مذہبی معاملات میں اعتدال کا سیدھا راستہ: عتیق گیلانی

539
0

mazhabi-maamlat-me-aitadal-ka-seedha-rasta-(General-(R)-Ehsan-ul-Haq-Altaf-Hussain

مذہبی معاملات میں اعتدال کا سیدھاراستہ

مولانا عبد الرحمن کیلانی نے ’’خلافت و جمہوریت‘‘ نامی کتاب لکھ دی جو 1981 ؁ء اور پھر 1985 ؁ء کو شائع ہوئی ہے۔ کتاب کے کچھ دلائل اور مندرجات دیکھنے سے اس نتیجے پر آسانی کیساتھ پہنچا جاسکتا ہے کہ خلافت پر خلفاء راشدینؓ کے دور میں بھی اتنا اچھا خاصہ افتراق تھا کہ کسی دلیل کو شرعی کہنا دشوار نہیں بلکہ سراسر غلط بھی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت ہنگامی طور پر منعقد ہوئی اور حضرت عمرؓ کو نامزد کیا گیا، حضرت عثمانؓ کو کثرت رائے سے شوریٰ نے بنایا ، حضرت علیؓ کی خلافت متنازعہ ہونے کے باوجود قابل اعتبار قرار پائی، اور حضرت حسنؓ سے تنہا ایک شخص نے بیعت کی تو خلیفہ بن گئے۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہا تو حضرت عمرؓ نے رکاوٹ ڈال دی اور حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں حضرت حسنؓ دستبردار ہوئے۔ دونوں معاملات اپنی اپنی جگہ پر مستحسن تھے لیکن رسول ﷺ کے بعد خلافت راشدہ کا نظام قائم ہوا اور حضرت امیر معاویہؓ کی وجہ سے خلافت کا نظام امارت میں بدل گیا۔ ایک طرف رسول اللہ ﷺ کی رائے سے اختلاف اور دوسری طرف حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں دستبرداری سے خلافت و امارت کے معاملے میں اسلام کا ظرف اتنا وسیع ہے کہ اسکے طول و عرض اور گہرائی و بلندی تک پہنچنے کیلئے بڑی بڑی قد آور شخصیات بھی انتہائی پستی کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔بس سمندری طوفان کے طلاطم خیز موجوں میں تیرنے والے کبھی جنرل ضیاء کی ڈکٹیٹر شپ کو امیر المؤمنین کا نام دیتے ہیں، کبھی امام خمینی کو شرعی امام بنالیتے ہیں اور کبھی عرب ریاستوں کے متفرق بادشاہوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں شرعی خلیفہ و امام کا درجہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے ایک خطیب کی تقریر سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جو حضرت امام حسنؓ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی کو ان کا یوم وفات معلوم نہیں اسلئے کہ شیعہ مُلا باقر مجلسی نے لکھ دیا کہ ’’امام حسنؓ خلافت سے امیر معاویہؓ کے حق میں دستبرداری کے بعد اس طرح سے امام نہ رہے جسطرح ان کے والد حضرت علیؓ نے ثالثوں کو اختیار دیا تھا اور وہ امام نہ رہے‘‘۔ اہل تشیع صرف امام حسینؓ کو مانتے ہیں باقی کسی کو نہیں مانتے۔ اگر مانتے تو امام حسنؓ کی شہادت کو کیوں اس طرح سے نہیں مناتے؟۔ اس خطیب نے لوگوں کو اہل تشیع کیخلاف خوب اکسا کر خوش کردیا اور امام حسنؓ کے فضائل سنانا بھی ان کی بڑی مہربانی ہے کہ اتحاد کی بات کررہے ہیں۔ لیکن تمام تقریر کے خلاصے کا یہ جواب ہے کہ شیعہ کلمہ و اذان میں علیؓ کا نام لیتے ہیں امام حسینؓ کا نہیں۔ اسلئے کہیں بھول تو نہیں ہوئی؟۔ دوسرا یہ کہ اگر امام حسنؓ کو خلافت سے دستبرداری کے بعد اپنی بیگم نے زہر کھلادیا تھا تو ان کی شہادت اور امام حسینؓ کی شہادت میں بہت فرق ہے۔بقول فیض
جس دھج سے جو مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
امام حسنؓ کے مشن کا حق تب ادا ہوگا جب انتشارنہیں اتحاد کی دعوت دیجائے۔ کربلا کے ذاکر و خطیبوں سے سنا کہ امام حسینؓ جہاد کررہے تھے تو کوئی لڑنے کی ہمت نہ کرسکتا تھا۔ مگر جب سجدے میں گئے تو ظالموں نے شہید کیا۔ قصہ گو ذاکرین سے علامہ اقبال تک نہ جانے کیوں قرآن اور فطری تعلیم بھول کر کہتے ہیں کہ آگیا عین لڑائی میں جب وقت نماز ، قبلہ رو ہوکے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز، ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز، نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ لڑائی کے وقت نماز پڑھنے کا طریقہ عام حالات کے مطابق رکوع و سجود والا نہیں ، جس سے آگے پیچھے وار کرکے دشمن نقصان پہنچائے بلکہ فرجالاً او رکباناً ’’چلتے چلتے اور سوار ہوتے ہوئے نماز پڑھو‘‘۔ اگر ہندی یا پنجابی اقبال شعری جذبات میں مبالغہ آمیزی کررہے تھے تو قرآن کی آیت پر نگاہ نہیں گئی ہوگی لیکن امام حسینؓ نے یقیناًقرآن کی طرف زبردست توجہ دی ہوگی۔
عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہ ﷺ لا یزال اہل الغرب ظاہرین علی الحق حتیٰ تقوم الساعۃ (کتاب الامارۃ، صحیح مسلم)
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے‘‘۔ صحیح مسلم کی اس روایت کا تعلق خلافت و امارت کے نظام سے ہے اسی لئے اس کو اس کتاب میں درج کیا گیا ہے۔ کم عقل قسم کے مولوی اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے جس بات کو شرعی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں حقائق اسکے بالکل منافی ہوتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبی ﷺ سے فرمایا کہ ’’اگر آپ زمین میں اکثریت کے پیچھے چلیں تو یہ آپ کو اپنی راہ سے گمراہ کردیں گے‘‘۔ صلح حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ نے اکثریت کے فیصلے کو مسترد کرکے معاہدہ کیا تو اللہ نے اس کو فتح مبین قرار دیا۔ اور بدری قیدیوں پر فدیہ کا مسئلہ آیا جب اکثریت کی رائے پر نبی ﷺ نے فیصلہ فرمایا تو اللہ نے اس کو غیر مناسب قرار دیا اور اقلیت کو چھوڑ کر اکثریت کیلئے عذاب کی وعید بھی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔
ان آیات اور واقعات کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ اکثریت گمراہ ہوتی ہے اور اقلیت حق پر ہوتی ہے بلکہ ان میں اہل حق کیلئے یہ حوصلہ ضرور ہے کہ اقلیت میں ہونے کے باوجود اپنی بات پر ڈٹے رہیں اور محض اسلئے حق کو نہ چھوڑیں کہ اکثریت مخالف ہے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا اقتدار اسلئے کامیاب رہا کہ اکثریت ان کے ساتھ تھی۔ حضرت عثمانؓ کو خلافت شوریٰ میں اکثریت کی بنیاد پر ملی اور جب اکثر لوگ مخالف ہوگئے تو تخت خلافت پر شہید کردئیے گئے۔ جس سے آج تک اُمت اختلاف و انتشار کی کیفیت سے نہیں نکل سکی ۔ حضرت علیؓ کی خلافت کو اکثریت نے قبول نہیں کیا تو با صلاحیت ہونے کے باوجود خلافت کامیاب نہیں رہی۔حضرت حسنؓ نے اکثریت کی وجہ سے امیر معاویہؓ کو خلافت سپرد کردی۔ رسول اللہْ ﷺ نے امارت کے حوالے سے مغرب کے جمہوری نظام کی ہی تائید فرمائی ہے اور پیشین گوئیوں میں پہلی خلافت کا امام مہدی کے حوالے سے مغربِ اقصیٰ کا ذکر ہے۔ جمہوری طرز عمل سے وجود میں آنے والی خلافت سے ہی زمین و آسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہوسکتے ہیں۔ اگر خلافت راشدہ کے دورسے جمہوری نظام رائج ہوتا تو ہماری اسلامی خلافت بدترین خاندانی بادشاہتوں میں تبدیل نہ ہوتی۔ درباری اور پیشہ ور مولویوں اور شیخ الاسلاموں نے بہت کم تعداد میں حق کی آواز بلند کی ہے۔ آنیوالے بارہ خلفاء قریش پر اُمت اکھٹی ہوگی لیکن بڑے بڑوں نے حقائق کو جان بوجھ کر مسخ کرکے رکھا دیا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے 22اگست کے اعلان لا تعلقی سے قبل کہا تھا کہ اگر جنرل(ر) احسان کو الطاف بھائی کے پاس جائے تو الطاف بھائی ہر بات مانیں گے اور اب بھی مختلف رہنماؤں کو جنرل احسان کیساتھ بھیج دیا جائے تو الطاف حسین واپس آجائیگا، اگر الطاف اس ناراضگی کی حالت میں مر گیا تو کم عقل عقیدتمند مہاجروں کے دلوں کو صاف نہ کیا جاسکے گا۔