہ بستہ عمران خان نیازی کی لیڈرشپ میں کام کررہا ہوں۔ یہ اچھے رشتے ہیں لیکن بھارت کی جیل کاٹنے میں فخر کی کونسی بات ہے؟۔ مشرقی پاکستان نہیں بچایا تو بقیہ بچانے کیلئے یہ کہنا چاہیے تھا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ یہ غلطی ہوگئی اور اب مجھے منظور پشتین کیا امریکن فوج بھی آئے تو میں گولی کھالوں گا مگر سرنڈر ہونے کی غلطی نہیں کروں گا۔
منظور پشتین کے دادا نے کشمیر کے جہاد میں1948ء میں حصہ لیا تھا اور سری نگر تک فتح کے جھنڈے گاڑھ دئیے تھے ۔مگر نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم راعنا لیاقت علی خان کو فوج کے جرنیل کا عہدہ دیا گیا تھا اور اس کی سازش سے مقبوضہ کشمیر کوپھر بھارت کے حوالے کیا گیا۔ پاک فوج کو ان بے غیرت سیاسی رہنماؤں سے ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے کہ جب طالبان کا مقابلہ پشتو ن قیادت قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی خان، بشیربلور شہید، میاں افتخار حسین ، محمود خان اچکزئی ، ملالہ یوسف زئی اور افضل خان لالہ مرحوم کررہے تھے تو ن لیگ اور تحریک انصاف کے بے غیرت رہنما ان پر امریکی ایجنٹ کا الزام لگاتے تھے۔ فوج ضرب عضب کے مقدس مشن میں مگن تھی اور عمران خان دھرنوں بلکہ مجروں سے خطاب کے دوران پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے۔ جب فوج کی لاشیں چھپ چھپاکر دفن کی جارہی تھیں تو آصف زرادی نے شہید کہنے کی جرأت کرلی۔
فوج ان بے غیرتوں کی غلط بیانی سے مغالطہ کھا جاتی ہے اور بسا اوقات مکڑے کے جال میں مکھی کی طرح پھنس جاتی ہے۔ خوشامد بھی تو ایک بڑا کارآمد ہتھیار ہے۔ فوج نے جس طرح ایک وقت تک بے غیرت سیاستدانوں کی فوج ظفر موج کو پالا تھا ،ایک بے غیرت کی جگہ دوسرا زیادہ بے غیرت لے لے تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔ منظور پشتین غیرتمند باپ اور غیرتمند دادا کی غیرتمند اولاد ہے وہ کسی کٹھ پتلی کا کردار ادا نہیں کرسکتا ہے۔ اس بات کا عوام کو اطمینان ہوجائے کہ منظور پشتین کے پیچھے فوج کا ہاتھ نہیں تو عوام کا ٹھاٹھے مارتا ہواسمندر سیاسی بڈھے ہجڑوں کو شکست دیگا۔ جس طرح ہجڑے جواں ہوں تب بھی ان میں جنسی خواہش نہیں ہوتی ہے لیکن کشش ہوتی ہے اور اپنی حرکتوں سے لوگوں کو مغالطہ دیتے ہیں کہ ان میں بھی خواہشات ہیں۔ اسی طرح سیاسی قائدین اور بیشتر رہنماؤں میں عوام کاکوئی درد نہ ہوتا تھا مگر عوام کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ اب تو ان سیاسی قائدین اور رہنماؤں کی حالت بڈھے ہجڑوں کی طرح ہے جو صرف انسانی بنیادوں پر قابلِ رحم نظر آتے ہیں۔
پاکستان اسلام کے نام پر بناہے اور قرآن پاک میں جہاں نبی پاک پیغمبرآخر زمانﷺ اور مقدس صحابہ کرامؓ کی اصلاح کا مثالی کارنامہ انجام دیا گیا ہے ۔ نبیﷺ کو عبداللہ بن مکتوم ایک نابینا صحابیؓ کے آنے پر عبس وتولیٰ ان جاء ہ الاعمیٰ نازل ہوئی۔ آیات کا مقصد یہی تھا کہ آنیوالے وقت میں جو خود کو مقدس گائے قرار دیکر اصلاح کی کوشش کو ناقابلِ برداشت کہے تو اس بے غیرت اور بے ایمان خوشامدی کا بھی پتہ چلے۔
پاک فوج نے منظور پشتین کی تحریک کا شروع میں خیرمقدم کیا تھا اور چیک پوسٹوں پر معاملات بھی درست کردئیے تھے۔ اور یہ فوج کے مفاد ہی میں تھا۔ لوگوں نے طالبان کے کردار کی وجہ سے دھوکہ کھایا ہے اور ان کے ذہنوں میں سازش کا خدشہ تھا اسلئے منظور پشتین سے زیادہ تر دور دور ہی رہے لیکن اب معلوم ہوگیا ہے کہ واقعی یہ انکے دل کی آواز اور عوام کی ہمدردی ہے جو زبردست مقبولیت کا ذریعہ بنے گی۔ فوج کی طرف سے تھوڑی بہت مخالفت سے عوام میں غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں۔ عوام ایک سیاسی قیادت کی ضرورت ہے اور پشتون نہیں بلکہ بلوچ، سندھی اور مہاجروں کے علاوہ سب سے زیادہ مظلوم پنجابی ہیں۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ پنجاب کے غریب اور مظلوم عوام منظور پشتین کی قیادت کیلئے ترس رہے ہیں۔ غریبوں کی عزتیں لٹ رہی ہیں مگر پُر تکلف کھانوں، ہیلی کاپٹروں اور پروٹول کے شوقین لیڈر وزیراعظم کا خواب دیکھنے کیلئے مررہاہے۔منظور پشتین کی غلط باتوں اور بیانیہ کا جواب الزامات لگانے سے عوام کو نہیں مل سکتا ہے بلکہ معقول طریقے سے بات کا جواب بات سے دینا پڑیگا۔
منظور پشتین کہتا ہے کہ’’ مجھ سے کہا گیا کہ طالبان کیخلاف بیانات دینا شروع کردو تو پوری قوم تمہاری قیادت ماننے کیلئے تیار ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ملالہ یوسف زئی نے طالبان کے خلاف بیانات دئیے، طالبان نے گولی ماردی ، تم نے اس کی آمد پر بھی بلیک ڈے منایا ۔ تمہیں پشتونوں سے دشمنی ہے۔ تم نے ہمیشہ دوسروں کی جنگ صرف پیسوں کی لڑی ہے اور ہم پر بھی یہی گمان رکھتے ہو کہ کسی کی جنگ پیسوں کیلئے لڑ رہا ہوگا ۔ میں تمہارے دل ودماغ کی سوچ کو معذور سمجھتا ہوں۔ تمہاری اس سے زیادہ سوچ نہیں ہے اور نہ میں سمجھا سکتا ہوں‘‘۔
کھڈوں کیلئے الزام تراشی کے سوا دوسری کی بات سوجھتی ہی نہیں ہے۔ منظور پشتین کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون قوم سے تیری محبت ایمان کی علامت اور سلیم الفطرت ہونیکی نشانی ہے، یہ تجھ پر اللہ کا فضل ہے کہ اپنی قوم کیلئے آواز اٹھادی ہے ورنہ ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ عمران خان نے گلشا عالم برکی کیلئے بھی نہ پوچھا جس نے مشکل وقت میں عمران خان کو یہودیت کے طعنے برداشت کئے۔ ہاں قوم کی محبت اور تعصب میں بہت بڑا فرق ہے۔ تعصب بے ایمانی کی نشانی ہے۔ جن لوگوں نے ملالہ کو تنقید کا نشانہ بنایا وہ پختون وپنجابی کا مسئلہ نہیں تھا، یہ رنگ دینا تعصب ہے۔ عاصمہ جہانگیر پنجابی تھیں ان کو بھی تنقید سے پنجابی ہونے کی وجہ سے چھٹکارا نہیں مل سکا۔ عاصمہ جہانگیر نے جس بہادری سے ہرقوم وزبان اور طبقے کیلئے آواز اٹھائی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ تعصبات کا پیمانہ لامحدود ہے اور عدل کا دامن پھر ہاتھ سے نہ صرف نکلتا ہے بلکہ بڑے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ مہاجروں اور بلوچوں کی قوم پرستی اور تعصبات سے سبق سیکھنا چاہیے حضرت ابوبکرؓ نے تعصبات سے نجات حاصل کی تھی تو قریش کے کمزور قبیلے سے تعلق کے باجودخلیفہ اول بن گئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہؓ انصار کے سردار تھے مگر تنہائی کا شکار ہوگئے۔ سابقین الاولین سے ہمیں سبق سیکھنا ہوگا۔
پاکستان اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز ہے۔ نوازشریف ومریم نواز سارا دن عدلیہ اور فوج کے خلاف بک بک کرتے ہیں اور سارے ٹی وی چینلوں بشمول پی ٹی وی کوریج بھی ملتی ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ نوازشریف نے فوج کو کینگرو سمجھ رکھا ہے۔ ایک عمر تک تو فوج نے اپنے بچے کو بوڑھے ہونے کے باوجود بھی اٹھائے اٹھائے گھمایا اور اب عمران خان کی چاہت ہے کہ فوج کینگرو بن کر اس بڈھے ہجڑے کو بھی اٹھائے گھومے۔
منظور پشتین نے اپنے دلیر، بہادر اور جوانمرد ساتھیوں کے ذریعے سے مظلوم پشتونوں کے دل کی آواز وہاں تک پہنچائی، جہاں سے داد رسی بھی ہوئی ہے۔ میرانشاہ اور میرعلی کے تاجر اپنا حق مانگنے سے بھی ڈرتے تھے۔ یہ سب کھدڑی لیڈر شپ ہی کا کمال تھا کہ عوام بزدل بن گئے تھے۔ اب منظور پشتین نے ہی قیادت کرنی ہے اگر وہ شہید کردئیے گئے تو علی وزیر زیادہ خطرہ ثابت ہوگا اور ان کو شہید کیا گیا تو خان زمان کاکڑ جیسے جوانوں کو میدان میں اتارا جائیگا۔ فوج بیچاری تو حکموں پر چلتی ہے مگر اصل مسئلہ سیاسی لیڈر شپ کا ہے۔ لے پالکوں اور دُم چھلوں سے جان چھوٹ جائے گی تو فوج سے عوام کی محبت بڑھے گی۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر