منظور پشتین کیخلاف مقدمہ اور پشتو اشعار کی وضاحت

795
0

manzoor-pashteen-mohsin-dawar-ali-wazir-ptm-muhammad-khan-sheerani-dr-tahir-ul-qadri-taliban-terrorist-waziristan-wana-bazar-ghq-isi-sawabi-kpk-governor-ali-jan-aurakzai

پشتون تحفظ موومنٹ کے قائدین منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ پر صوابی جلسے پر مقدمہ قائم کیاگیااورہوسکتا ہے کہ اشتہاری بھی قرار دیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے دھرنوں کے دوران نہ صرف ممنوعہ علاقہ میں تسلسل کیساتھ اجازت کے بغیر جلسے کئے بلکہ پی ٹی وی پر قبضہ ، پارلیمنٹ کا دروازہ توڑنے، پولیس افسر پر تشدد، ساتھیوں کو تھانہ سے زبردستی سے چھڑانے اور پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیوں تک کیانہ کیا؟ جو میڈیا نے بھی سرِعام دکھایا تو اشتہاری بننے کے باوجود وزیراعظم بننے تک گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی اور اس سے بڑے جرائم تو صوابی جلسے میں PTM کے قائدین نے بھی نہ کئے ۔ منظور پشتین ، علی وزیر اور محسن داوڑ نوجوان ہیں، جذباتی ہیں، گھر بار اور علاقہ وقوم کی تباہی کی مظلومیت دیکھ لی۔ جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری اور فسٹ کزن وزیراعظم عمران خان بڈھے بڈھے ہوکر بھی زیادہ جذباتی ہونے کا مظاہرہ کررہے تھے۔ ریاست و حکومت کو ان میں برہمن و شودر کی تفریق نہ کرنا چاہیے۔ عدل وانصاف اور مساوات کے بغیر کوئی قوم ایک قوم نہیں بن سکتی۔ سوشل میڈیا پر ’’ڈیوا‘‘ ریڈیو کو منظورپشتین کا دیا ہوا انٹرویو ہے ،کہا: ’’ میں خود گرفتاری نہیں دوں گا لیکن اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو پہلے ہمارے ساتھ بہت کچھ ہوچکا، وہ طاقتور ہیں ، کرسکتے ہیں لیکن ہم اپنی تحریک جہاں تک بھی جاری رکھ سکتے ہیں پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔ آخر میں منظور پشتین سے سوال کیا گیا کہ طالبان مظالم کررہے تھے اس وقت تم کہاں تھے، مختلف حلقوں سے یہ سوال اٹھایا جاتاہے لیکن منظور پشتین کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ میڈیا میں بھی بارہا یہ سوال اٹھایا جاچکا کہ منظور پشتین اس وقت کہاں تھا؟۔
منظور پشتین اس وقت ایک چھوٹا سا بچہ تھا، اسی طرح علی وزیر اور محسن داوڑ کی بھی زیادہ عمر نہیں تھی،البتہ علی وزیر کے بڑے بھائی کو گڈ طالبان نے شہید کیا تھا، پھر انکے والد ، بھائی اور بھتیجوں سمیت ایک ساتھ 7 جنازے اٹھائے اورانکے گھر کے 17افراد کو نشانہ بناکر شہید کیا گیا، علی وزیر کو کونسے اعزاز سے نوازا گیا؟ بلکہ اسکی مارکیٹ کو بھی وانا میں مسمار کیا گیا، انکا جینا تنگ کیا گیا، مولانا شیرانی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے قاتلانہ حملے کے سوال پر یہ کہا کہ ’’ایک خفیہ ادارے کے بلوچستان کے سربراہ نے مجھے کہا کہ تمہارے لئے خطرہ ہے،مجھے اوپر سے حکم ہے کہ ان ان جگہوں میں نہ جاؤ، جب اس نے اپنی تقریر ختم کردی تو میں نے کہا کہ ایک بات کہوں تو مان لوگے، اس نے کہا کہ بالکل جی تو میں نے کہا بس آپ مجھے مت مارو، باقی میری فکر نہ کرو‘‘۔مولانا شیرانی نے یہ بھی کہا کہ’’ انتخابات پر حکومت کے 22ارب خرچ ہوئے، انفرادی طور پر جن لوگوں نے بڑے پیسے لگائے وہ الگ ہیں،اس سے اچھا ہے کہ جی ایچ کیو میں ایک سیل قائم کیا جائے ، لوگ اقتدار میں آنے کیلئے اپنی اپنی درخواستیں دیں۔ ماضی میں ہم بلوچستان کی حکومت کا حصہ بنتے تھے تو ISIکے افسران سے ہماری میٹنگ ہوتی تھی۔ اقتدار وہی دیتے ہیں۔ پاکستان بین الاقوامی چوک ہے، یہاں کرایہ پر فتویٰ ملتا ہے، جہادی کرایہ پر ملتے ہیں، کرایہ پر فوجی افسر ملتے ہیں اور سیاستدان اورمیڈیا کرایہ پر مل جاتا ہے‘‘۔ مولانا شیرانی نے ایک تقریر میں کہا کہ ’’ خدا کو حاضر ناظر جان کر ادارے ہمیں بتائیں کہ ہماری حفاظت کرتے ہیں یا مارتے ہیں؟۔ دو بڑے بالوں والے دہشتگردوں کو سول اداروں نے بارود سمیت پکڑلیا کہ یہ دھماکے کرتے ہیں لیکن سیکیورٹی والے ان کو چھڑاکر لے گئے کہ یہ ہمارے آدمی ہیں‘‘۔
ریاست اور حکومت کو عوام کی طاقت سے ہی قائم رکھا جاسکتا ہے۔ عوام کے اعتماد کو کٹھ پتلی قیادتوں کے ذریعے کب تک دھوکے میں رکھا جائیگا؟۔ ہماری تمنا ہے کہ پاکستان تمام لسانی، مذہبی اور علاقائی فتنوں سے محفوظ رہے اور حکومت اس میں اپنا بہترین کردار ادا کرے۔ اسلام کے نام پر یہ ملک بن گیا مگر قائدین اور مذہبی رہنما خود بھی اسلام سے آشنائی نہیں رکھتے ہیں۔قرآن کی طرف رجوع کیا گیا تو بہت سے معاشرتی، فرقہ وارانہ اور متصبانہ مسائل حل ہونے میں دیر نہ لگے گی ،ہماری تحریک فرقہ واریت اور لسانیت کے برخلاف قومی و مذہبی یکجہتی کی تحریک ہے۔ لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات پر ہم یقین نہیں رکھتے ہیں۔
منظور پشتین پہلے بچہ تھا، علی وزیر کے خاندان کی قربانیاں تھیں اور محسن داوڑ کے تضادات پر پچھلے اداریے میں گرفت کی تھی۔قبائل کی تاریخ دہراتے ہوئے کہیں بک نہ جائیں۔ پہلی مرتبہ علی وزیر اور محسن داوڑنے تاریخ بدلی کہ قبائلیوں کے ووٹ برائے فروخت کی منڈی نہیں لگی۔ مولانا شیرانی کا بلوچستان حکومتوں میں شامل ہونا ، اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین بننا بھی قومی اور اسلامی خدمات کیلئے نہیں بلکہ سرکاری نوکری کیلئے ہی بکنے کے مترادف تھا۔ اسوقت قوم کو صاف صاف بتادیتا کہ میرا مقصد اپنا حصہ مراعات ہیں باقی کچھ نہیں۔ منظور پشتین پہلے کم عمر تھا لیکن پشتون قوم پہلے اُٹھ جاتی تو اتنی قتل وغارتگری ، بے عزتی اور تباہی کا سامنا نہ ہوتا۔ بینظیر بھٹو اور کلثوم نواز نے عورت ہوکر طالبان کیخلاف منہ کھولا۔ بے غیرت سیاستدان اور بے غیرت فوجی افسران کی طرح پشتون قوم نے بھی بہت بے غیرتی کا مظاہرہ کیا لیکن جذباتی کیفیت میں یہ سب کی مجبوری بھی تھی۔
طالبان ، محسود قوم اور پاک فوج کی دوغلہ پالیسی کی اصل وجہ یہ تھی کہ امریکہ نے بھی دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی تھی۔ جب امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کیخلاف سنجیدہ بات کی تو پاک فوج کے کور کمانڈر کانفرنس میں جواب دیا گیا کہ اکیلا ہمارا کردار نہ تھا ، دوسرے بھی اس میں شریک تھے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اب یہ کہا ہے کہ ’’ اس کو نہیں بھولنا چاہیے کہ طالبان بنائے کس نے تھے؟‘‘۔ جب فوج نے وزیرستان میں ازبک کیمپ کو چھوڑ کر قریبی مقامی طالبان پر بمباری کی توہمارا گورنر اورکزئی تفصیل بتارہا تھا کہ ازبک کہاں سے کس طرح محسود علاقے میں پہنچے۔ مولانا عصام الدین محسود نے کہا کہ ’’ صاحب ! میں معافی چاہتاہوں، اتنی معلومات ہمارے پاس بھی نہیں ، پھر تم نے ازبک کو کیوں نشانہ نہ بنایا‘‘۔ یہ سن کر گورنر اورکزئی بوکھلا گیا اور کہا کہ ’’ اگر ہم تمہیں نہ مارتے تو امریکہ ماردیتا‘‘۔
نصرت مرزا نے سچ لکھاکہ ’’ انگریز مسلمان کا مخالف تھامگر پاکستان کو اسلئے بنانا چاہا کہ روس، چین، برصغیر، ایران،عرب ممالک اور ترکی اکٹھے نہ ہوں‘‘۔ منافقانہ کھیل کیوجہ سے یہ خطہ پھر انگریز کی غلامی میں دھکیلا جاسکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے باشعور طبقے کو جگانے کی ضرورت ہے۔اگر ایران کا سستا گیس و تیل پاکستان اور بھارت کو سپلائی کیا گیا تو پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا۔ پھر سعودیہ وایران کی دوستی میں بھی دیر نہیں لگے گی۔افغانستان سے نیٹو اور اسکا کھیل بالکل ناکام اور نامراد ہوگا۔PTMکے جوان مظلوم تحفظ موومنٹ کے نام سے متحرک ہوں تو پختون کے علاوہ پنجابی، بلوچ، سندھی،مہاجر سب ساتھ دینگے۔
پشتو کے یہ اشعاربہت پہلے لکھے لیکن کسی شاعر سے اصلاح کی ضرورت تھی ۔ اب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بعض اشعار نکالے ۔ PTMکا سوشل میڈیا سے صفایا ہوچکااور چاہت یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنی منفی نہیں مثبت سرگرمیاں جاری رکھیں۔