منظور پشتون کیلئے اعتدال کی راہ پر چلنا ضروری

469
0

manzoor-pashtoon-pashtun-dharna-islamabad-sham-e-ghariban-trailer-truck-shahid-khaqan-abbasi-baloch-sindhi-muhajir-panjabi-nawaz-sharif-joota-

محسود کے تین قبائل میں بہلول زئی اور منزئی بہادری اور شمن خیل سیاسی طور پر زیادہ سمجھدار شمار ہوتے ہیں، منظور پشتون نے اپنی شناخت محسود نہیں پشتون رکھ کر پشتون عوام کے دل جیت لئے۔ اسلام آباد دھرنے میں محسودوں کی اکثریت نے اس تحریک سے علیحدگی اختیار کر لی اور علیحدہ ہونے والے قبائلی ملکان اور علماء تھے۔ منظور پشتون نے پشاور ہی میں تحریک کا نام محسود تحفظ موومنٹ سے بدل کر پشتون تحفظ موومنٹ کردیا تھا۔ جس کا ہمیں انٹرویو سے پتہ چلاہے۔محسود اور وزیر بڑی تعداد میں آئے تھے لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعدیہی فیصلہ ہوا تھا کہ’’ دھرنے کو ختم کردیا جائے‘‘۔ منظور پشتون نے قبائلی ملکان اور علماء کے سامنے یہ گزارش رکھی کہ’’ بہت سارے دیگر لوگ بھی ہماری داد رسی کیلئے یہاں پہنچے ہوئے ہیں، رات کی تاریکی میں دھرنا ختم کرنے پر لوگ کیا سمجھ لیں گے کہ کیوں راتوں رات دھرنا ختم کیا گیا؟۔یہ بہت غیر اخلاقی بات ہے کہ ہم اپنی مدد کیلئے آئے ہوئے لوگوں کو آگاہ کیے بغیر چلے جائیں ‘‘۔ لیکن ملکان اور علماء نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد اپنا اخلاقی فرض یہی سمجھ لیا کہ دھرنے کو ختم کیا جائے۔ راتوں رات اسٹیج جو پہلے سے ٹرالر پر بناتھاہٹا دیا گیا۔ بڑی تعداد میں لوگ چلے گئے۔ دوسرے دن مایوسی کی ایک فضا تھی خوف کا عالم تھااور دھرنے میں شریک تھوڑے سے لوگوں کو حضرت زینب کی طرح ہی شام غریباں کے لوگوں کو صرف حوصلہ دینا درکار تھا جو اپنی شکست، خوف اور مایوسی کوتسلی کا ذریعہ سمجھتے۔ کراچی سے اسلام آباد دھرنے میں شرکت کا مقصد تحریک کی کامیابی کیلئے اعتدال کا رستہ بتانا تھا۔ گہماگہمی کے عالم میں تین دن تک دھرنے والوں کے پاس گیا۔ سوشل میڈیا پر سب سے مقبول ایکٹویسٹ اور اس تحریک کے روح رواں اختر وزیر سے پہلے دن ملاقات ہوئی، جب دھرنے کی تقاریرکا سلسلہ ختم ہوچکا تھا۔ مختصر ملاقات میں میں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ لڑنے کا طریقۂ کار غلط ہے، کسی بھی تحریک کیلئے عوام کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن میں ہے کہ ’’ کھلی ہوئی فحاشی پر بیوی کو گھر سے نکالا اور اس کا خود نکلنا درست ہے‘‘۔ اور قتل کے بجائے لعان کرنے کا حکم ہے مگر مسلمان آج تک اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے انکاری ہے۔ بیوی کو قتل کردیتا ہے لیکن جب مفتی فتویٰ دیتا ہے کہ ’’حلالہ کی لعنت ضروری ہے تو وہ مسلمان بے غیرت بن کر اپنی بیگم خود ہی پیش کردیتا ہے‘‘۔ اگر قوم کے اندر شعور آگیا تو وہ بڑی قربانی دینے کیلئے بھی تیار ہونگے اور اگر ان کو صرف لڑانے کی بات کی گئی تو وہ آپ کو اکیلا ہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ مجھے دوسرے دن اختر وزیر نے آنے کی دعوت دی اور کہا کہ اپنے خیالات پیش کردیں لیکن دوسرے دن موقع نہیں دیا گیا، تیسرے دن بلایا گیا اور پھر موقع نہیں دیا گیا، اسٹیج پر موجود ایک جواں کی آنکھوں میں آنسو آئے جو کہہ رہا تھا کہ ’’آپ لوگوں نے بھی تکلیف دیکھی ہے لیکن جو ہم پر گزری ہے جس طرح خواتین کی بے عزتی کی گئی اور جس طرح بزرگوں اور بچوں کیساتھ ہوا ، وہ بہت تکلیف دہ تھا‘‘۔ میں نے اپنے خاندان کی مشکلات کو سامنے رکھ کر کہا کہ واقعی محسود قوم نے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کیا ہے تو دوسرے پختون بھائی نے کہا کہ ہمارا بھی یہی حال ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ سب کے ساتھ ہوا تھا مگر محسود قوم نے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ پھر رات کو پتہ چلا کہ دھرنا ختم ہوا ہے لیکن قبائلی عمائدین سے میں نے کہا کہ دھرنا کس نے ختم کیا؟ وہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے ختم کردیا۔ میں نے کہا کہ دھرنا دینے کا محرک جوان طبقہ تھا اور دھرنے کو ختم کرنا یا نہ کرنا انہی کا کام ہے۔ پھر یہ دھرنا ختم نہیں ہواہے۔
جب شام کو میں پہنچا تو شامِ غریباں کی کیفیت تھی۔ مجھے ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘ کا نعرہ اسلئے لگانا پڑا کہ پست حوصلوں کو بلند کرنا تھا اور خوفزدہ لوگوں کے دلوں سے خوف نکالنا تھا،مجھے ریاست اور تحریک کے درمیان دلالی کرنے کا شوق نہیں تھا لیکن دونوں میں اعتدال پیدا کرنا تھا۔ جب تحریک کا مورال ڈاؤن ہوا تو میں نے اس کی اُٹھان کو ضروری سمجھا۔ جن ملکان اور علماء نے اس تحریک کی سرپرستی کرنی تھی وہ بھاگ چکے تھے البتہ اس تحریک کی اصل لگام تو جوان اور تعلیم یافتہ طبقے کے ہاتھ میں ہی تھی ،جنکے پاس تجربے کی بہت کمی تھی اور اس خلاء کو پُر کرنیوالاطبقہ بھاگ چکا تھا۔ مجھے اسٹیج پر اطمینان کیساتھ بولنے بھی نہیں دیا جارہاتھا۔ میں صرف یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ دھرنے کے شرکاء کا درد ریاست تک پہنچے کیونکہ مقررین اپنے اپنے مقاصد بیان کرکے چلے جاتے تھے۔ میری چاہت تھی کہ اعتدال اور پُر اَمن طریقے سے درست سمت اور درست نعرے کی بنیاد پر یہ تحریک اپنا سفر جاری رکھے۔ صرف پختونوں کی ہی نہیں بلوچ، سندھیوں اور پنجابیوں کی مشکلات کا حل بھی یہی جوان تلاش کریں۔ خواتین کی طرح اپنے غم کا بین بجانے کی طرح ماتمی جلوس نکالیں گے تو قیامت تک بھی ان کی مشکل ختم نہ ہوگی۔ اپنے دکھوں پر اُف کرنے کی بجائے دوسروں کے غم میں برابر کے شریک ہونگے تو یہ مردانہ وار امامت کے قابل بن جائیں گے۔
منظور پشتون نے بھاگے ہوئے عمائدین کے بارے میں بہت خوبصورت انداز میں کہا کہ ’’وہ ثالث تھے جو چلتے بنے‘‘۔ منظور پشتون نے وزیراعظم سے جو باتیں کی تھیں وہ بھی ریکارڈ پر لانے کی ضرورت ہے۔ قبائلی ملکان اور علماء صرف زیارت کرنے کو بھی طواف سمجھ کر سعی کرنے لگتے ہیں۔ منظور پشتون نے اچھے انداز میں کہا کہ ’’ وزیراعظم صاحب! مجھے اپنے بزرگوں سے حیاء آتی ہے اگر انکا احساس نہ ہوتا تو میں تمہارے قدموں میں گرجاتا اور اس وقت تک لپٹا رہتا کہ جب تک میری قوم کے مشکلات کا حل نہ نکالتے۔ ہمیں سکولوں، سڑکوں اور ترقی کی ضرورت نہیں ہے ، بس ہماری عزتِ نفس بحال کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ یہی مطالبہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی امریکہ سے کیا تھا۔
ہمیں وہ دن یاد ہیں کہ جب دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانیوالوں کی عمران خان اور نوازشریف و شہباز شریف کی طرف سے مذمت بھی نہیں ہوتی تھی، میڈیا ریکارڈ دیکھا جائے ،زیادہ سے زیادہ صرف اور صرف افسوس کا اظہار کرتے تھے۔شکر ہے آج جب قائدین کو جوتے پڑ رہے ہیں تو مذمت کی توفیق مل جاتی ہے وہ بھی اس خوف سے کہ آج کسی مذہبی جماعت کے جذباتی نوجوان نے نوازشریف کو جوتا دے مارا ہے تو کل کسی گلوبٹ کی طرف سے ان پر بھی پڑ سکتا ہے۔وزیرستان تباہ ہوا لیکن کسی نے دکھ کا ایسا اظہار نہیں کیا اور جب سینٹ الیکش حکومت ہار گئی تو گویا مردہ بچے جننے والوں کی صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔