Home اداریہ سیاست ناکام، ریاست نامراد ، علماء کرام شادآبادنہیں

سیاست ناکام، ریاست نامراد ، علماء کرام شادآبادنہیں

291
0

maulana-maududi-communism-akbar-badshah-sajda-e-tazeemi-mufti-taqi-article-62-and-63-garib-kisan-zina-haiz-and-iddat

مولانا محمد علی جوہر، شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفرعلی خان لیگی کامریڈتھے اور علامہ اقبال نے بھی ’’فرشتوں کے گیت‘‘ کے عنوان سے لکھا تھا :
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
کانگریس کے منشور میںیہ تھا کہ’’ انگریز نے خانوں، نوابوں ،سرداروں اور دلّالوں کو جو جاگیریں دی ہیں ان کو آزادی کے بعد بحقِ سرکار ضبط کردیا جائیگا‘‘۔ قائد اعظم محمد علی جناح کانگریس کے اس منشور سے متفق تھے۔ پاکستان کیلئے محرک ہندوؤں کا تعصب تھا۔ مسلمان قادیانیوں کو اس وقت بھی ہندو سے زیادہ اسلام کا دشمن سمجھتے تھے ،قائداعظم میں مذہبی تعصب نہ تھا۔ انگریز کی باقیات سول وملٹری بیوروکریسی اور پاکستان کی آڑ میں نوابوں اور جاگیرداروں نے اپنی دلالی سے حاصل کرنے والی جاگیروں کو تحفظ دینا شروع کیااور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کی آڑ میں کمیونزم کی مخالفت کے نام پر اس ناجائز ملکیت کو اسلام کے نام پر جواز بخشا تھا تو یہ پاکستان کے اندر طبقاتی نظام کی بقا کے سب سے بڑے محرکات ہیں۔ اب تو سودی بینکاری کا بھی نام اسلامی بینکاری میں بدلا گیاتو مندروں کو مساجد اور سومنات کو کعبہ کہنے میں ان مولوی نما لوگوں کیلئے کیا مشکل ہے؟۔
اکبر بادشاہ نے اپنے لئے سجدۂ تعظیمی کا جواز اسلئے پیش کیا کہ بنی اسرائیل کے حضرت یوسف علیہ السلام سے مغل اعظم کی حیثیت کو کم نہیں قرار دیا، علماء کرام نے درباری بن کر اکبر بادشاہ کا ساتھ دیا۔ حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی نے جرأت کرکے کہا کہ ’’ سجدہ تعظیمی اسلام میں حرام ہے‘‘۔ جنہوں نے آوازِحق بلند نہیں کی ،وہ ریاست کے وفادار ٹھہرے۔ کیونکہ وہ بادشاہ کو ظلِ الٰہی قرار دیتے تھے اور بادشاہ کو سجدہ درحقیقت خدا کو سجدہ قرار دیا جاتا۔ جمعہ کے خطبے میں اس حدیث کی تحقیق ضروری ہے السلطان ظل اللہ فی الارض من اہان سلطان اللہ فقد اہان اللہ ’’ بادشاہ زمین پر اللہ کا سایہ ہوتا ہے، جس نے اللہ کے بادشاہ کی توہین کی تو اس نے اللہ کی توہین کی‘‘۔ جب اللہ زمین و آسمان کا نور ہے تو نور کا سایہ نہیں ہوتا ہے۔ جب نبیﷺ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپؑ کا سایہ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ کا سایہ کہاں سے آئے گا؟۔ اور وہ بھی مغل بادشاہوں اور انگریز حکمرانوں کی صورت میں؟۔ تحقیق اور شعور کی بہت ضرورت ہے۔
تنکے والے سرکار ننگے تڑنگے بابا سے نوازشریف اور بینظیر بھٹو ڈنڈیاں کھاکر اقتدار کا عقیدہ رکھتے تھے اور اب اقتدار کی دہلیز پر پہنچنے سے قبل تحریک انصاف کی تیسری اماں جی بابافریدؒ کے مزار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوگئی، خود کو خوب رگڑا کہ اقتدارملے اور عمران خان نے بھی اس کی اقتداء میں سجدہ کرلیا۔ آرے چومنا تھاتوقبرکو چومتے،کعبہ کی چوکھٹ نہیں حجراسود کو چوما جاتا ہے۔سرکاردوعالمﷺ کی گنبد پر حاضری میں یہ عقیدت کیوں بھول گئے؟۔ طالبان عمران خان کواسلئے بہتر سمجھتے تھے کہ ایاک نعبد وایاک نستعین کے وردسے مغالطہ کھایا تھا اور ریحام خان سے محرم کے عاشورے میں نکاح کیا تھا،ریحام خان سے نکاح کے چھپانے کے بعدبشریٰ بے بی سے نکاح چھپانے کی کوئی گنجائش نہیں تھی مگر چونکہ عدت میں نکاح کا مسئلہ آگیا اسلئے پھر چھپانے کا المیہ پیش آیا۔ حدیث میں ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے اسلئے اس نکاح کو حرامکاری قرار دینا عامر لیاقت کی جہالت تھی البتہ حنفی اس حدیث کو قرآن کیخلاف سمجھتے ہیں، تحقیق وشعور کی بہت ضرورت ہے ۔ آئین پاکستان میں پارلیمانی ممبر کیلئے دفعات واضح ہیں۔
احادیث صحیحہ میں مزارعت کو ناجائز اور سود قرار دیا گیا ہے۔امام بوحنیفہؒ اور باقی تمام ائمہ کرامؒ اس پر متفق تھے کہ ’’مزارعت جائز نہیں ‘‘۔ بعد میں آنے والے علماء وفقہاء نے یہ حیلہ نکالا تھا کہ ’’ مزارعت کی وجہ سے غلامی جیسا ماحول پیدا ہوتا تھا اسلئے اس کو ناجائز اور سودقرار دیا گیا‘‘۔ حالانکہ آج بھی مزارعت سے غلامی کا ماحول پیدا ہورہاہے۔ پشتو میں بیع وال کا لفظ مزارع اپنے جاگیردار اور جاگیردار اپنے مزارع کیلئے استعمال کرتا ہے، جیسے عربی میں مولیٰ کا لفظ غلام اور آقا دونوں کیلئے آتا ہے۔ اُردو ، سندھی اور پنجابی میں مزارع کا لفظ مزارع سے خاص ہے۔ کسی بھی پلیٹ فارم سے مزارع کو غلامی کے قائم مقام قرار دیا جاتاہے۔ سیاسی جماعت کا باغی کہتا ہے کہ’’ میں اپنے قائد کا مزارع نہیں ہوں‘‘۔ سیشن کورٹ جج کی توہین پر چیف جسٹس ثاقب نثار سے کراچی بار نے کہا کہ ’’ ماتحت عدلیہ سے مزارع والا سلوک نہ کیا جائے‘‘۔ کیا مزارع انسانیت سے بالکل خارج ہیں؟۔
سندھ، پنجاب اور پورے پاکستان میں مزارعین کے حالات بد سے بدتر اور غلامی سے کم نہیں ہیں۔ جب علاقہ گومل میں یہ افواہ پھیل گئی کہ روس چڑھ دوڑرہا ہے تو ہمارے ایک مزارع کے چھوٹے بیٹے گل زرین نے اپنے باپ کا نام لیاکہ ’’اس کے کونسے(زمین کے) مربعے ہیں، روس آئے تو بھی ہم نے پرائی زمین میں مزارعت کرنی ہے اور نہ آئے تو بھی ہم نے یہی مزارعت ہی کرنی ہے‘‘۔ بھٹو نے روٹی، کپڑا، مکان اور اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا مگر خاطرخواہ اسلامی تعلیمات سے اچھے خاصے دارالافتاء کے مفتی اور بڑے مدارس کے مدرسین بھی بہرہ مند نہ تھے۔ مولانا مودودی صاحب کو اگر جماعتِ اسلامی کے علماء زبردستی داڑھی نہیں رکھواتے تو نہ انکے ساتھ مولانا لکھا جاتا اور نہ وہ عالمِ دین ہونے کا دعویٰ کرتے۔
جاگیردار سیاستدانوں پر اسمبلی کا دروازہ بند کیا جائے تو وہ مزارعین کی مجبوری سے پھر بھی فائدہ اٹھائیں گے۔ آئین کے مطابق اسمبلی ممبر کیلئے خاطر خواہ اسلام کی تعلیمات ضروری ہیں، وہ فرائض کا پابندہو اور گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ ہو۔ سودی نظام سے بڑھ کر گناہِ کبیرہ کیا ہے؟۔ حدیث میں اسکے 70سے زیادہ گناہ، وبال اورنحوستوں کا ذکر ہے جس میں سے کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ دارالعلوم کراچی کے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی عبدالرؤف سکھروی نے لکھا ہے کہ ’’ شادی بیاہ میں نیوتہ کی رسم بھی سود ہے اور اسکے70سے زیادہ گناہ میں کم ازکم گناہ اپنی ماں کیساتھ زنا کے برابر ہے‘‘۔ مفتی تقی سراپا تقویٰ ہے اسلئے اس نے سودی بینکاری کو معاوضہ لیکراسلامی بینکاری قرار دیا ہے یا جہالت ولالچ کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن پہلے ایم آر ڈی کیساتھ تھے تووہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی کا مؤقف اپنا مشن قرار دیتے تھے کہ اقتدار مل جائے گا تو مزارعت کو ناجائز قرار دیکر ختم کردینگے مگر اب تو لگتا ہے کہ موصوف خود بھی نواز شریف کے مزارع بن گئے ہیں۔ سیاستدانوں اور سول وملٹری بیوروکریسی سے عوام کا اعتماد اُٹھ چکاہے۔ علماء ومفتیان اجنبی اسلام کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور عوام کو اعتماد میں لیکر اسلام کے معاشرتی نظام کا آغازکریں۔بغاوتوں کا سلسلہ جاری ہے اور عدالتوں کیلئے ممکن نہیں کہ مزارعین کو جاگیرداروں اور عوام کو ریاستی غنڈہ گردوں سے انصاف دلاسکیں۔ یہ عدالتیں نوازشریف نے پہلے بھی تاراج کیں، جنرل پرویزمشرف نے ججوں کو قید کردیا اور اب بھی سابقہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دانیال عزیز سے زیادہ سخت لہجے میں عدالت کے جج کی توہین کا بیڑہ اُٹھایا۔ آئین کی دفعہ62اور63پر کوئی بھی نہیں اتر رہاہے، منافقت چھوڑ دو۔