مشال کا قتل یا بے گناہ شہادت کا معمہ کیسے حل ہو؟

514
0

اگر مشال خان مجرم تھا تو اس کی عبرتناک ہلاکت موم بتی جلانے والوں کیلئے عبرت ہے، کوئی مشعلِ راہ نہیں، اس نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کردیا ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جہاں ارکان پارلیمنٹ کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ وزیراعظم قوم کے سامنے جھوٹی صفائی پیش کرے، کوئی ریاست کا قلع قمع کرنے کی بات کرے، کسی پر جس قسم کی بھی تنقید کی جائے تو کسی عدالت میں اس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتاہے۔ مسلم لیگ ن کے میاں جاوید لطیف نے کہا کہ ’’جب دوسروں کو ہم ایسے بیان پر غدار کہتے ہیں، الطاف حسین کو غدار کہتے ہیں تو اسی رویہ پر عمران خان کو غدار کیوں نہیں کہہ سکتے؟‘‘۔ جس پرتحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے میاں جاوید لطیف کومُکا کی سوغات رسید کردی۔ عمران خان نے کہا کہ’’ اگر میں ہوتا تو اس کو قتل کردیتا، پٹھان گولی کھا سکتاہے لیکن گالی برداشت نہیں کرسکتا ہے‘‘۔
مشال خان کے قتل پر سب سے مضبوط اسٹینڈ عمران خان نے لیا مگر پھر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جن سیاسی رہنماؤں کی برداشت کا یہ عالم ہو ،کہ غدار کہنے پر بھی قتل کرنے کی بات کرکے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں تو پھر اس قوم کے جوانوں میں یہ برداشت کہاں سے آئے گی کہ ’’رسول اللہ ﷺ کی توہین اور گالی کے مرتکب کو قانون کے حوالے کرنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرلیں؟‘‘۔ غدار کی گردان تو سیاستدان کا وظیفہ ہوتاہے ، مراد سعید کو میاں جاوید لطیف نے جو عمران خان کو اپنی بہنیں سپلائی کرنے کی گالی دی تھی تو میاں جاوید لطیف اور خواجہ سعد رفیق نے یہ گالی گواہی میں تبدیل کی کہ ’’ہم نہیں کہتے کہ جو کہاوہ سچ تھا یا جھوٹ؟مگر ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے‘‘۔ پھر حامد میر نے جیو پر مراد سعید کو لیگی رہنمادانیال عزیز کیساتھ بٹھا کرہنسی مذاق کا ماحول دکھایا تو دنیا نے دیکھ لیا کہ اس الزام کاکوئی سنجیدہ اثر نہ تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ پٹھان گالی برداشت نہیں کرتا ،باقی بہت کچھ برداشت کرتاہے۔
مشال مجرم تھا تو دیوث تھا اسلئے کہ ذاتی جذبے کو متأثر کرنابھی غلط ہے، ماں بہن کی گالی پر بھی اشتعال میں اقدامِ قتل کیا جائے تو مقتول کو معصوم کا درجہ نہیں ملتا۔ رسول اللہﷺ کی توہین کا حق کسی کو بھی نہیں دیا جاسکتا، کوئی بھی ایسی مہم جوئی فساد فی الارض کے زمرے میں آتی ہے جسکے غلط مقاصد ہوں۔ حق کا علمبردار قربانی سے مشعلِ راہ بنتاہے ،باطل اپنی دنیااور آخرت کی تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں کرتا۔ اب سوال یہ نہیں کہ مشال مجرم تھا یا نہیں؟۔مجرم نہیں تھاتوبھی سزا تو اس کو ملی۔ سوال یہ ہے کہ جنہوں نے مجرم سمجھ کر قتل کیاوہ خود کو کیوں چھپا رہے ہیں، کیا ممتاز قادری ؒ جیسی عزت کے طلبگار خود کو چھپاکر عزت بناسکتے ہیں؟غازی علم الدین ؒ نے راجپال کو مارا، تو اقرارِ جرم سے انگریز کے سامنے بھی نہیں گھبرایا لیکن مردان کے مردِ میدان فخریہ ویڈیو بناکر کیوں خود کو چھپا رہے ہیں؟۔ ممتاز قادریؒ نے پنجابی ہوکر غیرت کا مظاہرہ کیا تو یہ پٹھان ہوکر کیوں غیرت کے تقاضوں پر عمل کیوں نہیں کرتے؟۔
مشال خان کے سوگوار والد اقبال خان اور بردبار خاندان ہمدردی کا لائق نہیں بلکہ بہت داد کا بھی قابل ہے جس نے جرأت وبہادری کی مثال قائم کردی، بیٹے کو بے گناہ قرار دیا، مجرموں کو قرار واقعی سزا کا مطالبہ اور عبدالولی خان یونیورسٹی کو اپنے بیٹے کے نام پر منسوب کرنے کی تجویز پیش کردی۔ بہادری کامظاہرہ ابوجہل کو بھی تاریخ میں امر کردیتاہے۔ جن والدین کے اچھے یا برے سپوتوں نے مشال کو قتل کرنے کے بعد بھی مسخ کرکے لاش کی بے حرمتی سے دریغ نہ کیا ، میرے بیٹے اس کا حصہ ہوتے اور مجھے انکے حلالی ہونے کا یقین ہوتا تو انکی اس بزدلی پر ہزاروں لعنت بھیجتاکہ بے یارومدد گار لاش کیساتھ بہیمانہ سلوک کے بعدچھپنے کا کیا جواز ہے؟۔ جس کو تم نے توہین رسالت کا مرتکب سمجھ کر قتل کیااور مرنے پر بھی جذبے کی تسکین نہیں ہورہی تھی ،ننگاکرکے لاش سے انتقام لیتے رہے تو اگر قانون تم کو معاف بھی کردے تو خود کشی کرکے عالمِ برزخ میں بھی اس کا پیچھا کرو، اسلام کی طرف سے خود کشی کے عدمِ جواز کا مسئلہ اسلئے نہیں کہ اسلام میں لاش کیساتھ بدسلوکی بھی جائز نہیں ۔ رسول اللہﷺ کے نام پر غیرت اچھی لگتی ہے، بے غیرتی نہیں۔
دنیا میںیہ پیغام پہنچا کہ الزام کی تحقیق کے بغیر رسول اللہﷺ کی توہین کے نام پر بے گناہ قتل ہوا، سرِ عام ویڈیو بنانیوالے تحفظ کے طلبگار ہیں تو مسلمان اور پٹھان کی غیرت پر بہت سوالات اٹھیں گے، یورپ وامریکہ کے عیسائی قانون میں ویسے بھی قتل کا بدلہ قتل نہیں۔ چیف جسٹس نے طیبہ تشدد کیس میں بھی تشدد کرنیوالی جج کی اہلیہ سے سوال تک نہیں پوچھا بلکہ طیبہ کو لاوارث بچوں کے مرکز میں داخل کردیا۔ قبائل میں ابھی تک 40ایف سی آر کا قانون ختم نہیں۔پشتون قوم اسلام اور غیرت کی بہت بڑی علمبردار ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ کر امریکہ کے حوالے کرنیوالے بے غیرت ریاستی اہلکاروں نے بھی اسلام کا سہارا لیا،قومیں غیرت سے زندہ رہتی ہیں ۔ اگر ریمنڈ ڈیوس کو اکرام وانعام دیکر رخصت کیا جاتا کہ ہمارے لاہور، ملتان، کراچی اور کوئٹہ وپشاور سے لوگ اغواء ہوجاتے ہیں تم نے شجاعت کی مثال قائم کردی تو ہمارا قومی وقار بلند ہوجاتا لیکن صداقت، شجاعت اور عدالت نام کی کوئی چیز ہمارے بے غیرتوں کے پاس نہیں ورنہ ہم دنیا میں کب سے امامت کے منصب پر بیٹھ جاتے؟۔
قبائلی علاقہ میں طالبان نے اسلام کو تو زندہ نہیں کیا بلکہ پختون کی غیرت کو بھی تباہ کردیا، اب لویہ جرگہ کے ذریعے مشال خان کے والد اور قاتلوں کے وارثین یہ تاریخی فیصلہ کردیں کہ قاتل ، قتل کی سازش کرنیوالے، اشتعال دلانے والے سب کو کٹہرے میں کھڑا کرکے ورثاء خود ہی گولی مارنے کیلئے اقدام کریں اور اگر والد کی طرف سے معافی مل جائے تودیت یا بلامعاوضہ معاف کر دیا جائے،اس سے دنیا میں اسلام ، پٹھان، پاکستان اور انسان کی طرف سے فطرت کیمطابق پیغام جائیگا۔ امریکہ نے افغانستان میں بڑا بم گرا نے کے بعد پاک فوج کو پراکسی جنگ ختم کرکے جو سفارتی طریقہ اختیار کرنے کا پیغام دیا جسکی پاک فوج نے تردید کی ، اسکے بعد حالات گھمبیر سے گھمبیر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، قوم کے اندر بڑے اعلیٰ پیمانے کے اخلاقیات اور اقدار کے بغیر کوئی ریاست کچھ بھی نہیں کرسکتی ہے۔
مشال خان کے قتل کو مخصوص چینل سازش نہ قرار دیتے تو عمران خان نے بھی اس کو سازش نہیں قراردینا تھا، اقوام متحدہ کی طرف سے مذمت کے بعد نوازشریف و مریم نواز کو مذمت کا خیال آگیا، توہین رسالت کیلئے قربانی دینے والے مزید جرأت کا مظاہرہ کرتے تو نمازِ جنازہ پڑھانے کی بھی نوبت نہ آتی اور نمازجنازہ پڑھانیوالا طبقہ ماردیا جاتا تو پولیس اور فوج بھی اپنے ہیڈکواٹروں میں دبک جاتی۔ یزید نہیں طالبان کے دور میں بھی لوگوں نے مظالم کے آگے بے بسی کا مظاہرہ دیکھا، فضل اللہ اور حکیم اللہ نے بہت کچھ ریاستی سرپرستی میں کیا تھا ۔جھوٹ کی سیاست و صحافت قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں کردار ادا نہیں کرسکتی ۔ امریکہ افغانستان میں آیا تو ان میں منافقت کے بیج بودئیے اور ہماری طرف رخ ہوا تو ہماری ریاست مرغا بن کرہی انکے سامنے کھڑی ہوجائیگی۔ مسلم قوم کو دنیا کی لالچ اور موت کے خوف نے بزدل بنادیاہے، اعلیٰ اخلاقی اقدار کیلئے بکبک کرکے بکنے والے بے غیرت صحافی کوئی بھی مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔اسلام اور قومی مفاد کا نام لینا جوک بن گیا۔