عورتوں کی عزت پر بھنگڑے ڈالنے والوں نے پختونوں کو دنیا بھر میں بدنام کردیا: بادشاہی خان محسود

فیس بک (بادشاہی محسود وزیرستان نے کہا :چند باتیں سن لیں پسند آئیں تو بہت اچھا نہیں تو گالیاں اور مغلظات تو تمہیں بہت اچھی آتی ہیں۔ پختونو! پی ٹی ایم والو! میں نے غزوہ ہنداور پاک بھارت جنگ پر پوسٹ کیا۔ ہر آدمی کو خیالات کے اظہار کا حق ہونا چاہیے۔ اپنا تعارف کراتا ہوں۔ بھولے تم بھی نہیں ۔ چھ آٹھ سال پہلے قبائل کے حق میں کوئی بات کرتا توایک دو دن بعد اسکا سر کٹا ہوا ہوتا تھا۔ اسلام آباد میں چھ آٹھ سال پہلے گور نر پختونخواہ نے قبائل کو بلایا تو میں نے آواز اٹھائی۔ نقیب کی شہادت سے تین سال پہلے ٹانک وغیرہ میں محسود مشران کا اجلاس ہوتا تو منظور کو کوئی پہچانتا نہ تھا۔ بڑے اہمیت بھی نہ دیتے تھے کہ یہ لڑکا کس مشن پر ہے، کیا بادشاہی مانگتا ہے لیکن پوچھو کہ میں نے کتنی قدر دی؟۔ منظور کا راستہ بادشاہی خان نے بنایا۔ اسلام آباد میں ایک تقریر کی، صرف نصیحت کرتا تھا۔ وزیر اعظم سے پانچ مطالبات منوالئے۔ بڑوں کی تعریف نہیں کرتا، رات کو اعلان کیا کہ ہم نے دھرنا ختم کیا۔صبح دھرنے کی جگہ پر پہنچا تو وہاں کوئی چیز نہ تھی کنٹینر ( اسٹیج ) وغیرہ غائب تھے۔ میں گیا تو سب خوش ہوگئے کہ مشر آپ آگئے یہ بڑا اچھا لفظ تم نے سیکھاہے۔ پھر جتنی گالی اور مغلظات منہ میں آتی ہیں انہی مشران کو بکتے ہو۔ انور سلیمان خیل پی ٹی ایم کیساتھ ہے۔ وہ منظور کو نہ جانتا تھا۔ اس سے پوچھو، میں نے کہا کہ تمہاری قوم سلیمان خیل یہاں بہت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمہارے لئے آٹھ نو سو افراد لائیں تو یہ کافی ہونگے؟، میں نے کہا کہ اگر پانچ سو لاؤ توبھی پردہ ہے، ہم بے پردہ ہوگئے، وہ شام کو دس بارہ سو افراد لائے۔ دوسرا دھرنا سلیمان خیل قوم کیوجہ سے پر رونق بن گیا۔ میں نے تمہارے لئے باجوڑ سے خیبر تک تمام مشران کو حاضر کردیا۔ ہم اسلام آباد سے آئے تو وزیر اعظم کی لکھی ہوئی تحریر ملی کہ پانچ مطالبے ہم حل کرینگے۔ پوچھتے ہیں کہ پی ٹی ایم سے تم پیچھے کیوں ہٹ گئے؟۔ میں نے نہیں بلکہ پی ٹی ایم نے مجھے چھوڑا ۔ نوجوان نے کہا کہ اب تم کھری بات نہیں کرتے اسلئے آپ پیچھے ہٹے اور بھی الٹی باتیں کیں۔ اسلام آباد سے آئے تو پی ٹی ایم مجھ سے ہٹ گئی۔ میر علی کا جلسہ کیا مگر دعوت نہ دی۔ ژوب ، قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ اور پشاور کا جلسہ کیا، لاہور کا جلسہ کیا مگر مجھ سے غرض نہ رکھی ، فون کیا کہ جلسہ میں آنا ہے یا نہیں؟۔ اطلاع ملتی کہ بڑے مجھے پی ٹی ایم میں نہیں دیکھنا چاہتے ۔ سوچا کہ ممکن ہے میرانظریہ ایک، انکا دوسرا ہو۔ علیحدہ بیٹھ گیا اور آپ سے غرض نہ رکھی۔ تعریف نہ برائی کی۔ ٹانک کا جلسہ تھا تو پوچھا کہ تقریر کا موقع کیوں نہ ملا؟ اور میرے خلاف گندی زبان استعمال کی مگر میں نے جواب نہ دیا۔ منظور میرے آفس آیااور کہا کہ نقیب کی برسی میں آؤ گے۔ میں نے کہا کہ اگر پاکستان میں آپ سے کوئی ناراض ہو تو وہ میں ہونگا۔ آپ آئے تو تجھے اسفند یار ولی، محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن سے پختونوں کا بڑا لیڈر مانتا ہوں۔ اس کی خواہش پر ٹانک جلسے میں شرکت کی اپیل پر میری کلپ بنی ۔ پی ٹی ایم بڑے جلسے کرتی ہے میرے کہنے کی وجہ سے لوگ وہاں نہ گئے۔ گلہ ہے مجھے گالیاں دیں۔ منظور سے پوچھ لو کہ آپ نے تقریر کا موقع کیوں نہ دیا۔ حالانکہ اسٹیج سیکریٹری کی لسٹ میں منظور سے پہلے آخری تقریرمیری تھی۔میں نے غزوہ ہند پر بات کی۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے ایک عشرہ مبشرہؓ کو جنت کی بشارت ملی اور دوسرے غزوہ ہندو الوں کوجنت کی بشارت دی ۔ تم نے کہا کہ بے غیرت ہو ؟، غزوہ ہند پنجاب کا کام ہے، پختونوں کا واسطہ نہیں۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ 70ہزار حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد سے حصہ لیں گے، اس خطے میں اسحاق ؑ کی اولاد پختون ہیں۔ غزوہ ہند رسول ﷺ نے نام دیا۔ مخالفت کرو گے تو تمہارا ایمان خطرے میں پڑ جائیگا۔ جہاں تک غیرت اور کھری کھری باتیں ہیں تو خیسورواقعہ ہوا۔ کئی دن دھرنا دیا، عورت کے اوپر کلپ بنائے ، ہاتھ اٹھوائے، آدمی پر عورت کا الزام لگایا۔یہ کہلوایا کہ فوجیوں نے عورتوں سے کہا کہ ہاتھ اٹھاؤ، میری بیوی نہیں، بیوی منتخب کرتا ہوں۔ ویڈیو بنائی اور دنیا کو دکھائی کہ چارپائی رکھو ، سراہنا رکھو اور یہ تقریریں کیں اور تمہارے مشران باتیں کرتے ہیں کہ بہت کچھ ہوا مگر بتا نہیں سکتے۔ مطلب کہ عورتوں کیساتھ بدکاری کی ؟۔ قبائلی رسم کا پتہ ہے کہ اگر کسی آدمی پر عورت کا الزام لگے تووہ درست ہو یا غلط لیکن اس پر قتل کرنا پڑتا ہے۔ نام نہیں لیتا، بڑے مشران بھی تھے جب آخر میں دھرنا ختم کررہے تھے تو تم بہت ہنستے ہوئے، بہت خوشی بہت فخر کیساتھ تقریریں کررہے تھے اور آخر میں دھرنا ختم کیا کہ ہم جی او سی سے ملاقات کرینگے، یہ کرینگے وہ کرینگے۔ پھر اسکے بعد کہتے ہو کہ ڈھول اٹھاؤ کہ بھنگڑے ڈالیں۔ تم نے عورت کا الزام آدمی پر لگایا تو یہ بھنگڑے کی بات ہے؟۔ اسکے بعد تم بھنگڑے ڈالو گے؟۔ یہ تم کونسا راستہ بتا اور کس راہ پر چلا رہے ہو؟۔ صرف پی ٹی ایم کو نہیں پختون مشران کو بھی بول رہا ہوں، بہت لوگوں نے کردار ادا کیا ۔ تم اس جگہ لیجارہے ہو، اتنا بدنام کررہے ہو کہ دنیا کو پتہ چلے کہ عورتوں کو ہاتھ اٹھوائے جارہے ہیں اور اس میں بیویاں پسند کی جارہی ہیں۔ دنیا کو کہتے ہو کہ فوج نے ہماری عورتوں سے بدکاری کی پھر ڈھول اٹھا کر بھنگڑے ڈالتے ہو؟۔ بدنامی بھنگڑے سے ختم کرو گے۔ یہ تمہاری غیرت اور پشتو ہے۔ اور تم مجھے غیرت بتاؤ گے اور بادشاہی خان کو پشتو بتاؤ گے؟۔ خدا کیلئے میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ پختون قوم کو بے غیرت نہ بناؤ، بڑا اتحاد بناہے پشتون کے نام پر۔ پشتون قوم کو بدنام نہ کرو ۔ میرے پاس آؤ تم ایک مطالبہ نہ منواسکے۔ مجھے بے غیرت بولا ، اگر میں دو مہینے میں تمہارے مطالبات حل نہ کراؤں تو چوڑیاں پہنا دو۔ تم مطالبات بھول گئے، نعرے کے پیچھے لگے کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔ نعرے نے تمہیں مزا دیا۔دربدر پختونوں کو بھول گئے۔ کیا بادشاہی خان یا کسی اور پختون کو خیالات کے اظہار کی بالکل اجازت بھی نہیں؟۔ ہم نے بچپن سے علماء سے سنا کہ غزوہ ہند میں خوش بخت لوگ شریک ہونگے ۔بادشاہی خان نے پختون اور ڈیرہ والوں سے غزوہ ہند کیلئے جلوس نکالنے کی اپیل میں منظور پشتین سے بھی شرکت کی اپیل کی اور باجوہ کو مخاطب کیاکہ یہ جنگ ہندو نے شروع کی ہے، قبائل کو قرض چکاناہے اور مقبوضہ کشمیر آزاد کرنا ہمارا فرض ہے جنگ بند نہ کرو۔جب تک کشمیر آزاد نہ ہوجائے۔

تبصرہ تیزوتند عبدالقدوس بلوچ

بادشاہی خان کی نیٹ پر تقریریں ہیں۔ وہ قوم کا درد جس انداز میں پیش کرتے تومجلس کے حاضرین سے بڑی داد ملتی لیکن منتظم پریشان ہوجاتے تھے۔ محمود اچکزئی ، مولانا فضل الرحمن ، شیرپاؤاور دیگر قائدین کے سامنے کہا کہ ’’قائدین ماں باپ ہوتے ہیں، بچوں کو گلہ ہوسکتا ہے، میں دومنٹ میں دل کی باتیں بیان نہیں کرسکتا۔ محمودخاں اچکزئی نے افغانستان میں کہا کہ ہم صاف صاف باتیں کرینگے تو میں صاف صاف باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ قبائل جس طرح دربدر ہیں، مفتی اعظم مفتی محمود ؒ ، عبدالصمد خان ؒ بابا اور ولی خان ؒ بابا زندہ ہوتے توآج ہمارا یہ حال ہوتا؟۔ کراچی کا مہاجر عباس رضوی کہتا ہے کہ ہم نے قبائلیوں کیلئے کیمپ لگایا۔ لیکن یہاں پر بیٹھے ہوئے قائدین میں کوئی ہے جس نے کسی کا حال پوچھاہو،کیمپ لگایا ہو؟۔ تم سیاسی جب تم حکومت سے ناراض ہوتے ہو تو کہتے ہو کہ ہمیں تحفظات ہیں، پھر وہ تمہیں بند کمرے میں بلاتے ہیں تو کہتے ہو کہ ہمارے تحفظات ختم ہوگئے۔ عمران خان کرسی کیلئے، طاہرالقادری پیسوں کیلئے دھرنا دے سکتاہے تو ہم حق کیلئے دھرنا کیوں نہیں دے سکتے؟۔ تم لوگوں نے ہمیں یہ موقع دیا تو آپ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ، دس لاکھ قبائل کو میں یہاں لاتا ہوں۔ دھرنا دینگے تو مسائل ہونگے‘‘۔

بادشاہی خان کو مزید بولنے نہ دیا گیا۔اس نے کہا کہ ’’پاکستان کی سرحدات انڈیا، چین، افغانستان اورایران سے ملتی ہیں۔ اسے ہم گھر کی چاردیواری سمجھتے ہیں۔ہم نے پہلے ملک کیلئے قربانیاں دی ہیں اور اب بھی دینگے۔ گھر میں باپ، بچوں اور دیگر افراد کے اپنے کمرے ہوتے ہیں لیکن چاردیواری ایک ہوتی ہے۔ چاردیواری ہمارا پردہ ہے۔ پاکستان کی تعمیر 1947ء میں ہوئی اور جب محسودقبائل کو فوج نے حکم دیا کہ گھروں کو خالی کردو۔ یہ درخواست نہ تھی بلکہ حکم تھا، ہمارے پاس ایک آپشن یہ تھا کہ لڑیں اور دوسرا یہ تھا کہ اپنے گھروں اور آباواجداد کا وہ علاقہ چھوڑ یں جو ہمیں خیرات میں نہیں ملا۔ انگریز سے ہم اس خطے کی خاطر لڑے اور پاکستان بن گیا تو اس میں ہمارا سب سے بڑا کردار تھا۔ خیبرپختونخواہ کا صوبہ ریفرینڈم ہی کے ذریعے پاکستان کا حصہ بنا جبکہ ہم پہلے پاکستانی تھے۔ میں نے کور کمانڈر سے کہا کہ جرنیل صاحب! ہم نے مشاورت کی اور سوچا کہ اگر ہم گھروں کو نہیں چھوڑیں توپھر فوج سے ہماری لڑائی ہوگی اور اس لڑائی میں جیتے گا کون؟ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ فوج ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی ، بڑا اسلحہ ہمارے پاس تھا، امریکہ و بھارت افغانستان سے ہماری مدد کو آتے مگر ہم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے، اس کودشمن کے ہاتھوں تباہ نہیں کرناہے ۔ ہم نے دوبارہ پاکستان بنایا ہے۔ دومہینے کیلئے ہم سے گھر خالی کروائے گئے اور آٹھ سال ہوگئے اور وہ دومہینے پورے نہیں ہورہے ہیں۔ این جی اوز ،اسرائیل کی بھیک ہمیں نہیں چاہیے۔ کیمپوں میں خواتین جوان بچیوں ، چھوٹے بچوں، ضعیفوں کا برا حال ہوگیا ۔ ہم اپنی محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پال سکتے ہیں، ذلت کی زندگی سے نجات چاہیے، ایک ہاتھ سے بھیک اور دوسرے ہاتھ سے فوجی ڈنڈا مارتا ہے۔ مرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، جتنی چاہو ،ہم پر بمباری کرو لیکن اس ذلت کی زندگی سے ہم نکلنا چاہتے ہیں۔ ہماری خواتین دھوکے میں نہ آئیں ، رسولﷺ نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جنکے پانچے ٹخنوں سے نیچے ہوں۔ اب خواتین نے پانچے اٹھالئے ہیں اور مجھ پر لعنت ہو میرا پانچہ بھی لٹکتاہے لیکن ان خواتین کے سرپرست جنت میں نہیں جائیں گے جو ننگے بازاروں میں گھومتی ہیں‘‘۔ بادشاہی خان سے کسی کو اتفاق یا اختلاف ہوسکتا ہے مگر پی ٹی ایم مشکلات حل کرنے کیلئے نکلی تھی اور اب اس کو مزید بحران کا شکار بنارہی ہے۔ بلوچ اور افغانیوں کی مشکلات سے سبق لینا چاہیے۔ ریاست کے اندر تشدد ، عدم اعتماد اور بغاوت کا راستہ اپنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ۔ بیت اللہ خان بیٹنی اور بادشاہی خان محسود میں موازنہ کرکے دیکھ لیا جائے،بیت اللہ خان بیٹنی کل سیاستدانوں کو موردالزام ٹھہرا رہا تھا، پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے کیا بول رہا تھا اور پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے کیا کہتاہے؟۔ پاکستان جمہوری ملک ہے مگرمیڈیا ذمہ داری درست ادا نہیں کرتا ہے۔ عدالتوں کا حال یہ ہے کہ نواز شریف کو وزیراعظم کے منصب کیلئے نااہل کیا اور کل کا پتہ نہیں کہ دوبارہ عدالت اہل بھی قرار دے۔ کٹھ پتلی قائدین نے قوم کا بیڑہ غرق کردیا ۔ پاکستان کو سودی قرضوں کے بوجھ تلے بری طرح کچلاجارہا ہے، ٹیکسوں کی بہتات سے غربت، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی میں اضافہ ہوگا تو بڑے لوگ بیرون ملک اپنے اثاثوں سے کھلیں گے اور نچلے طبقے کی عوام اور اداروں سے وابستہ افراد لڑیں گے۔ جرنیلوں، ججوں، سیاستدانوں ، بیوروکریٹوں اور صحافی حضرات کو اپنے جائز وناجائز بیرون ملک دولت لانے پر مجبور کیا جائے اور پارلیمنٹ میں یہ قانون بنایا جائے کہ جو بڑے عہدوں پر فائز رہے گا، وہ اپنے بچوں اور جائیداد کو ملک سے باہر نہیں رکھ سکے گا تو آئندہ کی چوری کا رستہ بھی رک جائیگا اور ان خوشحال لوگوں کے یہاں رہنے سے ملک میں بھی خوشحالی آئے گی۔ جن لوگوں نے بیرون ملک کافی اثاثے بنالئے ہیں،ان کو علاج معالجے کیلئے جانوروں کی طرح اپنے ملک کے بدحال ہسپتالوں میں مجبور کیا جائے۔ یہ ملک کے ساتھ بھلائی کا واحد طریقہ کار ہے۔ بادشاہی خان محسود نے صرف دفتر آمد کی وجہ سے سارا اختلاف اور ناراضگی ختم کرکے ٹانک جلسے میں عوام سے شرکت کی اپیل کی تھی۔ اگر وہ منظور پشتین کو پختونوں کے سب سے بڑے لیڈر کی حیثیت دینے کیساتھ ساتھ ایک نصیحت یہ کرتا کہ منظور! تم نے پشاور اور مختلف جلسوں میں نعرہ لگایا: ’’ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔ اس سے رُک جاؤ، تو آج بادشاہی خان کا ضمیر بھی مطمئن ہوتا کہ منظور پشتین جس نعرے کی وجہ سے اتنا بڑا لیڈر بن گیا ہے اور مجھے اس نعرے سے شروع سے اختلاف تھا۔ میں نے اپنا حق ادا کردیا ۔ منظور پشتین کیلئے بھی پردہ ہوتا کہ پشاور میں جو نعرہ لگایاوہ لاہور میں نہ لگا سکا۔ خیبر نیوز میں حسن خان کے انٹرویو میں منظور نے کہا ’’ PTMکا ایک ہی نعرہ ہے کہ یہ کیسی آزادی ہے، ہمارے جوان قتل اور گھر برباد ہورہے ہیں۔ باقی نعرے نہ ہماری ایجاد ہیں ، دوسرے لوگوں نے لگائے ہیں اور PTMکا صرف وہی اپنا ایک نعرہ ہے‘‘۔یہ کریڈٹ بادشاہی محسود کوہی جاتا کہ منظور کو اس نعرے سے روکنے میں زبردست کردار ہے۔ اسلام آباد دھرنے میں یہ نعرہ پہلے بھی لگاتھا۔ محسود ملکان نے دھرنے کو شامِ غریباں میں بدل دیا تو سید عتیق الرحمن گیلانی نے اسٹیج سے یہ نعرہ لگوایا اور ٹھنڈے لوگوں میں پھر سے تحریک کی گرمی پیدا کردی، اس وقت بادشاہی خان نے ہی کہا کہ ’’ یہ قوم کو بے عزت کررہا ہے‘‘ لیکن یہ نعرے پہلے لگے تھے۔ عتیق گیلانی نے جو مردانگی کا طریقہ سکھایا کہ قبائل نے اُف پہلے بھی نہیں کی، اب بھی نہیں کرینگے، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے بھٹو، نواز اور عمران کو اقتدار دیا تو یہ کورٹ میرج والی باغی بیٹیاں ہیں جبکہ قبائل نرینہ اولاد ہیں۔ اگر تحریک اس نہج پر چلتی تو آج اقتدار بھی لونڈے لپاڑوں کے پاس نہ ہوتااور منظور پشتین کی تحریک لونڈے لپاڑے یرغمال نہ بناتے۔خیسور واقعہ میں جذباتی تقریروں میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’ ہندو کاسر ننگا تھا پختونوں نے کاٹ کررکھ دیا‘‘ ۔ تصویرمیں ہندوؤں کے آوزار نظر آنے کے قریب ہیں۔مروت کا لباس تہبند تھا، بازاروں میں ڈھیلے سے پیشاب سکھانے کا طرز شرمناک ہے لیکن وزیروں کو اپنے دونمائندے علی وزیر اور محسن داوڑ کے ننگے سر بھی بھول گئے تھے۔ سردار امان الدین ؒ نے قوم کو طاقت کا رستہ دکھایا تو انجام دیکھ لیا۔ پھر گومل یونیورسٹی میں کہا کہ ’’وزیرستان اپنا وطن ہے چلتے ہیں‘‘ مگر قوم جانتی تھی کہ طاقت مسئلے کا حل نہیں، بڑے انگریز کے وظیفہ خوار تھے‘‘۔ سردار امان الدینؒ نے گومل یونیورسٹی میں کہاتھاکہ ’’ قومیں صرف اخلاق کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں، ہم اپنے اخلاق کی طرف توجہ دیں‘‘۔ عالم زیب محسود اس پر کاربند تھا، مولانا سمیع الحق کے قتل پر بھی کارکنوں کو اخلاق کے منافی باتوں سے روک دیا ۔ منظور پشتین تو وہ تھیلا ہے جسے بلوچی میں جالگ کہتے ہیں جو بھیڑ بکریوں کی تنوں پربچوں سے دودھ بچانے کیلئے باندھا جاتا ہے۔ جو ٹوئٹ عالم زیب نے کیا وہ منظور پشتین کو کرنا چاہیے تھا ۔ جالگ کو پہلے بادشاہی کے پاس جانا نہیں تھا جب گیا تو تقریر کا موقع دینا تھا، نہیں دیا تو بادشاہی کو طعنہ دینے والوں کو روک دینا چاہیے تھا۔ اگر عتیق گیلانی کواپنے و پرائیوں سے چھپتے پھرنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو وہ جرنیلوں، نوازشریف، عمران خان اور زرداری سے لیکر تمام چھوٹی بڑی قیادتوں سے کہتاکہ یہ قبائل کو کیمپوں میں رکھنے کے بجائے اپنی اپنی رہائشگاہیں خالی کرکے ان کو عزت کیساتھ رہنے کا حق دو۔ جس سے ریاست مضبوط اور سیاست کا سر فخر سے بلند ہوتا مگرقوم کو کچرا بنایا جارہاہے۔ خدا را، ہوش کے ناخن لو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں