شمالی وزیرستان خیسورہ کے بچے حیات خان کی آواز !

386
0

پختون قوم ،آزادقبائل اور خاص طور پروزیرستان کے وزیر، داوڑ ،محسوداور بالخصوص کانیگرم کے برکی بہت زیادہ انسان دوست، حق پرست، آزادمنش ہیں۔ یورپی یونین، برطانیہ ، امریکہ اور مغرب میں بھی جمہوریت، آزادی اور حق پرستی کا ایسا تصور موجود نہ تھا جو وزیرستان میں تھا۔ زام پبلک سکول ٹانک کے سابق پرنسپل عارف خان محسود نے وزیرستان پر دوکتابیں لکھی ہیں، جو پہلے کمیونسٹ بن گئے تھے ،اس نے بڑے جلسے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر اللہ ہے تو میرے ہاتھ کو نیچے کرکے دکھائے، یہ کیسا اللہ ہے جو آنکھ، ناک اور کان نہیں رکھتا ، یہ تو پھر ایک بوتل ہے‘‘۔ عوام الناس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے مگر کسی نے ان کے گریبان میں ہاتھ نہیں ڈالا۔ لوگوں نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ توبہ توبہ کرنے لگے۔ پھر بعد میں عارف کو فالج ہوگیا اور سچے پکے مسلمان بن گئے۔ آزادی کا یہ تصور دنیا کے کسی کونے میں بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ عوامی جذبات کے خلاف کسی کو انفرادی طور پر ایسی آزادی دنیا کے کسی خطے میں میسر نہیں تھی۔ جب طالبان کیوجہ سے وزیرستان کی فضاء بد سے بدتر ہوگئی تھی اور میں روپوشی کی زندگی گزار رہا تھا تومعروف کمیونسٹ بلوچ یوسف نسکندی سے ملاقات ہوئی۔ انکے ذہن میں ایک انقلابی کی حیثیت سے میرا یورپی یونین سے رابطہ ضروری تھا جس کو باغیوں کی تلاش تھی مگر ایک ملاقات سے اسکے عزائم بدل گئے اور پھر انہوں نے کہا کہ اسلام کیلئے سلیم اختر(پنجابی) سے ملاقات کرو ۔ سلیم اختر نے کہا کہ پہلے مجھے اس اسلام کا پتہ ہوتا تو بہت پہلے اسلام قبول کرتا۔ اس نے پھر کمیونسٹ پارٹی کے امداد قاضی سندھی سے عاصم جمال کے ہاں ملاقات کرائی۔جب ان کو آزادمنش وزیرستان اور انسان دوستی کے قصے سنائے تو وہ بڑے حیران ہوگئے۔ امداد قاضی کو پختون عورت کا فون آیا کہ کوئی پختون ساتھ میں ہے؟، بات کراؤ۔ میں نے اشارے سے منع کیا۔ پھر وہاں سے میں خطرے کے باعث فرار ہوگیا اور چند دن بعد گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ تعاقب ہورہاتھا۔پاکستانی انٹیلی جنس کی ایجنسیاں بہت تیز ہیں۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا اگر اللہ کے بعد کوئی جانتا ہے تو ایجنسی والے جانتے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر قوموں اور ریاستی اداروں میں خوبی اور کمزوری دونوں کو سب جانتے ہیں۔ البتہ انسانوں کا خفیہ جوہر سمجھنے کیلئے ماحول کی ضرورت ہے۔ ذاتی مفادات کی وجہ سے آج تک پاکستان کو وہ قیادت نہیں ملی جو پاکستانی قوم اور اداروں میں خامیوں کا ادراک اور ازالہ کا کردار ادا کرتی۔