Home Nawishta-e-Diwar-19 جواں سال منظور احمد پشتین کو بہت ہوشیار رہنا چاہیے 

جواں سال منظور احمد پشتین کو بہت ہوشیار رہنا چاہیے 

186
0

شمالی وزیرستان درپہ خیل میں منظور احمد پشتین نے قبائلی کلچر ڈے سے اپنے خطاب میں بڑی پیاری باتیں کیں مگر تعصب غلط تھا۔ ایک نوجوان جب جذباتی ماحول کی نذر ہوجاتا ہے تو معروضی حقائق سے زیادہ جذبات پر یقین رکھتا ہے۔ منظور احمد پشتین نے روایتی قبائلی عقل و فکر ، علم و تدبر اور فطری صلاحیتوں کا ثبوت دیتے ہوئے انتہائی خوش اسلوبی اور متانت کے ساتھ تقریر کی۔ پاک فوج نے اچھا کیا ہے کہ قبائلی عوام کے اعتماد کو بحال کرنیکی راہ ہموار کردی ہے، دہشتگردوں کے ظلم و ستم نے جو ڈر ، خوف اور بد اعتمادی کی فضا پیدا کی تھی اس کا واحد حل ایک ایسی قومی تحریک تھی جو لوگوں کو انکے اقدار کی طرف بہتر انداز میں لوٹائے۔
کافی عرصے سے ملک بھر میں بالعموم اور قبائلی علاقہ جات میں بالخصوص کچھ اس قسم کی تحریکوں نے جنم لیا تھا کہ قبائل کی سطح پر لوگ اپنے خونی رشتوں کو زیادہ سے زیادہ ترجیح دیں۔ ملکی سطح پر اعوان قومی تحریک کی مثال دی جاسکتی ہے۔ محسود و برکی قوموں کے علاوہ کانیگرم کے پیروں نے بھی اپنا ایک سیٹ اپ بنالیا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ اپنے قبیلے سے محبت انسان کی فطرت و ایمان کی علامت ہے۔ بین الاقوامی طورپرخاندانی اقدار کو بحال کرنے کی تحریک اٹھے تو عالمی قوتیں ان کو سپورٹ کریں گی۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے مشورہ سے اللہ کے پیغمبر سے کہا کہ’’ اللہ نے جو عذاب ہم پر نازل کرنا ہو نازل کردے ، پتھر برسائے تو ہم مرہم پٹی کرلیں گے ،بیماری دے تو ایکدوسرے کی بیمار پرسی اور جنازے پڑھیں گے۔ جو کوئی مصیبت ہم پر اللہ نازل کردے ہمیں کوئی خطرہ نہیں اور ہم اللہ کو نہیں مانتے وہ جو عذاب نازل کرنا چاہے بیشک نازل کردے ۔ ہاں صرف آپس میں لڑانے کا عذاب ہم پر مسلط نہ کرے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں‘‘۔
اللہ کو یہ بات اتنی پسند آئی کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے وعدہ کے باوجود اس عذاب کو ٹال دیا اور اللہ نے فرمایا کہ یہ میری نا فرمان اور کافر قوم ہے لیکن جو مشاورت سے ایک بات انہوں نے کی یہ میری بھی پسندیدہ بات ہے۔ عالم انسانیت کی تاریخ میں ایک واحد قوم حضرت یونس ؑ کی تھی جس پر عذاب کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے ٹال دیا۔ اگر اعوان قوم سے قبائلی علاقہ جات تک اپنے قبیلہ کے لوگوں سے محبت ، اخوت و بھائی چارے کا ماحول قائم کرنے کے پیچھے وردی ہو تو بھی یہ زبردست اور بہترین بات ہے۔ اپنی قوم سے محبت رکھنا ایمان اسلئے ہے کہ اللہ نے نبیؐ سے فرمایا کہ مشرکین مکہ سے کہہ دو قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا مودۃ فی القربیٰ ’’ کہہ دیجئے کہ میں تجھ سے اس دینی تحریک پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر قرابت داری کی محبت‘‘۔ یہ آیت مکی ہے جسکے اولین مخاطب مشرکین مکہ تھے۔ قرآن ہمیشہ کیلئے ہے اسلئے حدیث صحیحہ میں اس آیت کی تفسیر میں مسلمانوں کو مخاطب کرکے اہل بیت کی محبت بھی مراد لی گئی ہے۔ دونوں تفسیر میں کوئی تضاد نہیں ہے اور دونوں فطرت کا عین تقاضا ہیں۔
مشرکین مکہ میں غیرت اور بے غیرتی کے مسائل تھے۔ قرآن میں ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے۔ یہ غیرت بھی اپنے حدود سے نکلی ہوئی تھی۔ دوسری طرف بخاری کی روایت ہے کہ لوگ اپنی بیگمات کسی اچھے نسل والوں کے حوالہ کرتے جب ان کو حمل ہوجاتا تھا تو واپس لے لیتے تھے تاکہ ان کا نسب اچھا ہوجائے اور یہ پھربے غیرتی کی انتہا تھی۔ قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عرب جاہلوں کی اصلاح کردی تو حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر آنے والی قیامت تک صحابہ کرامؓ کی وہ ممتاز اور بلند درجہ جماعت تیار ہوئی جس کی کوئی مثال پہلے ادوار میں ملتی ہے اور نہ بعد کے ادوار میں اس کا کوئی امکان ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے عربوں میں کسی قومی جذبے کی تحریک چلانے کا حکم نہیں دیا تھا ورنہ انکے نقائص اور بے غیرتیاں کبھی ختم نہیں ہونی تھیں۔
اگر مشرکین مکہ قرابتداری کی محبت کا پاس رکھتے تو مسلمانوں کو کبھی حبشہ اور پھر یثرب ہجرت کرنے کی کبھی ضرورت نہ پڑتی۔ جب مشرکین مکہ سے قرابت کی محبت کا تقاضہ قرآن کا حکم اور فطری بات تھی تو کوئی قوم بھی اپنوں سے محبت کی تعلیم کو ایمان اور فطرت کا تقاضہ سمجھ سکتی ہے۔قرآن نے مشرکین مکہ کے باطل عقائد اور بے غیرتی والے رسم و رواج کو چیلنج کیا تو انہوں نے قرابتداری کی محبت کا بھی پاس نہیں رکھا۔ جس طرح اپنی قوم اور اپنی زبان سے محبت ایمان کا تقاضہ ہے اسی طرح دوسروں سے نفرت اور تعصبات بے ایمانی اور کفر کا تقاضہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ لکل قوم ھاد ہر قوم کیلئے ایک ہدایت دینے والا ہوتا ہے۔ پختونوں کیلئے مشہور شاعر رحمان بابا ؒ کی حیثیت ہدایت کار کی ہے لیکن فلموں اور ڈراموں کی وجہ سے ہدایت کار کی اصطلاح بری لگتی ہے۔ اس عظیم شاعر کی پوری شاعری پختون قوم کی فطرت اور انسانیت کا شاہکار ہے۔
پختون قوم کے سب سے بڑے سیاسی لیڈر خان عبد الغفار خانؒ و عبد الصمد خان اچکزئی شہیدؒ تھے جنہوں نے انگریز سے آزادی کیلئے قربانیاں دیں لیکن ان کے سیاسی اور قومی نظرئیے کا قبلہ کابل نہیں دہلی تھا۔ دو قومی نظرئیے میں وہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی بجائے متحدہ ہندوستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ وہ یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ اپنے پڑوسی پنجابی ، سندھی اور بلوچوں سے الگ ہوکر پختونستان کی الگ مملکت بنالیں۔ جب سیاسی لیڈر شپ وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے جھوٹے مقدمات بنا کر بلوچ اور پختون قیادت کو بغاوت کے مقدمے میں قید کرکے حیدر آباد جیل میں مقدمہ چلایا تو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا ء نے ان کو رہائی دلائی۔ اس کے پیچھے قابلِ فخر وردی تھی لیکن نا مردی نہیں تھی۔
قبائلی علاقوں میں فوج ، پولیس اور عدلیہ کا کوئی تصور نہ تھا لیکن عالمی المیہ تھا کہ بڑی تعداد میں امریکہ کی مزاحمت کرنے والے پہنچ گئے۔ وزیروں نے ان کا خیر مقدم کیا اور اپنے ہاں ان کو ٹھکانے دئیے ۔ کمزور لوگوں نے اپنی جگہ بنانے کیلئے طاقتور لوگوں کو ٹھکانے لگانا شروع کردیا۔ علی وزیر کی خاندانی حیثیت تھی اسلئے انکے خاندان کو شہید کردیا گیا۔ منظور پشتین و محسن داوڑ کا کوئی بڑا خاندانی بیک گراؤنڈ نہیں تھا اسلئے وہ طالبان سے زیادہ متاثر نہ ہوئے۔ یہ لوگ اپنی قوم کا درد لے کر اٹھے اور ان کو معروضی حقائق کے مطابق تعصبات کی آگ بھڑکانے سے گریز کرنا چاہیے۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے لکھا ہے کہ ’’سندھ ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹیئر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ انہی قوموں نے کرنی ہے۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لے آئے تو بھی ہم اس خطے سے دستبردار نہیں ہونگے‘‘۔ (المقام المحمود: تفسیر عم پارہ۔ امام انقلاب مولانا سندھیؒ )
قائدPTMمنظور پشتین کو چاہیے کہ علماء ومفتیان کے سامنے حقوق نسواں کو رکھیں۔ اگر پختونوں میں اصلاحات کا عمل ہو تو باقی قوموں کیلئے بہت آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔ اپنے کارکنوں کو قرآنی تعلیمات کی طرف راغب کریں، یہ وقت کا بہترین تقاضہ ہے، دینداری صرف آخرت نہیں بلکہ دنیابھی میں کام آتی ہے۔