Home Dars-e-Nizami خیر کیسے غالب آتی ہے اور پھرشر کیسے غالب آتا ہے؟

خیر کیسے غالب آتی ہے اور پھرشر کیسے غالب آتا ہے؟

272
0

دور جاہلیت میں شر ہی شر کا غلبہ تھاتو اللہ تعالیٰ نے نبی آخر زمان حضرت محمد مصطفی رحمۃ للعالمین ﷺ پر اپنی آخری کتاب قرآن کو نازل فرمایا۔ گنتی کے چند صحابہ کرامؓ رسول اللہ ﷺ کیساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ بدر و اُحد اور تبوک و حنین کے غزوات اور صلح حدیبیہ و فتح مکہ تک کے واقعات میں ایک باکردار جماعت تیار ہوئی اور مختصر عرصہ میں اپنے دور کی سپر طاقتوں قیصر اور کسریٰ کو شکست سے دوچار کردیا۔ خلافت راشدہ کے بعد امارت و بادشاہت کی وجہ سے شر کی طاقت نے خیر کی قوت کو اس قدر کمزور کردیا کہ چنگیز کے پوتے ہلاکو خان کی یلغار نے عباسی خلافت کے پایہ تخت بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ لسانیت پرست پختون و بلوچ چنگیز خان و ہلاکوخان کی طرح پاکستان کو فتح کرنا چاہتے ہیں تو مسلح پیشہ ور فوج سے ٹکر ان کو مزید نیست و نابود کرسکتی ہے۔ لیکن اگر سرکار دو جہاں رحمۃ للعالمین ﷺ کے طرز پر اپنی قوم سے اصلاح کی تحریک کا آغاز کیا جائے تو نہ صرف پاکستان میں ایک مثبت انقلاب آسکتا ہے بلکہ پورے خطے میں پاکستان ، افغانستان اور ایران کا ایک اسلامی بلاک بھی بن سکتا ہے۔
ان ممالک سے درست سمت پر ایک حقیقی اسلامی انقلاب کا آغاز ہوگا تو دنیا کی سطح پر عرب اور تمام اسلامی ممالک سمیت ایک عظیم تبدیلی آسکتی ہے۔ مغرب اور تمام ترقی پذیر ممالک بھی اسلام کے درست معاشرتی نظام سے متاثر ہوکر اپنی سوچ کو بدل دیں گے۔ دنیا میں مسلمانوں کی عزت اسلام کی حقیقی تعلیمات سے بحال ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ایسی خلافت قائم کرے گا کہ زمین و آسمان والے دونوں کے دونوں اس سے خوش ہونگے۔ بھارت پاکستان کو کشمیر تحفے میں پیش کریگا۔ اور بیت المقدس کی آزادی کسی خونریز جنگ کے بغیر پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ ملا عمر کی حکومت سے پہلے مجھے ایک مجاہد نے کہا تھا کہ ایک جہادی تنظیم آپ پر اعتماد کرتی ہے اور وزیرستان میں اسلامی مدرسے اور جہاد کے مرکز کیلئے ڈیڑھ کروڑ ریال کی رقم تیار پڑی ہوئی ہے اور باقی ماہانہ خرچے بھی دئیے جائیں گے لیکن میں نے کہا تھا کہ ہم کسی کے ہاتھوں میں استعمال ہونے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔
کانیگرم جنوبی وزیرستان میں چوریوں اور ڈکیتیوں کا آغاز ہوا تو ڈکیت نے سام سرائے سے ایک پک اپ چھین لی اور کڑمہ کی طرف اغوا کیا۔ علاؤ الدین نامی ایک غریب شخص نے ڈکیتوں پر فائر کھولنے کیلئے کلاشنکوف اٹھائی تو وہاں پر موجود افراد نے اس کو گالی دی کہ ہمیں مروادو گے۔ گاڑی اغوا ہونے کے بعد وہ افراد علاؤالدین کیساتھ علاؤ الدین کی گاڑی میں مخالف سمت لدھا رپورٹ درج کرنے گئے۔ اغوا کی گئی گاڑی وانہ کے وزیروں کی تھی۔ رات گیارہ بجے واپس سام سرائے میں علاؤ الدین اور اسکے ساتھ دوسرے افراد گاڑی کھڑی کرکے نکل گئے۔ کانیگرم قوم کے مشیران نے دعویٰ کیا کہ اغوا کار گاڑی لے جارہے تھے تو وہ کسی کالے رنگ والی گاڑی سے ایک شخص سے آمنا سامنا کرنے پر ملے تھے۔ یہ شخص علاؤ الدین ہوسکتا ہے۔ علاؤ الدین نے کہا کہ 40 افراد میرے گواہ ہیں اسلئے مجھ پر قسم نہیں بنتی۔ بڑوں کو سمجھایا گیا کہ یہ زیادتی ہے لیکن بڑوں نے کہا کہ طاقتور چوروں کیلئے راستہ بنارہے ہیں۔ پھر جب طاقتور چوروں کو قسم اٹھانے کا کہا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ بڑے بھی قسم اٹھائینگے۔ جس کی وجہ سے طاقتور چوروں کو قسم کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکا۔ پھر علاؤ الدین کے بھائی عبد الرشید کو چوروں کیخلاف کمیٹی کا صدر بنایا گیا۔ عبد الرشید نے رات کو تاریکی کا فائدہ اٹھا کر پورے لشکر میں سے ایک چور کو پکڑا اور آواز لگائی کہ ایک میں نے پکڑ لیا ہے اور باقی کوئی بھی بچ کے نہ نکل سکے۔ یہ سن کر دوسرے چور بھاگ گئے۔ اس چور کو مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرکے سارے چوروں اور چوریوں کی بھرپور نشاندہی کی گئی۔ لیکن پھر کسی چور سے بھی کسی طرح کی پوچھ گچھ تک نہ کی گئی۔
پولیٹیکل انتظامیہ نے چوروں کیخلاف اقدامات پر زور دیا تھا تو قومی لشکر نے علاؤ الدین اور عبد الرشید کے گھر کو اسلئے لوٹ لیا تھا کہ وہ چور ہیں۔ یہ لوگ بعد میں طالبان بن گئے اور عبد الرشید نے مجھ سے کہا تھا کہ طالبان کیخلاف اٹھنے کی اجازت ہو تو یہ بڑے ظالم ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ امریکہ کیساتھ ہی جہاد کرنا چاہیے۔ پھر معلوم نہیں ہوسکا کہ عبد الرشید کو امریکیوں نے مارا یا طالبان نے خود ہی بیچارے کو شہید کردیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ کانیگرم شہر میں استعمال کے پانی کا بھی بڑا مسئلہ ہوتا تھا۔ خواتین و حضرات مشکل سے پانی بھر بھر کے لے جاتے تھے۔ پھر پہلی مرتبہ حکومت نے بڑی ٹینکی بنا کر گھروں میں نلکوں کا بندوبست کیا تو کسی نے ٹینکی میں ڈی ٹی ٹی ڈال کر تخریب کاری کی۔ رات کی تاریکی میں بعض لوگ راستوں میں مائن دفن کرتے تھے جس سے کچھ لوگ صبح نماز وغیرہ کیلئے جاتے ہوئے معذور ہوگئے۔ یہ طالبان کی آمد سے بہت پہلے کی تخریب کاری تھی۔ اس طرح چوروں اور ڈکیتوں نے وزیرستان میں لوگوں کا جینا دوبھر کردیا تھا۔
عوام میں اسلام کا جذبہ تھا اور طالبان کو امریکہ کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے بڑا کردار مل گیا۔ عوامی مقبولیت کیساتھ طالبان میں بدمعاش اور ڈکیت بھی شامل ہوگئے۔ حاجی زانگبار لنگر خیلؒ کے خاندان کا ایک فرد میرے پاس آیا کہ نمرجان کا بیٹا ممتاز طالبان میں شامل ہوا ہے۔ وہ ہم سے مطالبہ کررہا ہے کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم دو کہ ہمارے خلاف پولیٹیکل انتظامیہ کو کچھ لکھ کر نہیں دیا ؟۔ جبکہ ہم نے کورے کاغذ پر دستخط کئے تھے۔ اب ہم کیا کریں؟۔ میں نے مشورہ دیا کہ تم بھی طالبان میں شامل ہوجاؤ اور اس کے شر سے بچو۔ پھر یہ لوگ طالبان کے بڑے حامی بن گئے۔ اس طرح بہت سے لوگوں نے ڈر کے مارے اپنا لبادہ بدلا تھا۔
ساہیوال کے واقعہ میں سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر بندے مار دئیے تو ڈیوٹی پر موجود لوگ ریاست سے کیسے چھپ سکتے ہیں؟۔ریاست نے ہی انکو بچانے کیلئے ایسے پاپڑ بیلے ہیں کہ دنیا پریشان ہے۔ یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ قتل خطاء اور قتل عمد میں کیا فرق ہے؟۔ اگر مقتولین سے دشمنی کی کوئی وجہ نکلے تو یہ قتل عمد ہے ورنہ قتل خطاء اور نا اہلی ہے۔ کراچی میں دہشتگردی اور ڈکیتی کو کنٹرول کرنے کیلئے رینجرز کا کردار جب قابل تحسین بنا تو دو واقعات قتل خطا ء کے ہوگئے۔ ایک سے بالکل غلطی میں گولی چل گئی اور دوسرے نے بھاگتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور پر فائر کیا تو گولی لگ گئی۔ میڈیا نے آسمان سر پر اتنا اٹھایا کہ رینجرز کی غلطیوں کو بھی دھو ڈالا۔ اسی طرح کوئٹہ میں ایک واقعہ کی میڈیا نے خوب تشہیر کی۔ جس دور میں کوئی مقامی افراد کوئٹہ کے راستے سے افغانستان آنے جانے سے کتراتے تھے تو ایسے میں غیر ملکی نو مسلم خواتین کیا کرنے آجارہے تھے؟۔ یہ سوال کسی نے نہیں اٹھایا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جنرل باجوہ اورتبدیلی کے برخوردار جناب وزیر اعظم عمران خان نے اگر پارلیمنٹ اور علماء و مشائخ کی مدد سے اسلام کے معاشرتی نظام کو ٹھیک کرنے کا تہیہ کرکے اقدام اٹھایا تو گھر ، محلہ ، شہر اور گلی کوچوں اور سڑکوں جنگلوں میں انقلاب کی گونج سنائی دے گی۔ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور گھر کی سطح سے بین الاقوامی سطح تک معاشرے کو درست کرتا ہے۔ عتیق گیلانی