خراسان کے دجال سے متعلق احادیث نبوی کی پیشگوئیاں اور ترجمہ پشتو اشعار وضاحت اور تشریح کے ساتھ

manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-dajjal-maulana-fateh-khan-of-tank-shaheed-pervez-musharraf

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ و السلام علیٰ خاتم النبیین
بخاری شریف میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں حمد وثنا کے بعددجال کے تذکرے سے پرجوش ہوگئے
فرمایا:اللہ نے کوئی ایسانبی ؑ نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو اس سے نہ ڈرایا ہو، یہاں تک کہ حضرت نوح ؑ اوران کے بعد والے پیغمبروں نے بھی ڈرایا۔
وضاحت:آخری خطبے کی اس حدیث شریف کوامام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں نقل کیاہے جس میں رسول اللہ ﷺ ایک ایک بات کوتاکید کے لئے تین تین مرتبہ دہرایاہے، کاش امت مسلمہ اس حدیث کے ایک ایک لفظ پر غور کرکے اس کوسمجھنے کی کوشش کرے اور موجودہ حالات میں ملاعمراور طالبان کے کردارکواس کے تناظر میں دیکھے۔جس دن اس حدیث کی سمجھ آگئی امت مسلمہ کوبحران سے نکلنے میں دیر نہیں لگے گی۔
فرمایا ﷺ انہ یخرج فیکم فما خفی علیکم من شانہ فلیس یخفی علیکم ان ربکم لیس علی مایخفی علیکم ثلاثاََ
ترجمہ: ببشک دجال تم ہی میں سے نکلے گا اورجوتمہارے اوپراس کاحال پوشیدہ ہے تو یہ بات تم سے مخفی نہیں ہے کہ تمہارے رب سے وہ بات پوشیدہ نہیں جو تم سے پوشیدہ ہے۔تین بار یہ فرمان عالی شان دہرایا۔
تشریح:اس حدیث شریف کے ا س جملے میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اس دجال کو امت مسلمہ میں سے ہی قرار دیاگیاہے ۔کیا امت مسلمہ یہ ماننے کے لئے آمادہ ہے کہ دجال ہم میں سے بھی ہوسکتاہے؟اگرنہیں توامت مسلمہ کواس حدیث پر غور کرکے آمادہ ہوناچاہیے۔ اس روایت کی صحت پر کوئی کلام نہیں، اس روایت میں وہ دجال مراد نہیں جس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوا ہوگا ، یہ دجال بھی اپنی حیثیت میں بہت بڑا درجہ رکھتا ہے جس کو اُمت مسلمہ شاید اپنا امیر المؤمنین یا بہت بڑا مجاہد تصور کرے۔
اس دجال کا احوال امت کے افرادسے مخفی رہے گا۔ کیا ہمارے حکمران، علماء کرام،دانشوران عظام اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دجال اپنی دجالیت کا بھرپور کردار ادا کر رہاہو اور ہم پھر بھی اس کوپہچاننے سے بے خبر رہیں؟اس حدیث کاتقاضا یہ ہے کہ سب کو بالکل کھلے دل کے ساتھ اعتراف کرلیناچاہیے۔اس حدیث میں ایک اور اہم بات یہ ہے جس کا اعتراف سب مسلمانوں کوہے کہ امت مسلمہ پر یہ بات مخفی نہیں کہ ہمارے رب سے وہ بات پوشیدہ نہیں جوہم سے مخفی ہے۔تین بار تاکیدکے ساتھ یہ فرمانے کے بعددجال کی دجالیت کا پردہ کس واشگاف انداز میں کھولتے ہیں،سنئے، دیکھئے ، غورکیجیے اور سمجھئے۔
فرمایا ﷺ :ان ربکم لیس باعور وانہ اعور عین الیمنیٰ کان عینہ عنبۃطافیۃ الا ان اللہ حرم علیکم دمآء کم واموالکم کحرمۃ یومکم ھٰذا فی بلدکم ھٰذا فی شھرکم ھٰذا الا ھل بلغت قالوا نعم قال اللھم اشھد ثلاثاََ ویلکم او ویحکم انظروا لاترجعوا بعدی کفاراََ یضرب بعضکم رکاب بعض۔
ترجمہ :(بیشک تمہارا رب کانا نہیں ہے اور وہ (دجال) دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، اس کی آنکھ ایسی گویا پھولاانگور۔ خبردار!بیشک اللہ نے تمہارے خون اور تمہارے مال کوتمہارے لئے ایساحرمت والا قرار دیاہے جیسے تمھارے لئے اس دن کی حرمت، تمہارے اس شہر میں اور اس مہینے میں ہے ۔ خبردار! کیا میں نے اس پیغام کو پہنچادیا ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔فرمایا ﷺ اے اللہ! تو گواہ رہیو۔تین بار یہ جملے دھرائے۔ پھر فرمایا:تمہارے لئے خرابی ہو یا یہ کہ تم پر افسوس دیکھو ! میرے بعد واپس لوٹ کر کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔)
تشریح :بخاری کی اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ دجال خدائی کا دعویٰ کرے گابلکہ سیدھی سی بات ہے کہ اللہ کانا نہیں اور یہ دجال دائیں سے کانا ہوگا۔
یہ بات بالکل لغو ہے جو کسی نے کہی ہے کہ دائنی آنکھ سے مراد خیرکی جانب سے اندھا ہوگا کیونکہ بعض روایات میں ہے کہ دجال با ہنی سے کانا ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دجال بہت ہیں کوئی داہنی آنکھ سے کانا ہوگا اور کوئی باہنی آنکھ سے کانا ہوگا۔ اس لئے یہ دجال تاویلات سے نہیں حقیقی کانا ہوگا۔ البتہ اس میں یہ رمزنمایاں ہوسکتاہے کہ جیسے افغانستان جس کو خراسان کہا جاتا تھا اس میں ایک کانے امیرالمومنین ملاعمر کا یہ کردار رہاہے کہ ایک طرف میڈیسن( ادویات) کے ڈبوں پر تصاویر کے خاکوں کواسلام اور شریعت کے نام پر منع کرتا تھا اور دوسری طرف کابل میں یہودیوں کی الجزیرہ ٹی وی کو کھلم کھلا تصاویری سرگرمیوں کی اجازت دی تھی۔ہمارے حکمران،سیاستدان،صحافی اورعلماء کرام کے نزدیک وہ مجاہد،اللہ والا اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا نقیب ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کے دہرے کردارسے واقف ہے،اللہ کانا نہیں ہے اور نہ اس کی شریعت کانی ہے البتہ یہ کانے دجال کی کانی شریعت ہوسکتی ہے۔اس حدیث میں دجال کی ایک آنکھ کو پھولے انگور کی مانند قرار دیا گیا ہے تو یہ اس کی سلامت آنکھ کی طرف بھی اشارہ ہوسکتاہے ، اس لئے کہ بعض روایات میں دجال کی آنکھ کے کھڈے کا ذکر بھی ہے۔ جس طرح خراسان سے نکلنے والے ایک دجال کے ساتھیوں کے چہروں کو ڈھالوں اور ہتھوڑوں سے تشبیہ دی گئی ہے،ایسا ہی سلامت آنکھ سے برائے نفرت یہ تشبیہ قراردی جاسکتی ہے۔اس حدیث میں اس دجال کے بارے میں جس کا حال سب پر مخفی رہے گا سب سے آخری اور فیصلہ کن بات یہ فرمائی گئی ہے کہ مسلمانوں کے جان ومال کو یوم عرفہ کی طرح مکہ شہرمیں ،ذوالحج کے مہینے میں حرمت والا قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمادیا ہے کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔مگر یہ دجال کی سب سے بڑی علامت اور نشانی ہوگی کہ وہ مسلمانوں کی جان و مال کی حرمت کو ختم کردے گا۔ ملا عمر کے لشکرطالبان نے مسلمانوں کے جان ومال کی حرمت کے خاتمے کا عملی اعلان کردیا ہے اور دجال کی اس روایت میں سب سے بڑی اور واضح علامت یہی ہے۔ جیو ٹی وی چینل میں جرگہ پروگرام،، کے میزبان سلیم صافی نے ایک پکڑے گئے خود کش حملہ آور کا انٹر یو عوام کو سنایا تھا، جس نے طالبان کے علاوہ سب مسلمانوں کے خون اور مال کی حرمت کے خاتمے کا عرب علماء کے فتووءں کے حوالہ سے اعلان کیا ہے،یہ سراسر دجل اس دجالی تحریک کاوطیرہ ہے کہ سب کچھ کرکے بھی مکرجاتے ہیں ۔یہ دھشت گرد امریکی سی آئی اے کے پیداوار ہوں یاانڈیا اور اسرائیل کے ایجنٹ بہرحال یہ ملاعمر کانے دجال کے پیروکار بھی ہیں۔مسلم اس کو اپنوں میں سے سمجھیں، اس کی دجالیت کا ادراک نہ رکھیں لیکن بیشمار مسلمانوں کا قاتل اور قتل کرنے کے درپے اس دجالی لشکر کاخاتمہ کرنا ہوگا۔ بعض روایات میں تیس دجالوں کا ذکر ہے اور ایک روایت میں یہ ہے
قال رسول اللہ ﷺ :یکون قبل خروج الدجال نیف علی سبعین دجالاََ۔7 دجال سے پہلے ستر سے زیادہ دجال ہوں گے۔(الفتن، نعیم بن حماد ،روایت۱۴۴۹)
جب دجال کومسلمان نہیں پہچانیں گے اور وہ مسلمانوں میں شمارہوگاتواس کے پیروکارکیا امت میں سے ہوسکتے ہیں؟بالکل کیوں نہیں خوارج بھی ان کے پیروکارہوں گے اوروہ خود بھی خوارج کے باقیات میں سے ہوگا،جس کی تفصیلات روایات میں موجودہیں۔
النبی ﷺقال: یتبع الدجال من امتی سبعون الفاََ علیھم السیجان۔ نبی ﷺ نے فرمایا:میری امت میں سے سترہزار لوگ دجال کی پیروی کریں گے، جن پرسیجان ہوں گے۔ (الفتن، نعیم بن حماد، روایت ۱۵۴۲)
عن عبیدبن عمیرقال: قال رسول اللہ ﷺ: لیصحبن الدجال اقوام یقولون : انا لنصحبہ وانا لنعلم انہ کافرولکنا نصحبہ ناکل من الطعام ونرعی الشجرفاذانزل غضب اللہ تعالیٰ نزل علیھم کلھم (الفتن، نعیم بن حماد،۱۵۲۸) رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دجال کا ضرورساتھ دینے والے ایسے لوگ بھی ہوں گے جوکہیں گے کہ ہم اس کاساتھ دے رہے ہیں ،ہم جانتے ہیں کہ وہ(دجال)کافر ہے لیکن ہم اسلئے ساتھ دیتے ہیں کہ ہم کچھ کھاناکھائیں اور درخت کی دیکھ بال کریں، جب اللہ تعالیٰ کاغضب نازل ہوگاتوان سب پر ہوگا۔
ا بن صائد یا ابن صیادنے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ آپ امیوں کے رسول ہیں آپ بھی گواہی دیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں،،حضرت عمرؓ نے عرض کیاکہ اجازت دیں تاکہ اس کوقتل کردوں! نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اگریہ وہی دجال ہے تواس کاقتل کرناتیرے بس میں نہیں اوراگروہ نہیں ہے تواس میں تیرے لیے کوئی خیرنہیں۔ابن صیاد نے نبوت کا دعویٰ کیالیکن اسلام نے اس کوبھی قتل کرنے کی اجازت نہیں دی البتہ طالبان نے عامۃالمسلمین کوقتل کرنے کے جس فتنے کا آغاز کردیا تھا، یہ دجالیت کسی طرح بھی برداشت کے قابل نہیں ہے، اس کی پشت پناہی اہل مشرق کی جانب سے بھی ہورہی ہے اور اہل مغرب بھی اس کی پشت پناہی کررہے ہیں۔
عن حذیفۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الدجال اعورعین الیسری۔ جفال الشعر۔ معہ جنۃ و نار۔ فنارہ جنۃ و جنتہ نار
حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال بائیں آنکھ کا کانا ہوگا۔ بکھرے بال ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی۔ اس کی جہنم جنت ہوگی اور اس کی جنت جہنم ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ۔ حدیث 4071 )
عن ابی بکر صدیق قال حدثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الدجال یخرج من ارض بالمشرق یقال لھا خراسان۔ یتبعہ اقوام، کان وجوھہم المجان المطرقۃ
حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان کیا کہ دجال مشرق میں کسی جگہ سے نکلے گا جس کو خراسان کہا جاتا ہے۔ ایسی قومیں اس کی پیروی کریں گی گویا ان کے چہرے ڈھال (جیسے گول) ہتھوڑے(لمبوترے) ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 4072) مجان ڈھال کو اور مطرقہ ہتھوڑے کو کہتے ہیں(دیکھئے المنجد)۔ طالبان کے لشکر میں گول چہرے والے اُزبک اور لمبوترے چہرے والے پٹھانوں کی اکثریت ہے۔ باقی کوئی بھی چہرہ یا تو گول ہوگا یا لمبوترا ہوگا۔ حدیث میں بطور مذمت یہ تشبیہ دی گئی ہے جس قوم سے بھی دجالی لشکر کا تعلق ہو ان کے چہرے ڈھال جیسے گول یا ہتھوڑے جیسے لمبوترے ہوں تو قابل مذمت ہی ہیں۔
عن المغیرۃ ابن شعبۃ قال ما سال احد النبی ﷺ عن الدجال اکثر مما سالتہ (وقال ابن نمیر: اشد سوالا منی) فقال لی مانسال عنہ؟ قلت: انھم یقولون: ان معہ الطعامہ و الشراب۔ قال ھوا اھون علی اللہ من ذالک
مغیرۃ ابن شعبہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کسی نے دجال کا حال اتنا نہیں پوچھا جتنا میں نے پوچھا۔ آخر آپ ﷺ نے فرمایا اس کا حال کیا پوچھتا ہے ؟ میں نے عرض کیا لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے ذلیل ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 4073 )
طالبان کے لشکر میں شامل لوگوں کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے ان دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔بھوکے پیاسے لوگ ان کی وجہ سے مراعات یافتہ بن گئے،جوصبح شام کے کھانے کے لئے فکر منداوردوسروں کے دست نگر رہتے تھے، مال واسباب کی وجہ سے ان کے حالات بدل گئے،ان لوگوں نے مقامی لوگوں، حکومتی اہلکاروں سے چندے ، بھتے،ڈاکے، اغوابرائے تاوان سے لیکربین الاقوامی فنڈز تک خوب مال واسباب کے مزے لئے۔ان کے جہادکانظریہ اور دین کی دعوت خیرکی بات ہے لیکن ان کے اعمال اس کے بالکل برعکس ہیں اورقرآنی آیات جوپڑھتے ہیں وہ ان کی حلق سے نہیں اترتے۔ ان احادیث میں دجالی لشکر کے حالات اور طالبان میں کتنی مماثلت ہے؟ میرا کبھی دجال کی تحقیق کی طرف زیادہ دھیان نہیں گیا تھا۔ لیکن جب مولانا فضل الرحمن نے ان احادیث کو طالبان پر فٹ کردیا تو روایات کو تفصیل سے دیکھا۔ جس میں بہت کچھ اس کی تصدیق کے لئے مل گیا۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان کے وجودسے کچھ پہلے کراچی کے ماہنامہ یا ہفت روزہ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ آ ئندہ سال افغانستان سے دجال نکلے گا،،پھرجب طالبان کی تحریک شروع ہوئی توآئی ایس آئی کے ایک آن ڈیوٹی اہلکارنے مجھ سے کہاکہ جوتم چاہ رہے تھے وہ خلافت کانظام افغانستان میں قائم ہونے جارہا ہے لہٰذا آپ اپنے ساتھیوں سمیت اس میں حصہ لیں،،میں نے بے ساختہ کہا کہ یہ کہیں امریکہ کی سازش تونہیں؟( ہمارے ہاں سازش کاتصوربہت عام ہے)اوریہ کیابات ہے کہ تم پاکستان میں خلافت قائم کرنانہیں چاہتے توافغانستان میں کیوں چاہتے ہو؟(مجھے دال میں کچھ کالاکالا لگ رہاتھا جس کامیں اظہاربھی کرتارہا)۔ ہفت روزہ تکبیر کراچی میں ایک مضمون شائع ہواجس میں مولانافضل الرحمان پرالزام لگایاگیاکہ طالبان کی تشکیل کے وقت بیرون ملک چلے گئے تھے تاکہ ان کواس میں کوئی کردارادانہ کرناپڑے،، کالم نگار کا تجزیہ اس پہلو سے تھاکہ مولانا فضل الرحمان نے ایک قومی خدمت سے پہلو تہی برتی لیکن میرے نزدیک مولانا فضل الرحمان اس سازش کے گناہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے۔البتہ ایک تشکیل شدہ کھیل یا نازل ہونے والی بلا میں مولانا اپنی ترجیحات قائم کرکے حصہ بقدر جثہ اپنا کردار ادا کرنے کے لئے میدان میں اتر گئے۔ افغانستان کے سابق سربراہ نجیب اللہ کو جب طالبان نے اپنے محاصرے میں لیا تو مولانا فضل الرحمن نے ملا عمر سے اس کی زندگی بچانے کی درخواست کی۔ مگر ملا عمر نے اپنی بے بسی ظاہر کرکے مولانا کو بہت مایوس اور شرمندہ کردیا۔ مولانا سمیع الحق نے بھی اس بات کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کو سپورٹ کرنے میں پہل اس نے کی اور جب طالبان کو مقبولیت حاصل ہوئی تو مولانا فضل الرحمن نے بعد میں ان کی سپورٹ کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں کیش کرایا۔
تبلیغی جماعت کی تشکیل کردہ ایک جماعت میں ایک بڑے بالوں والے (جس کی عورتوں کی طرح چوٹیاں تھیں) نے مسلسل مجھ سے ملنے پر اصرار کیا حالانکہ میرے پاس اخبار کی تیاری میں مصروفیت کی وجہ سے وقت نہیں تھا۔ یہاں تک کہ جب ہمارے ہاں سے وہ جماعت کسی اور گاؤں میں چلی گئی پھر بھی وہ شخص میرے پیچھے آیا۔ خیر میں نے اس کی دعوت بھی کی اور دوسرے گاؤں تک اس کو پہنچایا بھی۔ دوسرے دن میرے پیچھے کسی کو معلومات کے لئے بھیجا تو اس کو بتایا گیا کہ میں ٹانک گیا ہوں۔ ٹانک سے واپسی پر جب رات کا اندھیرا چھا رہا تھا مجھ پر شدید فائرنگ ہوئی۔ جنوبی وزیرستان کے ایم این اے مولانا معراج الدین قریشی وہاں کے رسم و رواج کے مطابق دوسرے لوگوں کی طرح اس سلسلے میں میرے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا محمد خان شیرانی نے مولانا فضل الرحمن سے طالبان اور دہشت گردوں کی تشکیل اورمنصوبہ بندی کے حوالے سے پوچھا کہ’’ امریکہ کے عزائم کیا ہیں اور وہ ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اس سے قبل بھی مولانا معراج الدین قریشی اور سینیٹر مولانا صالح شاہ قریشی نے دعوت افطار پر تفصیل سے ذکر کیا تھا کہ طالبان اور ازبک ہمارے ایریا میں کسی بیرونی کھیل کا حصہ ہیں لیکن یہ معلوم نہیں کہ سازش کیا ہورہی ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ جنوبی وزیرستان میں جب مقامی طالبان کے کیمپ پر بمباری کی گئی جن میں کوئی لیڈر یا رہنما سطح کا طالب ہلاک نہیں ہوا بلکہ سارے نئے لوگ، تماشبین اور وہ مقامی افراد جو بعد میں زخمیوں کو اٹھانے آئے تھے ان کو نشانہ بنایا گیا۔ جب قبائلی عمائدین کا جرگہ اس وقت کے گورنر افتخار حسین گیلانی نے طلب کیا تو اس نے تفصیل سے بتایا کہ اُزبک جنوبی وزیرستان میں کس طرح داخل ہوئے، کس کس کے پاس قیام کیااور اسی مقامی کیمپ کے قریب ان کا بھی ایک بڑا کیمپ موجود ہے۔ مولانا عصام الدین محسود ضلعی جنرل سیکریٹری ٹانک جے یو آئی (ف) نے گورنر کے سامنے اُٹھ کر سوال پوچھا کہ صاحب! ہم معافی چاہتے ہیں جو معلومات آپ کے پاس ہیں وہ ہمارے پاس بھی نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اُزبکوں کا کیمپ قریب میں موجود تھا تو مقامی لوگوں کو نشانہ بنانے کے بجائے اُزبکوں کو کیوں نشانہ نہیں بنایا گیا؟ جبکہ آپ کا مدعا بھی یہ ہے کہ مقامی لوگوں کے بجائے غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جس پر گورنر افتخار حسین گیلانی نے کوئی معقول جواب دینے کے بجائے طیش میں آکر کہا کہ اگر ہم نشانہ نہ بناتے تو امریکہ آپ کو نشانہ بناتا۔ مولانا صالح شاہ سے کسی نے کہا کہ آپ کو طالبان نے خوفزدہ کردیا ہے تو اس نے کہا کہ میں ان سے نہیں ڈرتا، جب بمباری ہورہی تھی تو یہ لوگ اس کی ویڈیو بنارہے تھے اور ہمارے پہنچنے سے پہلے گورنر کے پاس یہ ویڈیوز پہنچادی گئی تھیں۔ یہ معاملات کی ایک جھلک ہے۔ ورنہ ان کی تفصیلات سے کچھ احمق لوگوں کے سوا بہت سے عقل مندلوگ بخوبی آگاہ ہیں۔ بعض لوگ امریکہ کے خلاف جہاد کے نام پر ان سارے معاملات کو جانتے بوجھتے بھی جواز فراہم کررہے تھے اور بعض لوگ ان واقعات کو امریکہ کے خلاف جہاد کے بجائے امریکہ کے دباؤ کے نتیجے میں اپنے بے گناہ لوگوں کو مروانے کی بات کررہے تھے۔ لیکن فوج اور طالبان کے ڈر کی وجہ سے کھلم کھلا ان سازشوں کا اظہار نہیں کرسکتے تھے۔
ٹانک میں جب طالبان نے لوٹ مار کا بازار گرم کرنے کے لئے شہر میں دھماکے کئے ، راکٹ فائر کئے اور راکٹ لانچروں سے خوف و ہراس پیدا کیا ، لوگوں نے خواتین اور بچوں سمیت مسجدوں میں پناہ لی۔ یہ کاروائی بینکوں کو لوٹنے کے لئے کی گئی تھی۔ لوگوں میں طالبان کے خلاف نفرت پیدا ہوئی تو بیت اللہ برکی جو طالبان کا سرگرم کارکن ہے نے ہمارے گاؤں جٹہ قلعہ آکر میرے ماموں زاد بھائی منہاج الدین سے کہا کہ طالبان کے امیر بیت اللہ محسود سے کہلوائیں کہ اس کاروائی میں طالبان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ منہاج نے کہا کہ میرے تو ان سے کوئی روابط نہیں ہیں، پھر بیت اللہ محسود کی طرف سے اعلان بھی کیا گیا کہ ہمارا اس کاروائی میں ہاتھ نہیں، لیکن انہی دنوں میں بیت اللہ برکی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ ٹانک کے خوف و ہراس میں وہ شریک کار تھا کہیں کھڑے کھڑے اپنا راکٹ لانچر غلطی سے فائر ہوگیا جس کی وجہ سے اس کا ایک بازو الگ ہوگیا۔ جب بیت اللہ محسود اعلان کررہا تھا کہ ٹانک کی کاروائی میں اس کا ہاتھ نہیں اور بیت اللہ برکی کا ہاتھ کٹ گیا تو ہمارے ایک رشتے دار کوڑ برف خانے کے مالک زمان نے کہا کہ ’’ان کا ہاتھ تو تھا۔‘‘
عبیدہؓ سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے خوارج کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ہے جس کے ہاتھ میں نقصان ہے اور اگر تم بہت پھول نہ جاؤ اس ثواب کو سن کر جو ان کے قاتلین کو ملنے والا ہے تو میں تم سے بیان کروں جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ان کو قتل کرتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی زبان سے۔ عبیدہ نے کہا میں نے حضرت علی سے پوچھا کہ آپ نے خود سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں قسم ہے رب کعبہ کی ، تین بار قسم کھائی۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 167)
عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ نکلیں گے آخری زمانہ میں جو کم عمر ہوں گے، کم عقل ہوں گے، لوگوں میں کچھ خیر کی بات کریں گے، قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جو ان سے ملے تو ان کو قتل کرے۔ اللہ کے نزدیک ان کے قتل میں اجر ہے جو اُن کو قتل کرے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 168)
خوارج کے بارے میں یہ روایات میں نے اپنی کتاب ’’ضرب حق‘‘ میں تبلیغی جماعت کے خلاف لکھی تھیں۔ لیکن اس وقت مجھے یہ شرح صدر نہیں تھا کہ تبلیغی جماعت کے افراد کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا قتل سے مراد ان کے ساتھ ایک نظریاتی لڑائی ہے۔ سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ عبد اللہ ناصح علوانؒ نے اپنی کتاب ’’شباب المسلم‘‘ جس کا ترجمہ مولانا حبیب اللہ مختار ؒ جامعہ بنوری ٹاؤن کے سابقہ مہتمم نے ’’مسلمان نوجوان‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ اس میں تبلیغی جماعت کے بارے میں یہ وضاحت ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ابھی مکی دور میں ہیں، اُن کا یہ دعویٰ دو وجہ سے باطل ہے ایک یہ کہ مکی دور کو وہ نہیں سمجھتے اور دوسرا یہ کہ اسلام کو نہیں سمجھتے۔ ان پر مکی دور کے بجائے مرتد ہونے کے مرحلے کا اطلاق ہوتا ہے اور ایک اور اہم بات یہ لکھی ہے کہ جو لوگ اسلام کو نظام حکومت سے الگ کرنے کی بات کرتے ہیں ان کے خلاف جہاد کرنا چاہیے۔ تبلیغی جماعت نظریاتی بنیاد پر نظام خلافت کے سیاسی ڈھانچے کی بھرپور مخالفت کرتی رہی ہے۔ جس حدیث میں اسلام اور حکومت کو دو جڑواں بھائی قرار دیا ہے جو ایک دوسرے کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتے اسلام بنیاد ہے اور حکومت اس کی نگہبان ہے۔ جب یہ حدیث تبلیغی جماعت کے معروف مبلغ مولانا طارق جمیل کے سامنے ہمارے ساتھیوں نے پیش کی تو اس نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ کس قسم کی حدیث ہے۔ تبلیغی جماعت نے اللہ کے احکام اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی تشریح کا جو معیار لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا ہے اس میں خلافت اوراسلامی حکومت کا کوئی تصور نہ تھا۔ میرے ذہن میں اس بنیاد پر ان کے ساتھ نظریاتی جنگ کی ضرورت تھی۔ لیکن قتل کرنے والی بات کا تعلق میرے نزدیک یہ تھا کہ شاید کسی خاص موقع پر ان کا رویہ ایسا ہوجائے جس کی وجہ سے ان سے قتال کا جواز پیدا ہو۔ لیکن نظریاتی بنیاد پر ان کو قتل کرنا میرے نزدیک شرعاً جائز نہ تھا۔ لیکن اب جب طالبان کے ساتھ ان کے گہرے روابط ہوگئے ہیں تو احادیث اور حالات کا نئے سرے سے جائزہ لینا پڑے گا۔
ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آزادی کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے سنا۔ پھر کہا کہ میں نے سنا ایک قوم کا ذکر کرتے ہوئے جو خوب عبادت کرتے ہوں گے تم میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نمازوں کے سامنے حقیر جانے گا اور روزے کو ان کے روزے کے سامنے۔ یہ لوگ دین سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔۔۔۔ (ابن ماجہ، حدیث 169)
اس روایت میں آزادی کا ذکر ہے، دہشت گردوں کی موجودہ جنگ بھی آزادی کے نام پر ہے۔ ان لوگوں کو اُمت مسلمہ کا بہت بڑا ہیرو ہونا چاہیے تھا۔ لیکن بد قسمتی سے اُمت مسلمہ کو جو نقصان ان لوگوں نے پہنچایا ہے اس پر مسلمانوں کا ہر طبقہ پریشان ہے۔ ابن ماجہ میں خوارج کے باب میں مسلسل روایات ہیں جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ ان میں بہت مفید معلومات ہیں یہ اب ان خوارج پر ہے کہ احادیث رسول کو قبول کرکے اپنے رویے کو درست کرتے ہیں یا ان احادیث کے خلاف احتجاج بلند کرتے ہیں کہ ہماری عبادت اور آزادی کی جنگ کے ساتھ احادیث میں انصاف نہیں۔
جابر بن عبداللہؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جعرانہ میں سونا اور غنیمت کا مال بانٹ رہے تھے وہ بلال کی گود میں تھا کہ ایک شخص نے کہا عدل کرو اے محمد! کہ تم نے عدل نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا خرابی ہو تیری پھر کون عدل کرے گا میرے بعد اگر میں نے عدل نہیں کیا۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اجازت دیجئے مجھے اے اللہ کے رسول کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اور بھی ساتھی ہیں۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے سینے میں نہیں اُترے گا۔ وہ نکل جائیں گے دین سے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 172)
اس روایت میں اس بات کی نشاندہی ہے کہ خالی باتوں سے ان کو قتل کرنا جائز نہیں بلکہ جب وہ دہشت گرد کاروائی کریں یا ان کی پشت پناہی کریں تو قتل کرنے والی احادیث ان پر فٹ ہوں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خوارج کتے ہیں جہنم کے۔ (ابن ماجہ ، حدیث 173 )
ابن عمرؓ نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ایک نئی جماعت پیدا ہوگی وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ جب بھی ان کا کوئی گروہ کسی صدی میں نکلے گا تو وہ منقطع کردیا جائے گا، بیس مرتبہ سے زیادہ یہ نکلیں گے یہاں تک کہ دجال ان کے سامنے نکلے گا۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 174)
اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ بیس سے زیادہ مرتبہ خوارج ابھی نکلے نہیں ہیں اور نہ بیس صدیاں گزری ہیں تو اس میں دجال سے مراد آخری دجال ہوسکتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جیسے خوارج گروہ در گروہ نکلتے رہتے ہیں اور نکلتے رہیں گے اس طرح دجالوں کا سلسلہ بھی مختلف زمانوں میں مختلف دجالوں کے ذریعے ہوسکتا ہے۔
عبد اللہ بن عمروؓ ، سمع النبی ﷺ یقول: سیخرج الناس من قبل المشرق یقرأون القرآن لا یجاوز تراقیھم، کلما خرج منھم قرن قطع حتی عدھا النبی ﷺ زیادۃ علی عشر مرات۔ کلما خرج منھم قرن قطع حتی یخرج الدجال فی بقیتھم
عبد اللہ ابن عمروؓ نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا : عنقریب مشرق سے کچھ لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ جب بھی ان کا کوئی گروہ کسی صدی میں نکلے گا تو منقطع کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے دس مرتبہ سے زیادہ گنوایا، جب بھی کوئی گروہ کسی صدی میں نکلے گا منقطع کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ ان کے باقیات میں سے دجال نکلے گا۔ (الفتن، نعیم بن حماد، روایت 1498)اس روایت میں مشرق سے خوارج اور ان کے باقیات میں سے دجال کے نکلنے کا ذکر ہے ۔ ایران، افغانستان، پاک بھارت اور ایشیاء کی نو آزاد مسلم ممالک وغیرہ پر عرب کی جانب سے مشرق کا اطلاق ہوتا ہے۔ صحیح بخاری کے مصنف امام اسماعیل بخاریؒ سولہ سال کی عمر میں حج کے لئے تشریف لے گئے اور پھر وہیں رہے۔ آخری عمر میں اپنے شہر بخارا تشریف لے گئے تو ان کو اس وقت کے خوارج نے شہر سے نکال دیا۔ سمر قند والوں نے اپنے ہاں آنے کی پیشکش کی جب وہاں تشریف لے جانے لگے تو سمرقند کے خوارج نے بھی ان کے خلاف احتجاج کیا۔ چنانچہ ان کا سمرقند جانا بھی ممکن نہ ہوسکا اور کسمپرسی کی حالت میں بخارا اور سمرقند کے بیچ میں انتقال فرماگئے۔ دیوبندی مکتبہ فکر کے معروف عالم دین مولانا مناظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب ’’حضرت شاہ ولی اللہؒ کی سیرت ‘‘ میں علامہ رشید رضا مصری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ افغانستان میں ایک شخص نے نماز میں مسنون سمجھ کر تشہد کے لئے انگلی اٹھائی تو ان کی کاٹ دی گئی کہ یہ حنفی مسلک کی خلاف ورزی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو ان کو خوارج کے ہاتھوں قتل سے بچنے کے لئے دو سال روپوشی کی زندگی گزارنی پڑی۔ حالانکہ درس نظامی میں یہ بھی پڑھایا جارہا تھا کہ فارسی میں نماز پڑھنا نہ صرف جائز ہے بلکہ عربی سے بہتر بھی ہے (دیکھئے نور الانوار، ملا جیون)۔ ملا عمر، طالبان اور تبلیغی جماعت روشن خیال حضرت شاہ ولی اللہؒ ، شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ ، امام الہند مولانا ابو الکلام آزادؒ ، امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ ، مولانا محمد الیاس دہلویؒ بانی تبلیغی جماعت، مولانا محمد میاںؒ ، مولانا مفتی محمودؒ اور دیگر ہم خیال اکابرین کے پیروکار ہیں یا جمود کا شکار ہونے والے مخالفین کے۔ اس کا اندازہ لگانے کے لئے مولانا محمد میاںؒ کی کتاب ’’اسلام کیا ہے‘‘ کو دیکھنا مناسب ہوگا۔ دجال کے بارے میں جہاں مشرق اور خراسان کی تصریح ہے وہاں بیس میں سے دس مرتبہ کا عدد اشارہ کرتا ہے کہ یہ درمیانہ زمانے میں ہوگا۔ درمیانے زمانے میں ایک مہدی کی خوشخبری بھی ہے جس کے مقابلے میں کجرو جماعت ہوگی۔ اور اس کجرو جماعت کے ساتھ ساتھ خراسانی دجال بھی میدان میں ہوگا۔
انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک قوم آخری زمانہ میں نکلے گی یا اس اُمت میں نکلے گی جو قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اُترے گا۔ ان کی خاص نشانی سر منڈانا ہوگی۔ جب تم ان کو دیکھو یا ان سے ملاقات کرو تو ان کو قتل کرو۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 175) تبلیغی جماعت اوردیوبندی مکتبہ فکر کے بعض لوگ سر منڈانے کو افضل سمجھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ ان کی خاص پہچان بن گئی ہے۔ آج دہشت گرد طالبان کے ساتھ جو ملا عمر کی سربراہی میں عوام کا قتل عام کررہے ہیں جو نام نہاد آزادی کی تحریک چل رہی ہے ان کی حمایت تبلیغی جماعت اور دیوبندی مکتبہ فکر کے بعض لوگ کرتے ہیں سب کو علی الاعلان مسلکی تعصب سے بالا تر ہوکر اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا ورنہ عوام کے غیض و غضب سے ان کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ یہ احادیث تنبیہ کے لئے کافی ہیں۔
ابی امامہؓ کہتے تھے بدترین مقتول آسمان کے چمڑے کے نیچے یہ لوگ ہیں (یعنی خوارج) اور بہتر ین مقتول وہ ہیں جن کو دوزخیوں کے کتوں نے قتل کیا (یعنی خوارج نے) ۔ یہ لوگ مسلمان تھے پھر کافر ہوگئے سو پوچھا میں نے ان سے کہ اے ابو امامہ یہ بات تم از خود کہتے ہو انہوں نے کہا نہیں میں نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 176)

  جس وقت پشتو کے یہ اشعار لکھے گئے تھے اگر اس وقت پشتون قوم اٹھتی اور طالبان کے مظالم کا راستہ روکتی تو آج PTMکے لوگ نہ روتے جو اس وقت چھوٹے تھے۔

پشتو اشعار اس وقت لکھے گئے جب پرویز مشرف کے دور میں معراج محمد خان مرحوم جیسے لوگ بھی طالبان کو خراج عقیدت  پیش کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ سید عتیق الرحمن گیلانی 

01-manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-dajjal-maulana-fateh-khan-of-tank-shaheed-pervez-musharraf

یہ امریکی کب تک کہیں گے کہ Do more مزید(قتل )کرواورمیرے حکمران کب تک کہیں گے کہ Give more مزید(ڈالر)دو۔

امریکہ ہمارے حکمرانوں پرمسلسل دباؤ ڈال رہاہے کہ کچھ مزیدکرولیکن مزیدکرنے کی کوئی وضاحت نہیں ہے کیونکہ مرض بڑھتاہی گیاجوں جوں دوا کی۔لگتاہے امریکہ کے ڈومورکامطلب یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پرپاکستان میں قتل وغارتگری کابازارگرم رکھنے کا مطالبہ ہورہاہے ۔ ایک طرف سی آئی اے دہشتگردوں کوبھرپورمددفراہم کررہی ہے اوردوسری طرف امریکی حکومت پاکستان کودہشتگردی کیخلاف مددفراہم کرنے کے نام پرپیسہ دے رہاہے لیکن یہ افسوسناک کھیل کب تک جاری رہیگا۔

02-ptm-manzoor-pashteen-taliban-rao-anwar-ehsanullah-ehsan-economic-hub-moscow-russia-karachi-lady-doctor-razia-tank-search-operation-in-waziristanایک (امریکہ) مفادات کی تجارت کررہاہے اوردوسرا (ہمارا حکمران) ڈالروں کی مددکی خاطریہ لعنت کررہاہےمیں پختون گھرگھرغم سے لتھڑاہواہوں ۔

امریکہ نے اپنے مفادات کیلئے پہلے بھی مجاہدین کو تیارکیا،طالبان کی حکومت قائم کی اوراب بھی وہ کسی ایسی حکومت کے قیام کا خواہاں ہے جوعوامی حمایت بھی رکھتی ہواوراس کے مفادات کابھی تحفظ کرتی ہو، نوآزاد مسلم ریاستوں سے تیل ، اس خطے کی معدنیات اوردوسرے وسائل پرقبضہ کرنے کی خواہش رکھنے والا امریکہ اوراس کے اتحادی اپنے مفادات کی تجارت کی جنگ لڑ رہے ہیں اورپاکستان وافغانستان کی حکومتیں اورلوکل تنظیمیں امریکہ حامی اورامریکہ مخالف قوتوں سے ڈالر لیکریہ لعنت کررہے ہیں ۔ اوراس میں افغانستان ، بلوچستان اورسرحدکے پختونوں کو ہی گھرگھرمصیبت میں مبتلاکردیاگیاہے۔بین الاقوامی مفادات کی جنگوں کی آماجگاہ پٹھانوں کے علاقے ہیں جس کی وجہ سے گھرگھرصف ماتم بچھی ہوئی ہے۔پختون قومی قیادت باربارکہہ رہی ہے کہ یہ آگ سرحدتک محدودنہیں رہے گی لیکن سول و آرمی اسٹیبلیشمنٹ کے مخصوص لوگ ملکی سیاسی ومذہبی بعض قیادت اور میڈیاکے بعض چینلز اور اینکرز مسلسل اس عالمی اورمقامی سازش کونہ صرف نظراندازکرتے رہے ہیں بلکہ اس کو تقویت بحی پہنچاتے رہے ہیں

03-manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-haji-abdul-wahab-molana-tariq-jameelوزیرستان سے سوات تک ایک ننگاڈرامہ ہے شلوار ہم سے اترچکی ہے ہم طعنوں سے بچ نہیں سکیں گے۔

وزیرستان سے سوات تک سارے علاقے میں ایک ننگا ڈرامہ ہورہاہے ، ڈرون حملے ، فوجی کاروائیاں اوردہشتگردوں کی قتل وغارت صرف اورصرف عوام کو ڈسٹرب ، قتل اوربے عزت کرنے کیلئے ہے۔ کبھی امریکہ بیت اللہ محسودپرپچاس ہزارڈالرکاانعام رکھتاہے اورکبھی پاکستان کہتاہے کہ ہم نے امریکہ کودودفعہ بیت اللہ محسود کی مخبری کی لیکن امریکہ نے اس کو نہیں مارا۔ صحافی زیدحامد کہتاہے کہ بیت اللہ محسودامریکہ کا آدمی ہے ،لیکن جاویدچودھری جیساآنکھیں اپنی حدودسے نکال کرسوال کرنے والاصحافی زیدحامدسے یہ نہیں پوچھتاکہ پھربیت اللہ محسودکوہماری فورسز کیوں نہیں مارتیں ؟ صحافی ہارون رشیدکہتاہے کہ بیت اللہ محسود انڈیا کا آدمی ہے۔ صحافی حامدمیرکا کہناہے کہ طالبان میں اسرائیل کی موسادکے تربیت یافتہ لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ جوکچھ بھی ہورہاہے ان علاقوں کے رہائشیوں پریہ سب کچھ مسلط کیاگیاہے جس کی وجہ سے ان کی آزادی ختم ہوگئی ہے ، ان کی غیرت کا جنازہ نکل چکاہے اوران کی پردہ دارخواتین ، بچے، بوڑھے اورجوان کیمروں کی آنکھ کے سامنے بھکاریوں کا منظرپیش کررہے ہیں، ان کو خودساختہ ہجرتوں پرمجبورکردیاگیاہے، ان کومن حیث القوم دہشتگردسمجھاجارہاہے، لوگ ان کے کلچر، ان کے اسلام اوران کی انتقامی کاروائیوں سے خوفزدہ ہیں اوریہ سب کچھ ان علاقوں کی بھاری اکثریت نہیں بلکہ چندبکے ہوئے بے غیرت اوربے ضمیردہشتگردوں کی وجہ سے ہورہاہے اورایک وقت آئے گاکہ اگریہاں کے لوگوں نے ان دہشتگردوں کواپنے ہاں سے مارنہیں بھگایاتویہ دنیابھرکی طعنہ زنیوں سے نہیں بچ سکیں گے۔

04-ptm-manzoor-pashteen-taliban-rao-anwar-ehsanullah-ehsan-economic-hub-moscow-russia-karachi-lady-doctor-razia-tank-search-operation-in-waziristanمشرف نے میرے خون پرکراچی کی تعمیرکرلی ہے اس وقت اگرطالبانائیزیشن پر غور کیا جاتا۔

وزیرستان میں طالبان نے ابھی جڑنہیں پکڑی تھی کہ ان کے جلسوں کوکامیاب بنانے کیلئے کراچی سے بسیں بھربھرکے جاتی تھیں ،گویاطالبان مشرف کے دورمیں ہی بڑی تعدادمیں کراچی میں موجودتھے۔ اس دوران کراچی کوجوترقیاتی فنڈزملے ہیں کراچی کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، اگراس وقت پرویزمشرف وزیرستان میں طالبان کیخلاف نام نہادکاروائی کرسکتاتھاتوکراچی میں طالبان کیخلاف حقیقی کاروائی بھی ہوسکتی تھی لیکن نہیں ہوئی ، کاش اس وقت ہی سندھ کی قوم پرست جماعتیں اورخصوصاً پرویزمشرف کے اتحادی ایم کیوایم والے کراچی میں طالبانائیزیشن کیخلاف کھڑے ہوتے، نشترپارک کاخودکش دھماکہ ، علامہ حسن ترابی کاقتل اوربے نظیربھٹوکے جلوس پرحملہ بھی اسی دورمیں ہوا، اس دھماکے سے قبل بعض ٹی وی چینلوں پریہ خبرنشرکی گئی کہ جلوس کے راستوں کی لائٹیں بندکردی گئی ہیں اورمیں خودلائیو دیکھ رہاتھا۔ آج بھی پیپلزپارٹی اورایم کیو ایم مل کراس سازش سے پردہ اٹھاسکتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کے ایک لیڈرنے بڑے فخرسے کہاکہ ہمیں طالبان سے لڑانے کی کوشش کی گئی لیکن ہم اس سازش میں نہیں آئے۔ بینظیر بھٹوکی شہادت کے بعداملاک کوکتنانقصان پہنچایاگیایہاں تک کہ بعض غریب مزدورفیکٹریوں اورملوں میں زندہ جلادیئے گئے۔ امام حسینؓ کی شہادت کے بعد ان کے سرمبارک کوایک شہرسے دوسرے شہرتک لے جایاگیالیکن کسی نے احتجاج تک ریکارڈنہیں کروایا۔ ایم کیوایم اورسندھ کی قوم پرست جماعتیں طالبان کے خلاف کھل کرمیدان میں آئی ہیں اورکسی کوبھی طالبان کی ان دھشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے ہمدردی نہیں ۔ لیکن خوف اوردہشت کیوجہ سے کوئی میدان میں نہیں آتا۔ اگرسندھی قوم پرست اورایم کیو ایم ملکراپنانیٹ ورک بنالیں تویہ سندھ میں لسانیت کے بجائے پاکستان کے قومی اتحاد کیطرف ایک اچھابیس بن سکتاہے۔ فرقہ واریت سب سے بڑاناسورہے اگراس کی آگ بھڑک اٹھی توا س کو بجھاناممکن نہیں رہیگا۔ دہشتگردی کی لپیٹ میں بھی پوراملک آسکتاہے اورجہاں کہیں کوئی وبا لگے وہاں سے بڑی تعدادمیں لوگوں کے منتقل ہونے سے یہ وبادوسری جگہوں پربھی پھیل سکتی ہے۔اس لئے پختونوں کو برامنانے کے بجائے اپنے حدودمیں دہشتگردی کیخلاف اٹھ کھڑاہوناہوگا۔ اگرچندہزاردہشتگردوں کولاکھوں لوگ نہیں مارسکتے توپھرافواج پاکستان سے گلہ کرنابھی درست نہیں، وہ کیاجانتے ہیں کہ کس گھرمیں کون دہشتگردبیٹھاہے یہ ہم نے خودکرناہوگا۔

05-halala-teen-talaq-fatawa-mujaddidiyah-naeemia-talaq-e-salasa-jamia-binori-town-dars-e-nizami-noor-ul-anwar-allama-tamanna-imadi-khula-reham-khan-imran-khan-usool-us-shashi-saleem-ullah-khaاگرظالموں کا سامناہماری فوج نہیں کرسکتی تواے خدا!پھران خاکی کتوں کازورتوڑ دے۔ (اس میں اس تاثر کی ترجمانی ہے کہ ہماری فوج طالبان اور امریکہ کے ساتھ مل کر عوام کو تباہ کررہی ہے۔ خدا کرے کہ فوج اس تاثر کو ختم کرے۔ )

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سیکیورٹی فورسزکی ہمدردیاں پہلے طالبان کیساتھ تھیں ، پرویزمشرف بھی برملاکہاکرتے تھے کہ ایک باہرکے دہشتگردہیں اوردوسرے ہمارے مقامی لوگ ہیں۔ باہروالوں کوہمارے ہاں سے کسی دوسرے کیخلاف کاروائی کاکوئی حق نہیں پہنچتا۔ وہ اپنی رجسٹریشن کرالیں اورپھر رہیں اورمقامی طالبان وہ ہیں جوگمراہ کیے گئے ہیں ان کی ہم نے ذہن سازی کرنی ہوگی۔ طالبان کیخلاف کاروائیوں کے دوران کھلے عام محسودایریامیں مقامی طالبان کے کیمپ کوجلسہ کے دوران نشانہ بنایاگیاجس میں طالبان کا کوئی قابل ذکرکمانڈریاکارکن نہیں مرا۔ پھر جب عام لوگ اس کیمپ کیطرف دوڑتے ہوئے آئے توان کوخصوصی طورپرٹارگیٹ کیاگیا۔ سرحدکے سابقہ گورنرافتخارحسین گیلانی نے جب قبائلی عمائدین کواسی دن بلایاتوتفصیلات پیش کیں کہ ازبک وانہ سے اس طرح سے محسودایریامیں داخل ہوئے فلاں فلاں کے پاس اتنے اتنے دن رکے اوربتایاکہ اسی کیمپ کے نزدیک ازبکوں کابھی کیمپ تھا۔ جس پر جمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکریٹری مولٰناعصام الدین محسودنے گورنرصاحب سے معذرت کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایاکہ جب آپ کو معلوم تھاکہ قریب میں ازبکوں کاکیمپ بھی تھاتومقامی طالبان کے کیمپ کونشانہ بنانے کے بجائے غیرملکیوں کے کیمپ کوکیوں نشانہ نہیں بنایاگیا ؟ جس پرافتخارحسین گیلانی نے غصہ سے یہ جواب دیاکہ ’’اگرہم آپ کو نشانہ نہ بناتے توپھرامریکہ نے خودنشانہ بناناتھا‘‘۔ یہ بات پورے وزیرستان میں پھیل چکی تھی اورہمارے اخبار’’ماہنامہ ضرب حق کراچی‘‘ کی زینت بھی بنی تھی۔ گورنرگیلانی کے اس جواب سے دوباتیں واضح طورپراخذہوتی ہیں ایک یہ کہ ازبکوں کونشانہ بنانے کے بجائے مقامی لوگوں کوجان بوجھ کرنشانہ بنایاگیااوردوسرایہ کہ ایساامریکہ کے ایما پرکیاگیا۔اس کے بعدطالبان تحریک نے مولاناعصام الدین کے نام کوٹارگٹ کلنگ کیلئے سرفہرست قراردیا اورنادان لوگ خوشیاں منارہے تھے کہ اب مولاناعصام الدین مزہ چکھ لیں گے۔ خیرمولاناعصام الدین نے طالبان سے معافی تلافی کرلی ہوگی۔ بعدمیں ایجنسیوں کیطرف سے طالبان کے حمایتوں میں مولاناعصام الدین کانام بھی شامل تھا۔ موجودہ سینیٹرمولاناصالح شاہ سے کسی نے کہاکہ طالبان نے آپ کو ڈرادیاہے تواس نے جواب دیاکہ میں ان للوپنجوؤں کوخوب جانتاہوں ابھی ہم گورنرہاؤس نہیں پہنچے تھے کہ اس حملے کی وڈیو ریکارڈنگ گورنرکے پاس پہنچ چکی تھی۔ واضح رہے کہ موقع پرہی غیرملکی ازبک وغیرہ اس واقعہ کی ویڈیو بنارہے تھے ۔ اس کے بعدطالبان کے پاس جب محسودعمائدین کاجرگہ روانہ کیاگیاتوان کو بھی سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنایاجس میں تیرہ افرادقتل ہوئے ۔ اس پر انہوں نے احتجاج بھی کیاکہ ہمیں جان بوجھ کرٹارگٹ کیاگیالیکن بعدمیں رقم لیکروہ خاموش ہوگئے اورسمجھ گئے کہ حکومت طالبان کوختم کرنانہیں پروان چڑھاناچاہتی ہے۔ سینیٹرصالح شاہ نے ایک مرتبہ سابقہ ایم این اے مولانامعراج الدین قریشی کی موجودگی میں بتایاکہ مولانادین سلام وزیرکوسیکیورٹی فورسز والے اٹھاکرلے گئے تھے جب اس کی رہائی ہوئی تومیں اس کے پاس گیا۔ مولانادین سلام مسجدمیں بیٹھ کرازبکوں کوواہیات گالیاں بک رہے تھے میں نے کہاکہ خیال رکھومسجدہے۔ مولانا دین سلام نے تفصیل سے بتایاکہ پہلے ازبک میرے پاس آئے کہ ہمیں رہنے کیلئے جگہ چاہیے میں نے انکارکیاکہ میرے پاس گنجائش نہیں ہے توانہوں نے مجھے پیسے دیے جس پر میں نے بیٹھک بنالی اوروہ یہاں رہنے لگے ۔ کچھ عرصہ بعدکچھ فوجی آئے اورمجھے اٹھاکرلے گئے میں نے بہت انکارکیاکہ میں نے ازبکوں کو کوئی جگہ نہیں دی تھی لیکن ازبکوں نے میری ساری باتوں کوریکارڈکرلیاتھااگرمیں نے ان کے ساتھ چائے پی تھی تواس کی ویڈیوبھی انہوں نے فوجیوں کو دی تھی ۔ پھر میں نے غورسے ایک شخص کو دیکھاجوڈاڑھی مونڈھاتھااوراس کو پہچان لیاکہ یہ تووہی شخص ہے جوپہلے میرے پاس ازبکوں کو لیکر آیاتھا۔ جس کی وجہ سے مجھے بڑی تکلیف پہنچی۔ فوجیوں کے طالبان کیساتھ تعلقات کے بہت حوالے عام لوگوں میں مشہورہیں ، اے این پی کی حکومت کے بعض قائدین بھی پہلے مسلسل یہ الزام لگاتے رہے اوروہ اس وقت ٹارگٹ بھی ہوتے رہے۔ اب صورتحال کیاہے وہ اللہ کو معلوم ہے لیکن طالبان کے حوالہ سے میڈیامیں جوکچھ اب آرہاہے طالبان شروع سے ذبح کرنے اوردوسرے دہشتناک انسانیت سوزمعاملات میں نہ صرف ملوث رہے ہیں بلکہ دنیابھرمیں وہ اپنی ویڈیوزبھی پہنچاتے رہے ہیں ۔ اگرپہلے افواجِ پاکستان کے بعض افرادکی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوں توانسان ہونے کے ناطے ان کی نیک نیتی پرشک نہیں کیاجاسکتالیکن اگریہ ہمدردیاں امریکہ کے کہنے کیوجہ سے تھیں اورامریکہ کے کہنے پرہی یہ ڈبل گیم میں ملوث تھے توان کوکٹہرے میں لاکرسزادینی چاہیے۔ اسطرح اے این پی کے رہنماسینیٹرزاہدخان نے الزام لگایاکہ بنیرمیں سیدمحمد جاویدسابقہ کمشنرمالاکنڈ ڈویژن نے طالبان کیساتھ سازبازکرکے مقامی لشکر کو مروایاہے تواس کی تحقیقات منظرعام پرلانی چاہیے اوراس کوکڑی سے کڑی سزادیے بغیرشکوک وشبہات کودورنہیں کیاجاسکتا۔ ایک موقع پرفوج کے ترجمان آئی ایس پی آر یاکسی اورذمہ دارفوجی افسرنے میڈیاکے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ طالبان کی قیادت کوٹارگٹ نہ بنانے کافیصلہ سیاسی قیادت کا ہے ‘‘ ۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ بیت اللہ محسود،فقیرمحمداورفضل اللہ ودیگرطالبان قیادت کوکس سیاسی قیادت کے فیصلے کی وجہ سے ٹارگٹ نہیں کیاجارہاہے ۔ امریکہ نے بھی سوات میں طالبان قیادت کی زندہ سلامت رہ جانے کے باوجودصورتحال کواطمینان بخش قراردیاہے اورکہاہے کہ بیت اللہ محسودکیخلاف کاروائی کرنایاناکرناپاکستان کی اپنی صوابدیدپرہے۔ ڈرون حملے پربھی امریکہ کا کہناہے کہ پاکستان نے کوئی بات نہیں کی جبکہ وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے وضاحت میں کہاکہ ہم نے ڈرون پربات کی تھی۔ اگرامریکہ کی طرف سے دہشتگردی کی مددپرمجبورکیاجارہاہے توکھلے عام لوگوں کو بتایاجائے تاکہ عوامی طاقت سے اسکا مقابلہ کیاجاسکے۔ عام لوگوں کے اندرعجیب وغریب قسم کے تأثرات پائے جاتے ہیں۔ ایک تھانے کا ایس ایچ او اسی پولیس اسٹیشن میں جاناپسندکرتاہے جہاں کرائم ہوتے ہیں اوران ہی کرائم سے پولیس والوں کی روزی بھی وابستہ ہوتی ہے۔ کراچی میں لیاری گینگ وارمثال کیلئے کافی ہے۔ کہیں طالبان کوبھی انہیں مقاصدکیلئے تومعاشرے میں زندہ نہیں رکھاجارہاہے۔ جمہوری قوتوں کوبلیک میل کرنے کیلئے بھی طالبان کاحربہ سمجھ سے بالاترنہیں اوربین الاقوامی قوتیں اگرطالبان کوزندہ رکھنے میں مدددے سکتی ہیں توہماری فورسزمیں بھی ایسے لوگوں کورکھاجاسکتاہے۔ ایکطرف امریکہ آئی ایس آئی پر الزام لگاتارہا اوردوسری طرف جنرل اشفاق پرویزکیانی کے دورمیں جب وہ آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ 2005 سے 2007 تک پاکستان میں طالبان کی گروتھ بہت بڑھ گئی ہے اورچیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی امریکہ اوربرطانیہ وغیرہ کے نزدیک شفاف کردارکے مالک بھی قراردیے جاتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ماجرا کیاہے ؟ جب بے نظیربھٹوکاقتل ہواتھاتوبھی میڈیامیں اس سے پہلے یہ خبریں آئی تھیں کہ برطانوی فوجی افغانستان میں طالبان کوڈالردیتے ہوئے دھرلیے گئے ہیں جس پر وہ پریشان ہونے کی بجائے مسکرارہے تھے ۔ ہفت روزہ اخبارجہاں کراچی کے اس شمارے میں بھی اس کی تفصیل ہے جوبے نظیربھٹوکی شہادت کے بعداس کی تصویرکیساتھ شائع ہواتھا۔ سی آئی اے اور ایف بی آئی وغیرہ نے اس سلسلے میں کوئی نوٹس نہیں لیااورنہ ہی میڈیامیں اس کو اس طرح سے اچھالاگیاجس طرح دوسرے معاملات کو اچھالاجاتاہے۔جنرل حمیدگل نے سوات سے لیکروزیرستان تک طالبان کی طرف سے ذبح کیے جانے ، لوگوں کولٹکائے جانے اورلاشوں کی بے حرمتی کرنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ امریکہ یہاں یہ سب کچھ اسلام کو بدنام کرنے کیلئے کروارہاہے وہ یہاں بنٹے کھیلنے تونہیں آیاہے۔اگرجنرل(ر)حمیدگل کے مطابق طالبان کے مراکز میں امریکی گیم کھیلاجارہاہے تومحب وطن طالبان ان کیخلاف کیا کررہے ہیں اور انکی سرپرستی کرنے والے حاضرسروس اور ریٹائرفوجی افسر کیونکرامریکہ کہ پٹھوں نہیں ہیں؟
جیوکے پروگرام 50 منٹ میں عبدالرؤف نے ایک اچھاپروگرام پیش کیاجس میں عوام کیطرف سے الزام لگایاگیاکہ فوج طالبان کیساتھ ملی ہوئی ہے ۔ اورپھراسفندیارولی ، وزیراعظم ، صدراورفوج سمیت تمام سیاسی اور مقتدرافرادکامتفقہ فیصلہ میڈیاپرسنایاگیاکہ اب طالبان کے ساتھ سوات میں کوئی فائربندی نہیں ہوگی لیکن اس کے بعد طالبان نے فائربندی کا اعلان کیااورصوفی محمد کو سامنے لایاگیا۔ یہ سب کچھ سیاسی جماعتوں کی تائیدسے ہوتارہااورجب طالبان سوات سے ایک طویل سفرطے کرکے بنیرآرہے تھے توانکے خلاف کوئی کاروائی کرنے کے بجائے الٹاطالبان کی حکومتی مددکی گئی اورپھر اچانک برداشت کادامن ہاتھ سے چھوٹ گیالاکھوں لوگوں کوٹرانسپورٹ کی سہولت کے بغیربچے، خواتین اوربوڑھوں سمیت کیمپوں میں لایاگیا اورمیاں افتخارحسین ترجمان سرحدحکومت نے میڈیاسے کہاکہ ’’روپوں سے کام نہیں بنتاڈالروں میں کرنسی چاہیے‘‘۔ ہمیں کسی کے خلوص پرشک نہیں اوران کی مجبوریوں کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتالیکن ہرچیزکی ایک حد ہوتی ہے اوراگرمعاملہ حدودسے بڑھ جائے توفوج سے نفرت ، جمہوریت سے اعتمادکا اٹھ جانااور مذہبی قیادت کومستردکیے جاناایک فطری بات ہوتی ہے۔ ان اشعارمیں عوام کی سوچ کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

06-yahoodi-muhammad-hindu-hindu-network-hindu-girl-mudi-sarkar-quran-us-aid-cybersipahi-orgسیاسی اورمذہبی قیادت پربھی اعتمادنہیں رہاہے میرے رب !انقلاب کیلئے کسی اورکو لے آ۔

 مذہبی اورسیاسی قیادتوں پربھی عوام کو اعتمادنہیں رہاہے ، یہ لوگ خوف، طبقاتی کشمکش اوراپنے مفادات کیلئے گرگٹ کیطرح رنگ بدلتے رہتے ہیں، اندرون خانہ کچھ کہتے ہیں اورمیڈیاسے کچھ کہتے ہیں ، آئے روزان کا مؤقف بدلتارہتاہے۔ مولانافضل الرحمن کبھی کہتے ہیں کہ طالبان کوہمیں خراب کرنے کیلئے وجودمیں لایاگیا۔ بارہااس قسم کے بیانات دینے کے باوجودموقع پراپنے اس مؤقف کا اظہارکرنے سے گریزکرجاتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق اوردوسرے رہنماطالبان کی حمایت کرتے رہے لیکن کبھی کباریہ اظہاربھی کیاکہ فوج طالبان کیساتھ ڈرامہ کرکے عوام کو تنگ کررہی ہے۔ اگریہ مؤقف جمعیت علماء اسلام اورجماعت اسلامی کے رہنمااس وقت اپناتے جب اے این پی میدان میں آئی تھی توعوام کے شعورمیں خاطرخواہ بیداری آتی اوریکجہتی کی ایک فضاء قائم ہوتی ۔ قاضی حسین احمد نے بھی ایک موقع پر کہاتھا کہ کراچی میں طالبانائیزیشن اس وقت ہوگی جب حکومت چاہے گی اورجب وزیرستان میں دومعروف قبائلی عمائدین ملک خاندان محسوداورملک میرزاعالم وزیر کوقتل کیاگیاتھاتوقاضی حسین احمد نے کہاتھاکہ یہ امریکہ نے کروایاہے حالانکہ یہ ڈرون حملوں کی کاروائی نہیں تھی بلکہ مقامی طالبان نے یہ کاروائی کی تھی۔ لیکن پھر گاہے بگاہے جب عوام کوطالبان نے ماراتوقاضی حسین احمداس کوعمل کا ردِعمل قراردیتے رہے ۔ باجوڑ پرامریکی حملے میں تیرہ افرادمارے گئے توجماعت اسلامی کے ہارون رشیدنے ایم این اے کی سیٹ سے استعفیٰ بھی دیامگرساتھ ہی اول آخریہ بھی بکتارہاکہ اٹھارہ افرادمارے گئے ہیں۔ حالانکہ تیرہ کی قبریں ہیں اورباقی پانچ کی لاشوں کاجاسوس طیاروں کی موجودگی میں غائب کیاجاناممکن نہ تھا۔ مولانافضل الرحمن نے بھی میڈیاکے سامنے تیرہ افراد ہی کا ذکرکیاتھا۔ متحدہ قومی مومنٹ نے جماعت اسلامی کی درخواست پربیرونی حملے کیخلاف کراچی میں بھرپوراحتجاج کیاتھالیکن مذہبی اورسیاسی جماعتوں نے کبھی اندرونی اوربیرونی سازشوں کیخلاف متحدہونے کی کوشش نہیں کی ۔ جب طالبان تربیلا ڈیم کے دہانے پرپہنچ گئے تومولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ میں آواز بلندکی جس کومسلم لیگ (ن) کے سیدظفرعلی شاہ نے منفی رنگ دیتے ہوئے کہاکہ فضل الرحمن بھی وہی بات کررہے ہیں جوامریکہ کی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کررہی ہے۔ حالانکہ ہیلری کلنٹن سے نوازشریف کی دوستی ہے مولانافضل الرحمن کی نہیں۔ نوازشریف کے پاس امریکیوں کاتانتا بندھارہتاہے لیکن مناواں پولیس اسٹیشن اورلبرٹی چوک میں مہمان کرکٹ ٹیم پرحملہ کرنے والے دہشتگردوں نے کبھی امریکیوں پر حملہ نہیں کیا ۔ ہمارے سیاسی رہنمامالاکنڈکے کیمپوں میں نہیں جاسکتے لیکن یہودی امریکی رہنمابرائے پاکستان وافغانستان ہولڈ بروک آسانی سے اعتماد کیساتھ چلے جاتے ہیں۔ تربیلاڈیم کواڑانے کامنصوبہ بھی بعیدازقیاس نہ تھا۔ بھارت کا ایک ناول ’’تربیلااڑاؤ پاکستان جھکاؤ‘‘بھی شائع ہواہے اورجب طالبان میں کھلم کھلاانڈیا، اسرائیل اورامریکہ کے ایجنٹ موجودہیں تووہ پاکستان کواندھیرے میں دھکیل سکتے تھے۔ کراچی میں فرانسیسی انجینیئروں کوبھی دہشتگردوں نے امریکی سی آئی اے کے کہنے پرقتل کیاہوگا۔ فرانس سے ایٹمی ٹینکالوجی میں مددلیکرپاکستان میں بجلی کے بحران کوختم کرناچاہیے اورکالاباغ ڈیم کے پانی کا ذخیرہ اوربجلی کاوسیلہ بھی بہت ضروری ہے۔ جس میں سندھ کومطمئن کرکے قدم اٹھاناچاہیے۔ اگراسلامی تعلیمات کیمطابق زرعی زمینوں کوکاشت کرنے کیلئے کرایہ، بٹائی اورمزدوری کاسلسلہ ختم کیاجائے توغلامی جیسی زندگی گزارنے والے مزارعوں کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ بجلی دستیاب اورسستی ہوگی تواس نعمت سے بہت زبردست خوشحالی کے نتائج برآمد ہونگے۔
سیاسی جماعتوں کی ناعاقبت اندیشی کیوجہ سے عوام میں مایوسی کا پھیل جانافطری بات ہے۔ وکیل رہنمااوربے داغ سیاسی کردار کے مالک اعتزاز احسن کیساتھ نوازشریف نے وعدہ کیاکہ وہ ان کے مقابلے میں کسی کوکھڑانہیں کریں گے اوراعتزاز احسن اس امیدکا اظہارکرتے رہے کہ پیپلزپارٹی ان کو ٹکٹ دے گی لیکن نوازشریف صاحب نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اعتزاز احسن کے بجائے صدرآصف زرداری کووہ سیٹ دے دی۔ کھاؤپیواورعیش اڑاؤ میڈیاکے ا ینکروں نے کبھی نوازشریف کی اس وعدہ خلافی کاسوال بھول بھی نہیں اٹھایا۔ آئی ایس آئی کے سابقہ آفیسرخالد خواجہ نے ڈاکٹرشاہدمسعودکے حوالہ سے بتایاکہ جب امریکہ این آر اوپرپیپلزپارٹی سے ڈیل کررہی تھی توامریکہ کے اندرکے معاملات سے پتہ چلاہے کہ امریکہ کا اصل گھوڑانوازشریف ہے ۔ ہمارے ہاں ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح ایم این اے اورایم پی اے کیلئے استعمال ہوتی ہے جیسے بے نظیربھٹوکی قیادت میں پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت کیخلاف جب تحریک عدم اعتمادکی تحریک چلائی گئی توپیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد مانیکاوغیرہ گھوڑوں کو خریدلیااوراب شریف برادران نے صحیح وقت پرمسلم لیگ (ق) کے عطاء محمد مانیکاکوہاتھ میں لے لیاتھا۔ موجودہ الیکشن کے دوران چودھری پرویزالٰہی مسلسل الزام لگارہے تھے کہ نوازشریف پیپلزپارٹی کی بی ٹیم ہے اورشریف برادران نے مجاہدین سے غداری کی ہے لیکن جوں ہی الیکشن کے نتائج سامنے آئے توپرویزالٰہی نے یہ راگ الاپناشروع کیاکہ پیپلزپارٹی کوپنجاب میں اپنی حکومت بنانے کاموقع ضائع نہیں کرناچاہیے اوراگر اسوقت پیپلزپارٹی چاہتی تومسلم لیگ (ن) کوپنجاب میں بھی حکومت سے محروم کرسکتی تھی لیکن قاتل لیگ کیساتھ سیاسی ساکھ کامسئلہ تھا۔ اورپھرجب پنجاب حکومت ختم کی گئی توشریف برادران نے پارلیمنٹ کوجعلی اورموجودہ سسٹم سے بغاوت کااعلان کیا لیکن اس سے قبل 1973 ؁ء کے آئین کوسب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹونے معطل کردیااورعطاء اللہ مینگل کی جمہوری حکومت کوختم کرکے سرداراکبربکٹی کوگورنربنایاگیا۔ بلوچستان کی حکومت کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں پنجاب کے سیاسی کارکنوں نے دی تھی اورآج بلوچستان میں غریب پنجابیوں کوماراجارہاہے۔ جب وانہ میں مقامی لوگوں اورازبکوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی توازبکوں سے مقامی لوگوں کی جان نکلتی تھی پھروہاں پنجابی طالبان کولایاگیاجسکی وجہ سے ازبکوں کومحسودایریاکیطرف بھاگناپڑا۔ ایک اہم ازبک رہنماافغانستان فرارہوتے ہوئے امریکیوں کے ہاتھ آگیاجوغالباً قاری طاہریلدوشوف تھااوربعدازاں اسکوپھر چھوڑدیاگیا۔ سیاسی اورمذہبی رہنماؤں کواپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے درست سمت قدم بڑھانے ہوں گے ورنہ مفادات کے اسیرکارکن اورعوام کسی اورجانب سوچنے پرمجبورہوں گے۔جمہوری حکومتیں سیاسی قائدین کی مقبولیت کیوجہ سے معرض وجودمیں نہیں آتیں بلکہ ایک سیاسی جماعت حکومت کرتی ہے تواس سے نفرت کے نتیجے میں دوسروں کو لایاجاتاہے جب۱۹۸۵میں غیرجماعتی الیکشن ہوئے تومعروف سیاسی جماعتوں کے بائی کاٹ کے باوجودملک کی تاریخ کے سب سے زیادہ ریکارد ووٹ کاسٹ ہوئے گویا یہ سیاسی عمل سیاستدانوں کے دور ہونے کی وجہ سے زیادہ مقبول بن گیا۔جس کااعتراف محترمہ بے نظیر بٹھونے اپنی غلطی کااعتراف کرتے ہوئے کیا ۔اورمولانافضل الرحمان نے اے پی ڈی ایم کی طرف سے بائیکاٹ کے وقت اپنے خلفشارکااظہارکرتے ہوئے کہاتھاکہ قوم بائیکاٹ کرنے والوں کومسترد کردے گی۔بے خبرعوام جمہوری عمل کے بدترین دھوکہ اور روزبروزبڑھتی مایوسی کاشکار ہیں ۔مشاورت میں عوام کوشریک کرنے کاعمل بہت ضروری ہے لیکن صوفی محمدکی اکیلی ذات کومعاملات سپردکیے جاسکتے ہیں تومحمودخان اچکزئی، مولانافضل الرحمن، اسفندیارولی ، قاضی حسین احمد اوردوسرے مقامی رہنماؤں کی مشاورت کے ذریعے سے معاملات کو کیوں حل نہیں کیاجاتا ؟ اے پی ڈی ایم کے سیاسی اتحادمیں سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ محب وطن پاکستانی مسلم لیگ (ن)،جماعت اسلامی اورتحریک انصاف کووطن دشمن قوم پرست جماعتوں کے قائدین کوقریب سے دیکھنے کا موقع ملااورایک دوسرے کیخلاف جوغلط فہمیاں تھیں وہ دورہوگئیں کیونکہ قوم پرستوں کے نزدیک یہ وفاق پرست محب وطن نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کے الہ کارتھے ۔ تحریک انصاف کے جیسی یکفردی سیاسی جماعت کے سربراہ نے پہلے الیکشن میں دعویٰ کیاکہ وہ سب کوکلین بولڈکردے گالیکن خودہی ہوا، ظالمو قاضی آرہاہے کی اسلامک فرنٹ کے بہت اشتہارات کے باوجودبھی ظالم قاضی نہیں آیا۔ تحریک انصاف کے ایک انتہائی مخلص کارکن اوررہنماگل شاہ عالم برکی کوطالبان نے زندہ غائب کردیالیکن عمران خان کوکبھی اپنے کارکن پرغیرت نہیں آئی ۔ پرویزمشرف ریفرنڈم میں تحریک انصاف کا قائدعمران خان حمایت کررہاتھااورتحریک انصاف کاغیرفطری جنرل سیکریٹری معراج محمد خان ریفرنڈم کی مخالفت کررہے تھے۔ یہ واقعی سب سے زیادہ جمہوری پارٹی کہلائی جاسکتی ہے لیکن اصولوں کی خاطر جینے والامعراج محمد خان اپنے عہدے سے ہاتھ دھوبیٹھااورعمران خان کوشرم نہیں آئی کہ وہ مستعفی ہوجاتا۔ جب معراج محمد خان شروع میں تحریک انصاف سے جت گئے تھے تومیں نے معراج محمد خان سے عرض کیاتھاکہ آپ کا اس پارٹی میں جانابالکل غیرفطری ہے اورعمران خان اورآپ کے مزاج میں مطابقت کاکوئی امکان ہی نہیں ہے۔
کابل میں کوئی نامعلوم فردکے عیسائی ہوجانے کی خبرجنگل کی آگ کیطرح میڈیاپرپھیلائی جاتی ہے اورمذہبی رہنماسراپااحتجاج بن جاتے ہیں لیکن عمران خان کی بیوی مرتدبن جاتی ہے یامسلمان ہوکرعیسائی اوریہودی سے رشتہ جوڑتی ہے توکوئی مذہبی رہنمااورمیڈیاکاکارندہ اس کی مخالفت نہیں کرتا۔صحافی ہارون رشیدتویہ بھی کہہ سکتاہے کہ ایک صوفی نے مراقبے سے سراٹھایااورفرمایاکہ حضوروالاعمران خان کی سابقہ زوجہ محترمہ ایک بہت بڑی صوفیاہیں لیکن یہ رازکی باتیں ہیں سیاسی رہنمااورمذہبی لوگ ان رازکی باتوں کوکیاجانیں ؟ لیکن اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ جب نوازشریف پرمشکل وقت تھاتوعمران خان نے سب سے زیادہ گالیاں دیں۔ ہم نے اپنے اخبارکے پہلے اداریے میں فوجی حکومت کی مخالفت کی تھی۔ جب پورے ملک میں خوشیاں منائی جارہی تھیں، ہمارے ہاں یہ ٹرینڈ بن گیاہے کہ دوسروں کوتکلیف پہنچنے پرغم کے بجائے خوشی منائی جاتی ہے۔ اس دوران جب ٹانک میں فوجی گاڑیوں کوجمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکریٹری مولٰناعصام الدین نے دیکھاتوپاک فوج زندہ بادکے نعرے لگائے۔ میں نے ان سے عرض کیاکہ فوج کاکام عوام پرحکومت کرنانہیں اوران کی تربیت بھی دشمنوں کیلئے ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ بعدآپ کو پتہ چل جائے گاکہ نوازشریف کی جمہوری حکومت اس سے بدرجہابہترتھی پھر جب نائن الیون کے بعدپرویزمشرف کیخلاف مظاہرے ہوئے تومیں نے مولٰناعصام الدین سے پوچھاکہ اب بتاؤ۔ انہوں نے کہاکہ ہم گدھے ہیں سیاست کیاسمجھتے ہیں۔ مولانا عصام الدین نے مجھ سے پہلے کہاتھاکہ سارے مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین اورتنظیموں کے سربراہوں کووزیرستان بلوالیتے ہیں اوران کوکسی ایک قیادت پرمتفق کرنے کیلئے بندوق کازوراستعمال کرلیتے ہیں یاان کو قیدکرلیتے ہیں۔ یہ تأثرات پتانہیں کتنے لوگوں کے ہوں گے۔

07-maulana-yousuf-ludhianvi-mufti-naeem-talaq-halala-haji-usman-pakistan-flag-k-electric-islamic-revolution-islam-ajnabi-tha-khatoon-ki-faryad-fatwaقوموں کے درمیان کوئی نفرت نہیں ہے کردارکیساتھ سب کی محبت ہے پاکستان پاک ملک ہے ،امامت کے حقدار یہاں جمع ہیں۔ (مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اپنی تفسیر مقام محمود میں لکھا ہے کہ سندھ، پنجاب، کشمیر، فرنٹیئر(خیبر پختونخواہ)، افغانستان اور بلوچستان میں جس قدر قومیںآباد ہیں یہ سب کے سب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے امامت کی حقدار ہیں۔ اگر پوری دنیا کو بھی ہمارے مقابلے میں لایا جائے تو ہم یہ علاقے ان کے سپرد نہیں کرسکتے ہیں۔)

08-maulana-ilyas-qadri-abu-hanifa-imam-malik-imam-shafi-tablighi-jamaat-dawateislami-gusul-ka-tarika-haji-imdadullah-muhajir-makkiیہ مت کروکہ میٹھامیٹھاھپ کڑواکڑواتھو، کافی سازشیں ہیں (بہت سی طاقتوں کی) کہ یہ ملک گرجائے ۔ (یہ عام تاثر ہے کہ عالمی اور علاقائی طاقتیں دہشت گردوں کو سپورٹ کرکے پاکستان تو تہس نہس کرنا چاہتی ہیں۔)

09-shah-waliullah-bahar-e-shariat-ahmed-raza-khan-barelvi-hussam-ul-haramain-al-muhannad-alal-mafannad-shah-waliullah-ahraf-ali-thanwi-prophet-noor-or-bashar-tablighi-jamaat-dawateislami-ghusاغیارکی سازشیں تواپنی جگہ ہم نے اپنے خلاف سازشوں کادائرہ اپنی پرکارسے کھینچ لیاہے۔ہمارے آ گے گہراسمندرہے اورپیچھے سرخ آگ ہے ۔ (جب تک مقامی لوگ سازش میں ملوث نہ ہوں اغیار کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی ہیں۔ )

10-tehreek-e-insaf-hamid-mir-mma-mullah-military-alliance-imran-khan-maulana-fazal-ur-rehman-election-1985-boycott-taliban-nawaz-sharif-zardari-bailout-عوام کو معلوم تھااورنہ رہبروں کویہ خبرتھی ، حدیث میں موجودہے ظلم وجورکی داستان ۔

11-islam-allama-abbas-kumaili-syed-atiq-ur-rehman-gilani-tableegh-shia-sunni-ittehad-bain-ul-muslimeenمہدی تمام فرقوں کیلئے وحدت کا نشان ہے اورکانادجال فتنوں کی لعنت ہے ،دجال (اسباب سے) مالامال ہے اورمہدی اسباب کی بنیاد پر کمزورہے ۔

12-general-zia-ul-haq-zulfiqar-ali-bhutto-mrd-murtaza-bhutto-mufti-mehmood-ghulam-ghaus-hazarvi-islami-referendum-ayub-khan-establishment-ptmہراپنے وقت کاموسیٰ کامیاب اور اپنے وقت کافرغون ناکام ہوگیا، حق ایٹم بم ہے اگرچہ وہ ریحان (پھول) کی پتی کیوں نہ بن جائے۔

13-such-tv-tehreek-e-khilafat-maulana-abul-kalam-azad-liaquat-ali-khan-shaykh-ul-islam-ptm-ahle-bait-fatawa-alamgiri-khilafat-e-usmania-ameer-muawiya-maulana-fazal-ur-rehman-fatawa-alamgiriنبی کریم ﷺ فرماتے ہیں دجال ایک آنکھ سے کانا ہوگا اوراس کے بال پراگندہ ، اس کے ساتھ جہنم ہے جوحقیقت میں جنت ہے اوراس کے ساتھ جنت ہے جوحقیقت میں جہنم ہے۔

14-manzoor-pashteen-taliban-gul-naseeb-khan-khan-abdul-ghaffar-khan-bacha-khan-tablighi-jamaat-haji-abdul-wahab-molana-tariq-jameelاس کے ساتھ خوارج مل جائیں گے جیسے تبلیغی جماعت اوردیوبندی (کے افراد)ہیں ، ان کی خاص نشانی سرمنڈاناہے ،گوادرسے لاہورتک۔ (یہ دیکھے جاسکتے ہیں )

15-irshad-naqvi-irshad-bhatti-hassan-nisar-beghairat-imran-khan-mufti-saeed-khan-bushra-pinkiامام ابوحنیفہؒ سے علماء دیوبندتک اہل حق کا ایک سلسلہ ہے میں خوداسی سے وابستہ ہوں لیکن تعصب اب حدسے زیادہ بڑھ گیاہے ۔

16-establishment-of-pakistan-asghar-khan-case-smile-of-maryam-nawaz-tv-channels-saudi-arabia-humayun-akhtar-jihad-war-tarbooz-bair-ka-treeدیوبندی مکتبہ فکرکے معروف عالم دین خطیب العصرعلامہ سیدعبدالمجیدشاہ ندیم نے مجھ سے کہاکہ پہلے دوسرے فرقوں والے خفیہ ہاتھوں میں استعمال ہواکرتے تھے اوراب دیوبندی علماء اسی طرح استعمال ہورہے ہیں ۔

17-bilour-family-terrorism-in-balochistan-khalai-makhlooq-zaid-hamid-manzoor-pashtoon-asif-ghafoor-imran-khan-falls-off-stageاے اللہ !توہماری حفاظت فرما، شراپنے سائے سے واضح ہے ، فائیو اسٹارہوٹل پرشہزورگاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیاجاتاہے۔

18-noon-league-and-pti-action-plan-imran-khan-nawaz-shareef-siraj-raesani-zainab-ptm-aman-foundation-mastung-incidentبہت خون بہہ چکااب لوگ محبت کا انقلاب چاہتے ہیں ، اہل حق کو کبھی شکست اورکبھی فتح نصیب ہوتی ہے اگلی صبح کوفتح کی خوشخبری ہے۔ (پہلے پشتو کا ایک گانا تھا کہ یہ مٹی خون کا انقلاب چاہتی ہے، سو لوگوں نے دیکھ لیا)

19-hazrat-khola-ghadir-khumm-ali-mola-ghazwa-e-badar-hadith-e-qirtas-haji-usman-alliance-motorsپختونوں کی زمین پرالقاعدہ اورطالبان شطرنج کے( مہرے )دنبے ہیں ، یہ مکارمیڈیابھی ابھی ان کی حمایت سے اکتاچکاہے۔ (دہشت گردوں کے کرتوت پر ایک طویل عرصے تک میڈیا نے نہ صرف پردہ ڈالا بلکہ ان کی کمزوریوں کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی۔)

20-mirza-ghulam-ahmad-qadiani-allama-iqbal-imam-mehdi-tablighi-jamaat-isi-cia-afghan-jihad-gulbadin-hikmatyar-shakil-afridi-molana-masood-azhar-manzoor-pashtoon-molana-tariq-jameel-jannat-ki-تصویر پرپابندی تھی اوریہودیوں کے الجزیرہ (ٹی وی چینل)کوآزادی تھی ، افغانستان میں دجل ہورہاتھایاطالب چوپائے کی طرح بے سمجھ تھا۔

21-democracy-and-western-countries-hadees-atomic-power-of-pakistan-hind-sindh-khorasan-fars-quota-system-and-meritاس کو نظرنہیں آتاتوکیادیکھے گا، اگرنظرآئے بھی تواپنے آپ کواندھے کے حوالے کردیتا7 ہے، یہ جہالت سے ایساکرتاہے یا پیسوں کی وجہ سے کرتاہے یازبردستی سے اس کو مجبورکیاجاتاہے یہ غلطی پربھی ہے اوربینائی کا بیمارشب کور بھی ہے۔

22-dars-e-nizami-mufti-hussam-ullah-sharifi-chairman-senate-core-commander-conference-pakistan-pak-fauj-pak-fc-pak-levies-tablighi-jamaat-dawat-e-islamiویڈیوکی دکانوں سے تمہاری سخت دشمنی تھی لیکن یہ ٹی وی چینل (الجزیرہ)۔ تمھاری دلہن نانی تھی یابڈھی بہو۔

23-kitab-o-sunnat-ijma-qiyas-dars-e-nizami-talaq-halala-maslak-e-hanafi-khula-nikah-iddat-ka-tareeqaاسامہ کا بیٹاعمربن لادن آزادگھوم رہاہے اپنی انگریزمیم کیساتھ کیوں میرے بچوں پریہ دورتنگ کیاگیاہے۔

24-quaid-e-azam-congress-party-habib-jalib-abdul-sattar-khan-niazi-mqm-taliban-bhutto-sharab-par-pabandiراکٹوں سے تم نے سوئے ہوؤں پرحملہ کردیا، میں خالی ہاتھ تھا،ایک درانتی بھی نہیں مل رہی تھی۔ (طالبان نے اچانک رات کی تاریکی میں سوئے ہوؤں پر راکٹوں، بموں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا تھاجس کے بارے میں خود طالبان کے ترجمان نے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل بھی ایسے مظالم نہیں کرتا، ہم ہر صورت میں قصاص لیں گے چاہے بیت اللہ محسود بھی اس میں ملوث ہو تو اس کو بھی سزا دیں گے)

25-quaid-e-azam-congress-party-habib-jalib-abdul-sattar-khan-niazi-mqm-taliban-bhutto-sharab-par-pabandiمشرکین مکہ نے بھی شب ہجرت یہ کمینہ پن نہیں کیا، اسلام کو تم نے دنیاکے طول وعرض میں بدنام کردیاہے۔

26-maulana-maududi-communism-akbar-badshah-sajda-e-tazeemi-mufti-taqi-article-62-and-63-garib-kisan-zina-haiz-and-iddatمیں فخرکرتاہوں شہیدبھائی کے جوتے کے وارپر، اے شرم رسیدہ !تو نے اپنے مردوں کوچھپا کردفنایا۔ (بہادری اس کو کہتے ہیں کہ ایک طرف بھاری ہتھیاروں سے مسلح دہشت گرد تھے اور دوسری طرف میرے بھائی نے ان کے سامنے منت سماجت کے بجائے جوتے کے وار سے ایک طالب کا منہ سجادیا)

27-justice-saqib-nisar-halwa-khana-teen-talaq-kya-hai-halala-kya-haitalaq-se-bachne-ka-tarikaیہ میرے آباؤاجداد اورآنے والی نسلوں کیلئے کارنامہ ہے ، اورتم نعرۂ تکبیر کے ساتھ آئے اورپھرگو کھانے والے بن گئے ۔ (پوٹی کھانے سے تشبیہ دینا پشتو کے محاورے میں بہت ذلیل ہونے کو کہتے ہیں)

28-maulana-yousuf-ludhyanvi-amir-liaquat-fake-phd-certificate-gadha-imran-khan-shaukat-khanum-hospitalآدھابرسٹ تمھارے اوپرچلاتوچلانا شروع کردیاکہ ہم مرگئے قوم کے سامنے تم اپنے اس غل غپاڑے کیوجہ سے شرمسارہو۔ (حملہ آور طالبان پر جب کلاشنکوف کا آدھا برسٹ چلا تو اتنے چلائے کہ پورا علاقہ ان کے شور سے گونج اُٹھا، بے غیرتی کا یہ داغ کبھی نہیں دھو سکیں گے کہ ایک طرف نعرۂ تکبیر لگاتے ہوئے حملہ آور ہوئے تو دوسری طرف اپنے مردار مردوں کو خلاف معمول اعزاز و اکرام کے ساتھ دفنانے کے بجائے رات کی تاریکی میں چوروں اور ڈکیتوں کی طرح دفنادیا)

29-district-tank-jui-mufti-gul-haleem-shah-makkah-madina-akora-khattak-nowshera-allama-iqbal-mashriqانہوں نے ثابت کردیااپنے آپ پرکہ وہ لشکرہے دجال خان کا۔ مولانافضل الرحمن نے تمھارے اوپریہ فردِجرم عائدکیاہے ۔ (اس واقعہ کے بعد عوام میں طالبان کو لوگ بالکل کافر سمجھنے لگے، مولانا فضل الرحمن نے ٹانک کی سب سے بڑی جامع مسجد اسپین جماعت (سفید مسجد) میں جمعہ کی تقریر کرتے ہوئے وہ احادیث عربی میں پڑھ کر سنائیں اور ان کا ترجمہ بتایا جن میں خراسان سے دجال نکلنے کا ذکر ہے اور اس دجال اور اس کا ساتھ دینے والوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے، اور پھر ان احادیث سے استدلال فرمایا کہ دجال کا یہ لشکر یہی طالبان ہیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ یہ لوگ تجھے مار دیں گے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں)

30-brigadier-qayyum-sher-mehsud-ali-wazir-ptm-imran-khan-pti-charsi-fort-bala-hisar-manzoor-pashtoonطالبان کی طرف سے مقررکردہ (ٹانک کے) قاضی مولاناگل نوازمحسودکہاکرتے تھے کہ لال کیے ہوئے ہاتھ اورہونٹ والے طالبان ملوّثی بدکارہیں ۔ (ان سے پوچھا گیا کہ آئی ایس آئی سے طالبان کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی والے تو بہت اچھے لوگ ہوسکتے ہیں یہ لوگ تو وہ ہیں جو ہم جنسوں کے لئے پیچھے کے راستے سے بدکاری میں ملوث رہتے ہیں۔ ان کے بہت سے گروہ ہیں اور جو دو مشہور گروہ ہیں ایک ہاتھوں کو مہندی لگاتا ہے اور دوسرا لبوں کو لال کرتا ہے، یہ بیماری مجاہدین میں پہلے بھی عام تھی اور مدارس میں بھی یہ موجود ہے اس علاقہ میں بھی اس قسم کے لوگ بہت پائے جاتے ہیں)

31-khalai-makhlooq-bait-ul-khala-lota-tarian-imran-khan-daughter-bagal-baccha-nawaz-sharif-iqama-issueکوٹکئی کے ایک قاری کامیڈیکل ٹیسٹ ضروری ہے اگر بیمار ہو تویہ اپنے گرے سوراخ کا علاج کرالے ۔ ( یہ الفاظ مناسب نہیں لیکن وزیرستان میں یہ گالی ایک شعر کی صورت میں موجود ہے جو بہت مشہور ہے)

32-imran-khan-general-kayani-justice-iftikhar-chaudhry-nawaz-sharif-nazaryati-hijraپیچھے کیطرف سے کام کے عادی طالبان کو میں اچھی طرح سے جانتاہوں مشرق اخبارمیں یہ بیان کورکمانڈرنے دیاتھا۔

33-manzoor-pashtoon-zaid-hamid-lal-topi-wala-dumkata-ayub-masood-halala-maulana-noor-muhammad-shaheedکہتے ہیں کہ ڈرپوک ملوّثی سے واقعی ڈرناچاہیے اس لئے کہ اگراس کو موقع ملتاہے تویہ بھڑوابڑاخون خواربن جاتاہے ۔ (یہ پشتو کا عام محاورہ ہے)

34-ispr-major-general-asif-ghafoor-good-taliban-ptm-manzoor-pashtoon-adiala-jail-baba-farid-imran-khan-murghaاتنا وقت گزرگیامیرے سامنے کیوں نہیں آئے ، ضرورکہیں تم اوندھے منہ پڑے ہوئے اپنامنہ کالاکررہے تھے ۔ (دلیری کا تقاضہ یہ تھا کہ اگر مجھ سے کوئی اختلاف تھا تو معروف قاری حسین جس کا غالباً نام کوئی دوسرا ہے میرے سامنے آجاتا لیکن اتنے عرصے میں نہ جانے وہ کس شغل میں اپنا منہ کالا کررہا تھا)

35-kalabagh-dam-tharparkar-karachi-rivers-of-pakistan-bhains-colony-karachi-jam-kando-karachiآگ سے کسی کوجلانے کی سزاممنوع تھی لیکن صحابہؓ نے ایک آدمی کواسطرح مارنے کاحکم جاری کیاتھا۔علتی بدبخت ٹھنڈانہیں ہوسکتالیکن معاشرے میں اِگنور ہے۔ (صحابہؓ نے ایک ایسے شخص کو جو مرد ہوکر مفعولیت کا کام کررہا تھا کو آگ سے جلانے کی سزا دی تھی حالانکہ آگ سے جلانے کی سزا کو حدیث میں منع کیا گیا ہے ،ا گر کوئی مرد اس قسم کے غیر فطری فعل کا عادی بن جائے تو اس کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔ اس بد فعل کو معاشرے میں برائی سمجھنے کے بجائے نظر انداز کردیا گیا ہے)

36-mufti-hussam-ullah-sharifi-daily-jang-news-paper-federal-shariat-court-shariat-appellate-bench-supreme-court-shajar-e-mamnooa-qissa-adam-o-ibleesمیں گمراہ نہ تھایاتم بے غیرت تھے ؟مجھے مارسکتے تھے بارہ بورکے ایک فائرسے ۔ (مجھے مارنے کے لئے لاو لشکر اور بھاری اسلحہ کی کیا ضرورت تھی بارہ بور کے ایک فائر سے بھی مجھے مارا جاسکتا تھا، لیکن حملہ آوروں سے میں پوچھتا ہوں کہ میں گمراہ نہ تھا یا تم بے غیر ت تھے؟)

37-quran-book-mulla-jiwan-dars-e-nizami-noor-ul-anwar-lafz-nuqoosh-naqsh-fatawa-shami-fatawa-qazi-khan-mufti-muhammad-saeed-khan-mufti-taqi-usmani-sura-fatihaگائیں کی طرح جب بیٹیاں اوربہنیں بیچی جائیں توڈالروں کی بھرمار سے حرام پناکیسے نہیں پھیلے گا۔ (جو قوم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو پیسہ لے کر بیچنے میں مبتلا ہو ، ڈالروں کے ذریعے سے وہ کیا کچھ حرام پنا نہیں کرتے ہوں گے؟)

38-quran-book-mulla-jiwan-dars-e-nizami-noor-ul-anwar-lafz-nuqoosh-naqsh-fatawa-shami-fatawa-qazi-khan-mufti-muhammad-saeed-khan-mufti-taqi-usmani-sura-fatihaدوستوں سے آدمی کی پہچان ہوتی ہے۔ کزن طالب اپنی بہن پربلیک میلنگ کررہاتھا۔ (پشتو میں کہا جاتا ہے کہ ایک علاقے والے دوسرے علاقے کے دلوں اور بے غیرتوں کو اس طرح سے پہچان سکتے ہیں کہ ان کی آپس میں دوستی ہوتی ہے۔ جب ہمارا اپنا عزیز ایسا ہے کہ اپنی بہن کی منگنی کرانے کے بعد اس بے غیر ت نے اس پر بلیک میلنگ شروع کردی تو یہ جن کے دوست ہیں ان کے بارے میں بھی ہم وہی گمان رکھ سکتے ہیں)

39-islamic-revolution-islam-ki-nishat-e-sania-quran-o-sunnat-khatm-e-nabuwat-khadim-hussain-galian-baba-nikah-and-agreement-triple-talaq-fatwa-ittehad-e-ummat-dars-e-nizamiاس کے خالہ زادیہ باتیں کر رہے تھے کہ پیسے وصول کرنے کیلئے دی ہوئی عورت کورخصتی سے پہلے چھین لینے پراسرارکررہے تھے۔ (یہ بہت عار کی بات سمجھی جاتی ہے کہ منگیتر کو منگنی کے بعد لڑکی نہ دی جائے ، ہمارے عزیز کے اپنے خالہ زاد بھائی اس بات کا اظہار کررہے تھے کہ ہمیں پیسوں کے لئے بلیک میل کیا جارہا تھا)

40-rajam-sangsar-karna-women-harassment-zina-bil-jabr-minimize-jahangir-kot-lakhpat-jail-habil-qabil-shah-turab-ul-haq-qadri-phool-bari-aant-dawat-e-islami-pichkariرات کوکھمبے چوری کرتاہے اوردن کوتوبہ کرتاہے ، پاگل بھی ان کو کہتے ہیں کہ علی بابااوربیٹے چالیس چورہیں ۔ (ہمارے ان عزیز طالبوں کے بارے میں اڑوس پڑوس میں یہ مشہور تھا کہ یہ رات کو ٹیلی فون وغیرہ کے پول (کھنبے) چوری کرتے ہیں اور دن کو توبہ کرتے ہیں۔ ایک مجذوب نے ان کے باپ کی عیادت کی تو اس کو کہا کہ تم علی بابا اور تمہارے بیٹے چالیس چور ہیں)

41-pervez-musharraf-kala-bagh-dam-pakistan-kishanganga-dam-inauguration-by-india-violation-jam-kando-bhains-colony-karachi-establishment-of-pakistanسچ مچ آج یہ بڑی سزاہے کہ دل سے نہ چاہتے ہوئے بھی دل پرجبرکرکے دوستی نبھائی جارہی ہے اورکل پھر اس کوکہہ دوکہ طالب اس سائیڈپربھی تمھاراآنامیرے لئے گوارہ نہیں ہے۔ (ان لوگوں کے لئے یہ بہت بڑی سزا ہے جو طالبوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی ڈر کے مارے اب دوستی نبھارہے ہیں، کل یہ اپنا رویہ بالکل ہی بدل ڈالیں گے جس میں ان کے ضمیر کا قیمتی سرمایہ اگر ہو تو ضائع ہوتا دکھائی دے گا)

42-mumbai-attack-26-11-elias-davidsson-books-american-cia-israeli-mossad-indian-raw-agent-dawn-leaks-masood-azharبڑے عالم کاکہناتھاکہ یہ اس بلندمقام کے شہیدہیں ، ان کے چہروں پرگردوغباربھی اسی طرح پڑارہنے دو۔ (اُستاذ العلماء ڈسٹرکٹ خطیب مولانا فتح خان صاحب سے کسی نے پوچھا کہ ان شہیدوں کو نہلانا کیسا ہے؟ مولانا پہلے یہ فتویٰ دیتے تھے کہ اگر نہلا دو تو بھی شہادت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور احتیاط نہلانے میں ہے۔ لیکن مولانا فتح خان نے ہمارے شہیدوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ بہت اونچے مقام کے شہداء ہیں نہلانا تو دور کی بات ہے ان کے چہروں پر پڑا گرد و غبار بھی نہ ہٹایا جائے۔ جنگ اُحد کے شہداء کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ ان کو اسی حالت میں بغیر نہلائے دفن کیا جائے اور اس موقع پر پوری دنیا میں اسلام کی حکومت کے قیام کی پیش گوئی بھی فرمائی ۔)

43-mumbai-attack-26-11-elias-davidsson-books-american-cia-israeli-mossad-indian-raw-agent-dawn-leaks-masood-azharشہیدوں (کی فہرست) میں شامل ہوناقسمت کی با ت تھی میرے بھتیجے ارشدشہیدہوئے اور میرے بھائی حاجی اورنگزیب شہیدہوئے۔

44-nawaz-sharif-corruption-accountability-army-journal-isi-akhrar-abd-ur-rehman-khwaja-asifمیرے رشتہ داروں میں بھی افرادشہیدہیں ماموں کے بیٹے حسام اور خالہ زادبھائی حاجی رفیق شہیدہوئے۔

45-imran-khan-lotaism-pak-fouj-pervez-musharraf-referendum-imran-molvi-nawaz-shareef-molvi-shahbaz-shareef-molvi-talban-mma-ptm-namaz-e-janazaمیرے گھراورباہرکی خواتین بھی شہیدہوئیں ایک میری بھانجی تھی اوردوسری بہن ۔

46-ubaid-ullah-sindhi-sindh-punjab-army-chief-journal-ayoub-zulfiqar-ali-bhutto-1973-1977-daishمیری بہن کی گھرمیں شہادت کی بڑی تمناتھی اوربھانجی چھوٹے بچوں کی ماں تھی وضوکررہی تھی کہ ان کو شہیدکیاگیا۔

47-adam-and-hawwa-habeel-and-qabeel-shajra-nasab-mubashrat-molana-ubaidullah-sindhi-gomal-university-kushti-college-studentsاللہ کی شان سے شہیدوں کی فہرست میں بہت عجیب توازن ہے ایک مسجدکے امام حافظ عبدالقادراوردوسرے گھرکے خادم قاسم شہیدہوئے ۔

48-barack-hussein-obama-chief-justice-saqib-nisar-chief-justice-rana-bhagwan-das-scheme-33-karachi-dg-rangers-karachi-reham-khan-divorceتین آفریدی ،دوجٹ، ایک مروت اورایک محسوداس فہرست میں شامل تھے ،مہمانوں کی شہادت پر تمھاری تذلیل کرنامیرے اوپرقرضہ ہے۔

49-molana-fazal-ur-rehman-dera-ismail-khan-tank-waziristan-zina-in-islam-pti-mujra-mma-hurmat-e-musahirat-shaukat-aziz-siddiquiصدرحمتیں ہوں شہداء کے ناموں پر،دو جٹوں میں ایک حافظ ،دوسراعالم تھا ،دوآفریدی باپ بیٹے تھے(حافظ عبد القادر کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے تھااور وہ مسجد کے امام بھی تھے اور عالم کا تعلق ٹانک سے تھا جن کا نام مجھے معلوم نہیں، آفریدی باپ بیٹے کے نام بھی مجھے پتہ نہیں، ان سب کو اللہ جوار رحمت میں جگہ دے)

50-manzoor-pashteen-establishment-ansar-sahaba-muhajir-sahaba-zainab-case-check-post-in-tribal-areas-naseem-suicide-attackerایک محسود مجذوب تھا ،کچھ جوان اورکچھ بڑے شہداء میں شامل تھے اورخالدآفریدی بیٹاتھاغیرتمندبیوہ ماں کا۔ (مجذوب نے بہت اللہ اور قرآن کے واسطے دے کر دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کو خود اس مجذوب پر بھی رحم نہیں آیا اور ان کو شہید کرکے ان کو مجذوبوں کی نمائندگی کا اعزاز بخشا۔ خالد آفریدی کی بیوہ ماں نے یہ تجویز بھیجی تھی کہ جس طرح بھی معاملہ کیا جائے لیکن ان دہشت گردوں کی دنیا اور آخرت دونوں خراب ہوں اگر معاوضہ اور قصاص سے ان کی دنیا یا آخرت سنور سکتی ہو تو اس سے گریز کیا جائے)

51-ubaid-ullah-sindhi-sindh-punjab-army-chief-journal-ayoub-zulfiqar-ali-bhutto-1973-1977-daishشہیدوں کے ساتھ میٹھے قرآن کوبھی شہیدکیاگیا،ان کتوں کا گلا کس کی رسی سے بندھا ہوا تھا۔ ( جب وزیرستان میں ایک مرتبہ تحصیلدار مطیع اللہ اور عزیز اللہ کو شہید کیا گیا تو کئی دنوں تک ان کی لاشوں کو کنوئیں میں ڈال کر مسخ کیا گیا، مطیع اللہ شہید کے چچا ڈاکٹر عبد الوہاب برکی نے تعزیت کے موقع پر مجھے بتایا کہ جیو ٹی وی والے مجھ سے انٹرویو لینے کے لئے آئے کہ آپ کے خیال میں یہ کس نے کیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ انڈیا نے نہیں کیا ہے اسلئے کہ پاکستان کے پچانوے ہزار فوجی اس نے قید کرلئے تھے کسی کے ساتھ اس نے یہ سلوک نہیں کیا۔ امریکہ نے بھی نہیں کیا ہے اسلئے کہ گوانتا نامو بے کی جیل میں بہت لوگوں کو رکھا گیا مگر کسی کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوا، مسلمان تو ایسا کر نہیں سکتے پھر میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ یہ کون لوگ ہوسکتے ہیں؟ ڈاکٹر عبد الوہاب برکی کے اس بیان کو بہت کوریج دینے کی ضرورت تھی لیکن یہودی میڈیا کے کارندوں نے طالبان کے کرتوت کو چھپانے کے لئے اس وقت کوئی کوریج نہیں دی بلکہ الٹا طالبان کے بجائے دوسرے لوگوں پر الزام تھوپنے کے لئے فضاء ہموار کی جاتی تھی اور آج بھی بعض اوقات بعض لوگ اسی رویہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر ملک میں یہ سب کچھ بلیک واٹر کررہی ہے تو طالبان ہی بلیک واٹر ہیں)

52-nikah-and-agreement-ghulam-and-londi-mma-zina-bil-jabr-pak-daman-aurat-par-tohmat-lagane-ki-saza-80-kore-ptm-manzoor-pashtoon-isprجب گردوغبارہٹ جائے گاپھرتمھاری سمجھ میں آجائے گاکہ ٹانگوں کے نیچے گھوڑا یا تم گدھے پرسوارتھے

53-halala-issue-clear-no-ambiguity-different-support-honourary-work-success-arts-council-of-pakistan-talaqببرشیرکیاکرسکتاہے لگڑبھگڑکابڑالشکرہے ،اے قوم !اگرتم بھلائی چاہتے ہوتواپنے آپ کوفوری طورپربدلو۔

54-javed-chaudhry-columns-taliban-cia-biryani-ki-rehri-islamabad-nawaz-sharifمیں انتقام سے زیادہ معافی پرخوش ہوتاہوں ،حق کی ضرب مجرب نسخہ ہے زخمی دلوں کوسینکنے کاکام کرتاہے۔

55-shah-waliullah-shah-ismael-shaheed-maulana-ubaid-ullah-sindhi-maulana-yousuf-binuri-mansab-e-imamat-bidat-ki-haqiqat-ahmad-raza-khan-barelvi-syed-abdul-qadir-jilani-albayyinat-haroon-rasheمحمودخان اچکزئی شروع سے طالبان کامخالف رہاہے اورمولانافضل الرحمن نے بین بین آدمی ہے۔طالبان کامقابلہ کرنا الطاف حسین ، شہباز شریف اوربلورکے بس کی بات نہیں ۔

56-islam-and-strangeness-unfamiliarity-right-way-to-be-out-reform-yousuf-ludhyanvi-asar-e-hazir-bookکراچی کے اکابرہوں یا سپاہ صحابہ کے دہشت گرد ، ڈیرہ اسمٰعیل خان کے مولویوں کے ساتھ بھی میں لڑا ہوں ہر طرف سے ۔

57-mental-slavery-freedom-saudi-ulma-scholars-tripple-talaq-taqi-usmani-aasan-tarjuma-e-quran-taqleed-ki-shari-haisiyat-mna-qazi-fazl-ullah-londi-nikah-mutahنیل (کامعرکہ ) ہویاکربلاکا، نمرود ( سے لڑنے کیلئے) میں نے کمرکس لی ہے ، جیتنے کے لئے پہلی شرط حق اوردوسری دلیل ہے ، فتح نہ بادشاہی سے حاصل ہوتی ہے نہ جوانوں سے ۔

58-imam-abu-hanifa-ghazali-mufti-abdul-rauf-sakharvi-sir-agha-khan-sood-interest-mark-up-intercourse-fatawa-e-aalamgiriyaخونِ دل پینے کا عادی نہیں ہو اے طالب !تیری دہشت کی مثال اسپین کے میلے کے بیل کی طرح ہے۔

59-manzoor-pashteen-ghq-shahid-khakan-black-water-shahid-masood-ratan-bai-ptm-shabbir-ahmed-usmaniمیں شاعرہوں، عالم، صوفی اورنہ صحافی ایک عام بندہ ہوں لیکن اللہ کے فضل سے اسکورپراسکوربنا رہا ہوں ۔

60-nabi-ki-azwaj-waives-nikah-mutaa-allama-ghulam-rasool-saeedi-ulma-muftyan-madrasa-jamia-naeemia-karachi-mufti-muneeb-ur-rehmanمارنے پرمیں کبھی تمھیں ہرادوں اتنے آدمی ماردوں گا،عقاب کیلئے (شکارکرناکیامشکل ) کیا ہے کوئی مینا،کوئی کبوتراورکوئی چکورکا۔ (جس طرح نہتے لوگوں خواتین ، مہمانوں اور عام لوگوں کو طالبان نے قتل کیا ہے اگر ہم چاہیں تو ان سے کئی گنا زیادہ اس طرح سے بدلہ لے سکتے ہیں، میرے لئے ان کو ٹارگٹ کرنا بالکل کوئی مسئلہ نہیں ہے)

61-malala-yousuf-manzoor-pashteen-asma-jahangir-imran-khan-taliban-armyکالی اندھیری (بہت زیادہ اندھیرے) میں مجھے روشنی نظر آتی ہے میں غار حرا کو دیکھتا ہوں اور میں نے غار ثور کو دیکھا ہے۔

62-wifaq-ul-madaris-teen-talaq-rujoo-allama-ali-sher-rahmani-khairpur-mirsظالموں کی درست مددظلم کیلئے رکاوٹ پیداکرناہے ، دین خیرخواہی کا نام ہے عتیق ہرآدمی کیساتھ اس کے غم میں شریک ہے۔

63-ye-jo-dehshat-gardi-he-is-ky-piche-wardi-he-40-fcr-mehsood-slogan-waziristan-allama-iqbalوحشی اور ہند جیسے ظالم لوگ بھی دنیا میں چھوڑ دیے گئے ،حضرت موسیؑ ٰ سے قتل سرزد ہوگیا تھا تو وہ کوہِ طورپربھی ڈررہے تھے ۔ (وحشی اور ہند نے بڑے وحشیانہ طریقے سے سید الشہداء امیر حمزہؓ کو شہید کیا تھا لیکن ان کو بھی معاف کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے غلطی سے ایک شخص کو قتل کیا تھا تو کوہ طور پر جلوہ دیکھنے کے باوجود ان کے دل سے خوف نہیں گیا۔ ایسے میں کوئی مجرم بھی معاف کیا جاسکتا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی بڑے جرم کا ارتکاب کرے اور بے خوف زندگی اس کو نصیب ہو)

64-mehrab-gul-afghan-allama-iqbal-waziristan-ptm-pashtun-tahafuz-movement-tarana-ptm-pashteenجب ایک معصوم بچے نے زمین پرپڑا ہواقرآن کا نسخہ اٹھالیاتو(گھرکاسامان چوری کرنے میں مصروف) طالب نے لات مارکرکہاکہ( ٹائم نہیں ہے) قرآن کوچھوڑ دو۔ (طالبان نے گھر میں استعمال شدہ برتن، کپڑے اور جو سامان لے جانے کے قابل تھا وہ بھی لے کر گئے۔طالبان کی تعریف کرنے والے ان کی کرتوت سے واقف ہوتے تو کوئی دوسرا تعریف کرتا تو بھی اگر اس میں ضمیر اور غیرت کی رمق ہوتی تو خون کھولنے لگتا۔ جو قرآن کے شہید نسخے کو زمین سے اُٹھانے پر بھی بچے کو لات مارتے ہوں اور ہنسی سے اس کا مذاق اُڑاتے ہوں پتہ نہیں ان کو مسلمان کس طرح تصور کیا جاسکتا ہے۔)

65-ye-jo-dehshat-gardi-he-is-ky-piche-wardi-he-40-fcr-mehsood-slogan-waziristan-allama-iqbal-nato-mujahideen-iblees-russiaقرآن کی بے حرمتی کرنے کی وجہ سے یہ فتوی عام ہوگیا کہ مسلمان نہیں ہیں یہ کافر۔ (جب عوام میں قرآن کے نسخے کی بے حرمتی کا پتہ چلا تو عام لوگوں میں یہ تاثر پھیل گیا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں۔ لیکن میڈیا نے ان کے اس کردار کو پیش کرنے کے بجائے مسلسل ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی)

66-asma-jahangir-shah-sahib-doubt-tashweesh-arif-khan-arif-jup-mufti-naeem-quranic-ayat-atiq-gilani-human-rights-farzana-bari-talk-shows-halala-hazrat-saad-bin-ubada-talaq-ulma-bismillah-muftجنازوں کے ہمراہ چلے گئے ڈیرہ ،لکی،کوہاٹ، خیبر، ٹانک، ملازئی اور وزیرستان کو ، ھم اپنے پڑوسیوں کے بہت شکرگزار ہیں۔ (پڑوسیوں نے بہت ہمدردی کے ساتھ مہمانوں کے جنازوں کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، کوہاٹ، خیبر، ٹانک، ملا زئی اور وزیرستان تک اپنے بڑوں کی تشکیل کرکے رخصت کیا جس پر ہم ان کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے غم میں ان کے احسان کو فراموش نہیں کیا ہے)

67-maqbuza-jamuh-wa-kashmir-8-years-child-girl-asfa-chicha-watni-noor-fatima-sexual-assault-murdar-killing-hindu-shaheedاے مخاطب :شخصیت شناس، فرض آشنا اورعلم دوست بن، آپ سپاہی ہیں یاکہ آفسر، سیاستدان یاکہ مزدور۔

68-jamia-binoori-town-karachi-girl-child-blame-criminal-syed-irshad-ali-naqvi-mudeer-social-media-dawn-news-video-clip-sale-10-thousand-rupees-kab-tak-noorani-basti-korangiیہ دہشت گردی نوراکشتی ہے، نام جہاد کا ہے اوراصل میں مسلم کشی ہے، یہ استعمارکی چال ہے اور خواہ مخواہ جھوٹ کا جمہوری سسٹم ہے۔

69-americi-atashi-atiq-gilani-punishment-mehmood-khan-achakzai-na-ahl-nawaz-sharif-majeed-achakzai-murder-bewa-widow-son-nadir-shah-karnal-josef-colonal-shah-rukh-jatoeبیوقوف بے خبرہیں اورہوشیار خاموش ہیں، ڈرتے ہیں، اسی بے پروائی اور بازپرس نہ کرنے کی حالت میں قوم کی موت کا راز پوشیدہ ہے۔

70-woman-rights-khawateen-huqooq-quranic-verse-aayat-khula-talaq-khan-nawab-king-badshah-imam-abu-hanifa-jail-ummhat-ul-mumineen-hazrat-muhammad-abu-jehal-ali-jamhoor-iddat-ela-umer-nikah-mutآنکھیں دن کوستارے نہیں دیکھ سکتیں لیکن عقل سے ان کودیکھتی ہیں، ایک وقت تھا کہ حدیث کو سمجھنے سے فہم معذورتھا اورآج آنکھوں سے اس کو سمجھا جاسکتاہے۔

71-shah-wali-ullah-fikr-e-waliullah-ubaid-ullah-sindhi-talaq-londi-jibri-zina-muttahida-majlis-e-amal-mufti-taqi-usmani-saudi-arab-cenima-halala-mutaابن صائدپرشک تھا دجال عقل سے گم تھا،دجال ایک نہیں بہت ہیں شخصیت، کردار اور ظہور کے اعتبار سے۔ (ابن صائد یا ابن صیاد کے بارے میں صحابہؓ کا اختلاف تھا۔ جب دجالوں کا کردار سامنے آئے گا تو مختلف شخصیات کو اپنے اپنے دور میں پہچانا جائے گا)

72-justice-aijaz-ul-hassan-hanif-abbasi-dgispr-dr-tahir-ul-qadri-dhool-dawn-news-wusat-ullah-khan-hussain-nawazکانا دجال خراسان سے آئے گا، اس کے بال پراگندہ ہوں گے،اس کا لشکرطالبان ہیں، ان کے چہرے کمان کی طرح گول اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے ہوں گے جیسے ازبک اور پٹھان ہیں،یہ مشہور حدیث ہے۔

73-ghq-islamabad-pindi-lahore-queta-jnral-hamid-gul-khalid-bin-waleed-gulbadeen-hikmat-yar-masood-azhar-hafiz-saeed-maleer-kund-keti-bandar-bait-ul-muqaddas-hazrat-ibrahimرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ کا کانا ہوگا ایک دوسری روایت میں ہے کہ دائیں آنکھ کا کانا ہوگا، (یہ مختلف دجال کانے ہوں گےکسی کی دائیں آنکھ اور کسی کی بائیں آنکھ)۔

74-army-chief-journal-qamar-jawed-bajwa-ptm-mnzoor-pashteen-editor-muhammad-ajmal-malik-supreme-court-marvi-memon-irshad-bhatti-hasan-nisar-abdul-haseeb-mqm-ayoub-khan-panama-leaks-isi(فرمایا ﷺ)اس دجال کے پاس جنت بھی ہوگی اور جہنم بھی، اس کی جہنم جنت ہوگی اور جنت جہنم ہوگی،ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں دجال کے فتنے سے اورکاٹنے والے کتے سے۔(رسول اللہ ﷺ نے خوارج کو جہنم کے کتے کہا تھااوران کے بارے میں دجال کے ساتھ خروج کرنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ ان کوآسمان کے نیچے بدترین مقتول اور ان دوزخیوں کے کتوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے کو بہترین شہیدقراردیاہے ۔)

75-8th-april-jalsa-in-peshawar-pukhtoon-tahafuz-movement-ali-wazir-meet-with-peshawar-ulma-ptmرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میری امت میں سے سترہزار(70000) لوگ دجال کی پیروی کریں گے، جن پرالسیجان ہوں گے،،السیجان جمع ہے الساج کی، الازھری نے کہاہے کہ وہ المطلیل المقور ہے۔(تذکرۃ ،الامام القرطبی) جس کاترجمہ’’خون کاقصاص نہ کرنے والے ‘‘ ’’بیخبری میں حملہ کرنے والے ‘‘ کابنتا ہے۔ساج یسوج آہستہ چلنا،الساج ساکھو کادرخت جمع ’’السیجان‘‘واحد ’’الساجۃ‘‘کشادہ اور گول چادر کوکہتے ہیں۔

76-rapists-murderers-of-faisalabad-university-student-still-at-large-justice-for-abida-ptm-manzoor-pashteen-ispr-general-asif-ghafoorرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دجال کے نکلنے سے پہلے ستر(70)سے زیادہ دجال نکلیں گے (الفتن ، نعیم بن حماد) ہرایک دجال کی مثال گدھے کی طرح ہے اور ان کی سواریاں گدھے ہیں۔

77-supreme-court-nawaz-sharif-panama-leaks-imran-khan-dawn-leaks-saqib-nisar-memo-gate-hussain-haqqani-khalwat-e-sahiha-haq-mehrفرمایا ﷺ نے: دجال مشرق سے نکلے گا، جس کو خراسان کہا جاتا ہے،،دجال نکلیں گے مختلف جگہوں سے مختلف زمانوں میں۔دجالوں کے بارے میں متعدد روایات سے وضاحت ہوتی ہے،خراسان سے،ایران کے اصفہان سے،شام وعراق کے درمیان سے، عراق سے،یہودیوں کے مروسے،مصرکے شہربصرہ سے اوریہ بھی کہاگیاہے کہ ایسی جگہ جس کو کوثی السباخ کہاجاتا ہے اور یہ بھی روایات ہیں کہ دجال ابن صائدہے جس کی پیدائش مدینہ میں ہوئی تھی،یہ بھی روایت ہے کہ وہ انسان نہیں بلکہ شیطان ہے، یہ بھی روایات ہیں کہ اس کا ٹھکانا سمندر میں ہے اور یہ بھی کہ سمندر میں ایک جزیرہ اصفہان سے وہ نکلے گا۔مختلف دجالوں کے الگ الگ احوال ذکرکیے گئے ہیں۔(دیکھیے:الفتن اورصحاح

78-hazrat-umar-and-hadith-qirtas-panjtan-pak-tabbar-nawaz-sharif-maryam-nawaz-kulsoom-nawaz-shahbaz-sharif-hamza-shahbazابن صائد اپنی ذات کی حد تک دجال تھا، ملاعمرنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ کردار لائیو ادا کیا ہے۔وہ حق کوباطل کے ذریعے چھپاتا ہے،دیکھو میں نے یہ صور پھونکاہے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے تجزئیے میں ’’اُزبک تحریک اور القاعدہ‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ اُزبک تحریک کے قائدین نے کابل میں ازبکستان کے صدر کے خلاف جہاد کا اعلان کیا، ازبک حکومت افغانستان میں شمالی اتحاد کو سپورٹ کررہی تھی۔ القاعدہ اور طالبان نے ان کے مقابلے میں ازبک تحریک کے قائدین کو سپورٹ کرنا شروع کیا۔ لیکن ساتھ ہی نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا۔ جس کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ ازبک تحریک نے امریکہ کے خلاف طالبان کی حمایت کا اعلان کیا اور امریکہ کو ازبکستان نے اسی وقت زمینی راستہ اور فضائی اڈے دئیے۔ (ڈاکٹر شاہد مسعود کا تجزیہ اور اس پر تبصرہ اشعار کے بعد ملاحظہ فرمائیں)
ایک روایت میں ہے : اذا خرج الترک علی اصحاب الرایات السود فقاتلوھم، لم تجف برادغ دوابھم حتی یخرج اہل المغرب :جب ترک (اُزبکوں پر اس کا اطلاق ہوا ہے) سیاہ جھنڈے والوں کے ساتھ نکلیں تو ان کے ساتھ لڑو (القاعدہ نے سیاہ جھنڈے کو اپنا نشان بنایا تھا) ابھی ان کی سواریوں پر پڑے گدیلے بھی خشک نہ ہونے پائیں گے کہ اہل مغرب پہنچ جائیں گے۔ (الفتن، روایت 751)اس روایت میں جہاں مغرب کے فتنے کا ذکر ہے وہاں یہودی سازش کے تحت اس علاقہ میں داخل ہونے والے القاعدہ اور اُزبکوں کا بھانڈہ بھی پھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر اس روایت کے مطابق ان لوگوں کو یہاں سے مار بھگادیا جاتا تو امریکہ کو اقوام متحدہ کی حمایت کے ساتھ اس علاقے میں آنے کی جرأت نہ ہوتی۔ جہاں امریکہ ذمہ دار ہے وہاں اُزبک اور القاعدہ بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔ اس روایت میں حقائق کی بھرپور نشاندہی کی گئی ہے۔
رسول اللہ ﷺمشرق کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے توکہاگیاکہ اہل مغرب؟ فرمایا: یہ اس سے بھی بڑا اورمخدوش ہے۔(الفتن، روایت 752)

79-8th-april-jalsa-in-peshawar-pukhtoon-tahafuz-movement-ali-wazir-meet-with-peshawar-ulma-ptmرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دجال کی پیروی ایسی اقوام کریں گی جن کے چہرے گویا ڈھال (گول) اور ہتھوڑے (لمبوترے) ہیں،، مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ دجال کا لشکر یہ طالبان ہیں۔حدیث میں بیان کردہ صفات کے مصداق یہ شکل وصورت سے بھی خراسانی دجال کا لشکر ہیں اور ان کے فاسد اقدامات سے بھی یہ دجالی لشکر ثابت ہوتے ہیں۔

80-triple-talaq-in-islam-halalah-maulana-muhammad-khan-sherani-molana-yusuf-binori-agreement-marriage-nikah-mutah-mufti-mehmood-kathputliرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اہل مغرب ہمیشہ حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے،،(صحیح مسلم) اس حدیث رسول ﷺ کو کسی کمی وبیشی کے بغیربیان کرو۔
اگر اسلام کے عادلانہ نظام کواجنبیت کے گھمبیرپردوں سے نکال کراس کے حقیقی روح کے ساتھ بلاکم وکاست پیش کیا جائے تومشرق کے مسلم ممالک کے حکمرانوں سے قبل اس کومغرب کی عوام کی طرف سے پذیرائی ملے گی۔علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ مجھے مغرب میں مسلماں نظر نہیں آیا لیکن اسلام نظر آیا اورمشرق میں مسلماں دیکھنے کوملتے ہیں لیکن اسلام نظر نہیں آتاہے۔،،

81-halala-ki-lanat-khawateen-ki-behurmati-fatwa-agreement-marriage-tehreef-e-quran-maulana-anwar-shah-kashmiriاللہ فرماتاہے :اور وہ لوگ جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اورجب کوئی لغو بات دیکھتے ہیں تو عزت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔پس بتوں کی گندسے اجتناب کرواورجھوٹ بات سے اجتناب کرو۔
آج مسلمان اگرقرآن کے بیان کردہ عظیم شعارسے متصف ہوں اورعظیم احکامات پرعمل پیرا ہوں تودنیا کی عظیم قوم بن سکتے ہیں۔ جھوٹی گواہی اورلغویات میں مبتلانہ ہونا تو دور کی بات ہے شاید ہم ان صفات میں اپنا کوئی ثانی بھی نہیں رکھتے۔ ہماری میڈیا کی خبریں اوراینکرز کے ٹاک شوز اس کی ادنیٰ مثالیں ہیں۔حکمرانوں، سیاستدانوں، مذہبی رہنماؤں سے لیکرعوام،سیاسی ورکرزاورتبلیغی جماعتوں،جہادی تنظیموں کی کارگزاریوں،اللہ والوں اور تاریخ دانوں کے قصے کہانیوں تک میں جھوٹ کا وہ لامتناہی سلسلہ ہے کہ زمین وآسمان کے فرشتے بھی الحفیظ الامان،، کی صدائے احتجاج بلندکرتے کرتے بیزار ہوگئے ہوں گے۔ ہماری توہم پرستی اور مغرب کی مادہ پرستی کاموازنہ کیاجائے تواسلامی توحیدسے ہم دور اورمغرب قریب تر نظرآتا ہے۔اسلام نے بتوں کی نجاست کے محورتوہم پرستی،، سے ہی نجات دلائی تھی ورنہ بتوں کاظاہری نجاست سے کیا تعلق ہے؟حدیث نبوی ﷺ میں قبر ، بت اور تصویرکا ایک ہی حکم دیا گیاتھا۔ ہم نے بت اور تصویر کی ظاہری شکل کو تو غیرشرعی سمجھ لیا لیکن قبر پرستی اور توہم پرستی سے ہم اپنا دامن نہ چھڑاسکے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایاتھا لاتقوم الساعۃ حتیٰ یلحق من امتی بالمشرکین ۔( قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ میری امت کے بعض افرادمشرکوں سے مل جائیں گے) اوراسلام کہتاہے کہ انسان اشرف المخلوقات کے لئے اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو مسخرکردیا ہے، جس پر مغرب عمل پیرا ہوکر ترقی کی اوج ثریا پر پہنچ چکاہے اور ہم تنزلی کے شکار ہوکرجھوٹی طفل تسلیوں میں دمادمست قلندر کی صدائیں بلندکررہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اس قرآن کے ذریعے بہت سی قومیں بلندہوں گی اور دوسری پست ہوں گی۔‘‘ مغرب کی ترقی اورہماری پستی کا اصل رازیہ ہے کہ ہم توحید کے منافی توہم پرستی کا شکار ہیں اوروہ توحیدکے تقاضوں کے عین مطابق انسان کے لئے تسخیر کائنات کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔ ہم توحیدکے منافی اپنے شرکیہ اوہام کواسلام کانام دیتے ہیں اور ان کے اسلام کے مطابق تسخیری صلاحیتوں کوہم مادہ پرستی کا نام دے کراسلام کے منافی سمجھتے ہیں۔
(باقی تفصیلات اشعار کے بعد ’’مغرب کی ترقی اور ہماری تنزلی‘‘ کے عنوان سے ملاحظہ فرمائیں۔ )

82-larki-ki-shadi-uski-marzi-k-bina-karna-saudi-arabia-londi-nikah-court-marriage-daf-bajana-binori-town-madrassa-fatwaدجال کے ساتھ ستر ہزار امتی ہوں گے جن کے سرپرسیجان ہوں گے (حدیث)۔
امام القرطبی کی التذکرۃ : قصاص کوختم کردینگے یہ طلیل اورچھپ کرحملہ کریں گے یہ یقور۔

83-hazrat-umer-hazrat-ali-imam-abu-hanifa-imam-malik-imam-shafai-imam-hanbal-halalah-teen-talaq-triple-talaq-quran-syed-atiq-ur-rehman-gailani-ibn-e-majah-haiz-allama-ibn-e-qayyim-bakri-doodhابن صائدخود دجال تھااورملاعمرنے یہ دجالیت کاٹھیکہ اپنے ساتھیوں کے ذریعے اٹھایاہوا ہے حق کوباطل کے ساتھ ملاتاہے، میں نے یہ صورپھونکاہے۔

84-ptm-manzoor-pashtoor-wazeer-e-azam-imran-khan-pervaiz-bushra-manika-iddat-period-shah-naimatullah-waliمولانافضل الرحمان جسارت کرنے والانہیں ہے لیکن طالبان پراس کے باوجوداس حدیث کوفٹ کردیا ہے اس کے لشکر کے منہ ڈھال اور ہتھوڑوں کی طرح ہیں یہ علاقہ ان سے بھرا ہواہے۔

85-shaheen-air-international-wins-lion-city-ice-hockey-tournament-singapore-bowling-batting-investment-in-pakistanمغرب کے بارے میں حدیث کو کمی وبیشی کے بغیربیان کرو، دوغلہ پن تباہی ہے، دجالیت پر کسی کواجروثواب نہیں مل سکتا ہے۔

86-justice-faiz-essa-allama-khadim-hussain-rizvi-shaftaloolyari-gang-war-lashkar-e-jhangvi-imamia-asghar-khan-case-muh-kala-karnaدین میں زبردستی نہیں ہے ،ہمارا اسلام انصاف چاہتاہے۔عدل کاجھنڈا دنیا میں بلندہے اگرتوایک بھی جسارت کرنے والا پیدا ہوگیا۔

87-stephen-hawking-jinnat-and-quran-sir-syed-ahmad-khan-ghulam-ahmad-pervez-science-roohaniyat-black-hole(رسول اللہ ﷺ سے عرض کیاگیاکہ؛کیا)اس(دجال) کے پاس کھانا پینا ہوگا؟ (فرمایا ﷺنے:) وہ اللہ کے نزدیک اس (مال ومتاع)کے باوجود سب سے زیادہ ذلیل ہے۔ اللہ نے فرمایاہے۔(بھلاکون ہے جوتمھیں رزق دے) اگر وہ (اللہ) رزق روک لے؟ بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور (حق) گریز پر۔

88-dawn-leaks-supreme-court-ispr-ghq-pml-panama-leaks-raheel-sharif-maloon-nawaz-sharifقصہ ڈالرو کا ہے،تائیدلشکروسے ہورہی ہے،(لین دین کے معاملے پر) دوستوں سے سرکشی ہورہی ہے۔کھانا پینا رکھنے کے باوجود اللہ کے نزدیک اس ذلیل پر (اللہ کا) قہرہے۔

89-mufti-taqi-molana-fazal-ur-rehman-establishment-islam-zindabad-conference-hyderabad-lahoo-lahaan(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) یہ (خوارج) لوگ عمرکے لحاظ چھوٹے ہوں گے، بیوقی کے خوابوں میں رہتے ہوں گے اور اسلام سے خارج ہوجائیں گے۔ان کی خاص نشانی سر منڈانا ہوگا۔ (جنگِ )آزادی میں کسی چیزکے ذکررسول اللہ ﷺ نے خوارج کی نشاندہی فرمائی۔(خوارج کے بارے میں احادیث نبوی ﷺ سنن ابن ماجہ شریف)

90-tablighi-jamaat-haji-muhammad-usman-molana-tariq-jameel-hajre-aswad-muslim-khwateen-ragra-jannat-ki-hoorنوجوان بیوقوف لوگ ہیں، نکل گئے ہیں اسلام سے، ان کاسر منڈانا نشانی ہے،اس کوجان سے مار دو،ان کی (جنگِ) آزادی کاذکر ہوچکاہے۔
تبلیغی جماعت کے بارے میں پہلے یہ روایات میں اپنی کتاب ضرب حق،، میں علامہ ارشدالقادری کی کتاب کے حوالہ سے بھی نقل کرچکاہوں لیکن ان کے ساتھ جنگ کرنے کے حوالہ سے اتنی سختی سمجھ میں نہیںآرہی تھی، آج طالبان اوردہشت گردی کی جولہر اٹھی ہوئی ہے اس میں سب سے اہم رول تبلیغی جماعت کانظرآتاہے۔جب تک ان کے خلاف جہادکااعلان کرکے راہ راست پر نہ لایاجائے اس وقت تک دہشت گردوں کوتبلیغی جماعت کے افرادنہ صرف اپنے آغوش میں پناہ دیں گے بلکہ دوسروں کو مارنا محض ایک عذاب تصورکریں گے، جب تک ان کونشانہ نہ بنایاجائے دوسروں کے دردکااحساس ان کوکبھی بھی نہیں ہوسکتاہے۔عوام دہشت گردوں کونہیں پکڑسکتے ہیں لیکن ان کوسپورٹ کرنے والوں سے بدلہ لیں گے تودہشت گردی رک جائے گی۔ ہمارے ساتھ ہونے والے واقعہ سے پہلے کوڑ کے پاس ایک دہشت گرد کو پولیس والوں نے اشارہ کیا کہ رک جاؤ لیکن وہ اپنے ہاتھ میں بم لے کر بھاگا جس کی وجہ سے پولیس والوں نے اس کو مار دیا۔ یہ رائے ونڈ سے وقت لگاکر آیا تھا اور میرے خلاف اس کو استعمال کیا جانا تھا۔ ہمارے واقعہ کے بعد طالبان خود معذرت کررہے تھے اور تبلیغی جماعت والے یہ پروپیگنڈہ کررہے تھے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے کے ساتھ جو سلوک طالبان نے کیا ہے اس میں طالبان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جس سے ان کے خبث باطن کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تبلیغی جماعت میں کی طرح طالبان میں بھی مخلص لوگوں کی کمی نہیں ہے اور ان کی دینداری بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے لیکن کیاقرون اولیٰ کے خوارج میں مخلص لوگوں کی کمی تھی؟میرے نزدیک علماء دیوبندکے اکابرین اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے اصل وارث تھے اورتجدیدی کارنامے میں تبلیغی جماعت کے بانی مولانامحمدالیاسؒ کابنیادی کردار ہے۔یہ ان کے کردارکی برکات ہیں کہ ہم آباواجداد،تصوف وفقہ اورفرقہ واریت کی بنیادوں پراپنی ناکوں میں نکیل ڈال کرچلنے اوردوسروں کے پیچھے لٹ اُٹھانے کے بجائے اللہ کے احکام اور رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کوزندہ کرنے کاعلم اُٹھائے ہوئے ہیں،یہ دوسری بات ہے کہ آج ان میں سے غالب اکثریت اور اجارہ دارطبقہ خوداکابرپرستی اور بدترین فرقہ واریت کا شکارنظرآتاہے۔تاہم بلاشبہ آج بھی اعتدال کادامن تھامنے والوں کی فہرست مرتب کی جائے توان میں غالب اکثریت علماء دیوبندکے پیروکاروں کی نظر آئے گی ۔کاش احادیث کے خاکے کوخلوص دل سے سمجھنے کی کوشش کی جائے اوراسلام کے بارے میں فرقہ وارانہ تعصبات کی بجائے حقائق کومدنظر رکھتے ہوئے انقلابی اقدامات اُٹھائے جائیں۔

91-talibanization-asma-jahangir-jmaat-e-islami-abdul-sattar-khan-niazi-mulla-fazal-ullah-malala-yousafzai(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اے صحابہ!) تم میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نمازوں کے ساتھ حقیرسمجھے گا،یہ لوگ آسمان کے نیچے مارے جانیوالوں میں سب سے بدترین مقتول ہوں گے،اور بہترین شہید ان جہنمیوں کے کتوں کے ساتھ لڑنے والامقتول ہوگا۔ یہ ہے منشور۔
احادیث نبوی ﷺ کے مطابق مسلمان حکمران، افوج، سیاستدان، عوام،علماء سب کے سب اس منشور کواپنالیں تواغیارکی سرپرستی میں قائم ہونے والی دھشت گردی سے نہ صرف نجات پاسکتے ہیں بلکہ دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا بھی ازالہ کرسکتے ہیں۔

92-talibanization-jmaat-e-islami-moscow-washington-tehran-mujahid-ramen-davis-dehshat-gardiنماز کی ادائیگی میں یہ صحابہؓ سے بڑھ کر ہیں،بدترین مقتول ہیں روئے زمین پر، بہترین شہیدوہ ہے جوجہنم کے کتوں سے لڑتاہواماراجائے۔ یہی ہے منشور۔

93-maryam-nawaz-tweet-abdul-quddos-buloch-property-establishment-army-seventy-year-hasan-nawaz-geo-tv-media-isi-supreme-court-talk-show-quran-revolution(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:)جب بھی کسی صدی میں یہ نکلیں گے، یہ منقطع ہوجائیں گے۔ بیس مرتبہ سے زیادہ یہاں تک کہ دجال ان کے ساتھ نکلے گا۔(ذکرالخوارج ،ابن ماجہ) اس دفعہ ان کا نکلنابرا ہے مختلف مرتبہ نکلنے کے حوالہ سے۔
یزید بن ھارون عن المبارک عن الحسن قال:یخرج جیش من خراسان یعقبھم الدجال۔اسنادہ صحیح( الفتن نعیم ابن حماد) خراسان سے ایک لشکر نکلے گا جس کی پشت پناہی دجال کرے گا۔ جومذہبی جماعتیں، سیاستدان، فوجی اور سرکاری آفسران اس خوش فہمی میں مبتلاہیں کہ دہشت گرد معصوم عوام، مساجد،مدارس،جی ایچ کیو،پولیس وفوجی آفران وسپاہی کوتو نہیں بخش رہے ہیں لیکن ہمیں بخش دیں گے تویہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے ان دہشت گردوں نے کسی کو بھی چھوڑنا نہیں،خالدخواجہ سے بڑھ کران کاحامی کون ہوسکتاہے؟لیکن خالدخواجہ کو لال مسجداور سی آئی اے کے ایجنٹ کے نام پر قتل کردیاگیا، لال مسجد والوں نے توتردیدکردی اوراگروہ سی آئی اے کاایجنٹ تھاتوطالبان کی کازکے علمبرداروں اور حامیوں کے بارے میں وسیع پیمانے پریہ سوچ موجودہے کہ ساراکھیل ہی امریکی سی آئی اے کاہے، کوہاٹ سے جاویدابراہیم پراچہ نے خالدخواجہ کورخصت کیاتھا اور پھراس نے نمازجنازہ بھی پڑھائی ، اسی پرسازش کرنے کاشک بھی موجود ہے۔یہ ماجراکسی کی سمجھ میں نہیں آرہاہے ،حالانکہ جاویدابراہیم پراچہ کے چوتڑوں سے اکثروبیشتر اس مالیش کا تیل ٹپک رہاہوتاہے جواس نے کرایہ کے طالبان سے کروائی ہوتی ہے، سیدھے سادے لوگون کوالقاعدہ اورطالبان سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیاجاتا ہے،لیکن نامی گرامی لوگوں کوکچھ نہیں کہاجاتاہے، جب راہ نجات آپریشن میں پاک فوج کے اہلکاروں نے عوام سے طالبان کے بارے میں رائے طلب کی تولوگوں نے کہاکہ فوجی انبیائے کرام ہیں اورطالبان صحابہ کرام ہیں باقی ہم عوام کفارہیں دونوں مل کرہمیں مارتے ہیں،، اس بات سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ عوام فوج اورطالبان دونوں کوامریکی خداکے انبیاء اور صحابہ سمجھ کرکیاسوچ اورسمجھ رہے ہیں، سب اچھاکی رپورٹ سے حقائق نہیں بدل سکتے ہیں، عوام اپنے ساتھ ہونے والے مظالم میں فوج اور طالبان کوبرابر کاشریک اور دونوں کوامریکی آقاکے کھلم کھلاغلام سمجھتے ہیں۔پرویزمشرف کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسامہ بن لادن کے خاص الخاص ساتھی ، جہادی کاز اورطالبان تحریک کی بھرپورحمایت کرنے والے صحافی روزنامہ اوصاف کے سابقہ ایڈیٹراورجیونیوزکیپٹل ٹاک کے میزبان حامدمیرنے انکشاف کیا کہطالبان پرویزمشرف نے بھی بنائے تھے،، کیااس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی کوبائی پاس کرکے ایساممکن تھا؟ہرگزنہیں!البتہ یہ ممکن تھاکہ پرویز مشرف کوبائی پاس کرکے اشفاق کیانی نے طالبان بنائے ہوں،لیکن اشفاق کیانی شروع دن سے اہل مغرب کے لئے قابل اعتماداور پروفیشنل شخصیت قرار پائے تھے، حالانکہ آئی ایس آئی پران کی طرف سے شکوک وشبہات کااظہاربھی ہوتارہاہے، جس کاسیدھا سادہ مطلب یہی بنتاہے کہ یاتوامریکہ ،پاک فوج اور طالبان انتہائی رازداری کے ساتھ اس خطے میں ایک مربوط کردار اداکرتے ہیں اورلوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ایک منصوبے کے تحت کام کرتے ہیںیاپھر یہ سب ایک دوسرے کودھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان دونوں صورتوں میں عوام کابیڑہ غرق ہورہا ہے جوکسی کے مفاد میں بھی نہیں ہے، جس دن یہ تاثرختم ہوگیاکہ عالمی اورمقامی طاقتوں نے اس کھیل کی پشت پناہی چھوڑدی ہے، اسی دن سے دہشت گردوں کاخاتمہ عوام خودہی کردیں گے، امریکہ نے خطے میں آکر دھشت گردوں کے وجودکواخلاقی جوازفراہم کردیا، بش اور اسامہ دو کاروباری پاٹنروں نے اس خطے میں چوہے بلی(ٹامن جیری)کاکھیل کھیلناشروع کردیا ، سعودی عرب اپنے قدرتی ذخائرمعدنیات سونے اورتیل کامالک ہوتے ہوئے بھی مالک نہیں،عراق کے تیل پربھی بہانہ بناکرقبضہ کرلیاگیااورافغانستان اوروزیرستان سے بھی کافی مقدارمیں یورنیم اورقیمتی معدنیات کے منتقل کرنے کی خبریں عوام گردش کرتی رہی ہیں، پاکستان ، ایران اور روس کی چنگل سے نوآزاد مسلم ایشیائی ریاستوں میں موجود معدنیات کے وسیع ذخائرپر بھی مغربی ممالک اپنااپناقبضہ جمانے کے لئے اپنااپنا کھیل کھیل رہے ہیں ۔اس وقت دونعرے مقبول اوروقت کی ضرورت ہیں ایک خطے سے قابض افواج کاانخلاء اور دوسرانظام کی تبدیلی ،اور یہ دونوں نعرے بدقسمتی سے القاعدہ،طالبان اورخوارج نے بلندکررکھے ہیں جس کاکوئی مثبت نتیجہ نہیں بلکہ الٹامنفی نتیجہ نکل رہاہے، ان دھشت گردوں کی وجہ سے لوگ نئے انقلابی اسلامی نظام کے نفاذسے بدظنی کاشکار ہوچکے ہیں اورغیرملکی افواج کونکالنے کے بجائے اپنی جان، مال اور عزتوں کے تحفظ کے لئے ضروری خیال کرنے لگے ہیں، آج اہل مغرب کااسلام پراعتمادکیسے ہوسکتاہے جبکہ مسلمان بھی شدت پسندوں کے اسلام کوقبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں، امریکہ کچھ عرصہ قبل سیاہ فام لوگوں کوووٹ دینے کاحقداربھی نہیں سمجھتے تھے، اوبامہ نے جس وقت ماں کی کوکھ سے جنم لیاتھااس وقت امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کو ووٹ ڈالنے کاحق بھی نہ تھا،پرامن جدجہدکے ذریعے دنیاکی مظلوم انسانیت کوظلم وجبرسے نجات دلانااسلام اورمسلمانوں کی تقدیرمیں بفضل تعالیٰ لکھاجاچکاہے۔دجالیت اورفریب کے ہتھکنڈے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف سازش ہیں،اس لئے ان کے خلاف ہمت سے کام لینے کاوقت آگیا ہے۔

94-pashtun-tahaffuz-movement-ptm-prime-minister-of-pakistan-manzoor-pashtoon-gullu-batt-sadiq-sanjrani-tablighi-jamaat-taliban-hindu-che-kalme-mehsoodجب بھی یہ نکلیں گے ختم ہوجائیں گے بیس مرتبہ سے زیادہ یہاں تک کہ دجال ان کے ساتھ نکلے گا اس بار ان کانکلنا برا ہے مختلف مرتبہ میں۔

95-pakhtoon-history-constitution-pakistan-insaf-demand-manzoor-pashtoon-fc-police-army-court-quatta-media-balochistan-cultureقرون اولیٰ سے ملت اسلامیہ کاعروج زوال پذیرہوتا رہاہےخارجیوں کے خروج سے۔ حضرت عثمانؓ سے لیکرخلافت عثمانیہ تک قتل وغارت گری لکھی گئی ہے تاریخ کی سطور میں۔

96-senate-elections-2018-molana-fazal-ur-rehman-azam-swati-mandi-jui-blackmailing-changa-manga-ghulam-ishaq-khan-nawabzada-nasrullah-baghal-geer-shirin-rehmanمدارس کے طلبہ کی بے وقت مرغے کی بانگ سے بے زکام ہیں امریکہ اور روس۔ ننگِ اسلام اسامہ اور ننگِ امت ملاعمر( معروف بہادرحکمران) تیمور لنگ نہیں ہیں۔

97-ppp-pti-fitri-ittehad-mian-ateeq-raza-rabbani-social-media-jaali-jihad-zia-ul-haq-geo-tv-londi-saleem-mandi-walaاسلام کااصول صرف اطاعتِ رسول ﷺہے اور اولی الامر(حکمران) کاحکم ماننا مشروط ہے(کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اللہ کی اطاعت اور اس کے رسوج کی اطاعت کاحکم دیا ہے اور اولی الامرکی اطاعت کاحکم بھی دیا ہے لیکن اگرکسی بات میں ان کے ساتھ تنازع ہوجائے تواللہ اور اس کے رسول کی طرف بات لوٹانے کا حکم ہے اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی) اسلام میں نہیں ہے کوئی تیمور، سعود اور فغفور۔(تیمور سے مراد معروف مسلم حکمران تیمور لنگ اور فغفور چین کے بادشاہ کا لقب ہے) یعنی ہم قرآن وسنت کے پابندہیں ہماراکوئی دوسرا ائیڈیل نہیں ہے۔

98-horse-trading-raza-rabbani-jamiat-ulama-islam-establishment-balochistan-assembly-mehmood-khan-achakzai-saleem-bukhari-javed-hashmi-baghiاسامہ بن لادن اور ملاعمرخان کوسر کی آمان ملی ہوئی ہے اور ان کے دوستوں پرڈالروں کی بارش ہورہی ہے۔اگرکوئی ان کامقابلہ نہیں کرسکتاتووہ معذورہے۔

99-sadiq-sanjrani-election-house-hasil-bizenjo-raza-rabbani-politician-mujahideen-democracy-in-india-blackmailing-people-of-afganistan-juiخودکش کے مرکز بہت سے گھر،مدارس،مساجداور تبلیغی لوگ۔ان کی تشخیص جارحانہ کرو، ہر ایک آدمی شرور سے پریشان ہے۔

100-mjamaat-e-islami-pakistan-establishment-muttahida-majlis-e-amal-sirajul-haq-labbaik-ya-rasool-allah-mumtaz-qadri-sheikh-rasheed-raja-zafar-ul-haq-article-62-and-63حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئی میں سچائی معلوم ہوتی ہے،آخرکارفساد ختم ہوجائے گا اور خوش ہوجائے گا ناخوش انقلاب کی خوشی کی وجہ سے ۔

101-haroon-ur-rasheed-mamu-najumee-pakistan-cricket-match-final-tigni-ka-naach-establishment-chori-or-seena-zori-chashm-e-baddoor-firdous-ashiq-awan-ptiہمارے پیارے وزیرستان کے لوگ انسانی اقدار کے اعلیٰ معیار سے واقف ہیں اوردل کے بہت دلداراورمظلوم کے ساتھ تعاون کرنے والے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ پیلا کیاہے اورسرخ کیاہے۔یہ علامہ اقبالؒ کے ان اشعار کی طرف اشارہ جن میں محراب گل افغان کے فرضی نام سے پٹھانوں کاخصوصاََشیرشاہ سوری اور وزیر محسود قبائل کاذکر کرتے ہوئے ان قبائل کو خلعت افغانیت سے عاری قرار دیاہے۔ان اشعارمیں کسی ایک کاری ضرب لگانے والی شخصیت پیداہونے کاذکر ہے۔
نگاہ وہ نہیں جوسرخ وزرد پہچانے نگاہ وہ ہے جو محتاج مہر وماہ نہیں

102-manzoor-pashtoon-pashtun-dharna-islamabad-sham-e-ghariban-trailer-truck-shahid-khaqan-abbasi-baloch-sindhi-muhajir-panjabi-nawaz-sharif-jootaبہت بڑے قدرتی تحفے کے ساتھ ایک گھنگرو بھی مالک(اللہ تعالیٰ)نے ان کوایک بہت بڑاعیب دیا ہے۔وہ یہ کہ مردانگی کیاہے اور بے غیرتی کیا ہے اس سے یہ لوگ بیگانہ اور نشہ میں ہیں۔

103-amir-muqam-fawad-chaudhry-sheikh-rasheed-democracy-lanat-shame-on-democrats-zhob-balochistan-internet-social-media-haq-nawaz-jhangvi-shia-kafir-qazi-abdul-kareem-fatwaقیادت کاایک بحران پیداہوا ہے اور وزیرستان سب سے بہادر گردانہ جاتاہے۔کمائی یا بے عزتی ، بے غیرتی یا بہادری آج لوگوں کاشعور بیدار ہوگیاہے۔
جب میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں زیر تعلیم تھا تو مردان سے تعلق رکھنے والے کچھ طالب علموں نے ظلم و جبر کا راج قائم کیا تھا جس کو میں نے چیلنج کرکے توڑ دیا تھا۔ اس دوران عربی کے کچھ اشعار بے ساختہ لکھے تھے جن میں سے ایک دو یہ ہیں۔

یا ایھا الجیش من نساء اہل المردان
ان کنتم رجالاً فتعالوا الی المیدان
قد ما التقیتم قط باہل وزیرستان
کفا لکم و احد منھم موجود عتیق الرحمن

اے مردان کی عورتوں میں سے کا ایک لشکر، اگر تم مرد ہو تو میدان کی طرف آؤ، بے شک تم میں کبھی لڑائی کیلئے وزیرستان والوں کا سامنا نہیں کیا ہے، ان میں سے ایک عتیق الرحمن تمہارے لئے کافی ہے۔
یہ اشعار ان مردانی لڑکوں نے بنوری ٹاؤن کے موجودہ اُستاد مولانا عطاء الرحمن اور مولانا امداد اللہ کو دئیے۔ مولانا عطاء الرحمن نے یہ اشعار شکایتاً مفتی محمد ولی مرحوم کے حوالے کئے۔ جب درس گاہ میں مفتی ولی نے کاغذ پر لکھے ہوئے یہ اشعار میرے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ پڑھ کر سناؤ تو میں اشعار کو پھاڑنے لگا۔ جس پر مفتی محمد ولی نے اس شرط پر وعدہ کیا کہ اشعار پھاڑے بغیر واپس کریں آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ چنانچہ میں نے وہ اشعار واپس کئے تو انہوں نے حیرت کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ ثالثہ (تیسرے درجے) میں پڑھ رہا ہے اورایسے اشعار لکھے ہیں کہ امرا القیس کو بھی شرما کر رکھ دیا۔ واضح رہے کہ امرا القیس عربی کا سب سے بڑا شاعر مانا جاتا ہے۔ یہاں پر اس تذکرے کا مقصد یہ ہے کہ وزیرستان والوں پر مجھے ناز تھا، ہے اور رہے گا۔ لیکن خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان میں خامیاں بھی ہیں جو دور کرنا ہوں گے۔ میرا بچپن پختونخواہ، میرا لڑکپن پنجاب اورجوانی کراچی میں گزری ہے۔ مہم جوئیوں نے ادیب کے بجائے ایک انقلابی بنادیا ہے۔ میری تربیت میں بچپن کے بعد لڑکپن میں پنجاب کا نظریاتی شعور اور کچھ کرنے کا جذبہ شامل ہے۔ کراچی میں پختون، پنجابی، مہاجر، سندھی اور بلوچ سب کے ساتھ دیرینہ تعلقات رہے ہیں ، سب میرے انقلابی دوست ہیں اور سب ہماری تحریک کا حصہ ہیں۔ علاقائی اور نسلی تعصبات سے ہم کوسوں دور ہیں۔ ہر قوم اور ہر برادری میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں۔ جب کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کی خوبیاں سامنے آتی ہیں اور جب برا کرتا ہے تو اس کی برائیاں بیان کی جاتی ہیں۔ موجودہ دور میں عرب، یورپ اور چین کو دیکھنے کا موقع ملا ہے میری نظر میں پاکستانیوں کی کچھ خامیوں کو دور کیا جائے تو ان جیسی خوبیوں کی مالک موجودہ دور میں کوئی نہیں ہے۔ انشاء للہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز پاکستان ہی سے ہوگا۔

104-allama-iqbal-budh-mat-waziristan-communist-arif-khan-mehsud-tank-di-khan-kidnapping-gulsha-alam-barki-in-waziristan-pti-chaudhry-afzal-haq-book-husn-e-lazawalایک قاری (معروف حسین اصل نام نا معلوم) کی بدعملی کی وجہ سے پوری قوم ، ملک اور اسلام کی بدنامی ؟ ان کے امراء اور ایجنٹ سب کے سب قصوروار ہیں۔

105-manzai-behlol-zai-mehsud-shaman-khail-neuton-einstein-stephen-hawking-shakir-shuja-abadi-president-of-pakistanکھلم کھلا دھشت گردی تسلسل کے ساتھ دجالیت ہورہی ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی غلطی پر اور کوئی درست ہے بلکہ یہ پوری چین دشمنوں کی مددسے بنی ہے۔

106-krishna-kumari-kolhi-moinuddin-qureshi-prime-minister-tribal-voting-rights-dictator-pervez-musharrafاے مسلماں!تعمیر نو کے لئے پرانے انہدام پر رونا نہیں۔صبح صادق سے پہلے صبح کاذب کاہونا معمول کی بات ہے۔

107-rubina-qaimkhani-accident-women-of-pakistan-shahbaz-sharif-psl3-salman-taseer-murder-mumtaz-qadri-pakistani-politicianکہاوت ہے کہ پہلے مجھے دلائل سے ہرادینا پھر مجھے جان سے ماردینا، آدم کی اولاد انکساری کی بنیاد پر خلافت کی مستحق ہے۔ تکبر کرناکمینے کاکام ہے۔

108-chief-justice-qayyum-maryam-nawaz-tarazu-nawaz-sharif-call-to-chief-justice-establishmentوزیرستان سے خلافت کی آواز کس نے آسمان سے اوپر اٹھادی۔ میری گردان آگے کی طرف جاری ہے لیکن میں اس پر غرور نہیں کرتاہوں۔
میں نے اپنی کتاب میں وزیرستان کی مرکزیت اور پاکستان، افغانستان اور ایران کی مشترکہ پہل اور پھر عربستان وغیرہ کو ساتھ ملا کر ایک انقلابی خلافت کی آواز اُٹھائی تھی جس کے بارے میں مولوی کہہ رہے تھے کہ یہ میں نے گردان بنائی ہے۔ آج دنیا میں جو آواز میں نے اُٹھائی تھی اس کی گونج ہے لیکن سازشوں کا بھی بہت بڑا جال بچھایا گیا ہے جو انشاء اللہ حق کے سامنے مکڑی کا جالا ثابت ہوگا۔

109-naeema-kishwar-jui-pakistani-senator-parliament-house-100attendance-political-parties-women-role-in-politics-teen-talaq-suspensionشریعت اگرنافذکردی گئی تواسلام خودبخود عالمی نظام بن جائے گا، ملا کامنہ ٹیڑھا ہے اور شریعت پرقبروں کی مٹی پڑی ہوئی ہے۔

110-dawat-e-islami-chicken-chick-colorful-green-and-colorful-parrot-molana-ilyas-asri-ahle-hadees-gujranwala-farmi-choozee-zarbehaqtvسیدھی اورکھلی بات کہ دجال کے اس لشکر کو کس نے قتل وغارت کے بیگارپربھیجاہے۔فتنہ اور فسادکی وجہ سے اس ٹھنڈے علاقہ سے تنوربن گیاہے۔

111-manzai-behlol-zai-mehsud-shaman-khail-neuton-einstein-stephen-hawking-shakir-shuja-abadi-president-of-pakistan-scientistان نقاب پوش مجرموں کوبے نقاب کرنا میں مانتاہوں ،میں مانتاہوں کہ نری گالی ہے۔ لیکن میں معذرت چاہتاہوں،درست بات کوچھپانے کے ہاتھوںیہ خرابی باقی رہ گئی ہے۔

112-mere-baad-khulfa-honge-phir-un-ke-baad-ameer-honge-phir-badshah-honge-phir-jabir-badshah-honge-phir-mere-ehl-e-bait-me-se-aik-shaksh-nikle-ga-al-hadeesخود کش کے لئے بہت کم سن اور غریب لوگوں کوتیار کیاجاتاہے۔ ان لیڈر کے جان اور ان کے خاندان ڈالروں کی بدولت جنتی ہیں چشم بد دور۔

113-mehssod-tahaffuz-movement-manzoor-pashtoor-wazeer-e-azam-malik-ajmal-jambhooriat-imran-khan-pervaiz(خودکش حمہ آوروں کے )ڈے این اے کے ٹیسٹ ٹائم پاس کے لئے بیسٹ (بہترین) ہیں۔ اے عالمی سازش! بولو بولو کہ یہ (دھشت گرد) اچھاہے اور یہ بیمار(برا)ہے۔(یہ عالمی قوتوں کی متعارف کردہ سازشیں ہیں جودھشت گردوں میں سے بعض کواچھااور بعض کو براقرار دے کراس خطے میں دھشت گردی کودوام دے کر عدم استحکام کاشکار کرنا چاہتی ہیں)

114-talibanization-bushraization-insaf-justice-zulfiqar-ali-bhutto-nawaz-sharif-imran-khan-bacha-jamura-ashraf-memon-khatm-e-nabuwat-sheikh-rasheed-blame-jali-peer-ticket-hand-cuff-jmaat-e-isکتنے بے گناہ لوگ (ان دھشت گرد) کتوں کے ہاتھوں سے شہید ہورہے ہیں،توپھرآپ ہی جنت کے اس طالب کو(قتل کرکے) شراب طہورپیلادو۔

115-parliment-all-parties-amendment-section-62-63-waive-juditiary-media-channels-justice-saqib-nisarنقاب پوشوں کے پیچھے گھومنابے غیرتی اور ویسے بہودگی ہے، دہشت گردجس کے پیٹھ پر سوارہو ،وہی تیرا مجرم ضرور ہے۔

116-pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-4فرسودہ نظام پر کیاکلام ہے؟لیکن دہشت سے اسلام بدنام ہوا۔فسادی کوجان سے ماردو ، اور اس کا ساتھی بھی اسی کی طرح ہے۔یہ فتویٰ ہے جس میں صبر نہیں ۔
ایک طرف دہشت گرد اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں اورلوگوں کو بے دریغ قتل کررہے ہیں۔ دوسری طرف ملا اس بحث میں لگے ہوئے ہیں کہ ان کے لئے یہ جائز ہے یا نہیں۔ حالانکہ یہ جاہل اور بکے ہوئے لوگ فتوؤں کو نہیں دیکھتے اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ مہدی کا نعرہ ’’امت امت‘‘ ہوگا۔ جس کا مطلب جان سے مار دو جان سے ماردو ہے۔ ان خوارج کے خلاف جو اس ایکشن میں آگئے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی انسان کا قتل کرنا جائز بنتا ہے اگر اب بھی ان کے قتل کا فتویٰ جاری نہیں کیا گیا تو یہ فتنہ ختم نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ یہ ایک غیر فطری بات ہے کہ ایک طرف کوئی کاروائی کررہا ہو اور دوسرا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اپنے بچاؤ کے انتظامات سوچ رہا ہو۔ مغرب کے دانشوروں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ فلسفہ غیر فطری اور ناقابل عمل تھا کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مار دے تو دوسرا بھی پیش کردو۔ جبکہ اسلام نے اس کے بر خلاف یہ تعلیم دی ہے کہ ظالم کا ہاتھ روکو، قاتل کو قتل کرسکتے ہو اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔

117-pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-3جب فضا بدل جائے تو (طالبان) کے ساتھ دوستی بھی گالی بن جائے گی۔ اور بے ضمیر لوگ پھر کہیں گے کہ ہم ان کی مدد پر تو مامور (مقرر) نہیں تھے۔

118-pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-2اصلی بات اللہ کا فضل ہے جو پیشانی پر ہوتا ہے(ذالک فضل اللہ یوئتیہ من یشاء) بندے کو چاہیے کہ وہ بہت ہی شکر گزار بندہ بنے۔

119-pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadriمیرے رب کی قسم کہ انقلاب (کی امید )پرمیرے دل کوتسلی ہے، ورنہ بہت سو سے کڑاکا نکال چکاہوتا، مقدور بھر کوشش کررہاہوں۔

120-mulazmeen-ki-bad-hali-seema-kamil-ubl-president-yousuf-masti-khan-wahab-baloch-najam-ul-hassan-attaموالی (غلام خاندان کے افراد)جمع ہے مولا کی ۔( اہل علم کومولانا کہتے ہیں جس کے معنی ہمارے آقا کے بھی بنتے ہیں اور ہمارے غلام کے بھی ۔) غلام خاندان پرانے دور سے اہل علم رہے ہیں۔مفتی میرعالم جان سے میں نے کہاکہ مجھے چچازاد مت کہو۔
وزیرستان میں میرے ایک ساتھی مولوی زین العابدین تھے۔ کراچی میں طالب علمی کے دور میں کسی سے ان کا تعارف کرایا کہ ان کا تعلق کوٹ کئی کے معروف علمی خاندان سے ہے ان کے دادا، والد، چچا وغیرہ سب علماء ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ ’’مرئی‘‘ ہے۔ ہمارے ہاں مرئی غلام خاندان کو کہتے ہیں۔ مفتی میر عالم جان بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے بعد تابعین اور تبع تابعین میں زیادہ تر اہل علم وہ افراد رہے ہیں جوآزاد کردہ غلام تھے جن کو موالی کہا جاتا ہے۔ علم کی وجہ سے نسل پرست عربوں میں بھی خاندان کے پس منظر کی کمزوری ختم ہوجاتی تھی۔ ایک موقع پر گومل کریانہ اسٹور میں میری مفتی میر عالم جان سے گفتگو ہوئی تو اس نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی کی کتاب میں سورہ فاتحہ کے بارے میں پیشاب والی بات نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ میں ابھی لے کر آتا ہوں جب تک آپ انتظار کریں گے۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے جب میں گھر سے واپس کتاب لے کر آیا تو مفتی صاحب غائب تھے۔ پھر جمعیت کے رہنما ڈاکٹر مجید کی دوکان پر سامنا ہوا تو وہ کہہ رہا تھا کہ تم میرے کزن ہو لیکن مذہب کے معاملے میں تمہاری کوئی بات میرے لئے قابل قبول نہیں۔ جس پر میں نے کہا کہ تم مرئی ہو اور میں پیر۔ اسلئے تمہارا کزن نہیں ہوں۔ اس کے ساتھ ایک بوڑھا شخص شاید اس کا کوئی انکل تھا اس کو غصہ آیا اور گالی بھی دینے لگا جس پر میرے ایک ساتھی کو بھی طیش آنے لگا لیکن میں نے اس کے جواب میں تحمل سے کام لیا۔ یہ کوئی معیوب بات نہیں لیکن ایک حقیقت ہے کہ مولوی حضرات کی اکثریت خاندانی پس منظر کے لحاظ سے قابل فخر نہیں ہوتی۔ ہمارے ایک ساتھی شاہ وزیر نے مولانا غلام اللہ حقانی کے بارے میں کہا کہ وہ ملا نہیں پختون ہے۔ میں نے کہا کہ کیا ملا پختون نہیں ہوتے؟ تو اس نے کہا کہ نہیں جیسے میراثی اور دیگر پیشہ ور کاریگر وغیرہ پختون نہیں ہوتے اس طرح ملا بھی نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں لوگ کاریگروں کو فصل کے موقع پر ایک خاص حصہ اور معاوضہ دیتے تھے لوہار، بڑھئی، نائی، میراثی اور ملا کی تنخواہ نہیں ہوا کرتی تھی۔ جیسے دوسروں کے اپنے اپنے فرائض منصبی تھے اسی طرح ملا کا کام مردے نہلانا وغیرہ ہوتا تھا۔ یہ لوگ عموماً نسل در نسل اپنے اپنے پیشے کے مطابق اپنی خدمات انجام دیتے تھے۔ پاک بھارت کے مشترکہ اقدار میں نسلی کم تری اور برتری کی بات بھی شامل ہے۔ قصائیوں نے میٹنگ کرکے فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ ہم قصائی کے بجائے قریشی کہلائیں گے۔ اور تیلی نے اپنا ٹائٹل بدلنے کے لئے عثمانی نام رکھ لیا۔ ٹانک میں ایک انصاری نے اپنے نام کے ساتھ گیلانی لکھنا شروع کیا تو میں نے پوچھا کہ باپ انصاری اور بیٹا گیلانی یہ درست نہیں ہے۔

121-khatam-e-nabuwat-justice-shaukat-siddiqui-raja-zafar-ul-haq-ghqقبیلہ صرف تعارف (شناخت)کے لئے ہوتاہے اورشرافت عمل سے ثابت ہوتی ہے، دیکھو قرآن ہویاانجیل ہو،توراۃ ہو یازبور۔

122-moulana-fazl-ur-rehman-feroz-chhipa-ptcl-dmg-commissioner-sargodha-corruptionغیرت مند پختون ! تم اٹھو بے غیرتی کی جڑیں نکال دو۔پشتو،دین اور انسانیت (تینوں) سے میں سارا ناسور ختم کررہاہوں۔

123-parliament-lodges-islamabad-barhana-larki-jamshed-dasti-deara-ismail-khan-jail-bhook-hartal-senators-of-pakistan-corruption-muhammad-bin-qasimفتویٰ دیاتھا مولاناعطاء الرحمان نے کہ مسلمان نہیں ہیں یہ حیوان، ذمہ دار(سیکیورٹی ایجنسیوں وغیرہ ) لوگوں پر ان کا جان سے مارنا شریعت اورقانون کے مطابق فرض ہے۔

124-naqeebullah-mehsud-all-pakhtoon-jirga-islamabad-sham-e-ghariban-pir-roshan-south-waziristan-raja-ranjit-singh-asp-police-tank-dera-ismail-khan-2مولاناصالح شاہ قریشی سینٹرنے بڑی معنی خیزبات کی وائس آف امریکہ سے کہ پیسوں کے لئے میں لوڑے کی بیوی ہوں، میرادین اور اقدارمٹ چکے ہیں۔
وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ’’آشنا ریڈیو‘‘ میں جنوبی وزیرستان کے سینیٹر مولانا صالح شاہ نے اس سوال کہ افغانستان کی ڈیورنڈ لائن اگر ختم ہوجائے تو پھر وزیرستان اور سرحد (پختونخواہ) بھی افغانستان کا حصہ بن جائے گا؟ کے جواب میں کہا کہ ’’عورت اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی کہ کپڑے میرے لئے خرید نہیں سکتے اور میری چیز کے لئے گھٹنوں کے بل آتے ہو‘‘۔ یہ پشتو کا مشہور محاورہ ہے لیکن ایک اور محاورہ بھی ہے کہ جب سسر اپنی بہو کو ڈائریکٹ کچھ بول نہیں سکتا تو وہ اپنی بیٹی کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ میں کہتا تجھ سے ہوں لیکن بہو سنو تم بھی۔ یعنی اصل مقصد بہو کو سنانا ہوتا ہے۔ مولانا صالح شاہ بھی امریکی ریڈیو میں ایک افغانی سے یہ کہہ رہے تھے لیکن اصل میں وہ امریکہ کو سنا رہے تھے اور مطلب یہ تھا کہ اگر کچھ دینے کے لئے ہو تو پھر میں اس کیلئے بیوی کی حد تک جانے کے لئے بھی تیار ہوں۔

125-naqeebullah-mehsud-all-pakhtoon-jirga-islamabad-sham-e-ghariban-pir-roshan-south-waziristan-raja-ranjit-singh-asp-police-tank-dera-ismail-khanبیوی نے (شوہرسے) کہاکہ کپڑے میرے لیے لانہیں سکتے اور دوسری چیزکے لئے گھٹنے کے بل آتے ہو،،پچھلی دونوں ٹانگوں سے بندی ہوئی (گائے)صالحشے زن بور ہے یعنی عورت بھی ہے اوراس کابیٹا بھی مرچکا ہے۔
پشتو کے محاورے میں جو شخص اس قسم کی حرکت کرتا ہے اس کے بارے میں یہ گالی ’’لوڑے کی بیوی‘‘ اور ’’عورت‘‘ بن جانے کی بات بالکل عام ہے۔ مولوی صالح شاہ کے بیٹے نے خودکشی کرلی تھی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ امریکہ کے خلاف جہاد کے خود کتنے بڑے حامی ہیں۔ مولوی کا اپنا بیٹا خود کشی کرسکتا ہے لیکن خود کش نہیں ہوسکتا۔ مولوی صالح شاہ کے پڑوس میں ایک پاگل لڑکی نے خود کشی کرلی تو مولوی صالح شاہ نے ان کے وارثوں سے کہا کہ اس کا جنازہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پاگل تھی لیکن مولوی صالح شاہ پھر بھی نہیں مانا، اس کے چند دن بعد اس کے بیٹے نے خودکشی کرلی تو مولوی عین اللہ سے جنازہ میں اعلان کروایا کہ شریعت کے عین مطابق جنازہ ہورہا ہے۔ مولوی عین اللہ نے ایک مرتبہ دو فریقوں کے درمیان ایک فیصلہ دیا کہ راستہ کشادہ کرنے کے لئے مسجد بھی گرائی جاسکتی ہے۔ جب ایک فریق نے کسی اور مولوی کو بلواکر نظر ثانی کا فیصلہ کیا تو مولوی عین اللہ اپنی کتابیں لے کر آیا کہ میرا فیصلہ درست تھا دوسرے مولوی غلام محمد رغزی وال نے اس سے کہا کہ میں مناظرہ نہیں کرتا آپ خود ہی دوبارہ فیصلہ کرلو۔ مولوی عین اللہ نے کہا کہ پھر فیصلے کی فیس دوبارہ وصول کروں گا۔ مولوی غلام محمد نے کہا کہ فیس ڈبل لے لو۔ چنانچہ پہلے فیصلے میں ٹرک اور گاڑی وغیرہ گزرنے کے لئے جو فیصلہ دیا تھا کہ راستے کے لئے مسجد بھی گرائی جاسکتی ہے ڈبل فیس کا سن کر مولوی عین اللہ نے اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے لکھا کہ شریعت جب وجود میں آئی تھی اس وقت گھوڑا، گدھا اور اونٹ وغیرہ جانور تھے، جبکہ گاڑیوں کا کوئی تصور نہیں تھا لہٰذا گاڑیوں کے لئے راستہ بند ہے جانور کا راستہ ہی کافی ہے۔ یہ اپنا چشم دید واقعہ اور پورا کانیگرم شہر اس پر گواہ ہے۔ آج کل وزیرستان کے سینکڑوں علماء کا سرپرست اعلیٰ یہی مولوی عین اللہ ہے۔

126-zainab-murderer-imran-ali-ulama-islam-dna-punjab-police-supreme-court-of-pakistanبیٹے کی خود کشی سے وہ بور بن گیا (جیسے اُردو میں جس کا شوہر مرتا ہے اس کو بیوہ اور جس کی بیوی مرتی ہے اس کو رنڈوہ کہتے ہیں پشتو میں جس کا بیٹا مرتا ہے اس کو بور کہتے ہیں ) اور ریڈیو کے اس بیان سے وہ زن (عورت) بن گیا۔ سینیٹر کی زندگی ایک گند کی طرح ہے جس کی وضاحت پرمیں مجبور ہوں۔
مولوی صالح شاہ کو علاقہ کے لوگ بہت خوب جانتے ہیں، ایک پڑوسی نے بتایا کہ مولوی صالح شاہ نے اعلان کیا کہ عام لوگوں کو زکوٰۃ اور مردوں کے پیچھے صدقات اور خیرات کے پیسے بانٹنا اور کھانے تقسیم کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ خالی مدارس کے طلباء کو دینا ضروری ہے۔ جب لوگ ان کے پاس زکوٰۃ خیرات کے پیسے لے گئے تو وہ ان سے کہتا کہ یہ مدرسے کے لئے ہیں یا میرے لئے ہیں۔ جس کی وجہ سے شرم کے مارے اس کو ہی دینے پڑتے۔ بہر حال آج اس قسم کے لوگ ہمارے معاملات چلارہے ہیں جن کے بارے میں احادیث میں آتا ہے کہ ایسا وقت آئے گا کہ روبیضہ (گرے پڑے لوگوں) کے ہاتھ میں معاملات آجائیں گے۔

127-baloch-tahira-syed-madam-tahira-maulana-sami-ul-haq-nawaz-sharif-quddus-bizenjo-asma-jahangir-ptv-maryam-nawaz-jpgقسم قسم کے علماء ہیں اور قسم قسم کے انسان ہیں، کچھ چیتے، کچھ بھیڑیے ہیں اور کچھ شیر ہیں۔ کچھ لگڑبگڑہیں اور کچھ لنگور ہیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کو جانوروں سے تشبیہ دی ہے کسی کو کتے سے، کسی کو گدھے سے اور کسی کو بندر بنایا ، اس طرح حدیث میں تعریف کے طور پر بعض لوگوں کو شیر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ انگریز نے وزیروں کے بارے میں کہا تھا کہ یہ چیتوں کی طرح ہیں اور محسودوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ بھیڑئیے کی طرح ہیں۔ انسانوں میں کچھ لوگ شیروں کی طرح بھی ہوسکتے ہیں اور کچھ لگڑ بگڑ اور لنگوروں کی طرح بھی ہوسکتے ہیں۔

128-dehshat-gardi-misaq-e-madina-mufti-rafi-usmani-zina-bil-jabr-daish-khilafat-daily-jang-newspaperپاک بات پھلداردرخت کی طرح ہے ، خبیث درخت بے جڑ اورناپائیدارہوتاہے (یہ قرآن کی آیت سے ماخوذ ہے) ۔کچھ لوگ جیسے کھجورکے درخت ہوں ، کچھ زقوم اور کچھ انگور کی طرح ہیں۔
حدیث میں مؤمن اور قریش کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی گئی ہے، کھجور کا درخت پھل بھی دیتا ہے، اپنے تنے پر بھی کھڑا رہتا ہے اور اس کے پتوں سے کسی کے خلاف انتقامی کاروائی بھی ہوسکتی ہے۔ غفاری و قہاری ، قدوسی و جبروت ، یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان۔ بعض لوگ زقوم کی طرح خالی زہر ہی ہوتے ہیں اور بعض انگور کی طرح میٹھے اور پھل دار لیکن اپنے سہارے خود کھڑے نہیں ہوسکتے۔

129-ashraf-ghani-tota-mashal-khan-mansoora-lahore-jamiat-ulama-islam-bacha-khan-university-molana-sirajuddin-azan-e-inqalabکچھ بیٹے ہیں بش کے،پوتے پڑپوتے فرعون اور نمرود کے ہیں۔حضرت ابراھیم ؑ سے حضرت حسنؓ وحسینؓ تک میں(میری تاریخ)مظلوم اورصابر ہوں۔

130-german-journalist-reveled-real-facts-behind-mumbai-attack-qamar-javed-bajwa-delivers-a-speech-at-the-2018-munichبے غیرت، بے ضمیر،بے ایمان بھی، بے حیا،بے پختوسارے طالبان ہیں۔لیڈی ڈاکٹرکوتاوان کے حصول کے لئے اغوا کیا، دجال تصورمیں بھی گنداہے۔
آئی ایس آئی کے سابقہ آفیسر خالد خواجہ نے ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے اغوا کیا ہے اور یہ اتنی بڑی بات ہے کہ اگر خانہ کعبہ کو گرایا جائے تو وہ بھی اتنی بڑی بات اس کے سامنے نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں میڈیا کے علاوہ حقائق کے معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن اس کے باوجود ایک عورت کی عزت کسی بھی بڑے واقعہ سے بڑی ہوتی ہے۔ ہمارے ساتھ اتنا بڑا حادثہ پیش آیا لیکن اپنی خواتین کی عزتوں کے تحفظ پر ہم اتنے خوش ہیں کہ سارا حادثہ اس کے مقابلے میں بالکل ہیچ نظر آتا ہے۔ البتہ ٹانک سے ایک ڈاکٹر صاحبہ کو طالبان اغوا کرکے وزیرستان لے گئے اور پھر بھاری تاوان لے کر اس کو چھوڑ دیا۔ ان کے شوہر، خاندان والوں اور خود اس ڈاکٹر خاتون پر کیا گزری ہوگی اور طالبان نے پیسوں کی خاطر اتنا بڑا اقدام کیسے اُٹھایا؟ طالبان کے حامیوں نے کبھی اس کو نہیں اُٹھایا۔ کوئی بھی غیرتمند مسلمان، کوئی بھی غیرتمند انسان اور کوئی بھی غیرتمند پٹھان ایسا کرنے کا تصور نہیں کرسکتا۔ لوگوں کا بس نہیں چلتا ورنہ ان طالبان کے ساتھ پختونوں کے ایریا میں، وزیرستان میں اور خصوصاً محسودوں کے ایریا میں اجتماعی طور پر وہ سلوک کیا جاتا جو قیامت تک نشان عبرت ہوتا۔ لوگ بے بس ہیں بے غیرت نہیں ، ان پر یہ حالات زبردستی ٹھونسے گئے ہیں۔

131-tablighi-jamaat-dawat-e-islami-sabz-gumbad-molana-ubaidullah-sindhi-muttahida-majlis-e-amal-haji-muhammad-usman-talaq-in-quranنام یہ( محمد)بن قاسم، صلاح الدین ایوبی اور طارق بن زیاد کا لیتے ہیں۔اسرائیل کے ساتھ (ان کے)تعلقات پر تبصرہ ہوگاقیامت کے دن۔(جیوٹی وی چینل میں کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میرنے سوات کے حوالہ سے اپنے پروگرام میں کہاتھاکہ بعض طالبان کی پشت پناہی اسرائیل کررہاہے اور یہ بات میڈیا میں مختلف ذرائع سے آتی رہی ہے لیکن آج تک ہماری میڈیاکوعموماََ اورٹی وی اینکروں کوخصوصاََیہ توفیق نہیں ملی کہ اس پرایکسپرٹ لوگوں کے توسط سے کوئی پروگرام کرتے اور عوام کاشعوربیدارکرنے میں اپناکردار ادا کرتے حالانکہ ڈاکٹرشاہدمسعوداورحامدمیردونوں مل کراپنی معلومات سے عوام کوآگاہ کرسکتے

ہیں)

132-chief-justice-saqib-nisar-iftekhar-ahmed-chowdhury-islamic-international-university-islamabad-justice-khosa-hudaibiya-paper-mills-siddique-kanju-mustafa-kanjuاگرچار(4)سے زیادہ شادیاں شریعت میں نہ ہوں توپھر بائیس(22)ماؤں کے بیٹے اسامہ کی ماں کونسی حور تھی؟۔

133-sami-ibrahim-on-bol-tv-asma-jahangir-ka-janaza-mufti-naeem-jamia-binoria-karachi-khawateen-hijr-e-aswadاگر سنت کے مطابق تیراعمل ہوجائے اورپھراللہ بھی تیرامددگاربن جائے تو(مادے کی تینوں حالتوں کی سازشیں) گیس اور مائع سازشیں کافور(نیست ونابود)ہوجائیں گی اور اگر (سازش) ٹھوس ہوگی توچورہ ہوجائے گی۔

134-halala-ki-lanat-khawateen-ki-behurmati-dehshat-gardi-pakistan-ulma-ka-fatwa-asma-jahangir-hijr-e-aswad-na-mehram-molana-syed-suleman-nadvi-mufti-shafi-usmaniبے غیرتوں کے ساتھ دوستی (ایک )ضمیرپر بوجھ اور(دوسرا) زندگی کامصیبت میں ہونا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کلیم اللہ کی ضرب، حضرت عیسی ؑ ٰمسیح اللہ کی صلیب اور حضرت محمد ﷺ کی صلح حدیبیہ یہ سب کے سب نورہیں۔

135-daish-made-by-america-former-afghanistan-president-hamid-karzai-hamid-mir-capital-talkپہلے اپنی جان کولگام دینا، پھراپنے گھر اور پھرمعاشرے کے عوام کی اصلاح کے لئے کوشش کرنی ہوتی ہے۔ عبادت کسی (ریاستی یادیگر) جبری نظام کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی، اس بارے میں کوئی ایک حدیث بھی نقل نہیں کی گئی ہے۔(نماز جیسی اہم عبادت کوئی بھی نہیں ہے لیکن بے نمازی کے لئے قرآن وحدیث میں کسی حد(سزا) کاذکر نہیں ہے، اور اگر کوئی زبردستی سے کسی کو نماز پڑھنے پر مجبور کرے گا تو وہ نماز میں بھی گالی گلوچ ہی بکتا رہے گا۔

136-allama-shah-feroz-uddin-rehmani-muhajir-ittehad-tehreek-dr-saleem-haider-lieutenant-commander-imran-awan-rahila-tiwanaایک چھوٹے سے گاؤں یثرب(مدینہ منورہ) کی آدھی آبادی پرریاست قائم ہوگئی۔(اس کی) مثال چاہیے کابل ہوکہ رائیونڈ ہویاکہ رامپور۔
مدینے کی آدھی آبادی مسلمانوں کی تھی اورآدھی آبادی یہودیوں کی۔ مسلمانوں نے اس آدھی آبادی کی بنیاد پر یہودیوں کے ساتھ مل کر ایک ریاست تشکیل دی۔ ریاست کا تعلق انصاف کے ساتھ ہوتا ہے اور انصاف کی بنیاد پر ہی مسلمانوں کی ریاست نے اس وقت کی سپر طاقتوں کو شکست دی۔ کفر کی حکومت انصاف کے ساتھ چل سکتی ہے اور ظلم کی حکومت اسلام کے ساتھ بھی نہیں چل سکتی یہ حضرت علیؓ کا مشہور مقولہ ہے۔

137-barma-muslim-zulam-lieutenant-commander-imran-awan-steel-town-karachi-gulshan-e-hadeedانسان اشرف (المخلوقات) شرافت سے ہے اورعدل وانصاف خلافت (حکومت)کی برکت سے ہے۔ شیوہ پیغمبری نہ بازکے ذریعے سے ہوتی ہے ، نہ کوے، گدھ اورچڑیاکے ذریعے سے ہوسکتی ہے ۔

138-qurbani-frontline-kutya-nato-dog-k-electric-hakeem-ullah-mehsood-bait-ullah-mehsud-black-water-haqqani-networkانسان انسانیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، مسلمان اسلام کی بنیاد پر ہوتا ہے اور موء من ایمان کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ (اے دہشت گرد!) تم جانوروں سے بدتر بن گئے ،خر دجال نے تجھ سے بھڑ بنالیاہے۔

139-rabita-alam-e-islami-makkah-dr-aafia-siddiqui-molana-masood-azhar-mufti-jameel-khan-haji-usman-muhammad-binori-shaheedجھاد فتوے سے ختم نہیں ہوتا، مفتی کبھی دباؤ کاشکار بنتا ہے اور کبھی بک جاتاہے۔کربلا کی مٹی یزید کے خلاف ابل رہی ہے اور حضرت حسینؓ محاصرے میں ہیں۔

140-major-amir-junejo-prime-minister-iji-isi-mujibur-rahman-shami-dunya-newsتیرے جہاد کا معاملہ جوبھی ہے لیکن اس کے لئے اب اپنی پشت مضبوط پکڑو۔ کوئی گرفتاری دیتاہے،چھوٹے کا منہ پھٹے کا پھٹا رہ جاتا ہے اوریہ بڑادلا ہر دفعہ مفرور ہوتاہے۔

141-matka-sirajul-haq-jamaat-islami-zibah-hekmatyar-syed-munawar-hassan-sheikh-rasheed(یوں تو)ہرگمراہ اپنے دلدادہ (لیڈر)کواچھاسمجھتاہے لیکن فتنہ گر سمندر اورخشکی کافسادہوتا ہے۔ اس کاساتھی سب سے بدترہے اس کی مزاحمت کرو بھرپورطریقے سے۔

142-umme-hani-qisas-and-diyat-naak-katna-jail-dant-tootna-molana-tariq-jameel-ringtoneہم جنتی باوا آدم ؑ کی اولادہیں، بھگائے گئے ہیں زمین پربغیرکسی آفرین کے۔ختم نبوت کی حقیقت کے باعث گناہوں کے صادرنہ ہونے کاکوئی بندھن نہیں رہاہے۔
(ختم نبوت کے عقیدے کے باعث اب کوئی وحی نہیںآئے گی اورنہ کسی کومعصوم قرار دیکرکسی قسم کی رعایت برتی جاسکتی ہے جوعملاََدرست ہے وہ درست اورجوغلط ہے وہ غلط۔اسلام میں جب انبیاء ؑ پرستی کی گنجائش نہیں توختم نبوت کاعقیدہ رکھنے کے بعدشخصیت پرستی کی گنجائش کہاں باقی رہتی ہے؟لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں عملاََ یہی کچھ ہورہاہے اتخذوا احبارھم ورھبانھم ارباباََمن دون اللہ(انھوں نے اپنے علماء اورمشائخ کواللہ کے سوا اپنارب بنالیاہے)اہل کتاب سے مسلمان بننے والے ایک صحابیؓ نے عرض کیا ، یارسول اللہ !(ﷺ) ہم اپنے علماء و مشائخ کی پوجاتونہیں کرتے تھے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:کیاان کے حلال کردہ چیزوں کوحلال اورحرام کردہ چیزوں کوحرام نہیں سمجھتے تھے؟ صحابیؓ نے عرض کیا:یہ توکرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا: یہی تو ان کی عبادت کرناہے۔قرآن وحدیث کے ذریعے سے ہمارے ذہنوں کے بنددریچے کھل سکتے ہیں۔مندرجہ بالاحدیث سے کتنابڑاسبق ملتاہے کہ ایک صحابیؓ کوقرآن کی نازل شدہ وحی خلاف واقع نظرآئی توسوال کرنے سے نہ گھبرائے نہ شرمائے سیدھاسیدھا بول اُٹھے۔سرکاردوعالم ﷺ نے کتنی حسین پیرائے میں اس کی وضاحت فرمائی۔مسئلہ وحی کاتھا، سوال اس کے خلاف حقیقت ہونے کاتھااور گواہی ایک اولی العزم رسول ﷺ کے سامنے دی جارہی تھی،وحی کے خلاف ہونے کی شہادت کا فریضہ ایک جلیل القدرصحابیؓ انجام دے رہے تھے۔ لیکن کوئی تلخی سامنے آئی نہ ہی کسی درشت لہجے کاسوال پیدا ہوا۔بلکہ خوش اسلوبی سے قرآنی آیت کی ایسی وضاحت سامنے آئی جو آنے والی نسلوں کے لئے رہنمائی کااہم ذریعہ ہے۔اگروہ صحابیؓ اپنے اعتراض کودل میں رکھتاتوبے ایمان بن جاتااوراگرمخصوص ماحول میں اس اعتراض کوگردش میں رکھتاتو اس سے منافقت وجودمیں آتی۔آج اہل مدارس اپنے مخصوص سکولزآف تھاٹ میں اعتراضات وجوابات کے سلسلے کوایک دائرہ کارمیں رکھ کرنہ صرف عوام کواسلام کی حقیقی روح سے محروم کر رہے ہیں بلکہ منافقت کی ایک مخصوص فضا بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔جس کی وجہ سے بے ایمانی، منافقت اورشخصیت پرستی کادور دورہ ہے۔ علماء ومشائخ،سیاسی لیڈرشپ اورحکمران تواپنی جگہ کھلاڑی ،اداکاروں بلکہ طوائف تک کے عوام میں پرستاری کی فضاموجودہے۔ ہماری قوم اصلاح کے قابل ضرور ہے لیکن اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ علماء ومفتیان کے فتووءں سے مسلمانوں کے جان ومال کی حرمت ختم ہوسکتی ہے۔جس گروہ نے اسلام اورخلیفۃاللہ کی بنیاد پر قرآن پاک اوررسول اکرم ﷺ کی طرف سے قائم کردہ حرمتوں کوپائمال کردیاوہ اللہ کاخلیفہ نہیں دجال ہے، چاہے کتنے تہہ درتہہ سازشوں کے گھمبیرپردوں اورنقابوں میں چھپ کر آئے۔یہی اس کورب بنانا ہے۔دجالیت کے پردوں میں کسی کوبے گناہ قرار دینے کی سازش ختم نبوت کے عقیدے کے ہوتے ہوئے کامیاب نہیں ہوسکتی۔

143-londi-toheen-adalat-hazrat-maria-qibtia-maulana-ubaidullah-sindhi-status-co-hazrat-hassan
اے طالب! اپنے لئے اس بات پر غور کرلو، دوسروں کوگناہوں کی سزادے دو، اگرشریعت میں تم اس کے مجازہواور خودچاہے گناہوں میں ڈوبے ہوئے غرق ہو۔(یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تمھاری اپنی پچھاڑی گناہوں سے لدھی ہوئی ہواوراپنے جرائم کے ہوتے ہوئے دوسروں کی اگاڑی کے گناہوں پرسزا دو۔ شریعت ، قانون اور اخلاقیات میں گناہگار طالبوں کوکیسی اجازت ہوسکتی ہے کہ دوسروں کوبموں سے اڑاتے پھریں)
144-habeel-and-qabeel-londi-anjuman-muzareen-punjab-salwar-ghulami-abdul-kaba(ضروریات زندگی کا)گزارہ مدرسے پرہورہاہے، جہادپیسوں کے لئے ہورہاہے، (ایک تیرکے دوشکار ہیں) ثواب بھی مل رہاہے اور کھجور بھی۔میں نے حق کی آوازاُٹھائی ہے لیکن بات طاقت کی آئی ہے۔ میں نے (کربلاکے میدان میں محرم کادسواں دن)عاشورگزار لیا ہے۔(ایک بڑے امتحان کاحق کی آواز بلندکرنے کی وجہ سے سامناکرچکاہوں)

145-khwaten-k-huqooq-zina-bil-jabr-khula-talaq-law-kunwari-chairman-nab-pakistanمیں سب سے اس بات کاجواب طلب کرتاہوں کہ علم (پھیلانے )کی روشنی پر تم کیوں بے چین ہو،دنیاکے لئے مذہب کوتم نے تجارت لن تبور(کبھی نہ ختم ہونے والی تجارت)بنارکھا ہے۔(حالانکہ قرآن اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) پرایمان لانے کوتجارت لن تبوربتاتا ہے جودردناک عذاب سے نجاء ت کاذریعہ ہے۔

146-zina-bil-jabr-sangsar-rajam-tobah-rajeem-doodh-ibne-majah-quran-bakri-kha-gai-matami-jaloosدین اورعلم اجنبیت کی منازل پر (اٹھ گئے ) ایمان ثریاکے ساحل پرپہنچ گیا۔خلائی شٹل جیسامیزائل ہو، کشتی نوح ؑ کودلائل پرعبورحاصل ہے ۔
احادیث میں علم،دین اورایمان ہرایک کے بارے میں آتاہے کہ ثریاتک پہنچ جائے گا،جس تک فارس کے ایک فردیاچندافرادکی رسائی ہوگی، اوریہ بھی کہ اسلام کی ابتداء اجنبیت کی حالت میں ہوئی اوریہ پھراجنبی بن جائے گاخوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے ۔خلائی شٹل دیکھنے سے میزائل لگتاہے حالانکہ وہ خطرناک نہیں بلکہ عروج پرجانے کاواحدذریعہ ہے، میرے یہ اشعار بھی دیکھنے میں بہت خطرناک میزائل ہیں لیکن حقیقت میں اس زوال پذیرحالت سے نکلنے میں عروج حاصل کرنے کے لئے خلائی شٹل کاکام دیں گی۔احادیث میںآیاہے کہ میرے اھلبیت کشتی نوحؑ کے مانند ہیں جواس میں سوار ہوابچ گیا،جورہ گیاہلاک ہوا،،تبلیغی جماعت کے اکابرین نے اپنی جماعت کوکشتی نوحؑ کہناشروع کیاتھا، جس کے خلاف شیخ الحدیث مولانامحمدذکریاؒ کے خلیفہ اورتبلیغی جماعت کراچی کے امیربھائی یامین مرحوم کے بھائی مولانامفتی زبیرنے دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی ، مفتی رفیع عثمانی اورمفتی رشیداحمدلدھیانوی سے فتویٰ لیاتھا، فتوے میں تبلیغی جماعت کے اکابرین کی طرف سے اس قسم کی باتیں کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے گمراہ کن قرار دیاگیاتھا۔علامہ سیدسیلمان ندویؒ اورشیخ الحدیث مولانا ذکریاؒ کے خلیفہ پشاوریونیورسٹی کی معروف شخصیت مولانااشرفؒ فرماتے تھے کہ ایک تبلیغی نے اپنی کارگذاری میں کہاکہمیں نے چار ماہ میں جماعت میں وہ پایاجوشیخ عبدالقادرجیلانی نے نہیں پایا، جوبایزیدبسطامی اور معین الدین چشتی نے نہ پایا……….،،میں نے اپنے دل میں کہاکہ ان میں سے کسی نے وہ تکبر نہ پایاجو تم نے پایا۔مولانااشرف صاحبؒ بہت پرانے تبلیغی تھے، فرماتے تھے کہ اس وقت رائیونڈمیں ایک من پانی میں ایک کلو دال ڈالی جاتی تھی، لوگ روٹی کے ٹکڑوں کی کشتیاں بناکر دال کے دانوں کاشکار کرتے تھے،،مولانااشرف صاحبؒ نے یہ بھی فرمایاتھاکہ ہم جماعت میں گئے تھے، بریلوی مکتبہ فکرکی مسجد میں تشکیل ہوئی تھی،تو وہاں میں نے بیان کرنے سے وہ روک رہے تھے ، جب مشکل سے اجازت ملی تواس مسجدکے مولوی صاحب نے وہاں دوسرے مقتدیوں کے ساتھ بیٹھ کربیان سنناشروع کیا ، میں نے اپنے بیان میں نبی اکرم ﷺ کی خوب تعریف کی، جس پرمولوی صاحب برابر کہتے رہے کہ بندہ ٹھیک جارہاہے، جب میں نے کہاکہ اللہ کواپنادین اتنامحبوب ہے کہ اس نے اپنے دین کی خاطر اپنے محبوب نبی ﷺ کاخون بھی بہادیا، تومولوی صاحب نے فوراََ کہاکہ اب یہ پٹھڑی سے اتر گیااورمقتدیوں کے ذریعے ہمارے بستر پھینکواکر ہمیں باہر نکال دیا،،مولانااشرفؒ کے خلوص میں شک نہ تھا اور یہ بات بھی درست ہے کہ بریلوی مکتبہ فکرکے لوگ دین سے بے خبراورشخصیت پرستی میں مبتلاتھے، جن کواعتدال پرلانے کی ضرورت تھی، جب صحابہؓ کے پیرمیدان جہاد میں ڈگمگائے تواللہ نے فرمایاکہ ومامحمدالا رسول قدخلت من قبلہ رسل افان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم(اورحضرت محمد ﷺ کیاہیں لیکن ایک رسول اگرآپ فوت ہوجائیںیاقتل کردئیے جائیں توتم الٹے پاؤں پھرجاؤگے)لیکن دیوبندی مکتبہ فکرکوبھی خوارج کے ڈگر پرچلنے کی بجائے اعتدال پرلاناپڑے گا،دین اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان موازنہ اورتفریق بے اعتدالی کاذریعہ اور گمراہی کاراستہ ہے، کہاجاسکتاہے کہا اللہ تعالیٰ کواپنے دین سے رسول اللہ ﷺکاخون زیادہ محبوب تھا، اس لئے کہ طائف میں لوگ اللہ کے دین کے منکر تھے، شرک وکفرمیں مبتلاتھے لیکن ان پردنیامیں عذاب کافیصلہ اس وقت کیاگیاجب انہوں نے نبی ﷺ کاخون بہایا۔میرے مرشدحاجی عثمانؒ فرمایاکرتے تھے کہ دین میں شخصیت سازی ہے نہ شخصیت سوزی، دین اعتدال کانام ہے، بعض بریلوی اور دیوبندی توحیداور شان رسالت ﷺ کوبیان کرتے ہوئے یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا اللہ اور اس کے رسول ﷺ میں کوئی جھگڑاہے، لانفرق بین احدمن رسل(ہم رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے)کایہی معنی ہے کہ گروہ بندی کامظاہرہ کیاجائے،توحیداور رسالت دونوں دین کی بنیادیں ہیں،توحیدکوایسابیان کرناجس میں رسول کی توہیں کی جائے یارسالت ﷺ کی شان کواس طرح بیان کرناکہ جس میں توحیدمتاثراورشرک کاپہلو نمایاں ہو دونوں غلط ہیں،، میرے استاذقاری ابراہیم صاحب جامع مسجدقباء سہراب گوٹھ کے امام نے جب ایک بیان میں یہ جملے سنے توحاجی صاحبؒ کواکابرین کی اصل راہ پرقرار دیا،ایک آدمی نے اپناتصوف والامشاہدہ بھری محفل میں بیان کیاکہ شیخ الہندمولانامحمودالحسنؒ نے ایک تاج مولانامحمدالیاسؒ کودیاجوانہوں نے حاجی عثمان صاحبؒ کوپہنایا۔
مولاناالیاس دہلویؒ فرمایاکرتے تھے کہ اس جماعت کے دوپر ہیں علم اور ذکر،جس کی وجہ سے یہ جماعت پروازکرسکتی ہے اور اس کوعروج ملے گا، لیکن اگریہ جماعت ان دوباتوں سے ہٹ جائے توپھر اس جماعت کی مخالفت کرنے والامیرانمائندہ ہوگا۔ علم رہنمائی کاذریعہ اور ذکر سے قبول حق کی صلاحیت پیداہوتی ہے۔ یہ یاد رہے کہ مولاناالیاسؒ کے خلیفہ مولانااحتشام الحسن کاندہلویؒ (جس نے موجودہ پستی کاواحدعلاج کتاب لکھی ہے جو تبلیغی نصاب میں شامل ہے)آخرکارتبلیغی جماعت کوبہت بڑا فتنہ قرار دے کر اس کے سخت مخالف بن چکے تھے، اسی طرح شیخ الحدیث مولاناذکریاؒ اور ان کے خلفاء بھی تبلیغی جماعت کی مخالفت ہوگئے۔دیوبندی مکتبہ فکرکے لئے امام کی حیثیت رکھنے والے مولاناسرفرازخان صفدرؒ کے بھائی صوفی عبدالحمیدسواتی ؒ نے بھی لکھاہے کہ بانیان جماعت مولانا الیاسؒ ، مولانایوسفؒ اور مولاناذکریاؒ کے خلوص اور للہیت میں کوئی شک نہ تھالیکن اب جماعت کی عمومی فضابدل چکی ہے، جن لوگوں کااس پر قبضہ ہے وہ انقلابی نہیں بلکہ بدترین قسم کے سود خوراور سمگلرذہنیت کے مالک ہیں اگر رائیونڈایک اسٹیٹ قائم کرلیتے تونمونے کاکام دیتی،، (مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے علوم وافکار، صفحہ نمبر…..تصنیف مولاناواتی گوجرانوالہ) یہ لوگ طالبان کی پشت پناہی بھی سرمایہ داری ، مسلکی تعصب اور دوسروں کے خلاف انتقامی کاروائی کے لئے کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ: اذا حضرالغریب فالتفت عن یمینہ وعن شمالہ فلم یرالا غریباً فتنفس کتٰب اللہ لہ سیءۃ فاذامات مات شہیدا

147-hadith-ehl-e-gharb-bhutto-fatawa-e-alamgiri-khilafat-e-usmania-lashkar-e-taiba-nasir-ullah-babarپشتو،ایمان، ضمیر،حیا، غیرت کوئی بات توتمہارے اندر ہوگی؟ عتیق کی ضربیں ٹوٹل سرمایہ ہیں، ضمیر بیدار ہے غیور۔
ہم بھی تبلیغی جماعت اور طالبان کی تعریف کرکے ایک پرتعیش زندگی گذار سکتے تھے لیکن جو بات حق نظر آتی ہے اس کے لئے اپنے قریبی رشتہ داروں، جائے رہائش اورتجارت کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیا، اللہ کی راہ میں یہ آزمائش صدق دل سے قبول ہے، اپنی کمزوری اور نالائقی کااعتراف ہے لیکن انشاء اللہ بہتر نتائج بر آمد ہوں گے۔

(سید عتیق الرحمن گیلانی )

اپنا تبصرہ بھیجیں