دہشت گردی کی اصل کہانی: ایک وزیرستانی کی زبانی

1660
0

manzoor-pashteen-ghq-shahid-khakan-black-water-shahid-masood-ratan-bai-ptm-shabbir-ahmed-usmani
میں سید عتیق الرحمن گیلانی سکنہ کانیگرم تحصیل لدھاجنوبی وزیرستان ایجنسی، و جٹہ قلعہ گومل تحصیل وضلع ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان پختونخواہ کویہ اعزاز حاصل ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ اسلام آباد کے دھرنے میں پہلی مرتبہ یہ برملا نعرہ لگایا کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے،اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔پھر اخبار کی شہہ سرخی کی ذیلی بھی لگادی۔فوج کی پشت پناہی کے بغیر پاکستان میں انسان تو دور کی بات ہے چیونٹی کے لشکر میں اپنی قوم کا ہمدردیہ نعرہ نہیں لگاسکتا جو حضرت سلیمان ؑ کے دور میں چیونٹی نے کہا : ’’ بچو! کہیں سلمان کا لشکر تمہیں روند نہ ڈالے‘‘۔
منظور پاشتین کی پہلی تقریر نقیب اللہ محسود کیلئے وزیرستان کے ایک جرگہ کے دوران موجود ہے جس میں ایک معمر شخص کہتا ہے کہ’’ پولیٹیکل ایجنٹ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ چلیں فوج کے افسروں سے بات کرتے ہیں‘‘۔ منظور پاشتین اچانک عوام کی طرف سے نمودار ہوتا ہے اور اپنی تقریر میں کہتا ہے کہ ’’ کراچی میں اب ایک کتنا پیارا جوان ماردیا گیا ، میں نے چھ سات طلبہ ساتھیوں کیساتھ آواز اُٹھائی ہے تاکہ یہاں سے بارودی سرنگین صاف کی جائیں۔ دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے تو پورے علاقے کی عوام کو سزا دی جاتی ہے۔مجھے پہلے بھی روکا گیا کہ آپ نہیں آیا کریں مگر میری بے بسی ہے ،بس آجاتا ہوں۔ مجھے پہلے فوج گرفتار کرکے لے گئی اور اپنے ساتھیوں کے احتجاج پر مجھے چھوڑ دیا گیا۔ ہم اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے، ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، اسلام آباد اور GHQ کے سامنے تک یہ سلسلہ لیکر جائیں گے۔ ہمارے لوگ قانون سے واقف نہیں ہیں۔ پاکستان کا یہ قانون ہے کہ کسی بھی شہری کو گرفتار کرنے کے بعد 24گھنٹوں میں اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائیگا۔چاہے وہ گناہگار ہو یا بے گناہ ہو۔ بہت بے گناہ لوگ لاپتہ ہیں جن کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ زندہ ہیں یا ماردئیے گئے ہیں۔ پولیس ، فوج اور خفیہ ادارے سب قانون کے پابند ہیں۔ ہم آئین کے مطابق ہی اپنے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘‘۔ منظور پاشتین کی اس تقریر سے پتہ چلتا ہے کہ قبائلی عمائدین پہلے بھی اس باغی جواں کی طرف سے چیونٹی کیطرح قوم کی ہمدردی کیلئے آواز اٹھانے سے بیزار تھے اور خوف وہراس کا شکار تھے۔
نقیب اللہ محسود کیلئے کراچی میں جو دھرنا دیا گیا تھا وہ حکومت کے دباؤ پر ختم کیا گیا لیکن اسلام آباد دھرنے کے اصل محرک منظور پاشتین اور اسکے ساتھی تھے۔ یہ جھوٹ بولا گیا کہ کراچی کا دھرنا اسلئے ختم کیا گیا کہ اسلام آباد دھرنے میں شریک ہوں گے۔ اسلام آباد دھرنے کے اسٹیج پر جوان طبقے کا قبضہ تھا لیکن عوام سب کے سب بہت جذبات میں تھے۔ پاکستان کے حق میں کوئی ہمدردی والی بات کرنے کا ہلکا سا اشارہ دیتا تو مخالفت میں آوازیں اٹھنا شروع ہوجاتی تھیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات میں کہا کہ ’’ہم خود بھی فوج سے تنگ ہیں۔ منتخب وزیراعظم سے طاقتور کون ہوگا؟ ، پہلے بھی نوازشریف کے برسراقتدار خاندان کی جس طرح سے توہین کی گئی۔ کود کر گرفتار کرلیا، ہتھکڑی پہناکر گھسیٹاگیا ، جلاوطنی پر مجبور کیا گیا۔ اب دوبارہ نوازشریف کو نااہل کیا گیا، یہ سب فوج ہے‘‘۔ عمائدین کیلئے وزیراعظم کی زیارت ، فوج کے ڈراؤنے چہرے کی نقاب کشائی بہت تھی جو سب کو راتوں رات احتجاج ختم کرنے پر مجبور کر گیا لیکن منظور پاشتین اور بہت ہی کم ساتھیوں نے شامِ غریباں میں بھی اپنا دیا جلائے رکھا۔ جب میں نے دیکھا کہ عوام پر مایوسی اور خوف کی کیفیت طاری ہے تو ان کو حوصلہ دینے کیلئے نعرہ لگوایا کہ ’’ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔ جس سے اسٹیج کے منظم افراد میں مارے خوف کے بھگڈر سی مچ گئی۔ میری تقریر کا ایک ایک لمحہ منتظم افراد کے اوپر پہاڑ سے زیادہ بھاری گزر رہا تھا۔ میں نے واضح کیا کہ میں حقائق بتاؤں گا، ڈرو نہیں ،میں تمہیں لڑاؤں گا نہیں۔ میں نے تقریر کا آغاز علامہ اقبال کے اس شعرسے کیا۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یابندہ صحرائی یا مرد کوہستانی
اور اس کا اختتام اس بات سے کیا کہ قبائل ریاست کی نرینہ اولاد ہیں۔بیٹے مار بھی کھاتے ہیں، بے عزتی بھی برداشت کرتے ہیں لیکن والدین کے سامنے اُف نہیں کرتے۔ قرآن میں اللہ کا حکم ہے کہ والدین کے سامنے اُف نہیں کرنا۔ قبائل نے اتنی مشکلات برداشت کیں مگر اُف نہیں کی اور آج بھی یہ اُف کرنے نہیں آئے ہیں۔ یہ وہ نہیں جو کہتے ہیں کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ ریاست نے جن کو اقتدار دیا ہے وہ ریاست کی زنانہ اولاد ہیں، ان کی حیثیت ان بیٹیوں کی طرح ہے جن کو والدین ناز سے پالتے ہیں اور پھر وہ بھاگ کر کورٹ میرج کرلیتی ہیں اور یہ بیٹیاں بھٹو، نوازشریف اور عمران خان ہیں۔ بیٹوں پر سختی کی جاتی ہے تو اس نے اپنے باپ کا منصب اور ذمہ داریاں اٹھانی ہوتی ہیں۔ مجھے موقع نہیں دیا گیا ورنہ بہت تفصیل سے ایک روڈ میپ دیتا کہ انقلاب کیسے آتا ہے۔
جو فقر ہوا تلخئ دوراں کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
جب پورے ملک میں بلیک واٹر کے کارندوں اور طالبان کو آزادی ہو ، لیکن شریف لوگوں کیلئے جینا حرام ہو۔ اسلام آباد کی سول بیوروکریسی کے افسر جعلی نمبر پلیٹ اپنے سرکاری گاڑیوں پر لگانے میں مجبور ہوں اور وزیراعظم یوسف گیلانی و گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے بھری محفل میں ملتان اور لاہور سے اغواء ہوکر افغانستان پہنچ جائیں تو پاک فوج کی پاکی اور صلاحیت کو سلام کیا جائے یا پھر اس دہشت گردی کے پیچھے وردی کو ملوث قرار دیا جائے؟۔ پنجاب کے کھدڑے اس حقیقت کو کھلے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ وہ غلامانہ ذہنیت پر مجبور ہیں لیکن آزاد قبائل کی آواز کو برطانیہ بھی نہ دبا سکا تھا جسکے اقتدار پر سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ جب امریکہ نے پاک فوج پر حقانی نیٹ ورک کا الزام لگایا تو پاک فوج کی کور کمانڈرز کانفرنس میں باقاعدہ یہ جواب دیا گیا کہ ’’ہم اس میں اکیلے نہ تھے یعنی تمہاری وردی والے امریکی سی آئی اے بھی اس میں شریک تھی‘‘یعنی دونوں نے مل کر یہ گیم کھیلا ہے۔
جب پہلی مرتبہ وزیرستان کے مجاہدکیمپ پر بمباری ہوئی تو گورنر اورکزئی نے جنوبی وزیرستان کے قبائلی عمائدین کو پشاور میں بلالیا۔ جنرل اورکزئی نے بہت تفصیل کیساتھ بتایا کہ وزیر علاقہ سے محسود علاقہ میں ازبک کس طرح کہاں کہاں اور کس کس کے پاس رُکے اور کیا کیا ہوا۔ مولانا عصام الدین محسود نے یہ رام کہانی کی داستان سن کر کہا کہ گورنر صاحب! میں معافی چاہتاہوں جو معلومات آپ کے پاس ہیں ، یہ ہمارے پاس بھی نہیں۔ ازبک کی ساری کہانی آپ نے بتادی۔ جب قبائل کے قریب ازبکوں کا کیمپ بھی تھا تو آپ نے ان کو کیوں نشانہ نہیں بنایا۔ قبائل کے بجائے ازبک کے کیمپ پر بمباری کرنی تھی؟۔ جس پر گورنر جنرل اورکزئی نے ناراضگی سے کہا کہ ’’ اگر ہم نشانہ نہ بناتے تو امریکہ بناتا‘‘۔ یہ جرگہ ختم ہونے کے بعد وہاں کہا گیا کہ ’’مجلس امانت ہوتی ہے ،اس مجلس کی بات کو باہر نہیں کرنا ہے لیکن کچھ غیرتمند لوگوں نے کہا کہ قوم کیساتھ غداری کی امانت کو ہم نہیں مانتے اور حقائق باہر بتادئیے۔ ہم نے اخبار ماہنامہ ضرب حق کے اہم اداریوں میں ان حقائق کو کھول دیا تھا۔ جس کی سزا بھی ہم نے بھگت لی ہے۔
سینٹر مولانا صالح شاہ نے بتایا کہ ’’شکئی وانا میں ایک مولوی دین سلام کو ازبک کو پناہ دینے پر فوج اٹھاکر لے گئی اور وہ مسجد میں ازبک کو گالیاں دے رہا تھا، جنہوں نے اس کے پاس رہائش اختیار کی تھی۔ پہلے تو وہ ازبک کا انکار کرتا تھا اور جب ویڈیوز دیکھ لیں تو پھر اس نے ازبک کے ترجمان کو بھی پہچان لیا جو وہی فوجی تھا جس نے پہلے لمبی داڑھی رکھ لی تھی اور پھر مونڈلی تھی ‘‘۔ ازبک رہنما طاہر یلدوشیف کو امریکہ نے غلطی سے گرفتار کرکے پھر چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنی کتاب میں ایک طرف یہ لکھ دیاتھا کہ ’’ امریکہ کو غاروں میں اسامہ حرکت کرنے پر بھی نظر آسکتا تھااسلئے کہ جدید ترین آلات سے تلاش جاری تھی اور اس نے دوسری طرف یہ بھی لکھ دیا کہ ’’ امریکہ کے فوجی کیمپ کے پاس قبائل کا بڑا لشکر پہنچ گیا جو امریکی فوج کا کباڑا کرنے والا تھا‘‘۔ یعنی یہ بڑا لشکر امریکہ کی نظروں سے پوشیدہ رہا اور غاروں میں اسامہ حرکت کرنے پر نظر آسکتا تھا۔ تضادات کے اس بانی صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کو جن شرمناک الفاظ میں معروف صحافی عطاء الحق قاسمی نے بڑا خراج عقیدت پیش کیا تھا وہ ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے لئے قابلِ فخر سمجھ رہا تھا۔ زرد صحافت کے کرتے دھرتے آج دونوں زیر عتاب مگر شرمندہ نہیں۔میڈیا پر حقائق سامنے لائے جائیں۔
بھائی پیر امیرالدین سابق کمشنر بنوں نے کسی بات پر کہا کہ ’’چیونٹی کو بھی کموڈ میں بہانے سے وہ ڈرتے ہیں ‘‘ کسی اور موقع پر کہا کہ ’’ اگر ریاست اپنا مفاد سمجھ کر اپنے لوگوں کو بھی قتل کرے تو بڑے مفاد کیلئے چھوٹا مفاد جائز ہے‘‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر فوج نے ملک بچانے کیلئے امریکہ کی تمام پالیسیوں کو مان کر ہمارا کباڑہ کردیا ہو تو ہزاروں نہیں لاکھوں خون بھی معاف ہیں اور اگر وہ ضمیر، غیرت اور ایمان سے پاک ہو اور پیسوں کی خاطر ملک تباہ کیا ہو تو بھی ایسوں سے گلہ کرنا اپنی ذات کی توہین ہے۔ بے ضمیر فوج اور بے ضمیر طالبان کے سامنے حق کی آواز اُٹھاؤ لیکن بے غیرت بن کر عورتوں کی طرح غم کا بین مت بجاؤ۔ اگر مجھے محسود قوم سے دشمنی ہوتی اور اپنا انتقام لینا چاہتا تو بھی محسود قوم کی اتنی بے عزتی نہ کرتا کہ ان سے کہتا کہ نقیب کی تصویر اٹھاؤ اوریہ مرثیہ گاؤ کہ یہ کیسی آزادی ہے؟۔ مجھ میں بھی محسود خون دوڑتا ہے۔ میری نانی محسود تھی،جس دن پیدا ہوئی تو انگریز نے بمباری کرکے گھر کے اکثر افراد شہید کئے تھے۔
پہلی مرتبہ وانا میں کانیگرم کے تحصیلدار اور ایک ملازئی کے تحصیلدار کو انتہائی بے دردی سے شہید کرکے مسخ کیا گیا اور لاشوں کو کنویں میں پھینک دیا گیا، مشہور یہی ہوا کہ ازبک اور مقامی دہشتگردوں نے فوجی کرنل کو چھوڑ دیا اور انکو ماردیا۔مطیع اللہ خان کا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان سے تھا ۔ پوری فیملی بہت ہی شریف ہے اور مطیع اللہ شہیدؒ کی شرافت مثالی تھی۔ اسکے چچاڈاکٹر عبدالوہاب سے جیو ٹی وی نے انٹرویو لیا کہ’’ آپ کے نزدیک یہ کون ہیں؟‘‘ اس نے یہ جواب دیا کہ ’’ بھارت کے ہندو یہ نہیں کرسکتے ، کیونکہ بنگال میں قید ہونے والے فوجیوں میں سے کسی کیساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔ امریکہ بھی یہ نہیں کرسکتا گوانتا ناموبے کے قیدی یہاں موجود ہیں ۔ مسلمان بھی ایسا نہیں کرسکتے۔ پھر کیا کہہ سکتا ہوں کہ ایسا کس نے کیا ہے؟‘‘۔ جیوٹی وی چینل اگر امریکہ کا پٹھو نہ تھا تو اس کو ڈاکٹر عبدالوہاب کا یہ انٹرویو بار بار اپنے چینل پر اسی وقت دینا تھا۔ جب کوئٹہ میں غیرملکیوں کو اپنے خوف سے چوکی پر مارا گیا تو میڈیا نے آسمان سر پر ہی اٹھالیا تھا ۔ حالانکہ اپنا تجزیہ دے سکتے تھے کہ مقامی لوگوں میں بھی وہاں گھومنے کی ہمت نہیں ہے تو غیرملکی کس باغ کی مولی تھے اور کیا کرنے آئے تھے؟۔
جب کسی قوم کی سینٹرل کمان صحیح ہوتی ہے تو اس طرح بے تکے اندازمیں اپنی قوم اور ریاست کا کباڑا نہیں کیا جاتا ۔ کراچی دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال تھا ۔ کراچی رینجرز کے سپاہی کے ہاتھوں سے غلطی سے گولی چل گئی اور وہ لٹیرا ماراگیا جو خواتین کو جعلی پستول سے خوفزدہ کرکے پرس چھین لیتا تھا۔ اس قتل خطاء پر پھانسی کی سزادی گئی اور پھر جھوٹی خبر چلائی گئی کہ صدرمملکت نے معاف کردیا۔ جس کی پھر تردید بھی آگئی۔ ایم پی اے مجید اچکزئی نے جس طرح پولیس والے کو کھلے عام شہید کرکے راہِ فرار اختیار کی اور پھر رہائی پر پھول برسائے گئے ایک پختون کی حیثیت سے مجھے بھی شرم آتی ہے اور جب نااہل نوازشریف کے قافلے نے ایک بچے کو روند ڈالا، جسکا پرچہ بھی بہت معمولی ہے اور قبل از گرفتاری ضمانت بھی ہوجاتی ہے لیکن ابھی تک اس صاحب کا کوئی سراغ بھی نہ لگ سکاہے۔
منظور پاشتین پر افغانی کا الزام غلط ہے ۔ وزیرستان اس وقت بھی آزادی کی جنگ لڑرہا تھا ،جب افغانستان آزاد تھا اور ہندوستان پنجاب اور پختونخواہ کے سیٹل ایریا تک غلامی میں بندھا تھا۔ ہمارے ریاستی ادارے فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی انگریز کے وفادار غلام تھے۔ منظور پاشتین وزیرستان کی وہ ٹیٹھ زبان بولتا ہے کہ دوسرے پختون اس کو سیکھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ منظور پاشتین پر افغانی کا الزام لگانے والے نہیں جانتے کہ منظورپاشتین کا قبیلہ، خاندان اور شاخ در شاخ ایک قوم کا حصہ ہیں۔ البتہ قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں جھوٹے شجرہ نسب کی شہرت ہے۔ ٹھٹھہ کے قریب جھرک کو قائداعظم کا گاؤں کہاجاتا تھا لیکن نیٹ پر بھی یہ معلومات دستیاب نہیں۔ سندھی، اردو اور ہندی کوئی زبان قائداعظم کو نہیں آتی تھی۔ تحریک انصاف کے نومولودرہنما جسے عمران خان نے عدت میں شادی کے بعد جنم دیا ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے شہباز شریف کی قائداعظم کی انگریز ہیٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ قائداعظم کے کپڑے بھی استری کیلئے برطانیہ جاتے تھے، تمہاری کیا حیثیت ہے ان سے ملنے کی‘‘۔ پھر وہ بول ٹی وی سے نکال دئیے گئے تو اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’’بول نے مجھ سے لوگوں کی بے عزتی کروائی ہے، میں ان سے معذرت چاہتا ہوں، وہ میری نہیں بول کی پالیسی تھی‘‘۔ یہ بتایا جائے کہ برطانیہ کپڑے استری کیلئے بھیجنے کی بات بھی قائداعظم کی تعریف میں آتی ہے یا یہ قائداعظم کے خلاف بھی سازش ہے؟۔ اسکی تائید اور تردید میں دلائل کی بہت ضرورت ہے۔ یہ بڑی سازش ہے جس سے بڑی دل آزاری ہوئی ۔
پاک فوج کے رہن سہن پر تنقید کرنے والے قائداعظم کے تکلفات کے بعد کس طرح تنقید کرینگے؟۔ سیاسی رہنماؤں کو بیرون ملک علاج پر تنقید والے استری کیلئے کپڑے لیجانے کے بعد کیا تنقید کرسکیں گے؟۔ قائداعظم کی اہلیہ اس کی کزن رتن بائی پارسی تھی۔ اسلام بھی قبول نہ کیا تھا۔ پارسی عورت کا نکاح پارسی مذہب کے مطابق مسلمان سمیت کسی اہل کتاب سے نہیں ہوسکتا ہے۔ جب اس کی وفات ہوئی تو قائداعظم اس کی میت لیکر آغا خانی جماعت خانے میں گئے ۔ جماعت خانے کے ذمہ دار نے کہا کہ ’’رتن بائی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اس کی نمازہ جنازہ یہاں نہیں ہوسکتی ہے‘‘۔ قائداعظم نے سر آغا خان سے کہا تو اس نے اپنے مذہبی رہنما کی تائید کردی۔ اس وقت قائداعظم کو بریلوی مکتبۂ فکر کے امام احمد رضاخانؒ بھی مسلمان نہیں مانتے تھے۔ دیوبندسے مسلم لیگ کی حمایت کرنے والے تھانوی گروپ نے قائداعظم کو سپورٹ کیا۔ اسلئے علامہ شبیرا حمد عثمانی نے قائداعظم کا جنازہ پڑھایا ۔ ’’تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک‘‘ کتاب میں پنجاب کے چوہدری غلام نبی نے زبردست داستان لکھ ڈالی ۔ جس میں لیگی قائدین اور علماء کے پول بھی کھول دئیے ہیں۔
جب ریاستِ پاکستان قادیانیوں کی حامی تھی تو پاکستان میں ختم نبوت زندہ باد کانعرہ لگانا بھی جرم تھا اور جس طرح جنرل نیازی نے بنگال میں ہتھیار ڈالے تھے اس سے زیادہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے ختم نبوت تحریک میں شامل ہونے کی وجہ سے ڈارھی مونڈی تھی۔ عمران خان بلاوجہ نیازی کے بجائے کانیگرم کے برکی قبائل سے اپنا رشتہ نہیں جوڑ رہا ہے۔ حالانکہ اسکے ماموں بھارت کے جالندھر ی برکی ہیں۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ریاست پاکستان کی پالیسیوں نے ملک وقوم کو آزاد ہونے کے بعد بھی غلامی سے دوچارکرکے رکھا ہے۔ گورے انگریز جانے اور کالے انگریز کے مسلط ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ۔ منظور پاشتین کے اندر محسود قوم کا درد تھا لیکن محسودوں نے اس کو قبول نہ کیا ، پھر پختون تحفظ موومنٹ کے نام سے اپنی تنظیم کو وسیع کردیا۔ اب اگلی منزل اس کی مظلوم تحفظ موومنٹ لگتی ہے۔ پنجاب سے دوسرے صوبے اور قوموں کو بڑی شکایت ہے ۔ پختون، سندھی، بلوچ اور مہاجر کے علاوہ سرائیکی بھی نالاں ہے۔ گلے شکوے علاج نہیں بلکہ مفلوج ہونے کی راہیں ہیں۔ بلوچ قوم نے بڑی قربانیاں دیں مگر خود کو مزید غلام بنادیا ہے۔بلوچ، مہاجر، سندھی اور اے این پی سے تعلق رکھنے والے پختونوں کی خوشامد دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔PTMنے دوسری قوموں کی بات بھی شروع کردی۔
پاکستان کی ریاست اس بات سے ہرگز خوفزدہ نہ ہو کہ پختون قوم افغانستان سے ملے گی۔ افغانستان کے لوگ خود کو امریکہ کی نیٹو اور دہشت گردوں کی نیٹو سے نہیں بچاسکتے ہیں تو ہمیں کیا تحفظ دیں گے؟۔ البتہ مولانا محمد خان شیرانی امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان و سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ افغانستان کو ظاہر شاہ کے حوالے کیا جائیگا اور محسود ایریا کو عالمی دہشت گردوں کے حوالے کیا جائیگا۔ اگر پوری منصوبہ بندی کیساتھ ازبک کے ذریعے محسود ایریا میں شریف لوگوں کی نسل کشی کی گئی ہے اور منظور پشتین کو ریاست نے منصوبہ بندی اور سازش سے کھڑا کیا ہو تاکہ پاک فوج خود اس علاقہ کو دہشت گردوں کے سپرد کردے تو کچھ بھی بعید از قیاس نہیں ۔قائداعظم محمد علی جناح کو مارنے، لیاقت علی خان کو شہید کرنے اور فاطمہ جناح سے مناقشہ کرنے کے نام سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو ، زرداری اور نوازشریف تک سب کو فوج کے نامہ اعمال میں ڈالا جاتا ہے۔ جنرل ضیاء سے پرویز مشرف تک ایم کیوایم کے کارناموں کو فوج کے کھاتہ میں ڈالا جاتا ہے۔جہادی تنظیموں اور فرقہ وارانہ دہشت گردی سب ہی کچھ پاک فوج کے سیاہ کرتوت بتائے جاتے ہیں۔ تمام ادارے پاکستان کے ہیں مگر صرف فوج ہی کو پاک کہہ دیا جاتا ہے لیکن کس کس الزام سے فوج پاک ہے ؟۔ اس کی وضاحت آج تک کوئی نہیں کرسکا ہے ۔
منظور پشتین پہلے تو افغانی نہیں اور یقیناًنہیں ہے لیکن بالفرض افغانی ہو بھی تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نبیﷺ مکہ کے تھے اور ہجرت کرکے مدینے چلے گئے، جو اسلام کے نام نہاد علمبردار بنتے ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ افغانستان اور وزیرستان کا فاصلہ حرمین شریفین مکہ مدینہ سے بہت کم ہے۔ پہلے جن لوگوں نے اسلام کے نام پراپنے مفادات کیلئے ملک تقسیم کرکے حقیقی آزادی کیلئے کچھ نہیں کیا بس صرف ہندؤں سے نفرت کرنا سیکھ لی۔ اب افغانستان سے کیوں نفرت ہے؟۔ تمہاری کوئی دونمبر عورت بھی حادثے میں مرجائے تو شہید اور افغانستان میں جمعہ کے دن نمازی بھی شہید کردئیے جائیں تو ہمارا میڈیا اس کو شہید لکھنے کی جرأت نہیں کرتا جاں بحق نہیں ہلاک کہتا ہے۔ یہ بھی شکر ہے کہ انکے لئے آنجہانی نہیں کہا جاتا، یہ نفرت کے بیج کبھی ختم بھی ہونگے یا اپنے دال روٹی کیلئے نفرتوں کے بیج کا سلسلہ جاری رہے گا؟۔
انسان میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی خامی اور دوسرے کی خوبی کو یاد کرکے زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کا رہنما علی محمد خان کہتا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ میرے ماموں نے بنگال میں ہتھیار ڈال کر پاکستان کیلئے بھارت میں قید کاٹی تھی حالانکہ جان کی بازی لگاکر ہتھیار نہ ڈالتے تو فخر کی بات ہوتی۔ عمران خان جنرل نیازی کی وجہ سے اپنے ساتھ نیازی نہیں لکھتا۔ کل کو بریلوی مکتبۂ فکر والے اُٹھ کر کہیں گے کہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے ختم نبوت کیلئے داڑھی صاف کرنے کی قربانی دی تھی۔ انسانوں کو نسلی عصبیت سے روکنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زمین کا خلیفہ بنانے سے پہلے نافرمانی کرائی تھی اور ہمارے نبی آخر زمان رحمت للعالمین ﷺ کائنات کی بنیاد تھے ۔ قریش اپنے کردار کے سبب سب سے شریف تھے جس میں نبیﷺ کی بعثت ہوئی مگر بخاری شریف میں حضرت حاجرہؓ کی طرف اشارہ کرکے کہا گیا ہے کہ قریش آسمان کی اولاد ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ سے بڑی ہستی کس کی ہوسکتی ہے جن کی طرف یہود، نصاریٰ اور مشرکین اپنی نسبت کرتے تھے؟ اور اہل کتاب بنی اسماعیل ؑ کو اپنے سے کمتر سمجھتے تھے کہ لونڈی کی اولاد تھے۔ حالانکہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کا کردار کس سے پوشیدہ ہے ؟۔ جنکے باپ، دادا اور پردادا سب انبیاء تھے۔حضرت ابراہیم ؑ پر جھگڑا شروع ہوجائے تو ایک بیوی کو اہل کتاب لونڈی کہہ دیں گے اور دوسری کی بھی توہین ہوگی کہ اگر کہا جائے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے بدکار اور ظالم بادشاہ کے حوالے کیا تھا۔ بس اللہ نے عزت بھی بچائی اور تحفہ میں ایک شہزادی حضرت حاجرہ ؑ بھی ملی۔بادشاہ کی عادت یہ تھی کہ بہن اور بیٹی کو زیادتی کا نشانہ نہیں بناتا تھا۔ اسلئے حضرت ابراہیم ؑ نے بیوی کاکہاتھا کہ ’’یہ میری بہن ہے‘‘ حضرت حاجرہؓ بھی شہزادی تھی اسلئے ان کی عزت بھی محفوظ تھی۔ جب حضرت یوسف ؑ سے عزیز مصر کی بیوی نے بدکاری چاہی تو اس کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالا۔سوال یہ ہے کہ ظالم بادشاہ بیوی کی عزت کو کیوں خراب کرنا چاہتا تھا؟۔
ایک مفتی صاحب سے ملاقات ہوئی جو تبلیغی جماعت میں چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اسلام میں حلالے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ علماء خان، نواب ، بادشاہ اور چوہدری وڈیرے کا سامنا نہیں کرسکتے تھے۔ جب کسی بہانے سے مولوی کہتا کہ تمہارے بیوی تم پر حرام ہوگئی اور اسکا حلالہ کردیتا تو وہ بادشاہ ، خان ، نواب اور وڈیرہ اس مولوی کے سامنے آنکھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا تھا‘‘۔ بادشاہ بھی اسلئے بہنوں اور بیٹیوں کے بجائے بیگمات سے بدکاری کرکے مخالف کو سرنگوں کرنا چاہتا ہوگا۔ مولوی حضرات نے حضرت یوسف ؑ کی بجائے اس ظالم بادشاہ کی روحانی اولاد بن کر غلط دھندہ شروع کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرنے کے بعد فرمایا کہ ’’ تم آزاد ہو۔ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ‘‘۔ اگر اس وقت زبردستی ابوسفیان کی بیگم کو لونڈی بناکر عزت لوٹنے کی اجازت دی جاتی تو کربلا کے بعد اہل بیت کی خواتین بھی اپنی عزتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتی تھیں۔ تاریخ کا ایک ایک واقعہ سبق آموز ہے اور قرآن واحادیث کے قصوں میں بہت بڑا سبق ہے۔ ایک دوسروں کے طعن وتشنیع کا نشانہ بنانے کے بجائے اپنی کمی کوتاہی پر نگاہ رکھ کر چلیں گے تو اپنے لوگوں اور انسانیت کا بیڑہ پار ہوجائیگا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جیسے سیاستدان اور صحافیوں پر کون اعتماد کریگا؟۔ بول چینل پر الزام لگایا اور پھر وہاں بیٹھ گیا۔ عمران خان سے متعلق کہا کہ عدت میں نکاح کیا ہے، قرآن کی روح سے یہ ناجائز اور حرامکاری ہے۔ پھر دوہفتے بعد اس کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ یہ ایک ڈاکٹر عامر لیاقت نہیں بلکہ لنڈے بازار میں ایسے نام نہادصحافیوں، سیاستدانوں اور علماء کی کوئی کمی نہیں ہے۔میڈیا چینلوں پر انکی بھرمار رہتی ہے۔
منظور پشتین پر الزامات کی بوچھاڑ نے منظور پشتین کی اچھی شہرت کو چار چاند لگادئیے کیونکہ عوام کو معلوم ہوگیا کہ گلی کے معروف کتوں کا انکے پیچھے پڑ جانا اچھائی کی علامت ہے ۔ علی محمدخان ، عمران خان، ڈاکٹر عامر لیاقت ، سمیع ابراہیم، شیخ رشید کی طرح بہت سے لوگ وہ ہیں جن سے کہا جائے کہ تمام قومی اسمبلی اور ارکان سینٹ نے مغالطہ سے ختم نبوت کیخلاف سازش کی ہے مگر مارشل لاء لگ چکا ہے اور تمہیں چھوڑ کر سارے صحافی اور سیاستدانوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا ہے تو یہ لوگ کھدڑوں کے کپڑوں میں ناچ گانے کی محفلیں بھی سجائیں گے ،خوشی کی شادیانے بجائیں گے کہ رسول اللہﷺ کی ختم نبوت پر ہماری جان بھی قربان ہے لیکن اگر ان سے یہ کہہ دیا جائے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا والد کٹر قادیانی تھا اور فوج نے سلامی دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ بے غیرت کہیں گے کہ ’’ اب قبر پر کھڑے ہوکر ہم سلام بھی پیش کرینگے۔ اسکے قبر کی مٹی خاکِ شفاء ہے جس نے ایک آرمی چیف کو جنم دیا ہے‘‘۔ عمران خان کی بیگم جمائماخان کی طرح کوئی خاتون اسلام قبول کرکے اسلام چھوڑ دیتی یا غیرمسلم آشناؤں سے آشنائیاں کرتی تو بہت سے ٹی وی چینل غیرت اور اسلام کا جذبہ ابھارنے میں عوام کو مشتعل کرتے۔ نوازشریف کی بھی خواہش تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد جب اسکے ختنے کی تصویر نکالی گئی تو ختنہ نہ ہوتا تاکہ اس کوہندو ثابت کیا جاتا۔ انگریزوں کے کتے نہلانے کی الزام تراشی تو نوازشریف نے کی ہے۔
نوازشریف بھی بڑا ڈھیٹ انسان ہے۔ 70سال کی عمر میں نظریاتی بھی ایسا بن گیا ہے کہ پارٹی صدارت کیلئے مریم نوازکے بجائے ایک مہرے شہبازشریف کا انتخاب کیا ہے اور ماروی میمن کو جاتے جاتے بھی وزارت تھمادی، مشاہد حسین کو آتے ہی سینٹر بنادیا گیا اور چوہدری نثار سے ناراض ہوکر بھی اس کی سب باتیں مان لیں۔ پرویز مشرف کو طعنہ دیا گیا کہ بیماری کے بہانے عدالت میں نہیں آتا لیکن اپنے بچوں اور اسحاق ڈار کو باہر رکھا ہوا ہے۔ جب نوازشریف اور شہباز شریف کی گرفتاری کا وقت آئے تو اپنی ماں کو اسٹینڈ بائی رکھا ہوا ہے۔ پھر حسن اور حسین نواز کی طرح دونوں نواز اور شہباز اپنی ماں کی تیمارداری کا فریضہ انجام دیں گے۔ پاکستان بھی کیا خوب ملک ہے ، قانون بنانے اور قانوں کے محافظ ہی قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ باقی پر بھی کوئی افتاد نہیں پڑی ہے۔ چیف جسٹس کی جائے پاخانہ کو بھی کوئی کاٹ ڈالے تو بیس سال تک اس کو سزا نہیں ہوسکتی ہے اور بیس سال بعد شواہد ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے اور باعزت بری ہوجاتا ہے۔پھر عدلیہ معذرت خواہ ہوتی ہے۔
منظور پشتین کے بارے میں بتایا گیا کہ جانوروں کے ڈاکٹر کی تعلیمی ڈگری اسکے پاس ہے۔ اگر چہ ہمارے معاشرے میں جانوروں ہی کی پوزیشن ہے بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ ھم کالانعام بل ھم اضل ’’ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ زیادہ بدتر ہیں‘‘۔بچیوں کیساتھ زیادتی کے بعد قتل کا معاملہ اور بے گناہوں کیساتھ بہت بڑی زیادتیاں ، ریاست اور دہشتگردوں کی کاروائیوں کے علاوہ معاشرتی برائیاں ظلم وستم کی انتہاء ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس جابرانہ نظام سے ایک بہترین انقلاب کے ذریعے سب عوام کی جان چھڑائے۔ معاشرتی اصلاحات کا بڑا کارنامہ اس قوم میں انقلاب کا ذریعہ بنے گا۔ منظور پشتین کے پاس وکالت کی ڈگری ہوتی یا کسی وکیل ساتھی سے مشورہ کرتے تو پاکستان کے قانونی پہلو زیادہ بہتر سمجھ سکتے تھے۔ ویسے یہ جنگ قانون کی جنگ نہیں اخلاقیات کا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ جب کسی قوم کا اخلاقی معیار گر جاتا ہے تو قانون کی حیثیت نہیں رہتی۔
کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ڈیڑھ سوسال پہلے ہزارہ برادری والوں کو ماردیا گیا تھا۔ انکے خاندان کے باقیات ایک دو بچے ماؤں کے پیٹ میں زندہ بچ سکے تھے۔ کوئٹہ کی ہزارہ برداری سے تعلق رکھنے والے آج اپنا رونا رورہے ہیں۔ 150 سال قبل کو نسی طالبان گردی اور فوجی وردی تھی؟۔ ہزار سال قبل یعقوب بن اسحاق کندی معروف سائنسدان گزرے ہیں۔ جو ہارون الرشید اور مامون الرشید کے زمانے میں تھے۔ طب میں دواؤں کی مقدار کا تعین انہی کا مرہون منت ہے۔ دنیا ان کو بڑا مسلم سائنسدان مانتی ہے اور انکی کتابوں سے تراجم کئے گئے ۔ ایک بدخشانی نے اس کو بے دین سمجھ کر قتل کرنا چاہا اور ان کو پتہ چل گیا ۔ چاہتا تو خود قتل یا گرفتار کرادیتا لیکن اپنے پاس بلایا اور حقائق سمجھائے کہ سائنس اسلام کے خلاف نہیں ۔ پھر بدخشانی نے یعقوب کندی سے سائنس کے میدان میں استفادہ کیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضرت عمرؓ کو دہشت گرد نے شہید کیا اور حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہی شہید ہوئے تھے۔ ہر بات کو فوجی وردی کے کھاتے میں ڈالنا کہاں کا انصاف ہے؟۔ کانیگرم جنوبی وزیرستان میں بارودی بم رکھ کر بے گناہ لوگوں کو بہت پہلے معذور کیا گیا۔ شہر کے پانی کے ٹینک میں زہر ڈالا گیا تھا۔ مکین شہر میں کوئی آواز لگاتا تھا کہ 2ہزار روپے کے بدلے مجھ سے کوئی قتل کروائے۔ طالبان کی آمد سے پہلے بھی بد امنی ، شرانگیزی اور دہشت گردی ہوتی تھی اور اس کی تمام ذمہ داری ہمارے معاشرتی نظام پر تھی۔
سام سرائے کانیگرم سے ایک پک اپ اغوا ہوئی، غریب علاؤ الدین نے اغوا کاروں کی مزاحمت کرنا چاہی کہ یہ ہماری بے عزتی ہے کہ وزیر قبائل کی پک اپ ہمارے سرائے سے کوئی لے جائے۔ پھرکئی افراد کے ساتھ اپنی پک اپ میں رپورٹ درج کرنے لدھا گیا۔ رات 11بجے سام سرائے میں گاڑی کھڑی کی ۔ پھر کانیگرم کے قبائلی عمائدین نے چوری وارداتوں پر قسم اٹھانے کیلئے اس واقعہ میں ملوث ہونے کا علاؤ الدین پر الزام لگایا۔ ڈکیت وزیر کی پک اپ کو مخالف جانب لے گئے ۔ دعویٰ یہ کیا گیا کہ ڈکیتوں کیساتھ کالے کلر کی پک اپ والے کی سرِ راہ ملاقات ہوگئی اور علاؤ الدین کی پک اپ کا رنگ بھی کالا ہے۔ علاؤ الدین نے کہا کہ میرے چالیس گواہ ہیں ، اغوا کار مخالف جانب گئے اور میں دوسری جانب رپوٹ کے کیلئے گیا۔ میرے بھائی پیر نثار نے کہا کہ اس کو قسم پر مجبور کرنا غلط ہے اس کے پاس گواہ بھی ہیں ۔ عمائدین نے کہا کہ دوسروں کیلئے راہ کو ہموار کرنا ہے۔ پھر جن کیلئے راہ ہموار کرنی تھی انہوں نے قسم بھی نہیں اٹھائی۔ پھر علاؤ الدین کے بھائی عبد الرشید نے چور رات کی تاریکی میں پکڑ لیا اور مسجد کی لاؤڈ اسپیکر پر اقرار کروایا ۔ مگر چور کا کچھ نہیں بگاڑا گیا۔ علاؤ الدین اور رشید کے گھر وں کو مسمار کیا گیا اور انکے سامان کو قومی لشکر نے لوٹ لیا۔ ان مظالم کو سامنے رکھا جائے اور پھر غریب طبقے کی طرف سے طالبان کی شکل میں انتقامی کاروائی پر غور کیا جائے ۔ وردی والوں پر کوئی بات ڈالنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکا جائے۔
جب وزیرستان ، ٹانک اور ملک بھر میں طالبان کاروائیاں کررہے تھے تو ہم میزبانی کرتے تھے لیکن جب طالبان نے ہم پر حملہ کرکے 13افراد شہید کردئیے تو ہمیں طالبان برے لگے۔ میرا بس چلے تو اپنی قوم ، ریاست، ملک کی عوام اور دنیا سے کہہ دوں کہ جو ہمارے ساتھ ہوا ، اگر اس پر معاف کردو تو یہ تمہاری مہربانی ہے۔ اگر پھر بھی ہمارا جرم معاف نہیں ہوتا تو جو سزا دینا چاہو ہم حاضر ہیں۔ اگر معافی مل جائے تو ہم ان سب کو معاف کردیں جو اس واقعہ میں ملوث تھے۔ پھر قوم سے بھی اپیل کریں کہ معافی تلافی کریں اور جو معاف نہیں کرنا چاہتا تو وہ نشاندہی کرے ، میں اسکی قیادت کرونگا۔ قوم کو مصیبت سے چھٹکارا دلانے کا یہ واحد راستہ ہے۔ماتمی جلوس کوئی حل نہیں۔